سب رنگ، شکیل عادل زادہ کا نگارخانہ —- نعیم الرحمٰن

0

سب رنگ ڈائجسٹ کا اجرا جنوری 1971ء میں ہوا۔ یہ صرف ایک رسالہ نہیں مدیر شکیل عادل زادہ کا جذبہ، جنون، عشق تھا۔ شکیل عادل زادہ اردو ادب کے محسنین میں شامل ہیں۔ سب رنگ میں نہ صرف دنیا کی بہترین کہانیاں شائع ہوتی تھیں۔ بلکہ زبان، بیان، لہجہ اور املا کا بھی خاص خیال رکھا جاتا تھا۔ سب رنگ اور ابن صفی کے ناولوں نے بے شمارقارئین کو اردو پڑھنے کی ترغیب دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ سب رنگ کی سلسلہ وار کہانیوں سونا گھاٹ کا پچاری، غلام روحیں، اقابلا اور انکا نے بھی قارئین کو اپنا دیوانہ بنائے رکھا۔ پھر امبربیل اور بازی گرنے تو وہ جادو جگایا، جواس سے قبل دیکھا نہ سنا۔ انکا اور امبربیل کا آغاز مشہور مصنف انوار صدیقی نے کیا۔ لیکن جہاں انوار صدیقی کا قلم جواب دے گیا۔ وہاں نے کہانی کو خود شکیل عادل زادہ نے آگے بڑھایا۔ اور ان کہانیوں کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔ بازی گرکی پہلی قسط حسن ہاشمی نے لکھی۔ اس کے بعد یہ مکمل طور پر شکیل عادل زادہ کی ماسٹرپیس کی حیثیت سے جاری رہی۔ اردو کے صفِ اول کے مصنفین کا کہنا ہے کہ شکیل عادل زادہ اگر ادبی دنیا میں باقاعدہ قدم رکھ دیتے توان کے سامنے کئی چراغ گل ہوجاتے۔ شکیل عادل زادہ کے سب رنگ نے چار دہائیوں تک قارئین کے دلوں پر راج کیا اور 2007ء میں اس کے بند ہونے کے بعد بھی سب رنگ زدگان اس کی تلاش میں رہتے ہیں اوراس کے پرانے پرچے میں سنبھال کررکھتے ہیں۔

سب رنگ کے دلدادگان میں بڑے بڑے ادیب، شاعر، بیوروکریٹ، فوجی جنرل، اعلیٰ افسر، ڈاکٹر، انجینئر اورہرشعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل رہے ہیں۔ جن میں رؤف کلاسرا، عامرہاشم خاکوانی، شاہدصدیقی اور جاوید چودھری جیسے صحافی بھی شامل ہیں۔ جنہوں نے کئی بار شکیل عادل زادہ کو سب رنگ کے دوبارہ اجراء پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ قارئین آج بھی بازی گر اور امبربیل کے مکمل ہونے کے منتظرہیں۔ ایسے میں سب رنگ کے ایک دیوانے حسن رضا گوندل سب پر بازی لے گئے۔ دیارِ غیرمیں ملازمت، ازدواجی زندگی کی مصروفیات اور چار بچوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ وہ سب رنگ کی تحریروں کی تفہیم و تحقیق، ترتیب اور تنظیم کا کام کرتے رہے۔ کئی برس سے شب و روز ان کا ایک ہی محور رہا کسی طور سب رنگ کے شمارے وقت کی گردمیں کھونے سے محفوظ رہیں۔ بے شمار عاشقانِ سب رنگ کا یہی خواب تھا، مگر اس کی تعبیر کا سہرا حسن رضا گوندل کے سر رہا۔ انہوں نے سب رنگ میں شائع ہونے والے عالمی ادب، اردو افسانوی ادب، برصغیرکی زبانوں ہندی، تلیگو، ملیالم، بنگلہ، سندھی، پنجابی، پشتو اور بلوچی سمیت دیگر زبانوں کی کئی فائلیں مرتب کرلی ہیں۔ سب رنگ کے اداریے اور شکیل عادل زادہ کے ذاتی صفحہ کی جلدیں بھی تیارکیں۔ شکیل عادل زادہ کے اجازت سے بک کارنر جہلم کے گگن شاہد اور امر شاہد نے ان کی اشاعت کابیڑہ اٹھایا ہے۔ اس کی پہلی جلد ’’سب رنگ کہانیاں‘‘ منظر عام پر آگئی ہے۔ یہ سب رنگ کا دوسرا جنم ہے۔ جو قارئین سب رنگ کے پرانے پرچوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ لیکن رسالے کو سنبھال کر رکھنا ان کے لیے دشوار ہوتا ہے۔ ان کے لیے سب رنگ کی انتہائی خوبصورت کتابی اشاعت کسی خوش خبری سے کم نہیں۔ وہ اب ان کتابوں کو شیلف کی زینت بنا سکیں گے۔ جن سے آنے والی نسلیں بھی استفادہ کرسکیں گی۔

