کرک ناتھ از محمد حفیظ خان — تبصرہ: علی عبداللہ

0

محمد حیفظ خان کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ ادھ ادھورے لوگ اور انواسی ناول لکھنے سے پہلے بھی وہ ایک وکیل اور سیشن جج کے طور پر لوگوں میں پہچانے جاتے تھے۔ حفیظ خان ایک مؤرخ، نقاد، کالم نویس، افسانہ نگار اور صحافی کے طور پر بھی اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ انہیں دو مرتبہ اکادمی ادبیات کے ہجرہ ایوارڈ اور قومی سول ایوارڈ تمغہ امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ حال ہی میں ان کا ناول “کرک ناتھ” منظر عام ہر آیا ہے جس میں انھوں نے معاشرے میں پھیلے چند سیاہ المیوں کی عکاسی کی ہے۔ مصنف نے اس ناول میں ہم جنس پرستی، سوشل میڈیا دوستی کے ذریعے خواتین کی عزتوں سے کھیلنا، پولیس کے گھناؤنے افعال پر روشنی ڈالنے کے علاوہ ظلم کے بڑھنے پر مظلوم کے ردعمل اور اشرافیہ کے سیاہ کرتوتوں اور مفاد پرستی کی کہانی بیان کی ہے۔

“کرک ناتھ” ایک ایسے مرغے کی نسل ہے جس کا رنگ تو سیاہ ہوتا ہی ہے مگر اس کا خون، ہڈیاں اور ماس بھی سیاہ ہوتا ہے۔ ایسے مرغے عموماً کالے جادو جیسے مکروہ دھندوں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس ناول میں بھی اسی قسم کے سیاہ کردار موجود ہیں جو طاقت کے حصول اور مفادات کی خاطر ہر سیاہ ہتھکنڈہ آزمانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ 2020 میں شائع ہونے والا یہ ناول اپنے اندر سسپنس پالے ہوئے ہے جو پڑھنے والے کو دھیرے دھیرے محو کرتا چلا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ناول مردوں اور عورتوں کی مخصوص جنسی نفسیات سے بھی پردہ اٹھاتا ہے۔

مبشر رضا جو کہ ایک ذہین کاپی رائٹر ہے اور اس کے بنا کوئی بھی کمپنی ادھوری سمجھی جاتی ہے۔ لیکن یہ شخص اردگرد کی ہر عورت کو اپنے حصار میں ہر قیمت پر جکڑ کر رکھنے کا عادی ہے۔ وہ چاہتا تھا کہ عورت اس کی کامل دسترس میں ہو اور سانس لے تو بھی اس کی مرضی سے اور زندگی کرے تو وہ بھی اسی کی منشا سے۔ اس کی شخصیت کے بارے مصنف نے لکھا ہے، ” یوں لگتا تھا کہ اس کا تخلیقی جوہر عورت پر ہی کھلتا ہے اور عورت پر ہی نقطہ کمال کو پہنچتا ہے۔ اس کے ناقدوں کے نزدیک نسائی خبط میں مبتلا وہ ایک ایسا جنونی تھا کہ جس کی تخلیقی صلاحیتیں عورت کے وجود میں مقید اور اس کی چشم ہنر عورت کے بدن کے زاویوں سے آگے دیکھ بھی نہیں سکتی تھی۔ ” زفیرہ احمد جو ایک مشہور ایڈورٹائزنگ کمپنی کی مالکہ ہونے کے ساتھ ایک ذہین اور خوبصورت عورت ہے۔ شادی کی روایتی عمر سے وہ اب نکل چکی تھی اور سنگل کامیاب وومن کا سہرا سجائے اپنی کمپنی کے مستقبل کے لیے فکر مند ہے۔ اسی دوران ایک کڑے وقت میں اپنی کمپنی کی ساکھ بچاتے بچاتے وہ سرکار کے ایک بڑے صاحب کے مفاد کی خاطر اپنی عزت، عفت اور وقعت بھی گنوا بیٹھتی ہے۔

