جب غلامی رشکِ شہنشاہی بنی از شمس بریلوی ۔۔۔۔ انتخاب: ابن جیلانی ماتریدی

0

(غارِ حرا کی بلندیوں سے طلوع ہونے والی الوہی ہدایت نے چودہ صدیاں پہلے ہی رنگ و نسل کی بنیاد پر پنپنے والی عصبیت کو تاریکی کے گمنام گڑھے میں وھکیلنے کا بندوبست کرنے کے لئے انسانیت کو یہ پیغام دے دیا تھا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور گورے کو کالے پر نسلی برتری و فضیلت حاصل نہیں ہے اور خود خاتم النبیین حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر سردارانِ قریش اور عربی نسب صحابۂ کرام کی موجودگی میں ایک حبشی غلام کو کعبۂ معظمہ کی چھت پر ادائیگیٔ اذان کی سعادت سے بہرہ مند ہونے کا موقع فراہم کر کے اپنے عمل مبارک سے بھی اُس الوہی ہدایت کی تائید و تقویت فرما دی تھی۔ 25 مئی کی شام اخلاقیات و انصاف کے دعوے دار امریکا میں ایک گورے افسر نے جس بے دردی سے سیاہ فام جارج فلائیڈ کو قتل کیا ہے اس نے ایک بار پھر اس بیانیہ کو تقویت دی ہے کہ انسانیت تہذیبی ترقی تمام تر دعووں کے باوجود مادیت کے جراثیم سے پاک نہیں ہوئی ہے اور وہ کسی بھی لمحہ الوہی ہدایت سے بے نیاز نہیں رہ سکتی۔ سالوں سے خود کو حقوق انسانی کے چیمپئین قرار دینے والے امریکہ کے اس منافقانہ طرز عمل کو جب مسلمانوں نے موضوعِ گفتگو بنانا چاہا تو شاہ سے زیادہ سے شاہ کے وفادار پھر سے ایک پائمال موضوع کو گفتگو کی میز تک کھینچ لائے ہیں کہ دیکھیں جناب اسلا م میں بھی تو غلامی ہے لہذا مسلمانوں کو تواس معاملے سے الگ ہی رہنا چاہئے ایسے میں علامہ شمس بریلوی صاحب کا مضمون پیش کرنا مناسب ہوگا جو آپ نے 20 جون 1976 کو سعید احمد ندوی کی کتاب ”غلامان اسلام“ کے پاکستانی ایڈیشن کے شروع میں تحریر فرمایا تھا۔حضرت بریلوی پاک و ہند کے معروف دبستان رضویہ سے تعلق رکھتے تھے، فارسی، اردو اور عربی زبان کے ماہر ادیب ہونے کے علاوہ سیرت، تصوف، تاریخ وغیرہ موضوعات پرکئی کتب کے مترجم تھے۔ ابن جیلانی ماتریدی)


بعض بے بصر اور اسلامی تعلیمات سے بے خبر لوگوں نے جن میں اکثریت مغربی مفکرین کی ہے اسلام کے زریں اصول اور بلند تعلیمات پر نکتہ چینی کو اپنا شعار بنا لیا ہےاور وہ ہر ایسے پہلو کی تلاش میں سرگرم عمل رہتے ہیں جہاں ان کو لب کشائی کا موقع مل سکے اور وہ اپنی ہرزہ سرائی سے ہمارے نوجوانوں کو گمراہ کر سکیں۔ اسلامی اخلاقیات کے وسیع اور ناپیدا کنار سمندر میں اس گروہ نے بہت ہاتھ پاؤں مارے لیکن انہیں کامیابی حاصل نہ ہو سکی بلکہ انہیں ان تعلیمات کی رفعت و عظمت کا اعتراف کرتے ہی بن پڑی، لے دے کے مسئلہ تعدد ازدواج اور مسئلہ غلامی پر ان کی بے بصری کہیئے یا تجاہل عارفانہ، انہوں نے لب کشائی کی اور اپنی تحریروں میں ان مسئلوں کو ہدف طعن بنایا حالانکہ ان کے دل ان کے قلم کا ساتھ نہ دے سکے ان کے دل اس بات سے خوب باخبر تھے کہ شارعِ اسلام ﷺ نے عظیم معاشرتی اور سماجی مصالح کے پیش نظر چند قیود کے ساتھ تعدد ازدواج کو روا رکھا یہی کچھ صورت مسئلہ غلامی (اعتباد) کی بھی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یونان کے مفکرین، روما کے فلسفی مبصرین، احبار قستین اپنی سخت کوششوں سے تمدّن عالم سے جس لعنت کو ختم نہ کر سکے عہد حضرت مسیح علیہ السلام اور تاریخ قبل مسیح اس پر گواہ ہے اور ان کے احتجاجات کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہ ہو سکا اس کے برعکس اسلام نے انسانیت کے اس رستے ہوئے ناسور کو بند کرنے کے لئے جو کچھ کیا وہ تعجب خیز بھی ہے اور اصلاح تمدن کا ایک عظیم کارنامہ بھی۔