گگن شاہد اور امر شاہد نے اردو پرنٹنگ کا ایسا معیار قائم کیا ہے جس کافی الحال کوئی ثانی نہیں۔ بہترین آرٹ پیپر پر تین سو ستر صفحات کی کتاب کی نو سو روپے قیمت بھی انتہائی مناسب ہے۔ معروف شاعر، ڈرامہ اور کالم نگار امجد اسلام امجد کا کہنا ہے کہ

’’عالمی اور اردو ادب سے منتخب شاہکار کہانیاں سب رنگ کی ایک ایسی پہچان رہی ہیں جس میں مدیر شکیل عادل زادہ کی باکمال نگاہِ انتخاب ایک مرکزی نقطے کی طرح روشن دکھائی دیتی ہے۔ اس شاندار اور بے مثال خزانے کو اس کے پرانے قارئین اور آئندہ نسلوں کے ’کہانی پسند‘ لوگوں کے لیے محفوظ کرناوقت کی اہم ضرورت تھی جسے اب بک کارنر کے دوست پورا کر رہے ہیں اور مختلف عنوانات اور موضوعات کے تحت ان کے انتخاب کو کتابی شکل میں محفوظ کیا جارہا ہے، مجھے یقین ہے کہ یہ کتابیں سب رنگ ڈائجسٹ کی یادوں اور شکیل عادل زادہ کی غیر معمولی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ، اپنے حسن، گہرائی اوردل کشی کی وجہ سے بھی بہت ذوق وشوق سے پڑھی جائیں گی اور بقول ابن صفی انہیں الماریوں کے بجائے تکیوں کے نیچے رکھا جائے گا۔‘‘

جاوید چودھری کاکہنا ہے کہ

’’ہم اگر اردو ادب کو مذہب مان لیں تو شکیل عادل زادہ اس کے پیغمبر ہوں گے اور سب رنگ اس مذہب کی کتاب اور اگریہ ممکن نہیں تو پھر اردو ادب میں شکیل عادل زادہ کی وہی حیثیت ہے جو زبانوں میں ابجد کی ہوتی ہے۔ اردو بہرحال ان کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔‘‘

رؤف کلاسراکے مطابق

’’سب رنگ کانام آتے ہی بازی گر کے بٹھل، بابرزمان، کورا، جانگلوس کے رحیم داد اور لالی، قاضی عبدالستار اور چچا ابوالفضل صدیقی کی جادو بھری انگلیوں سے لکھی کہانیاں، دنیا بھر کے ادب کے شان دار تراجم اور پھر شکیل عادل زادہ کا ذاتی صفحہ۔ یہ سب دل کو تڑپانے آجاتے ہیں۔ اردو ادب کے رنگ سب رنگ کے بغیر پھیکے رہتے۔‘‘

افسانہ نگاراورکالم نگارزاہدہ حنانے فلیپ پرلکھاہے۔

’’شکیل نے ہی سب رنگ نکال کے عالمی ڈائجسٹ کاپھندا میرے گلے میں ڈالا تھا۔ عالمی ڈائجسٹ سے بھاگ کے وہ بھاگتا ہی رہا۔ سب کوپیچھے چھوڑکر بھی بھاگتاہی رہا۔ کئی ترجمہ نگار دوسرے ڈائجسٹوں کے لیے بھی کہانیاں ترجمہ کرتے تھے مگردیکھیے، سب رنگ میں ان کاکیارنگ ہوجاتا تھا۔ افسوس، سب رنگ جاری نہ رہ سکا۔ بہ قول خودشکیل کے، ایک فردکی اس قدر غیر انسانی قسم کی شمولیت کے بعد اُسے بندہی ہو جان اچاہیے تھا۔ مگرسچ تویہ ہے کہ سب رنگ کے جتنے بھی شمارے چھپ سکے، وہ تو یادگار، شاہ کارہیں۔‘‘

