قیامت اور جرمانۂ شاعری —– عزیز ابن الحسن

0

ہمارے ہاں روایتی طور پر شعراء جب اپنا دیوان مرتب کرتے تھے تو اس میں جدید منہاجِ تدوین کے برعکس اپنے کلام، خصوصا غزلیات کی ترتیب کو، “تاریخِ نزول” کے برعکس ردیف کی الف بائی ترتیب سے مرتب کیا کرتے تھے۔

سوال ہے کہ ایسا کیوں تھا؟

چاہیے تو یہ تھا کہ جو اشعار اور غزلیں پہلے کہی گئیں انہیں پہلے آنا چاہیے تھا اور جو آخر میں کہی گئیں وہ آخر میں آتیں تاکہ بعد کے محققوں اور نقادوں کو ان کا زمانہ متعین کرنے کی تکلیف نہ کرنا اٹھانا پڑتی!

ہمارے روایتی شعرا اگر اپنے کلام کی تدوین اس طرح کرتے تو جدید ذہن ( محمد حسین آزاد و کلیم الدین احمد وغیرہ) کے اس طرح کے بہت سارے اعتراضات بھی رفع ہو جاتے کہ ان شعرا کے دواوین اور تذکروں کی تذکرے پڑھ جائیے کہیں سے یہ نہیں پتہ چلتا کسی شاعر نے کونسا شعر یا غزل کن حالات میں کہی، اس کی اپنی عمر کیا تھی، گردوپیش کا زمانہ، ماحول، سیاسی و سماجی صورتحال کیا تھی۔
یہ بات نہیں کہ ہمارے ان شعراء کو گردوپیش کی صورتحال کا واقعی کوئی شعور نہیں تھا بلکہ بات صرف اتنی تھی کہ ہمارا پرانا “تدوینی شعور” شعراء کے کلام کو الفبائی ترتیب میں جمع کرکے اس ساری صورتحال کو “شاعر کے کلام سے دریافت کرنے” کے امکان کو پورے دیوان میں بکھیر دینے کا اہتمام کرتا تھا تاکہ جسے یہ شعور دریافت کرنے کا “شوق” ہو وہ کچھ مشقت بھی کرے۔ جدید ذہن نے اس مصلحت کو سمجھنے کے بجائے یہ الزام عائد کرنے میں دیر نہ لگائی کہ اگلے زمانوں کے شعرا سماجی سیاسی حسیت سے بالکل بیگانہ اور گردوپیش کی صورتحال سے آزاد ہوکر اپنی خیالی دنیا میں اینڈتے رہنے کے عادی تھے۔ یہ الزام کاری جدید ذہن کی مخصوص سماجی ساخت کو اس لئے بھی مفیدِ مطلب لگتی تھی کہ اس الزام کا تجزیہ انہیں کچھ دور دراز، دور از کار اور من پسند نتائج تک پہنچانے سہولت فراہم کرتا تھا، مثلاً
پرانے بادشاہی نظام کی خرابیاں، جاگیرداری معاشرت کی برائیاں، جمہوریت کے شعور کا فقدان، تاریخی شعور کی کمی وغیر، جس کا احساس گویا پہلی مرتبہ ہمارے جدید ذہن ہی کو ہوا تھا اور پرانے لوگ تاریخیت اور سماجی حسیت سے جییسے بالکل خالی تھے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ قرین قیاس ہے کہ پرانے لوگوں کو اپنے گرد و پیش کی صورتحال سے واقعی کوئی دلچسپی نہ ہو؟ یعنی باہر گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے، نادر شاہ گلیوں میں خون کی ہولی کھیل رہا ہے اور شاعر ان سب باتوں سے بے نیاز مصاحبوں کے ساتھ دیوان خانے میں بیٹھا خیالی طوطے مینا اڑاتا محبوب کے جور و جفا پر غزلیں لکھ رہا ہے ؟ کیا ایسا ہونا عقلاً ممکن ہے؟ سماجی حرکیات اور انسانی نفسیات سے ذرا سی واقفیت بھی اس خیال کو رد کردینے کیلیے کافی ہے۔ وہ قوم جو مقدمہ ابن خلدون تخلیق کرکے دنیا کو فلسفہ تاریخ سکھا سکتی تھی کیا وہ خود تاریخی شعور سے اتنی ہی بےبہرہ تھی کہ اپنی زندگیوں اور اپنی تخلیقات میں “تاریخی شعور” کی رمق کو راہ نا پانے دے؟

