جنسی خوف و ہراس کیسے روکا جائے؟ —- سلمان عابد

0

اگرچہ عورتوں اور بالخصوص لڑکیوں کا جنسی خوف و ہراس کا شکار ہونا ایک عالمی مسئلہ ہے۔ عالمی دنیا سے جڑے ممالک بشمول پاکستان بھی اپنی سطح پر اس مسئلہ سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن یہ مسئلہ کم ہونے کی بجائے بڑی تیزی سے نہ صرف بڑھ رہا ہے بلکہ اس کی جو شکلیں ہمیں مختلف انداز میں دیکھنے کو مل رہی ہیں وہ بھی کافی سنگین پہلووں کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگرچہ ہم ایک قدم آگے بڑھ کر جنسی خوف و ہراس پر مبنی قوانین بھی بنالیے ہیں تاکہ اس مسئلہ سے بہتر طور پر نمٹا جاسکے۔ لیکن اس کے باوجود مسئلہ کم ہونے کی بجائے بڑھ رہا ہے۔ یہ مسئلہ اب محض عام لوگوں کی بچیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ بڑے گھرانوں کی لڑکیاں بھی جنسی خوف و ہراس کا شکار ہیں یا وہ جنسی طور پر اس مسئلہ سے دوچار ہوتی ہیں۔ ایک منطق یہ دی جاتی تھی کہ لڑکیاں کیونکہ کم تعلیم یافتہ ہوتی ہیں یا وہ ناخواندہ ہوتی ہیں اس لیے معاشرے کے طاقت ور مرد یا نوجوان بچیوں کو جنسی طور پر ہراساں کرتے ہیں۔ لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ اعلی تعلیم یافتہ لڑکیاں اعلی تعلیمی اداروں یا کام کرنے کی جگہ پر جنسی خوف و ہراس کا نشانہ بنتی ہیں اور تعلیم ہونے کے باوجود وہ ہراس کا شکار ہوتی ہیں۔

ایک طرف معصوم بچیوں کا تعلق ہے تو دوسری طرف کام کرنے والی گھریلو ملازمین یا مختلف اداروں میں چھوٹے سے لے کر بڑی سطح پر اہم عہدوں پر کام کرنے والی عورتیں بھی جنسی خوف وہراس کا نشانہ بنتی ہیں۔ یہ تصویر ظاہر کرتی ہے کہ ہمارے جیسے معاشروں میں سیاسی، سماجی، معاشی بنیادوں پر بچیوں اور عورتوں کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مسائل میں ایک مسئلہ جنسی خوف و ہراس کا بھی ہے۔ عمومی طور پر تو بہت سی بچیاں و عورتیں اپنے خلاف ہونے والے جنسی خوف وہراس کو اپنے اندر ہی دبا لیتی ہیں۔ کیونکہ ان کو ڈر ہوتا ہے کہ اگر وہ اس بات کو اپنے گھر یا خاندان تک لے کر جاتے ہیں تو یہ معاملہ خو دان کے لیے بھی ایک بڑی پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔ گھر و خاندان کی سطح پر پہلا علاج اس کا یہ تلاش کیا جاتا ہے کہ بچی یا عورت کو تعلیم اور ملازمت چھڑوا کر گھر بٹھادیا جاتا ہے۔ دفتری یا کام کی سطح پر بھی بہت سی کم عمر کی جوان لڑکیاں یا عورتیں اپنے معاشی بوجھ کی وجہ سے وہاں آواز اٹھانے کی بجائے خاموشی اختیار کرتی ہیں۔ کیونکہ الزام کی صورت میں خود ان ہی بچیوں یا عورتوں پر جوابی طور پریا تو سنگین الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔

حالیہ دنوں میں لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارے میں بچیوں کے ساتھ جنسی خوف و ہراس کے کچھ واقعات کا سامنے آنا اور لڑکیوں کا بلا خوف ججھک اس پر آواز اٹھانا ظاہر کرتا ہے کہ معاملہ کی سنگینی کافی حد تک بڑھ گئی ہے۔ جب بھی بچوں و بچیوں کے ساتھ جنسی خوف وہراس یا ذیادتی کے واقعات مدارس کی سطح پر ہوتے ہیں تو بہت ہنگامہ برپا ہوتا ہے۔ اصولی طور پر ہونا بھی چاہیے کہ دینی مدرسے یا مسجد میں بیٹھ کر اس طرح کا گھناونا کھیل قابل گرفت ہے اور وہ بھی مذہب سے جڑے استادوں کی سطح پر۔ لیکن اب یہ مسئلہ محض مدارس تک محدود نہیں بلکہ اعلی اور بڑے مہنگے تعلیمی اداروں سے بھی یہ مسائل اٹھ رہے ہیں۔ استاد اور بچوں یا بچیوں کا جو مقدس رشتہ ہے اس کی جس انداز سے ہمیں یہاں پامالی کے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں تو بہت کوفت ہوتی ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں یا ہم تعلیم اور تربیت یا بہتر معاشرے کی تشکیل کے نام پر کہاں جارہے ہیں۔