معروف ناول وافسانہ نگارمحمدالیاس نے لکھا۔

’’اردو اوردنیا بھر کے ادب سے چنیدہ کہانیوں کے انتخاب کا جو معیار شکیل عادل زادہ کی ادارت میں شائع ہونے والے سب رنگ ڈائجسٹ کے اولین سے آخری شمارے تک ہوا، اس تک تاحال کوئی جریدہ نہیں پہنچ پایا۔ کسی ایک شمارے میں کبھی کوئی بھرتی کی کہانی شامل نہیں کی گئی۔ اس بلند ترین درجے کی پرکھ وہی مدیر کرسکتا ہے جو بذاتِ خود صاحبِ کمال ادیب ہو۔ قارئین کے ذوقِ مطالعہ کی تسکین کے عوض شکیل بھائی نے اپنی زندگی ہی میں بے پایاں محبتوں کے وہ خزانے سمیٹے ہیں جن کی مثال اردوادب میں نہیں ملتی۔‘‘

معروف افسانہ نگاراورمترجم انورخواجہ کاکہناہے۔

’’شکیل عادل زادہ نے سب رنگ کے توسط سے کہانی کے فن کونئی زندگی بخشی۔ انہوں نے دنیا کی تمام زبانوں سے کہانیاں چُن چُن کرسب رنگ میں شائع کیں اور خود بھی ایک لازوال اور دلچسپ کہانی ’بازی گر‘ کے نام سے لکھی۔ دنیا میں ایسی مثال کم ہی ملے گی کہ کوئی ماہانہ رسالہ برسوں ڈیڑھ لاکھ کی تعداد میں شائع ہوتا رہا۔ یہ معجزہ شکیل عادل زادہ نے کر دکھایا۔ ‘‘

سمندرپارسے شاہکارافسانوں کے تراجم پرمبنی’’سب رنگ کہانیاں‘‘ کی جلداول میں تیس عالمی شاہکارشامل ہیں۔ جن میں ڈان ٹیلرمور، ولیم بریئین، جولیس اورے ولی، میری ایلن چیز، لیوٹالسٹائی، اوہنری، گلبرٹ رائٹ، سی بی گلفورڈ، سمرسٹ مام، کیتھرین مینسفیلڈ، چیخوف، موپاساں اورپی رومانوف جیسے عالمی شہرت یافتہ ادیبوں کی تحریریں شامل ہیں۔ جن کے تراجم اظہرکلیم، زرینہ صابر، انورخواجہ، مدبررضوی، اسماعیل مینائی، ش م جمیل، صغیرملال، وسیلہ خاتون، محمدیونس حسرت، حسن ہاشمی، ل احمد اور دیگر نے کیے ہیں۔

شکیل عادل زادہ نے ’’سب رنگ تماشا‘‘ کے عنوان سے پیش لفظ میں لکھاہے۔

’’داستان خاصی طولانی ہے، نصف صدی سے اوپر کاقصہ۔ خلاصہ یہ کہ جنوری1970ء میں سب رنگ کااجرا ہوا تھا۔ اس وقت تین ڈائجسٹ بہت نمایاں تھے۔ سیارہ، اردو اورعالمی ڈائجسٹ۔ عالمی ڈائجسٹ سے علیحدہ ہوکے ہی اس عاجز نے سب رنگ کابیڑہ اٹھایا تھا۔ قبلہ فیض صاحب کاقیام کراچی میں تھا۔ ان کی شفقت کے گدازکے لیے انورشعور کے ساتھ دولت کدے پرحاضری دی تو انہوں نے روایتی پذیرائی کا اظہارکیا، پھرجو دوسرے متعلقین سوال کرتے تھے، وہی انہوں نے کیا۔ اور سرمایہ؟ آتشیں عمر تھی۔ میں نے کہا۔ باقی سب چیزیں تو واف رہیں۔ یہ سن کرفیض صاحب مسکرائے، کہنے لگے۔ پھر ٹھیک ہے۔ میرے لیے کوئی خدمت ہو تو قطعاًتکلف نہ کرنا۔ بارہا لوگ راز پوچھتے تھے، اس تاریخ سازاشاعت کاراز۔ میں عرض کروں، ان دنوں میری کوئی زندگی ہی نہیں رہی تھی، نہ صبح و شام کا کوئی امتیاز۔ دوست عزیز و اقارب سب ثانوی۔ بس یہی دھن کہ جوبات بن چکی ہے، کسی طور، کسی حال بنی رہے۔ جوعزت حاصل ہوئی ہے، اس پرکوئی آنچ نہ آجائے۔ زیر نظر کتاب سب رنگ میں شائع ہونے والی غیرملکی کہانیوں کی پہلی جلد ہے اوربھی جلدیں زیرِ ترتیب ہیں، سو احوال دورون وزبوں کی گُل افشانی کے مواقع آتے رہیں گے۔ عام ایک شکوہ تھا کہ پرانے شمارے آسانی سے نہیں ملتے اور فرمایش تھی، کیوں نہ سب رنگ کی تحریریں کتابی صورت میں شائع کردیں جائیں۔ طے یہ ہوا کہ پہلے مرحلے میں سمندرپارکی کہانیوں کو ترجیح دی جائے۔ سب رنگ کی مناسبت سے اس کتاب پرمجھ بے اماں کانام چسپاں کردیا گیا ہے۔ سچ یہ ہے کہ مجموعے کی تمام ترترتیب، اشاعت کا اہتمام برادرِ محترم حسن رضاگوندل، اسیرِ سب رنگ بلکہ کشتہ سب رنگ نے کیاہے۔ مجھے تو ایک تماشائی سمجھیے۔ سارا کچھ سب رنگ سے حسن رضا کی بے پناہ وابستگی اور غیر معمولی شیفتگی کا حاصل ہے۔‘‘