پھر کیا وجہ تھی کہ پرانے شاعروں کے کلام کی ترتیب، اور دواوین مرتب کرنے کی انکی “غیر تاریخی رسمیات” میں سماجی سیاسی حسیت، شاعر کی عمر اور گرد و پیش کے ماحول سے اس کے تعلق کا سراغ اتنے آسانی سے نہیں ملتا؟ اس سوال کے جواب میں جلد بازی کرنے کے بجائے ان پرانوں کے ادبی شعور کی بناوٹ پر غور کرنے کی ضرورت ہے جس میں زمان کی تاریخیت سے زیادہ سرمدیت کا احساس پیش نظر رہتا تھا۔ اس مسئلے پر ہم نے اپنی کتاب “اردو تنقید چند منزلیں” میں کچھ بحث کی ہے۔ ہند اسلامی شعریات کے پرانے ادبی شعور کو اگر ٹی ایس ایلیٹ کے تصور روایت میں آنے والے تاریخی شعور اور انفرادی جوہر کی بحث سے ملا کر دیکھا جائے تو بات مزید واضح ہوگی۔

لیکن یہاں ذرا چھوٹے منہ کو بڑی بات کرکے مزید دور کی کوڑی لانے کی اجازت ہو تو عرض ہے اس نکتے کو ذرا ترتیبِ قرآن کی نظیر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سید حسین نصر نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کے شعری و فنی شعور کی تربیت میں قرآن پاک کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔ مگر یہ بات سنتے ہی کچھ بھتنے فوراً سر اٹھا لیتے ہیں۔ ہیں۔ انہیں قرآن کی وہ آیتیں یاد آنے لگتی ہیں جس میں شعراء کی مذمت کی گئی ہے۔ اس سے وہ پوری شعری روایت پر ہی خطِ تنسیخ پھیرنے کے در پے ہو جاتے ہیں۔ مگر یار لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ مسلمانوں کی فنی جمالیات پر قرآن مجید کے فیصلہ کن اثرات والی بات کو قرآن کے اوامر و نواہی والی آیات میں تلاش نہیں کرنا چاہیے بلکہ خود قرآن پاک کی فنی اور ادبی جمالیات کے “ماحول” میں رچ بس کر دیکھنا چاہیے۔ یعنی قرآن پاک میں اگر کسی شے کو منع بھی کیا گیا ہے تو یہ مناہی بھی انتہائی احسن اسلوب میں بلاغت و بیان کے بلند ترین فنی معیار سے بھی آگے کے کسی انداز پر ہوتی ہے۔ حسین نصر کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے فنی شعور نے قرآن حکیم کی جس خصوصیت سے استفادہ کیا ہے وہ اس میں بیان ہوئے اوامرونواہی کے احکام نہیں ہلکہ اس کی مجموعی ادبی اور فنی فضا ہے جو صدیوں سے مسلمانوں کیلیے کے جمالیاتی شعور کیلیے فیض کا سب بڑا منبع رہا ہے۔ قرآن کے اس فیضان سے مسلمان فنکاروں کا اخذ و استفادہ بلندترین تخلیقی و جمالیاتی حسیت کے اصولوں کے عین مطابق رہا ہے۔ (یاد رہے کہ یہاں پر قرانِ پاک کے ادبی اور جمالیاتی پہلو کے حوالے سے جو بات کی گئی ہے وہ کلام اللہ کے سمندر کا محض ایک جز ہے ورنہ قرآن حکیم بحثیت اللہ کے کلام کے انسانی حیطۂ حواس و ادراک کے مدرکہ و ساختہ ہر مقولے سے ماورا ہے)

اگر گستاخی نہ ہو تو عرض ہے کہ اگلے زمانوں کے روایتی شعرا کے دواوین کی تدوینی رسمیات بھی اغلباً ترتیبِ قرآن میں ملحوظ اس حکمت سے فیضیاب رہی ہے جس کے زیر اثر نزولی ترتیب کے بجائے مصحفی ترتیب کو مقدم کیا گیا ہے۔

قرآن پاک کے عالم اور اس کے دقائق کے عارف نہ ہونے کے باوجود اتنی بات سب مسلمان جانتے ہیں کہ قرآن مجید کے نازل ہونے کی ترتیب اور تھی اور جب اسے مصحف میں جمع کیا گیا تو اسکی ترتیب اور کردی گئی تھی۔ آج ہمارے پاس جو قرآن موجود ہے اس کی ترتیب وہ نہیں جس ترتیب سے قرآن نازل ہوا تھا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود وحی کی روشنی میں قرآن پاک کو موجودہ مصحف کی صورت میں مرتب فرمادیا تھا۔ اس کی جو حکمتیں تھیں اس پر گفتگو کرنا ہمارا مقام نہیں ہے۔ لیکن ہم یہاں صرف کچھ قیاس آرائی کرکے ایک امکان کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ ہمارے روایتی شعرا کے ہاں ان کے دیواین کی ترتیب جو اشعار اور غزلوں کی تاریخی ترتیب کے بجائے ردیفوں کی الف بائی ترتیب کے اصول پر ہوا کرتی تھی، اسے بھی اگر قرآن کی ترتیب مصحف کے فیضان سے اثرپذیر مانا جائے تو کیا حرج ہے؟