اسلام سے قبل غلاموں کی خرید و فروخت، غلاموں کا وجود معاشرتی و تمدنی زندگی کا ایک ایسا مسئلہ تھا جس پر نہ غور و فکر کی ضرورت تھی اور نہ جس کی اصلاح کی حاجت؛ گویا ایک قسم کا مال تجارت تھا جس کی خرید و فروخت بالکل اسی طرح ہوتی تھی جس طرح دیگر اجناس و قماش تجارت! غلاموں کی زندگی آقاؤں کے ہاتھ میں ایک کھیل تھی وہ جس طرح چاہتے ان سے کھیلتے اور اپنا دل بہلاتے عظیم روما کے بادشاہ بھوکے اور خونی درندوں کو ان پر چھوڑ کر ان کی ہلاکت کے تماشے آئے دن دیکھتے۔ تہذیب و تمدن کی دعویدار رومی سلطنت میں ان پر جو ظلم ڈھائے گئے اور یونان میں اس بدنصیب طبقے کے ساتھ جس درندگی کا سلوک کیا گیا وہ تاریخ کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں۔

اسلام نے جب تمدن کی ان تاریکیوں میں اپنا نورانی قدم رکھا تو عہد جاہلیت اور دورِ استبداد کے بیشمار مسائل میں سے ایک مسئلہ اعتباد (غلامی) بھی تھا۔ شارع اسلام علیہ تحیۃ والسلام نے دیگر معاشرتی، سماجی، تمدنی اور اخلاقی مسائل کی اصلاح کے ساتھ ساتھ معاشرہ کے اس نامراد و مظلوم طبقہ کی بہبود کی طرف بھی توجہ فرمائی۔

سب سے اول تو غلامی کے مفہوم کی اصلاح فرمائی گئی اور اس کو صرف ایک عارضی اور مشروط سزائے نافرمانی یا جرم جنگ و جدل کا بدلہ قرار دیا نہ کہ ایک مستقل نسل و نژاد! اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے حقوق معین کئے اور ان کے ساتھ پیار اور خلوص و محبت کے رویّے کی تاکید اس طرح کی گئی کہ اس نے یکسر اس مظلوم طبقہ کی کایا پلٹ دی اور پھر ان کو جو عزت و اکرام حاصل ہوا تاریخ اسلام اس پر گواہ ہے اور آثار و اخبار اس پر شاہد ہیں۔

اپنی تہذیب و شائیستگی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے اور اپنی سماجی برتری کا دعویٰ کرنے والی قومیں اپنے متمدن معاشرہ سے انگلیوں ہی پر شمار ہونے والے چند ایسے نفوس کا پتہ دے دیں جن کو حضرت بلال، حضرت صہیب بن سنان، حضرت سلمان فارسی، حضرت زید بن حارثہ، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنھم جیسا شرف و اعزاز ان کو قوم نے دیا ہو کہ ان کے آگے حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر اور دوسرے صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم اپنی آنکھیں بچھاتے تھے جن کی قیادت میں لشکر جا رہا ہو اور قائد عسکر آپ سوار ہو اور خلیفۂ وقت پا پیادہ! کیا وہ ایسی کوئی مثال پیش کر سکتے ہیں کیا وہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جیسا قائد لشکر پیش کر سکتے ہیں۔

کیا تاریخ عالم کوئی ایسی مثال پیش کر سکتی ہے کہ ایک غلام جب متاہل زندگی کا خواستگار ہوتا ہے تو شرفائے عرب اور رؤسائے عرب اور عمائد قریش اس کی اس خواہش پر لبیک کہتے ہیں اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دختر کا عقد رسول اکبر ﷺ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرما دیتے ہیں اور حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ اور آپ کے فرزندانِ گرامی اس کو اپنے لئے موجبِ فخر و مباہات سمجھتے ہیں۔