حسن رضاگوندل نے ’’رنگ رنگ سب رنگ‘‘اپنی سب رنگ سے بے پناہ محبت اوراس کے تمام شماروں کو اسکین کراکے پی ڈی ایف کی شکل میں محفوظ کرنے اوراس کی الگ فائلیں بنانے کی داستان بیان کی ہے۔ جس سے ان کے بے پناہ عشق کااندازہ ہوتاہے۔ کہتے ہیں۔

’’اب خواب کی تعبیر کی دوسری منزل کاسفردرپیش تھا۔ سب رنگ کے تمام شمارے دوبارہ سامنے رکھے اور کہانیاں ترتیب دینے لگا۔ عالمی اور مغربی کہانیوں کے تراجم الگ کیے۔ اردوکے شاہ کار افسانوں کی فہرست الگ بنائی۔ ہندوستانی زبانوں بنگالی، گجراتی، تامل، تلیگو، ملیالم وغیرہ کی کہانیاں علیحدہ خانے میں رکھیں۔ تصوف کے مضامین، اداریہ اور ذاتی صفحہ سب کی جدا جدا ضخیم فائلیں تیارکیں۔ جب آخری فائل تیار ہوگئی تواگلے روز کی فلائٹ لی اور شکیل بھائی کے پاس کراچی جاپہنچا۔ فائلیں دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔ شکیل بھائی کے منہ سے تعریف سن کرمیری محنت سوارت ہوئی۔ مہینوں کی بھاگ دوڑ اور ہزاروں میل کے سفر کی تکان اترگئی۔ سب رنگ کے تمام شماروں کو ڈیجیٹلائز کرنے کے بعد اب تمام کہانیاں کتابی شکل میں شائع کرنے کاخیال بھی شکیل بھائی نے بے حد پسند کیا۔ ’’سب رنگ کہانیاں‘‘ کی یہ پہلی جلد ہے۔ اس میں سمندرپار تخلیق کی گئی کہانیوں کے تراجم شامل ہیں۔ سب رنگ میں شائع ہونے والی مغربی کہانیوں کی ابھی کئی اور جلدیں جلد ہی صورت پذیر ہوں گی۔ کوئی شبہ نہیں کہ سب رنگ میں اردو ادب کا عطر پیش کیا گیا ہے۔ اردو کے وہ تمام نقش گر افسانے جو سب رنگ میں منتخب کیے گئے، نیز ہندوستانی زبانوں کے یادگار تراجم، تصوف کے عقیدت افروز مضامین، خیال انگیز اداریے اور شکیل عادل زادہ کے سب رنگ میں بیتے شب و روزکی روداد پر مشتمل ’ذاتی صفحہ‘ بھی مرحلہ درمرحلہ کتابی شکل میں اشاعت کا ارادہ ہے۔ دوہزار بیس میں سب رنگ کے اجراکے پچاس سال بھی مکمل ہوئے ہیں، سو عاشقانِ سب رنگ کے لیے یہ جشن زریں کی سوغات بھی ہے۔‘‘

