اوور لوڈنگ: خطرہ کی گھنٹی —— سعدیہ اسلم

0

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آبادی کے بڑھنے سے گاڑیوں تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے ہر چھوٹی بڑی شاہراہ ٹریفک کے رش سے بھرپور ہوتی ہے۔ یہی بڑھتی ہوئی گاڑیاں حادثات میں اضافہ کا باعث ہیں؛ ٹریفک حادثات کی کئ وجوہات ہیں ان میں ایک وجہ اوورلوڈنگ سے ہونے والے حادثات ہیں۔ جب اوورلوڈنگ سے ہونے والے حادثات کا مختلف زاویوں سے تجزیہ کیا جائے تو سب سے پہلے موٹرسائیکل حضرات اس دو پہیہ والی سواری کو چار پہیہ والی سواری سمجھتے ہیں۔ دیہات ہو یاں شہر موٹرسائیکل پر دو سے زائد افراد کا بیٹھنا معمول ہو چکا ہے۔ بعض موٹرسائیکل حضرات کی جانب سے دائیں بائیں بڑے کیرئیرز نصب کر دئیے جاتے ہیں یاں ضرورت سے زیادہ سامان لاد جاتا ہے جو ٹریفک کی روانی میں رکاوٹیں پیدا کرتا ہے اور انکے لیے بھی خطرہ کا سبب بنتا ہے۔ چند پیسوں کو بچانے کے لیے جان جیسی قیمتی چیز کو پس پشت ڈال کر موٹرسائیکل پر پورا خاندان اور ضرورت سے زیادہ سامان لاد دیا جانا کھلی حماقت ہے۔

سامان کی اوورلوڈنگ کے علاوہ مسافروں کی اوورلوڈنگ پبلک ٹرانسپورٹ میں گھمبیر مسئلہ ہے۔ سوزوکی میں عام طور پر آٹھ افراد کی گنجائش ہوتی ہے جبکہ اس میں اس سے زائد افراد پیسے و وقت بچانے کی خاطر پانچ سے چھ افراد سوزوکی سے باہر کھڑے کیے جاتے ہیں۔

اسی طرح بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ سٹوڈنٹ وین میں بچوں کی اوورلوڈنگ ہوتی ہیں حتی کہ بڑی چھوٹی جامعات میں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملتا ہے جہاں طلباء طالبات والدین، ڈرائیورز اور جامعات کی انتظامیہ کی لالچ کا نشانے بن رہے ہوتے ہیں جہاں اکثر سیٹ نہ ملنے کی صورت کے باعث دروازے سے باہر لٹکنا پڑتا ہے۔ سوزوکی ویگن یاں بس ہو اس میں مسافر کا کرایہ فی نشست اور ایندھن کے استعمال اور مسافت پر منحصر ہوتا ہے۔ پاکستان میں لوکل بسوں میں گنجائش سے زیادہ سفر کرنے کی اجازت بس کے ڈرائیور و کنڈکٹر کی جانب سے دی جاتی ہے۔

پاکستان میں بس و ویگن میں اوورلوڈنگ کے باعث ان ڈرائیورز پر جرمانہ عائد ہی نہیں کیا جاتا، اکثر پولیس اہلکار آنکھوں کے سامنے ایسے عمل کو نطر انداز کر دیتے ہیں اسکے علاوہ ٹول پلازہ پر موجود پولیس اہلکار کی جانب سے انکے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی جو انکے حوصلہ کو شے دے رہا ہے۔ پاکستان میں ہر پانچ منٹ کے بعد ٹریفک حادثہ پیش آتا ہے جس میں ہر ایک فرد شدید زخمی یاں جاں بحق ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے موٹر و ہیکل آرڈیننس 1965 کے سیکشن 44 اور 99 کے تحت گنجائش سے زیادہ مسافروں کو کھڑا کرنا قانوناً غیر قانونی ہے اور یہ سیکشن اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتا، یہ عمل تعزیرات پاکستان کی دفعہ 324 کے مطابق قتل کے زمرے میں آتا ہے لیکن اس قانون کا عملی مظاہرہ دور دور تک نظر نہیں آتا ہے۔

مزید پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 30 فیصد حادثات بڑی گاڑیوں کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ ٹرالر، ٹریکٹر و ٹرالی، ٹرک، بسس اور ڈمپر کا شمار ہیوی ٹرانسپورٹ میں ہوتا ہے جو ایک شہر سے دوسرے شہر تعمیراتی مواد کے علاوہ اناج و دوسری چیزوں کی نقل و حمل روزانہ کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ بڑی گاڑیاں جب مصروف شاہراہوں کا رُخ کرتی ہیں تو دوسری ٹریفک کے لیے خطرہ کا سبب بنتی ہیں لیکن یہی ہیوی ٹرانسپورٹ زیادہ سامان ہونے کے سبب ٹریفک کی روانی کو بھی معطل کرتی ہیں۔ اوورلوڈنگ زیادہ ہونے کی وجہ سے اکثر اوقات ٹائر پنکچر ہو جاتے ہی، یاں ٹائر میں گرمائش زیادہ ہونے کے سبب ٹائر پھٹ جاتے ہیں جس سے بڑی گاڑیوں کو قابو کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے، بڑی گاڑیوں کا سامان الٹ کر ساتھ چلنے والی گاڑیوں کو بُرے طریقے سے متاثر کرتا ہے۔ ہیوی ٹرانسپورٹ کے لیے سڑک پر ایک لین مختص کی گئی ہے جس پر رہ کر گاڑی چلائی جاتی ہے لیکن دورانِ ڈرائیورنگ یہ ڈرائیورز یک دم دوسری لین میں آ جاتے ہیں، دائیں بائیں مڑنے کا اشارہ یاں انڈیکیڑ بھی نہیں دیا جاتا، اکثر اوقات ان بڑی گاڑیوں میں پچھلی گاڑیوں کو دیکھنے کے لیے شیشے بھی موجود نہیں ہوتے، رات کے اوقات میں ان بڑی گاڑیوں میں ہیڈ لائٹس کی غیر موجودگی انکی غفلت و لاپروائی کی منہ بولتا ثبوت ہے۔