قرآن کی مصحفی ترتیب اور اس کی حکمتوں کے بارے میں راقم کا علم رتی برابر بھی نہیں مگر یونہی خیال آتا ہے کہ آج کل ہمارے جدید مذہبی ذہنوں میں قران کے بعض احکام کو مخصوص بہ زمان و مقیّد بہ مکان کرکے محدود بہ اشخاص و اماکن کرنے کا رجحان جو زور پکڑ رہا ہے کیا قرآن کی مصحفی ترتیب اس مزاج اور منہاج کے راستے کی ایک بڑی رکاوٹ نہیں ہے؟ قرآن کے بعض احکام کا تعلق اگر آنحضرت کے دور اور کچھ خاص واقعات و اشخاص کے ساتھ ہی مخصوص ہونا مقدر ہوتا تو اس کے لئے سب سے آسان صورت یہ تھی کہ قرآن کو اس کے شانِ نزول کی تاریخی ترتیب کے اعتبار مدون کر دیا جاتا۔ اس سے بعد کے ادوار کے لئے یہ امر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے فیصل ہوجاتا کہ اس کے فلاں فلاں احکام فلاں فلاں اشخاص و واقعات کے ساتھ مخصوص ہیں لہذا آئندہ ان سے کوئی عمومی حکم نہ اخذ کیا جائے!

لیکن ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہوا بلکہ قرآن کی مصحفی ترتیب کو ہی حتمی قرار دیا گیا ہے۔ اس میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ قرآن کی شان نزول کو اُس دور کے اشخاص و حالات کی “سماجی و تاریخی حسیت” جاننے کا ذریعہ نہ مانتتے ہوئے اسے مخصوص بہ زمان و مکان نہ کیا جائے۔ اور قرآن حکیم کو مبنی بر تاریخیت وقوعات کے بجائے تقدیری حکمتوں کا خزانہ جان کر اس میں اللہ کا ازلی فضل تلاش کیا جائے۔

پرانے شعرا کے دواوین کی الفبائی ترتیب میں ان شعراء کے شخصی سوانح، نفسیاتی آشوب، حالاتِ زمانہ اور سماجی حسیت وغیرہ کو قصداً “گم” کر کے اگر ان کی شاعری کو محدود بہ زمان و مکان اور مخصوص بہ آشوبِ زمان و ذات ہونے سے محفوظ کر دیا گیا ہے تو درحقیقت اس طرح ان کی ادبی و جمالیاتی قدر مؤکد کرکے اس جانچنے کا راستہ کھولا گیا ہے۔
ادب کا بنیادی مقصد و وظیفہ سیاسی اور سماجی آشوب کی تاریخ کا کھاتہ لکھنا نہیں ہوتا بلکہ جمالیاتی ذوق کی آبیاری اور کچھ فنی اور ماورائے فنی معیاروں پر کھا جانا ہوتا ہے۔ یہ مقصد ہمارے روایتی شعور نے نہ صرف اپنی روایتی شعریات میں بلکہ اپنے تدوینی طریقِ کار اور اس کی رسمیات تک میں بھی حاضر رکھا ہے۔ جدید ذہن کو اگر ان شعرا کے ہاں “سماجی مزاحمت” کا سراغ نہیں ملتا تو بھلے نہ ملا کرے۔ کوئی حرج نہیں۔

ویسے بھی ایلیٹ نے بتا رکھا ہے ‘جب بھی کوئی نیا شاعر پیدا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی گزرے ہوئے زمانوں کے شعرا بھی زندہ ہونے لگتے ہیں’۔ کسی بھی روایت کے تمام زمانوں کے شعراء وقت اور زمانے کی سماجیات سے بظاہر بے نیاز ایک ہمہ وقت موجود “آنلائن معاشرت” کے منچ پر ایک دوسرے سے محو کلام و ترسیل فیضان رہتے ہیں۔ اور ان کے کلام کے بہترین حصے ان یکساں فنی و ماورائے فنی معیارات پر پرکھے جاتے رہتے ہیں جنہیں ایلیٹ نے اپنے مضمون “کلاسیک کیا ہے؟” میں ہر دور کے عظیم ادب کے معیار کے طور پر متحقق کردیا ہے!

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20