سب رنگ ڈائجسٹ کی کہانیوں پرشکیل عادل زادہ کے چندسطری نوٹس بھی کمال کے ہوتے تھے۔ پھر مصنفین کا تعارف سونے پرسہاگے کا کام کرتاتھا۔ ’’سب رنگ کہانیاں ‘‘میں شامل تیس تحریریں انتخاب درانتخاب کے مرحلے سے گزر کر شائع ہوئی ہیں اوراس کی ہرکہانی قاری کو ایک نیالطف فراہم کرتی ہے۔ پہلی کہانی ’’قول زریں‘‘ ڈان ٹیلرمورکی تحریر اور اظہر کلیم کا ترجمہ ہے۔ کہانی پرشکیل عادل زادہ کانوٹ ملاحظہ کریں۔ ’’مغرب سے مشرق کی ایک شہ زادی کی کہانی۔ اُس کا محبوب، تاج وتخت، خدّام باندیاں، ساراجاہ وحشم، سب کچھ خزاں کھاگئی۔ لیکن اس بہرحال وہ ایک شہ زادی تھی، گل فام، نازک اندام۔ ‘‘ یہ ایک منگول شہزادی کی کہانی ہے، جوانقلاب کے ہنگامے میں ملک سے نکلنے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور یورپی ملک میں پناہ حاصل کرتی ہے۔ وہ اپنے محبوب شوہرایوان سمیت سب کچھ کمیونسٹوں کے ہاتھوں گنوا چکی ہے۔ اس کے پاس تین ایک جیسے ہیرو ںاورایوان کے اقوال کے سوا کچھ نہیں تھا۔ اس کا سامنا ایک سردمہر بینکر سے تھا، جسے آنسوبھی متاثر نہیں کرتے۔ لیکن شدید افراطِ زر اورکساد بازاری کے اس دور میں جب کرنسی کی قیمت روز بروز گررہی تھی۔ وہ کس ذہانت سے ان ہیروں اور ایوان کے اقوال کی بدولت وسیع جائیداد اورزمینیں ہی نہیں اپنے ہیرے بھی واپس حاصل کرلیتی ہے۔ قاری کہانی کے سحر سے نکل ہی نہیں پاتا۔

یہ جواں مرگ اظہرکلیم کے آخری تراجم میں سے ایک ہے اور کیا خوب اوررواں ترجمہ ہے۔ اظہر کلیم کا تعارف شکیل عادل زادہ کچھ یوں کرا تے ہیں۔

’’اظہرکلیم کی یہ تحریراُس کی آخری تحریروں میں سے ایک ہے۔ اظہر کلیم نے کتابوں، رسالوں اور لفظوں کے سوا کوئی کام نہیں کیا۔ دُنیابھرسے کہانیاں اکٹھی کرکے وہ معزز حاضرین، ناظرین، شائقین کو سُناتا رہا اور اُس نے اتنے لفظ لکھے جتنے کسی سے ممکن ہیں۔ اُس نے بے شمار مغربی کہانیاں اردو میں منتقل کیں۔ کسی ایک ادارے کا کام اُس اکیلے نے کیا۔ اظہرکلیم کاسکہ بند ادیبوں میں کوئی شمارنہیں ہوتا۔ اُس کا کوئی مطالبہ بھی نہیں تھا مگر جو اُس نے لکھا وہ تو موجود ہے، اور وقت آج نہیں توکل فیصلہ کردے گا۔‘‘

اس طرح کتنی سنہری یادیں ’’سب رنگ کہانیاں‘‘ سے تازہ ہوگئیں۔ چند اورکہانیوں کے نوٹ پیش ہیں۔ ولیم بریئین کی کہانی’’ اچھوت‘‘ کا ترجمہ زرینہ صابر نے کیاہے۔ جس پرچار سطری نوٹ ہے۔ ’’ایک اکلوتے آدمی کی سرگزشت۔ وہ کہانیاں جوصرف مغرب میں لکھی جاتی ہیں۔ دوسری جنگ ِ عظیم کی ایک اہم شخصیت کاواقعہ۔ ایک آدمی جس کی گردن میں گھنٹی ڈال دی گئی تھی۔ ‘‘اب یہ نوٹ ہی پڑھنے والے کاتجسس دوبالا کردیتاہے۔ اورکہانی کے اختتام پروہ ایک تحیرکی کیفیت میں ڈوب جاتاہے۔ لیوٹالسٹائی کی مشہورزمانہ کہانی کاترجمہ مدبر رضوی نے ’’حاصلِ ضرب‘‘ کے عنوان سے کیاہے۔ اس پرنوٹ ہے۔ ’’ایک شخص کی کہانی جس سے ابلیس کی دوستی ہوگئی تھی۔ ٹالسٹائی کی کہانی جس کاتعلق روس سے تھا، اب ساری دنیاسے ہے۔ انہوں نے انسانوں سے بڑی چھیڑ چھاڑکی۔ دنیاکی کوئی زبان ایسی نہیں ہے، جس میں ٹالسٹائی منتقل نہ کیے گئے ہوں۔ یہ کہانی فلمائی بھی جاچکی ہے۔ ‘‘کہانی ایک لالچی شخص کی ہے۔ جسے ایک مقامی سردارپیش کش کرتاہے کہ صبح سے شام تک جتنی زمین کاچکرلگالے، اس کی ملکیت ہوجائے گی۔ وہ بڑی وسیع اراضی کا چکر لگا کر واپس پہنچ کرمرجاتاہے۔ غرض کہ ہرکہانی ایک سے بڑھ کرایک ہے۔