ہیوی ٹرانسپورٹ کو بغیر تکنیکی فٹنس و چیکنگ کے سرٹیفکیٹ دے دیئے جاتے ہیں، یہ لوگ بغیر لائسنس کے سڑکوں پر گاڑی چلاتے ہیں جو دوسروں کے جان و مال کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ مجھے اوورلوڈنگ کی وجہ سے ہونے والا حادثہ یاد آیا (جو 21 جنوری 2019 میں قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ عمرانیات میں ایچ ای سی کی جانب سے منعقد ہونے والے ہونے والے روڈ سیفٹی سیمنار جس کی نمائندگی شعبہ عمرانیات کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر محمد زمان نے کی) جس میں 1122 کی جانب سے دکھایا گیا کہ اوورلوڈڈ ٹریکٹر کے باعث دو موٹرسائیکل سواروں کے سینوں میں تعمیراتی مواد میں استعمال ہونے والے سریا کُھب گیا، 1122 کی بروقت کارروائی سے ان نوجوانوں کو آپریشن ٹھیٹر لایا گیا اور بروقت آپریشن سے انکی جان بچائی گئ۔ یہ ایک دل کو دہلا دینے والا واقعہ تھا ایسے کئ واقعات پاکستان میں بڑی گاڑیوں کی وجہ سے پیش آتے ہیں جس میں نا جانے کتنے لوگ شدید زخمی و جاں بحق ہوتے ہیں اور کچھ حادثات تو منظرِ عام پر بھی نہیں آتے۔

آخر پاکستان میں ان حادثات کو ایک معاشرتی مسئلہ اب تک کیوں نہیں سمجھا گیا؟ اسکی وجہ حکومت و اداروں کی نااہلی و کم دلچسپی ہے۔ پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں انکے سامنے یہ لوگ قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہوتے ہیں، حالانکہ پولیس کا اتنا خوف ہونا چاہیے کے یہ لوگ جرم کرنے کا تصور بھی نا کریں۔ ہائی ویز سیفٹی آرڈیننس 2000 کے مطابق حد سے زیادہ وزن تجاوز کرنے پر بھاری جرمانہ عائد ہوگا تو اوورلوڈنگ کے اس قانون کی بھی پاسداری نہ پولیس اور نہ ہی ڈرائیور کی جانب سے کی جاتی ہے کیونکہ انکے پاس ٹریفک کے قوانین کے حوالے سے ناقص علم موجود ہے۔ ایسے کون سے اقدامات ہیں جنکی وجہ سے ان حادثات کی روک تھام ممکن ہو سکتی ہے۔

موٹروے و ہائی وے ٹریفک پولیس کو چاہیے کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں ایچ ٹی وی اور ایل ٹی وی ڈرائیور کے لیے تربیتی کیمپ کا انعقاد کریں جہاں انکی باقاعدہ ٹریننگ ہو سکے۔ ضرورت سے زیادہ اوورلوڈنگ گاڑی ہونے کی صورت پر اُن تمام ہیوی ٹرانسپورٹ، بسوں اور موٹرسائیکل سواروں پر بھاری جرمانے عائد کرنے کے ساتھ ساتھ لائسنس بھی منسوخ کر دینے چاہئیں۔ وہ بڑی گاڑیاں جنکی تکنیکی فٹنس اچھی نہیں ان ڈرائیورز پر بھی بھاری جرمانہ عائد کرنا ہوگا اور وہ ڈرائیور جو بغیر لائسنس کے ڈرائیورنگ کر رہے ہیں انکے خلاف سخت کارروائی کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ بغیر لائسنس کے گاڑی چلانا قانوناً جرم ہے اور یہ لوگ سڑکوں پر کھلے دہشت گرد ہیں۔ بڑی گاڑیوں کو موٹر وے و ہائی وے پر جانے کی اجازت نہیں ہونے چاہئیے کیونکہ یہ سڑکوں کو بری طرح متاثر کرتی ہیں، اسکے ساتھ ہر شہر و دیہات میں لوکل بسوں کی تعداد بڑھانی ہوگی جہاں بسوں پر مسافروں کی اوورلوڈنگ نہ ہوسکے۔

عوام کو ٹریفک قوانین کا احترام کروانے کی اشد ضرورت ہے چاہے ڈنڈے کے زور پر ہی کیوں نا کروایا جائے۔ حکومت انتظامیہ و اداروں کو اس مسئلہ پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے اور ان حادثات کی روک تھام کے لیے مثبت اقدامات اٹھانے ہونگے کیونکہ اوورلوڈڈ گاڑیوں کی وجہ سے دوسری گاڑیوں میں تصادم پیدا ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں خطرناک حادثات پیش آتے ہیں۔ حکومت اور ہر چھوٹے بڑے شہر و دیہات کی انتظامیہ شہریوں کی جان و مال کی ضامن ہوتی ہے اور اسے شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20