سب رنگ کہانیاں: سب رنگ تماشا —- محمد حمید شاہد

0

شکیل عادل زادہ کا کہنا ہے کہ جنوری انیس سو ستر میں “سب رنگ ڈائجسٹ” کا پہلا شمارہ شائع ہوا تھا۔ گویا یہ نصف صدی پہلے کا واقعہ ہے۔ تب میں پندرہ برس کابچہ تھا۔ ایسا بچہ کھیل کود جس کی ترجیحات میں کہیں اوپر تھاتاہم مجھے اب بھی یاد ہے کہ اس زمانے میں ہمارے ہاں جو کتابیں یا رسالے آیا کرتے تھے ان میں اردو ڈائجسٹ یا سیارہ ڈائجسٹ بھی ہوتا۔ کبھی کبھار ان دونوں کی بہ جائے عالمی ڈائجسٹ آجایا کرتا تھا۔ میں نے سب رنگ ڈائجسٹ کچھ برس گزرنے کے بعد دیکھا تھا۔ تب تک اس کا چرچا ہر کہیں تھا۔ جن لوگوں نے ”سب رنگ“ ڈائجسٹ کی مقبولیت کا وہ زمانہ نہیں دیکھا وہ اُس سچی تاہنگ کا اندازہ ہی نہیں لگا سکتے، جو ہمارے من میں ہر شمارے کے لیے جاگا کرتی تھی۔ اس تاہنگ کا سبب اس ڈائجسٹ میں ہر بار ہاتھ لگنے والا عالمی ادب کا وہ انمول انتخاب تھا جو ہمیں عمر بھر کے لیے لفظ اور کہانی سے محبت کا سبق سکھا گیا تھا۔

مجھے یاد ہے میں نے پہلی بارایک دوست سے مانگ کر سب رنگ پڑھا تھا۔ پھر کیا تھا، اس میں چھپنے والے فکشن کا دیوانہ ہوگیا۔ ہماری نسل کے کچھ لوگ اگر یہ کہتے ہیں کہ وہ فکشن کی طرف شکیل عادل زادہ کے سب رنگ میں چھپنے والی کہانیوں کی وجہ سے آئے تو بلاسبب بھی نہ کہتے ہوں گے۔ ”سب رنگ“ محض ڈائجسٹ نہیں تھا ایک نسل کی زبان سنوارنے والا اور دنیا بھر کے اعلیٰ فکشن کے ذخیرے کو اس نسل کی رسائی میں دے دینے والا تھا۔ اس میں ہر کہانی منتخب ہوتی اور شکیل عادل زادہ جتنی محنت ڈائجسٹ میں پیش کی جانے والی کہانیوں کے متن پر کرتے تھے، اتنی محنت تو باقاعدہ ادبی جریدوں کے مدیران کے بس میں بھی نہ تھی۔ تراجم سہل اور رواں ہوتے، یوں کہ تخلیق نو کا گماں گزرتاتھا۔

حسن رضا گوندل نے ”سب رنگ“ کی وہ روشن روایت جو ماضی میں کہیں گم ہو رہی تھی اسے پھر سے زندہ کرنے کا اہتمام کیا۔ سب رنگ میں چھپنے والی کہانیوں کا پہلا انتخاب گگن شاہد اور امر شاہد نےبک کارنر جہلم سے بہت اہتمام میں شائع کیا ہے۔ وہ ہمارے شکریے کے مستحق ہیں کہ یوں ”سب رنگ“میں چھپنے والے شاہکار عالمی فکشن یعنی شکیل عادل زادہ کے نگار خانے کا دریچہ آج کے قاری پر بھی کھل گیا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ سب رنگ میں چھپنے والی ہر کہانی کے عنوان کے ساتھ شکیل عادل زادہ چند تعارفی سطروں کا اضافہ کر دیا کرتے تھے، ان اشتہاانگیز سطور سے لگ بھگ وہ وہی مقاصد حاصل کیے جاتے تھے جو آج کی میڈیا منڈی میں ”ٹیزر کمپین“ سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ ایک دو مثالیں۔ ڈان ٹیلر مور کی کہانی ”اقوال زریں“ پر انہوں نے لکھا تھا:۔

“مغرب سے مشرق کی ایک شہ زادی کی کہانی
اُس کا محبوب، تاج و تخت، خدام باندیاں، سارا جاہ و حشم، سب کچھ خزاں کھا گئی
لیکن بہ ہر حال وہ ایک شہ زادی تھی۔ گل فام نازک اندام۔”

ایک اور کہانی”ٹھوکر“ پر ایسی ہی اشتہاانگیز سطریں دیکھیں۔

“روسی زبان کے عجائب خانے سے
دنیا کے ایک نادر روز گار کہانی کار چیخوف کی تحریر
ایک شوہر کی کہانی، وہ ایک مردبھی تھا، ایک منصب دار۔۔۔”