کتاب کی آخری تحریرپی رومانوف کی ’’وجود‘‘ ہے۔ جس کاترجمہ مشہورادیب ل احمدنے کیاہے۔ شکیل عادل زادہ نے رؤف کلاسرا کوکہا کہ یہ کہانی ضرور پڑھنایہ ایک ایساتجربہ ہے جوآپ کوگرفت میں لے لیتاہے۔ کہانی پران کانوٹ ہے۔ ’’روس کے ایک ممتازادیب پی رومانوف کے قلم سے۔ ایک عورت کی کہانی، وہ خود پرمنکشف ہوگئی تھی۔ اُن تحریروں سے ایک جوکبھی کبھی لکھی جاتی ہیں۔ ‘‘

پی رومانوف کی کہانی اورمترجم ل احمدکا تعارف شکیل عادل زادہ نے ایسے کرایا ہے۔ ’’معروف روسی ادیب پی رومانوف کی ایک بہت الگ قسم کی تحریرآپ کی نذر ہے۔ یہ کہانی بھی ہے اورکہانی سے کچھ سِوابھی۔ اردو کے ممتاز ادیب ل احمد نے ساٹھ سال پہلے اس کاترجمہ کیا تھا۔ مترجم نے اعتراف کیاہے کہ کہانی کے بعض حصے خاصے ادق اور گنجلک تھے۔ ان کے مفاہیم کھوجنے میں انہیں دشواری پیش آئی۔ ان کے بقول مصنف عورت کے اندرداخلی تحریک کا ذکر کرتا ہے۔ میں نے بہرحال عورت کی آزاد روی کے ساتھ اعتماد نفس مراد لیاہے۔ ل احمد اردو کے ایک مستند ادیب تھے۔ انہوں نے بے شمار کہانیاں تخلیق کیں اور دنیاکی متعدد یادگار تحریروں کو اردو میں منتقل کرنے کا کام بھی خوب کیا لیکن ادھرہوایہ کہ اردو نثر نے اردو شاعری سے تیزسفرکیاہے۔ کل جونثری پیرائے دل موہ لیتے تھے، جو عبارتیں سندِ اعتبارتھیں آج وہ لہجہ و لب، وہ لفظ وبیاں خواب ہوتے جارہے ہیں۔ نئے عہد کے قاری کا مزاج اورہے۔ ل احمدکے ترجمہ کیے ہوئے زیرِ نظر افسانے کااسلوب بھی کچھ دُدر کا معلوم ہوتا تھا۔ سوسب رنگ میں اس کی اشاعت کے لیے ازسرنو عبارت آرائی کی گئی۔ اس احتیاط سے کہ ترجمے میں اخذکیے ہوئے نتائج جوں کے توں برقرار رہیں۔ جہاں جہاں سادگی اورروانی تھی، بیان میں کسی قسم کی پیچیدگی نہیں تھی، وہ حصے  قطعاً نہیں چھیڑے گئے۔‘‘ ان نوٹس اورتعارف سے ’’سب رنگ کہانیاں‘‘ پڑھنے والوں کو شکیل عادل زادہ کی دیدہ ریزی کا بخوبی اندازہ ہوگا، اور ان کے لیے ان تیس کہانیوں کا مطالعہ انہیں ایک انوکھی دنیامیں لے جائے گا۔

’’سب رنگ کہانیاں‘ ‘کی اس خوبصورت اشاعت پرگگن شاہد اورامرشاہدبرادران، حسن رضا گوندل اور شکیل عادل زادہ کو بھرپور مبارکباد، سب رنگ زدگان مزید ایسی جلدوں اور ’’بازی گر‘‘ اور ’’امبربیل ‘‘ کی تکمیل اور مکمل اشاعت کے منتظر ہیں۔ جس کی اب امیدیں روشن ہوگئی ہیں۔