بنیادی طور پر ہماری تعلیم اور تربیت کے عمل میں ایک بڑا گہرا تضاد ابھرکر سامنے آرہا ہے۔ تعلیم اور تربیت میں جو بڑی خلیج پیدا ہو رہی ہے اس نے معاشرے میں مختلف نوعیت کے سماجی مسائل کو بگاڑ کی صورت میں پیش کیا ہے۔ ان مسائل کی جڑ محض تعلیمی ادارے ہی نہیں بلکہ عملی طور پر ہمارے گھر، خاندان اور محلہ سمیت سماج کا مروجہ نظا م بھی ہے جہاں بچیوں اور عورتوں کے ساتھ مختلف نوعیت کی تفریق، تعصب یا استحصال پایا جاتا ہے۔ حکومت نے اس مسئلہ کو دو سطحوں پر حل کرنے کی کوشش کی۔ اول لوگوں کو سماجی شعور دیا جائے کہ وہ اس طرز کے مسائل سے خود کو دور رکھیں اور لوگو ں میں یہ شعور دیا جائے کہ ہمیں بچیوں اور عورتوں کی عزت کرنی چاہیے۔ دوئم حکومت نے اس مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر جنسی خوف وہراس کے خاتمہ میں قانون سازی کی ہے تاکہ جو لوگ اس کی گرفت میں آتے ہیں ان کو قانونی طور پر نمٹا جائے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں قوانین تو بنادیے جاتے ہیں اول اس کے بارے میں بہت زیادہ شعور و آگاہی نہیں ہوتی، دوئم قوانین میں یا تو سقم ہوتا ہے یا اس پر عملدرآمد کا نظام بہت کمزور ہوتا ہے۔

سوشل یا ڈیجیٹل میڈیا کے بڑھتے ہوئے پھیلاو کی وجہ سے اب ہمیں بچوں و بچیوں کے ساتھ جنسی خوف و ہراس کے نئے پہلووں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو سوشل میڈیا اور اس کے مختلف ٹولز سے جڑے ہوتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہاں سوشل میڈیا کا پھیلاو تو بڑھ رہا ہے مگر اس کا مثبت استعمال کیسے کیا جائے اور کیا ریڈ لائن ہے جو کراس نہیں کرنی اس کی تعلیم یا شعور موجود نہیں۔ سائبر کرائم سے بھی بچوں و بچیوں کو کوئی آگاہی نہیں ہوتی۔ یہ مسئلہ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ ہمیں اسکولوں سے کالجوں یا یونیورسٹیوں یا مدارس کی سطح پر بچوں، بچیوں سمیت اساتذہ کے درمیان تواتر سے یہ واقعات سننے کو ملتے ہیں۔ حکومتی ہدایات پر جنسی خوف وہراس کی کمیٹیاں بھی سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی اداروں و دفاتر میں موجود ہیں، مگر مسئلہ وہی ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے۔ یہ مسئلہ محض لڑکیوں تک محدود نہیں بلکہ اب لڑکوں کو بھی مختلف وجوہات کی بنا پر لڑکیوں سے جنسی خوف و ہراس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ مسئلہ ایک طرف اخلاقی قدروں سے جڑا ہوا ہے تو دوسری طرف اس مسئلہ کا براہ راست تعلق ہمیں اپنے کام کے پروفیشنل ازم کے نظام میں کمزور تربیت سے بھی جڑا نظر آتا ہے۔ ہم بدقسمتی سے رشتوں کی اہمیت کھورہے ہیں یا جو ان مسائل سے نمٹنے کے ہم نے نظام بنائے ہوئے ہیں ان کی نگرانی، شفافیت اور جوابدہی کا نظام اس حد غیر موثر ہے کہ مسئلہ حل ہونے کی بجائے زیادہ بگاڑ کا شکار ہوجاتا ہے۔ ہمارا رسمی میڈیا اس طرز کی سماجی بحثوں سے بہت دور ہے اور اسی طرح مذہبی و سیاسی جماعتیں یا علمائے کرام بھی ان مسائل کو اپنی بحث میں لانے یا سماجی شعور کے پھیلاو میں آگے بڑھنے کی بجائے اسے اہم مسئلہ نہیں سمجھتے۔ پارلیمنٹ اور ارکان پارلیمنٹ کا کردار بھی بہت محدود ہے اور وہ بھی اسے کوئی بڑا مسئلہ نہیں سمجھتے۔

اصولی طور ہمیں معاشرے کی تشکیل نو، اس کے تربیتی نظام، سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے کردار، تعلیمی نظام سے جڑی اصلاحات، پڑھایا جانے والا نصاب، میڈیا کی تعلیم سمیت جو کچھ میڈیا میں دکھایا جارہا ہے یا جو فیصلہ سازی کرنے والے سیاسی، سماجی، انتظامی و قانونی ادارے ہیں بشمول گھر اور خاندان کے نظام میں بہت کچھ کرنا ہوگا۔ خاص طور پر ہماری نوجوان نسل جنسی خوف وہراس کے خلاف سوشل میڈیا اور اپنے اپنے تعلیمی اداروں یا محلوں کی سطح پر ایسی تحریک یا دباو کو پیدا کریں جو ہر سطح پر معاشرے میں جنسی خوف وہراس کے خاتمہ میں کلیدی کردار ادا کرسکے۔ کیونکہ اگر ہم نے ایک مہذہب یا ذمہ دار معاشرہ بننا ہے اور لوگو ں یا بچیوں یا عورتوں کو بغیر کسی خوف، ڈر سے باہر نکالنا ہے تو ہمیں ایک ایسا سازگار ماحول درکار ہے جو سب کے لیے قابل قبول ہو، لیکن یہ کام حکومت تن تنہا نہیں کرسکتی بلکہ ہر فریق کو ہر ادارے کو اپنی اپنی سطح پر ان آوازوں کو اٹھانا ہوگا جو سماجی برائیوں کے زمرے میںآتے ہیں اور جو عورتوں و بچیوں کی آزدانہ نقل وحمل کو روکنے سمیت ان میں ڈر اور خوف کی کیفیت کو پیدا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی عورت کا احساس کمتری اور فیمنزم کی ضرورت 

اس موضوع پہ ایک گفتگو:

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20