کیا دنیا کی تاریخ کوئی ایسی مثال سامنے لاسکتی ہے کہ غلاموں کو علمی دنیا میں ایسا شرف اور ایسا اعزاز نصیب ہوا ہو جو حضرت عکرمہ، حضرت مجاہد بن جبیر، حضرت طاؤس بن کیسان، حضرت مکحول دمشقی، حضرت محمد بن سیرین، ابو العالیہ رباعی رضی اللہ تعالیٰ عنھم (طبقہ تابعین) اور حضرت عبداللہ بن مبارک، محمد بن الحسن شیبانی، حضرت سفیان بن عیینہ، حضرت یحییٰ بن معین، حضرت عبداللہ بن وہب اور حضرت حماد بن زید رحمھم اللہ تعالیٰ علیھم جیسے بلند پایہ محدثین کو نصیب ہوا کہ آج بھی علم و فضل اور شرافت و نجابت ان کی راہ میں آنکھیں بچھاتے ہیں اور مسلمانان عالم ان بلند پایہ ہستیوں کے ارشادات و فرمودات کو حرزِ جان بنائے ہوئے ہیں اور ان کو ایسا ثقہ اور بلند پایہ رواۃ حدیث رسول اللہ ﷺ سمجھا جاتا ہےکہ مسلمانانِ عالم کے مذہبی، معاشرتی، اخلاقی تمدنی مسائل کے ماخذ ان کے حوالوں سے مستند اور قابل قبول سمجھے جاتے ہیں یہ وہ بلند پایہ ہستیاں ہیں جو محدثین کرام کے گراں پایہ طبقے میں منسلک ہیں اور جن کے اسمائے گرامی ہمارے لئے باعث ناز و افتخار ہیں۔

حضرت معروف کرخی، حضرت مالک بن دینار اور حضرت ذو النون مصری (رحمھم اللہ علیھم) آج بھی سرخیل صوفیائے کرام سمجھے جاتے ہیں ان کی تعلیمات تصوف کی دنیا کی جان ہیں اور سلاسل تصوف میں ان بزرگ ہستیوں کو جو مقام حاصل ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ دنیائے شعر و ادب کا تذکرہ ابو دلامہ اور یاقوت حموی کے ناموں کے بغیر نامکمل سمجھا جاتا ہے یہ وہ نامورارنِ ادب ہیں کہ خود ادبیاتِ عرب کوان پر ناز ہے۔

اب ذرا سیاسیاتِ و مدنیات پر نظر ڈالئے اور ملوکیت کی تاریخ کا مطالعہ کیجئے تو ترک ممالیک، غزنوی سلاطین اور سلاطین دہلی کو آپ کس طرح نظر انداز کر سکیں گے یہاں تفصیل کا موقع نہیں تاریخِ عالم کے صفحات ان کے کارناموں کے شاہد ہیں۔ مختصر یہ کہ ان دودمان ہائے سلطانی نے اپنی دلاوری، شہ زوری اور عدل گستری کی انمٹ داستانیں تاریخ عالم پر ثبت کر دی ہیں یہاں پر مختصراً بھی اس سلسلہ میں کچھ عرض نہیں کر سکتا کہ اس کے لئے بھی متعدد صفحات درکار ہوں گے۔

مجھے تو صرف یہ بتانا تھا کہ اسلام نے غلامی کو معاشرے میں جو بلند مقام عطا فرمایا اس کی مثال مہذب دنیا کی تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے اسکی کچھ تفصیلات آپ کو پیش نظر کتاب ”غلامانِ اسلام“ میں ملیں گی اگرچہ یہ دنیائے غلامان کے تمام پہلوؤں پر محیط نہیں ہے بلکہ یہ تاریخ یا تذکرۂ غلامانِ اسلام زیادہ سے زیادہ چوتھی صدی ہجری تک محدود ہے لیکن یہ صدیاں تو ہمارے علم و فضل، کرامت و شہامت کا عظیم سرمایہ ہیں اور ہمارے ورع، زہد و تقویٰ کے لافانی نقوش کا مرقع ہیں۔

”غلامانِ اسلام“ کے فاضل مصنف نے بڑی دیدہ وری، کاوش اور بصیرت سے ان در منثور کو ایک لڑی میں پرویا ہے ان کا یہ علمی کارنامہ حقیقت میں تاریخ اسلام کے اس پہلو کی ایک وضاحت اور دلنشین تفسیر ہے جس کو مؤرخین اسلام نے اپنے سلسلۂ بیان میں صرف چند سطروں میں ذکر کر دینا ہی کافی سمجھتے رہے ہیں۔ ہمارے نوجوان ذہنوں کے لئے اس کتاب کا مطالعہ بڑا سود مند اور نتیجہ خیز ثابت ہوگا اور مسئلہ غلامی کے سلسلہ میں لاشعوری طور پر یا سطحی مطالعہ کے باعث ان کے ذہنوں میں جو کجروی پیدا ہو گئی ہے اس کی بڑی حد تک اصلاح ہو جائے گی۔ یہ کتاب ان کی اصلاح کا ایک مؤثر ذریعہ ہے اور دریدہ دہن مغربی مصنفین اور مفکرین کےلئے ایک تازیانہ بصیرت! اللہ تعالیٰ مصنف کی سعی کو مشکور فرمائے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20