سب رنگ ڈائجسٹ کی اشاعت کے پچاس سال مکمل ہونے پرمعروف ادبی جریدے’’اجرا‘‘ نے’’شکیل عادل زادہ نمبر‘‘شائع کیا ہے۔ احسن سلیم کے بے مثال پرچے ’’اجرا‘‘ کی باگ ڈور مرحوم کے بعد نوجوان افسانہ و ناول نگار، کالم نگار اور صحافی اقبال خورشید نے سنبھالی ہے۔ اور پابندی وقت کے علاوہ اس روشن چراغ کے اجالے کو مزید جگمگانے میں کامیاب ہیں۔ سلور جوبلی نمبرکے بعد انہوں نے گذشتہ سال اجرا کا شاندار ’’مشتاق احمد یوسفی نمبر‘‘ شائع کیا۔ اوراب اپنی زندگی ہی میں لیجنڈ بننے والے شکیل عادل زادہ کے حوالے سے ادبی رسالے کا پہلا نمبرشائع کیاہے۔ تین سو آٹھ صفحات پر مبنی اس بے مثال نمبرکی قیمت پانچ سوروپے بہت مناسب ہے۔ شکیل عادل زادہ کی شخصیت پر مستقبل میں مزید نمبر بھی شائع ہوں گے۔ لیکن اولیت کا سہرا اقبال خورشید کے سر رہے گا۔ اورمستقبل کا ہر مصنف اور مدیر اجرا کے نمبر سے استفادہ کرے گا۔

سب رنگ ڈائجسٹ اورشکیل عادل زادہ ایک دوسرے سے الگ نہیں تھے۔ سب رنگ کی سطرسطر میں شکیل جلوہ گررہتے تھے۔ انہوں نے خود کہاکہ ’’ایک فرد کی اس قدرغیرانسانی شمولیت کے حامل رسالے کوایک نہ ایک دن بندہوناہی تھا۔‘‘ ایک اور موقع پرانہوں نے کہاکہ ’’رسالے کے مدیر کوخود نہیں لکھناچاہیے۔‘‘ لیکن اگرشکیل عادل زادہ خود نہیں لکھتے تو ہمیشہ قارئین کے دلوں میں زندہ رہنے والا سب رنگ سب رنگ کیسے بنتا۔ اور اس کے سلسوں ’’بازی گر‘‘ اور ’’امبربیل‘‘ کی دہائیوں بعد بھی اس طرح لوگ منتظر کیسے ہوتے۔ بہرحال شکیل عادل زادہ نے سب کام پس منظرمیں رہتے ہوئے کیے۔ قسط وارکہانیوں پربھی ان کانام تحریر نہیں ہوتاتھا۔ وہ اپنے بارے میں زیادہ بات کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔ اسی لیے ان سے بے پناہ محبت کرنے والے بھی ان کی ذات کے بارے میں بہت زیادہ نہیں جانتے اورشکیل عادل زادہ کے بارے میں چھپنے والی ہرتحریر کاخیرمقدم کرتے ہیں۔

اجرا کے شکیل عادل زادہ نمبرنے اس کمی کوبخوبی پوراکیاہے۔ یہ شمارہ نہ صرف صاحبِ نمبرکی بے شمارنایاب تصاویر سے مزین ہے۔ شمارے کی جان اردوکے منفردمرحوم شاعرجمال احسانی کے خوبصورت ڈائجسٹ ’’رازدار‘‘ میں تین قسطوں میں شائع ہونے والا شکیل عادل زادہ کا انٹرویو ہے۔ جمال احسانی، شکیل کے دوستوں میں شامل تھے۔ اس طویل انٹرویو میں جواجرا کے ڈیڑھ سوصفحات پر مبنی ہے۔ شکیل عادل زادہ نے اپنی زندگی، خاندانی پس منظر، ہندوستان سے پاکستان کے سفر، سب رنگ کے اجرا اوراس کے صفِ اول کارسالہ بننے اوراپنے مصنف بننے کی تمامتر داستان بہت عمدگی سے بیان کی ہے۔ جسے شکیل عادل زادہ کی آپ بیتی قراردیاجاسکتاہے۔ مشہورانٹرویونگارمنیراحمدمنیرکا کہنا ہے کہ انٹرویو، آپ بیتی پرفوقیت رکھتاہے۔ کیونکہ آپ بیتی میں مصنف فسادِ خلق کے خطرے، دل آزاری سے بچنے اوراپنی کمزوریوں کوافشا نہ کرنے کی خاطربہت سے حقائق بیان نہیں کرتا۔ لیکن ایک اچھا انٹرویولینے والا یہ سب باتیں اس سے کہلوا دیتاہے۔