سوشل میڈیا کے دلکش پلیٹ فارم پر خوبصورت اور دلنشیں لفظوں کے حامل بہت سے سلطان موجود ہیں جو اپنے انداز بیاں اور لفاظی سے سامنے والے کو منٹوں میں فتح کرنے کا ہنر جانتے ہیں، مگر حقیقتاً ایسے لوگ فاتح نہیں بلکہ شکاری ہوتے ہیں جو ہمہ وقت شکار کے مؤثر طریقوں سے معصوم اور سادہ لوح لوگوں کو غزال سمجھ کر اپنے جال میں پھنسا لیتے ہیں۔ ایسے لوگ سلطانوں سی اعلی ظرفی اور وسعت قلبی تو نہیں رکھتے بلکہ خوش اخلاقی اور دلپذیر بیانیے کے غلاف میں ہوس اور دھوکہ لپیٹے ہوئے، شکار کو دھیرے دھیرے اپنے چنگل میں پھانستے چلے جاتے ہیں۔ اور احساس ہونے پر شکار آہیں بھرنے اور تڑپنے کے سوا کچھ نہیں کر پاتا۔ یہی کچھ ناول کے ایک اور کردار ماہین کے ساتھ ہوا۔ یہ وہ طالبہ ہے جو سوشل میڈیا کے ذریعے ایک شخص کی دلربا گفتگو کے سحر میں مسحور ہو کر اس سے ملنے کا عزم کر بیٹھتی ہے اور پھر اس اجنبی سے کی جانے والی یہ ملاقات، اس کے بدترین دنوں کا آغاز ثابت ہوتی ہے۔ یہ ملاقات نہ صرف اس کی عزت کی دھجیاں اڑانے کا باعث بنتی ہے بلکہ آنے والے دنوں میں اس کے جذبات اور نفسیات کو تباہ کر کے اسے ایک بے خوف، زمانہ شناس اور ڈھیٹ انسان بنا دیتی ہے۔ بقول مصنف، “اور پھر اس نے بہت کم دنوں میں اتنے زیادہ ٹھکانے اور اتنے زیادہ مرد بدلے کہ اسے عورت کے مزاج میں دخیل پردیسی پن اور عدم تحفظ کی وجوہات سمجھ میں آنے لگی تھیں۔ ”

شاکے اور کاشی کا کردار بھی ناول میں بہت اہمیت کا حامل ہے جو اپنے بچپن میں ہوئے گھریلو تلخ تجربات اور معاشرے کی بے حسی کے باعث ہم جنس پرستی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ گھر سے شروع ہونے والا ایک منظر سکول استاد کے ہاتھوں عملی طور پر سر انجام دیے جانے پر شاکے کے اندرونی تجسس کو بیدار کرنے کا باعث بنا۔ اور پھر، “جونہی کوئی مرد اس کے سامنے آتا وہ خیال ہی خیال میں اس کے ملبوس جسم کا تقابل ماما روشن کے غیر ملبوس جسم سے کرنے لگتا۔ کیا یہ سب ماما روشن کی طرح ہوں گے؟اگر وہ سب اس کی طرح ہیں تو پھر وہ خود ویسا کیوں نہیں ہے؟” یہیں سے ہم جنس پرستی کی لت انھیں اس مقام پر لے آتی ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہوتی ہے۔ نتیجتاً وہ سیریل کلر بن کر ابھرتے ہیں۔ اسی طرح ناول میں پولیس کے کردار پر بھی خاصی تنقید کی گئی ہے جو اچھے بھلے معصوم لوگوں کو ایک عادی مجرم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تھانوں سے الگ ٹارچر سیل بنا کر تشدد تو کرتے ہی ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ حوالات سے خواتین کو اٹھا کر یہاں ان کی عزتوں سے بھی برے طریقے سے کھیلتے ہیں۔

مزید اشرافیہ کی طاقت کا حصول کے لیے عورت کو ایک جنس کے طور پر پیش کرکے اپنے مقاصد کی تکمیل کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورت ایک ضرورت نہیں بلکہ کوئی عام چیز ہے جس کے بدلے مفادات خریدے جا سکتے ہیں۔ عورت کو معاشرہ ایک جیتا جاگتا وجود ماننے سے انکاری ہے۔ اس ناول میں مصنف نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ معاشرہ مکمل طور پہ برائی کی جانب گامزن ہو چکا ہے اور بھلائی اب پرانے وقتوں کا ایک قصہ ہے جو صرف سننے کی حد تک لطف دیتا ہے۔

گو کہ یہ ناول موضوع کے اعتبار سے نیا اور اچھوتا نہیں ہے اور نہ ہی مخصوص انفرادیت کا حامل ہے۔ اس میں موجود بعض مردانہ کرداروں کے بے حد جنسی فعالیت اور انداز ان کرداروں کو غیر فطری سا بنا دیتے ہیں۔ مردانہ بے رحم معاشرہ اور ہر مقام پر مرد کو ہی برائی اور بگاڑ کا سبب بنا دینا بھی ناول کا ایک کمزور پہلو ہے۔ نسوانی کرداروں میں ماہین کی جنسی نفسیات اور انداز کا بیان بھی کچھ فلمی سا محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہ ناول محمد حفیظ خان کے دیگر ناولوں کی نسبت بہت زیادہ بہتر نہیں لگا مگر اس کے باوجود انسانی نفسیات، مرد و عورت کے تعلق کا بیانیہ بعض مقامات پر فلسفیانہ گفتگو اور انداز تحریر اس ناول کو پڑھنے پر مجبور کرتے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20