غزالاں تم تو واقف ہو ۔ کراچی کا علمی بحران (تیسرا حصہ)

1

اب ذرا ڈوب مرنے والا مقام بھی ملاحظہ فرما لیجئے ! مگر اس شہر کو شاید چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے سے بھی کسی عبداللہ شاہ غازی نے بچا رکھا ہے۔ درسگاہیں ہمیں نصابی تعلیم فراہم کرتی ہیں اور ہم وہاں کسی خاص فن کی تعلیم حاصل کرکے اس میدان میں کام کرتے ہیں جبکہ درکار ہمیں علم کی ہمہ گیری ہوتی ہے۔ اور یہ مقصد لائبریریوں سے حاصل ہوتا ہے۔ جسقدر آپ وسیع المطالعہ ہوں گے اسی قدر سماج کو آپ سے فیض میسر آئے گا۔ اگر آپ یہ غیر نصابی مطالعہ نہیں رکھتے تو آپ کی حیثیت محض ایک ایسے روبوٹ کی ہے جس میں ایک خاص پروگرامنگ فیڈ ہے اور وہ اس کے علاوہ کچھ بھی کرنے کا اہل نہیں۔ آپ یہی بات کراچی کے دو نامور حکیموں کی مثال سے سمجھ لیجئے۔ ایک حکیم سعید اور دوسرے حکیم مرسلین خان دہلوی۔ حکیم سعید ایک بہت بڑے حکیم بھی تھے لیکن ان کی حکمت پر ان کی دانش غالب آگئی تھی۔ وہ مختلف موضوعات پر درجنوں شاندار کتابوں کے مصنف ہیں، یہ حکیم ایک نہایت بلند پایہ دانشور اپنے غیر نصابی مطالعے سے بنا۔ دوسری طرف حکیم مرسلین خان بھی ایک بلند پایہ حکیم ہیں لیکن صرف حکیم ہیں کیونکہ وہ اپنی نصابی تعلیم اور سیکھ تک محدود رہے۔ کراچی میں لائبریریوں کی قدر و منزلت کتنی رہ گئی ہے اس کا اندازہ اس سے لگا لیجئے کہ کراچی سے تعلق رکھنے والے ملک کے نامور وکیل خالد اسحاق ایڈوکیٹ جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی ذاتی لائبریری کے مالک تھے جس میں ایک لاکھ 75 ہزار کتب تھیں۔ 2004ء میں ان کا انتقال ہوا تو ورثا کے لئے وہ لائبریری سنبھالنا مشکل ہوگیا۔ انہوں نے یہ لائبریری ڈونیٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا اور کراچی کے مختلف اداروں کو آگاہ بھی کردیا تاکہ اگر کوئی یہ کتب لائبریری کی صورت میں ہی سنبھال سکے تو سنبھال لے۔ ڈیفنس کلب نے یہ کتب مانگیں مگر اس کا مصرف نہیں دکھا سکا۔ کراچی یونیورسٹی نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کردیا کہ ہمارے پاس اسے سنبھالنے کے لئے فنڈز نہیں۔ جانتے ہیں کراچی کی اس عظیم الشان لائبریری کا کیا بنا ؟ وہ لاہور کی یونیورسٹی “لمز” لے گئی۔ آج یہی لائبریری لاہور کی یونیورسٹیوں میں لمز کی انفرادیت قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ لمز نے خالد اسحاق مرحوم کی ایک لاکھ 75 ہزار کتب میں 75 ہزار مزید کتب کا اضافہ کرکے ڈھائی لاکھ کتب والی لائبریری قائم کر رکھی ہے جس سے پورا لاہور استفادہ کرتا ہے۔ کیا شرم کی بات نہیں کہ کراچی سے افراد ہی نہیں لائبریریاں بھی بھاگنے پر مجبور ہوئیں ؟ جس ڈھائی کروڑ آبادی کے شہر میں لائبریری جیسے بیش بہا خزانے کو وارث نہ مل سکے اسے علم دشمن نہیں تو کیا قرونِ وسطٰی کا اندلس و بغداد کہوں ؟