اس انٹرویوکے بارے میں ادارہ کی مختصرتحریرہے۔ ’’یہ انٹرویو جناب شکیل عادل زادہ کے ساتھ منفردشاعر، جمال احسانی کی طویل نشستوں کا حاصل ہے، جوڈائجسٹ ’رازدار‘ کے لیے کیاگیا، مگریہ فقط ایک انٹرویو نہیں۔ کم گو، منکسرالمزاج، بے بدل کہانی کار، شکیل عادل زادہ، جواپنی بابت گفتگو کرنے میں اختصارکے قائل، اس انٹرویو میں بے ساختگی اور روانی سے دل موہ لینے والے قصے بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انٹرویو کی اہمیت یوں دوچند ہوجاتی ہے کہ اسے بعدازاں شکیل بھائی نے جانچاپرکھا، یوں یہ کچھ اور سنور گیاگیا۔ سب رنگ کے بند ہونے کے بعد کے دور کا احاطہ اقبال خورشید کے انٹرویو ’’بازی گر‘‘ میں کیا گیاہے۔ اس طرح شکیل عادل زادہ کی پوری زندگی اجرا کے اس شمارے میں قارئین کے سامنے آگئی۔

’’پتوں میں پوشیدہ آگ کے نام‘‘ مختصرپیش لفظ میں اقبال خورشیدلکھتے ہیں۔

’’اجرا کے یوسفی نمبرکی کامیابی کے لیے، جواحسن سلیم کے لگائے پودے کا27واں پھول تھا، راقم قارئین ادب کا ممنون ہے۔ مانگ کے باعث اس کادوسرا ایڈیشن شایع کیاگیا۔ موجودہ صورت حال میں کسی جریدے کے خاص نمبر کا دوسرا ایڈیشن آنابڑا دل پذیر احساس ہے۔ اور اب اجرا کے پلیٹ فارم سے جناب شکیل عادل زادہ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی کوشش اسی احساس کا تسلسل ہے۔ اس یقین کے ساتھ کہ اردو کے تاریخ ساز جریدے ’’سب رنگ‘‘ کے مدیر اور منفرد فکشن نگار سے بازی گرسے اس اظہار عقیدت کو، جو پرچے کی صورت آپ کے ہاتھ میں ہے، قارئین کی جانب سے قبولیت کی سند ملے گی۔‘‘

اس شمارے میں صحافی عامرہاشم خاکوانی کامضمون ’’وہ جس کے رنگ کبھی پھیلے نہیں پڑتے۔ معروف سماجی کارکن اخوت کے بانی اور مصنف امجدثاقب کے قلم سے’’شکیل عادل زادہ‘‘ خاصے کی تحریریں ہیں۔ معروف شاعر اور ماہرِ لسانیات سحر انصاری، نصیرترابی، ڈاکٹرمعین الدین عقیل، انورشعور، اخلاق احمد نے اپنے مضامین میں شکیل عادل زادہ اور سب رنگ کے دورِ عروج پر روشنی ڈالی ہے۔ ڈاکٹر محمود احمد کاوش اور مہنازانجم نے مرحوم لطف اللہ خان کے آواز خزانے سے شکیل عادل زادہ کی خودبیان کردہ داستان بازیافت کی ہے۔ رجب الدین نے ’’بازی گر‘‘ کے اہم کرداروں کو مختصراً پیش کیاہے۔ ڈاکٹرخلیل اللہ شبلی، علامہ اعجازفرخ اورمصنف انورخواجہ نے بھی شکیل عادل زادہ کے حوالے سے یادوں کو قارئین سے شیئر کیا ہے۔

سب رنگ ڈائجسٹ کے عاشق کامل اوراسے کتابی صورت میں منظرعام پرلانے والے حسن رضاگوندل نے سب رنگ میں شائع ہونے والے ممتازعالمی مصنفین کے تراجم کی فہرست دی ہے۔ جس کے مطابق سب میں سب سے زیادہ ہنری سلاسرکی اکیاون کہانیاں ترجمہ ہوئیں۔ موپساں کی اٹھارہ، سی بی گلفورڈ کی پندرہ اور اوہنری کی تیرہ کہانیوں کے ترجمے کیے گیے۔ حسن رضاگوندل نے 1970ء میں سب رنگ جاری ہونے کے بعدسے 2007ء میں آخری شمارے تک تمام شماروں کے سال ِ اشاعت کی فہرست بھی دی ہے۔ جس سے قارئین کو ایک نظر میں سب رنگ کی اشاعت میں تعطل اور پھراس کے بند ہونے کی تفصیل معلوم ہوجاتی ہے۔ شکیل عادل زادہ کے نام مشاہیر کے خطوط اور شعراء کا خراج تحسین بھی شامل ہے۔

اجرا کے اس بہترین نمبرکی اشاعت پراقبال خورشید اوران کی ساتھی ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے۔ امید ہے اگلا شمارہ اتنی تاخیر سے نہیں آئے گا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20