نظم کی طرح لکھی گئی محض ان سطور پر اکتفا نہ کیا جاتا، یہیں کہیں ایک چوکٹھے میں قدرے طویل نوٹ ہوتا جو مصنف کے فن اور زندگی کی بابت ہماری معلومات میں گراں قدر اضافہ کرتا تھا۔ یوں کئی فکشن نگاروں کے نام پڑھنے والوں کے ذہن پر نقش ہونے لگتے اور ان کے مزید فکشن کو پڑھنے کو جی للچانے لگتا تھا۔ ان میں کئی نام توبہت معروف ہوتے اور کئی ایسے تھے کہ نہ بعد میں سنے اور نہ ان کی کہانیاں پڑھنے کو نہ ملتیں۔ حسن رضا گوندل کی مرتب کردہ ”سب رنگ کہانیاں“ کے نام سے چھپنے والی پہلی کتاب کے ناموں کی اس فہرست سے اس امر کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ٹالسٹائی، موپاساں، اوہنری، چیخوف، سمر سٹ ماہم، کیتھرین مینسفیلڈ، ڈان ٹیلر مور، ولیم بریئین، جولیس اورے ولی، میری این چیز، گلبرٹ رائٹ، سی بی گلفورڈ، کیپٹن ڈبلوجے لیڈار، رولڈ ڈل، مارک شولمان، رشمیل کریمپلین، جوزف مارٹن بائر، سی ڈبلیو لٹل فیلڈ، بورسن لاسکن، ڈونیلڈآلسن، جان ڈی ہیس، اے پی ہربرٹ، جون ہیرس، گرانٹ فریلنگ، ایل بائرو، فرینک اوکانراور پی رومانوف۔

شکیل عادل زادہ نے بتایا ہے کہ پہلا شمارہ پانچ ہزار کی تعداد میں شائع ہوا تھا، ساڑھے تین ہزار بک گئے، باقی کے ڈیڑھ ہزار واپس آگئے۔ تیسرے شمارے تک انہیں سمجھ آگئی تھی کہ سب رنگ میں اور کچھ نہیں، بس فکشن چھاپنا ہوگا۔ جب صرف فکشن چھاپا جانے لگا تو سب رنگ کی مانگ بڑھتی گئی۔ اگلے پانچ برسوں میں اشاعت ڈیڑھ لاکھ پہنچ گئی تھی۔ جتنا چھپتا ہاتھوں ہاتھ بک جاتا تھا۔

کہانیوں کی تلاش اور انتخاب میں بہت محنت اور احتیاط سے کام لیا جاتا، جہاں جہاں فکشن کے شیدائی تھے وہ شکیل عادل زادہ کے رابطے میں تھے۔ اچھی کہانی کی نشاندھی ہو جاتی تو اسے ہر عمر اور ہر سطح کے کارکنوں اور فکشن کے طلب گاروں سے پڑھوا کر رائے لے لی جاتی۔ شکیل کا کہنا ہے کہ یہ رائے لفظوں میں نہیں اعداد میں ہوتی؛ سو نمبروں میں سے کتنے نمبر۔ پچاس سے کم نمبر حاصل کرنے والی کہانی چاہے کسی کی ہوتی، اسے مسترد کر دیا جاتا تھا۔ گویا نام نہیں، کہانی۔ ۔ ۔ ۔ یہی سبب ہے کہ سب رنگ میں ایسی بھی کہانیاں منتخب کر لی جاتی تھیں جن کے لکھنے والے نامعلوم ہوتے۔ اس انتخاب میں بھی تین ایسی کہانیاں شامل ہیں جن کے مصنفین نامعلوم ہیں۔

ترجمہ کرنے والوں کی بھی ایک ٹیم بن گئی تھی۔ ان میں کئی نام تو عمدہ فکشن لکھنے والوں کے ہیں۔ اتنے کڑے انتخاب کا نتیجہ یہ نکلا کہ پرچہ چھپنے میں وقفے پڑنے لگے ابن انشا نے کاملیت پسند نہ بننے کا مشورہ دیا تو بہ قول مرتب شکیل عادل زادہ نے کہا تھا۔ اچھا مواد ملے گا تو پرچہ چھپے گاورنہ نہیں، کم زور تحریریں چھاپنے سے بہتر ہے کہ پر چہ ہی نہ آئے۔ ژولیدہ مو، مضمحل اور منتشر آنے سے بہتر ہے پرچہ سامنے ہی نہ آئے۔ خیر اب ”سب رنگ“ قصہ پارینہ ہوا۔ مگر یہ پرانا قصہ پرانے چاولوں کی طرح ذائقہ بڑھا لینے والا ہے۔

حسن رضا گوندل کے مرتب کردہ انتخاب ”سب رنگ کہانیاں“ نے اردو زبان و ادب کی ترویج میں سب رنگ کے کردار کی یاد تازہ کر دی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20