اسی پس منظر اور کراچی کے نوجوانوں کی ناگفتہ بہہ علمی حالت کو پیشِ نظر رکھ کر کراچی میں ہونے والے سیک سیمینار کے پینل ڈسکشن میں جب میں نے کہا کہ پشاور، اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور کے تو میں سٹوڈنٹس سے بھی بات کرتے ہوئے محتاط رہتا ہوں اور دل ہی دل میں گھبرا بھی رہا ہوتا ہوں کہ بہت مشکل سوال کا باؤنسر کرا کر مجھے پچ پر نہ گرادیں جبکہ کراچی کے تو میں پی ایچ ڈی ڈاکٹرز اور یونیورسٹی اساتذہ سے بھی نہیں ڈرتا کیونکہ جانتا ہوں کہ یہ سب جعلی ڈگریوں والے ہیں لھذا کراچی کا سب سے اہم مسئلہ اس کا تعلیمی بحران ہے۔ اس پوری بات میں “سب” کو بنیاد بنا کر دو تین نوجوانوں نے غصے کا اظہار کیا کہ آپ ہمارے اساتذہ کی توہین کر رہے ہیں وہ “سب” ایسے نہیں ہیں۔ یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ احمق سے احمق انسان بھی دنیا کے کسی بھی شہر کے متعلق یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہاں کے سب اساتذہ جعلی ڈگریوں والے ہیں اور یہ بات وہ بچے بھی جانتے ہی ہوں گے اگر نہیں جانتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس شہر کی شعوری حالت میرے اندازے سے بھی زیادہ پست ہے۔ سیک کے اس سیمینار میں سوال و جواب کے جتنے بھی مراحل آئے تقریبا ہر مرحلے پر سوال پوچھنے والے کئی افراد نے مقررین سے باقاعدہ مباحثہ یا یوں کہہ لیجئے کہ منہ ماری شروع کردی اور منتظمین کے منع کرنے کے باوجود بھی کچھ لوگ باز نہیں آئے۔ یہ شہر اتنی بنیادی بات سے بھی لاعلم ہوتا جا رہا ہے کہ سوال و جواب کے سیشن میں آپ سوال پوچھتے ہیں اور مقرر یا گفتگو کرنے والا جواب دیتا ہے اور بات یہیں ختم ہوجاتی ہے۔ آپ مقرر کے ساتھ بحث کریں گے تو یہ تہذیب اور شائستگی کے خلاف ہوگا، وہ آپ کے ڈرائینگ روم میں بیٹھا ٹیوٹر نہیں کہ صرف آپ کے ساتھ ہی مغز کھپائے اور وہ بھی اس حال میں کہ آپ میں تسلیم و احترام دونوں کا ہی جذبہ مفقود ہے۔ میں نے کراچی کے علاوہ یہ حرکت کہیں نہیں دیکھی اور کراچی کے ایک ہی سیمینار میں یہ افسوسناک منظر بار بار دیکھا۔ کچھ سوال کنندگان شائد یہ بھی سمجھتے رہے کہ لہجہ اونچا رکھنے سے بات میں وزن آجاتا ہے، انہیں یہ راز سمجھنا ہوگا کہ یہ حرکت علمی کمزوری اور پست شعور کی دلیل ہوتی ہے۔ یہ علمی زوال کی علامات ہیں جو آج کے کراچی میں ظاہر ہوتی جا رہی ہیں۔

کراچی کے کیس کی سنگینی یہ ہے کہ وہاں کے لوگوں کو تباہی کی شدت کا ایک تو اندازہ نہیں اوپر سے ستم یہ ہے کہ اگر کوئی انہیں اس کی جانب متوجہ کرتا ہے تو اس کا برا بھی مناتے ہیں۔ اگر ان کے سامنے یہ بات کہدی جائے کہ پاکستان کے فلاں شہر کے نوجوان تعلیم و آگہی میں سب سے آگے ہیں تو انہیں لگتا ہے یہ کراچی کی توہین ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ عامر خاکوانی کی تعریف میری توہین کیسے ہوسکتی ہے ؟ آپ سے دوسروں کی تعریف ہضم کیوں نہیں ہوتی اور آپ جواب میں بداخلاقی پر کیوں اتر آتے ہیں ؟۔ کراچی کو سلو پوائزن دیا گیا ہے تباہی کے آثار بھی بتدریج ظاہر ہوں گے۔ اصل تباہی تو دس سے بیس اور پھر اس سے شدید تیس سے چالیس سال بعد ظاہر ہوگی۔ کسی بھی معاشرے میں ایک وقت کے دوران تین نسلیں موجود ہوتی ہیں۔ کراچی کو رعایت دے کر ان نسلوں کی عمریں ایک سے 25، 26 سے پچاس اور 51 سے 75 سال متعین کر لیتے ہیں۔ ان میں سے پہلی نسل وہ ہے جو تعلیم و تربیت کے مرحلے سے گزر کر تیار ہو رہی ہے۔ دوسری نسل وہ ہے جو محنت کش اور فیلڈ میں روبعمل ہے جبکہ تیسری نسل وہ ہے جس کے ہاتھ میں کمانڈ ہے یعنی جو مختلف سرکاری، نیم سرکاری اور پرائیویٹ اداروں اور ان کے شعبوں کی سربراہی کر رہی ہے۔ اب غور کیجئے کہ کراچی کی موجودہ پہلی نسل وہ ہے جسے اچھی تعلیم نہیں مل سکی کیونکہ یہ الطاف حسین کے تیس سالہ دور میں پیدا ہوکر جوان ہوئی ہے۔ وہ دور جس میں سکول کالج کی سطح پر تعلیم کا وجود ہی تقریبا مٹ چکا، وہ دور جس میں نقل عام اور جعلی ڈگریوں کی بھرمار ہے۔ روبعمل وہ نسل ہے جو ہجرت کرکے آنے والی نسل کی تربیت یافتہ ہے اور جو ستر و 80 کی دہائی کے تعلیم یافتہ ہے، یعنی کراچی کی آخری باقاعدہ تعلیم یافتہ نسل۔ بیس سال بعد کا منظر یہ ہوگا کہ یہ نسل قائدانہ کردار کے لئے اداروں کی سربراہی والے مرحلے میں داخل ہو چکی گی اور جو نسل اس وقت طالب علمی کے مراحل میں ہے یہ مکمل طور پر فیلڈ میں آ چکی ہوگی اور کراچی کا بیڑا اس کے ہاتھ میں ہوگا، سو بتایئے یہ بیڑا پار ہوگا یا غرق ؟ اور اس کے بیس سال بعد یہی نسل بوڑھی ہو کر قیادت سنبھالے گی تو کمزور تعلیمی پس منظر، نقل سے پاس ہونے والی اور جعلی ڈگریوں سے دنیا کو دھوکہ دینے والی یہ نسل اداروں کی درست قیادت کر سکے گی ؟ بلکہ یوں کہیئے کہ قیادت کی اہل ہوگی ؟ اب ذرا اس سنگینی کا یہ پہلو بھی ذہن میں رکھئے کہ کراچی میں تعلیمی بحران کو قابو کرنے کی سوچ دور دور بھی کہیں نظر نہیں آرہی حتی کہ والدین کو بھی پروا نہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگلی نسل بھی تعلیمی بحران سے دوچار رہے گی۔ اگر آج ہی اس بحران کا تدارک شروع کردیا جائے تو تب بھی کراچی کو اپنے اس پورے علمی بحران اور اس کے مذکورہ نتائج سے نکلنے میں کم از کم ساٹھ سال لگیں گے۔ یہ تباہی اور اس کے نتائج اب تب ہی ختم ہوں گے کہ جو بھی آج کی تاریخ میں کراچی میں دس سال کا ہے وہ اپنی عمر پوری کرکے دنیا سے اٹھ جائے اور علم سے آراستہ وہ نسلیں کراچی کو سنبھال لیں جو ابھی اپنی ماؤں کے پیٹ میں بھی نہیں پہنچیں یا خاکم بدہن ان نسلوں کی مائیں بھی شائد ابھی اپنی ماؤں کے پیٹ میں نہیں پہنچیں۔

(جاری ہے)

اس تحریر کا پچھلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں 

About Author

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. Totally disagree.who allocates funds for universities ?.writer doesnot know. Because of insufficient knowledge biased perceptions.Naam Nehad Danish war.

Leave A Reply

%d bloggers like this: