خالد محمود سلیم سے چند جڑی یادیں — سلمان عابد

0

خالد محمود سلیم کیا کمال کے آدمی تھے۔ بہت ہی سادہ مزاج کے خالد سلیم سے جب بھی ملاقات ہوتی تو دوبارہ ملنے کو دل کرتا تھا۔ برادرم قیوم نظامی کی توسط سے پہلی بار ان سے کونسل آف نیشنل افیرز یعنی ایک معروف تھنک ٹینک سی این اے کے ہفتہ وار اجلاس میں ان سے ملاقات ہوئی۔ اسی ملاقات میں جب انہوں نے معاشی امور پر اپنا نکتہ نظر پیش کیا تو نہ صرف بہت معلوماتی اور دلچسپ تھا بلکہ اپنے اندر ایک بڑی گہرائی بھی رکھتا تھا۔ ہمیشہ معاشی امور میں کسی نئے نکتہ کی تلاش میں رہنے والے خالد محمود سلیم ایک ایسے فکری دانشور تھے جو دنیا میں ہونے والی بہت سی معاشی تبدیلیوں پر گہری نگاہ رکھتے تھے۔ مطالعہ کا شوق بھی تھا اور ایسی مجالس میں شرکت کرنا بھی اپنا حق سمجھتے تھے جہاں وہ اپنی بات بھی کرسکیں اور دوسروں کی بات کو سن بھی سکیں۔

خالد محمود سلیم بنیادی طور پر معروف بینکار ہیں۔ کافی مدتوں تک سٹیٹ بنک آف پاکستان میں کام کرتے رہے اور ایگزیکٹو ڈرایکٹر کے طور پر اس ادارہ سے ریٹائر ڈ ہوئے۔ اسی طرح وہ آئی ایم ایف کے لیے بھی مشیر کے طو رپر کام کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کے معاشی معاملا ت اور ساری حکومتوں کی معاشی پالیسیو ں اور طرزعمل کے چشم دید گواہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ آئی ایم ایف کی پالیسیوں پر بھی ان کی گہری نظر تھی اور جانتے تھے کہ ان عالمی مالیاتی ادارو ں کے سامنے ہماری کمزور پالیسیوں کی کیا وجوہات تھیں۔ وہ ہمیشہ اس بنیادی نکتہ پر یقین رکھتے تھے کہ اگر پاکستان نے خود کو داخلی محاذ پر مضبوط نہ کیا توو ہ خارجی معاشی محاز پر کبھی بھی کوئی جرات مندانہ پالیسی اختیار نہیں کرسکے گا۔ ان کے بقول ہم آئی ایم ایف کو تو بہت بر اکہتے ہیں مگر اپنی حکومتوں، حکمران طبقات اور ریاستی نظام کی داخلی کمزوریوں، اقرباپروری اور بدنیتی پر مبنی حکمرانی کے نظام کو چلانے پر ان کی کوئی بڑی گرفت نہیں کرتے۔

میرے لیے خالد محمود سلیم ایک بڑے راہنما کی حیثیت رکھتے تھے۔ سچی بات یہ ہے کہ میں ان سے بہت کچھ سیکھا ہے اور خاص طور پر جب بھی مجھے معاشی معاملات کو سمجھنے کے لیے ایک فکری استاد کی ضرورت ہوتی تو میں بلا خوف ججھک خالد سلیم صاحب کو فون کرتا اور وہ میری بہت ہی آسان انداز میں راہنمائی کرتے۔ مشکل سے مشکل بات اور گھمبیر صورتحال کو وہ چٹکی بجا کر مسائل کا تجزیہ بھی کرتے اور مستقل کی طرف راہنمائی بھی کرتے۔ میرے تمام مضامین کو پڑھتے اور اس پر نہ صرف داد دیتے بلکہ ہمیشہ مزید مشوروں کے ساتھ راہنمائی کرتے تھے، ان کے یہ الفاظ میرے لیے ہمیشہ قابل قدر تھے کہ اردو میں بہت کم لکھنے والے سنجیدہ موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں اور تم ان لوگوں میں سے ہوں جو ان موضوعات پر مکالمہ کے کلچر کو آگے بڑھاتے ہو۔

وہ لاہور میں ٹیک سوسائٹی میں قائم معروف تھنک ٹینک ’’وژنری فورم‘‘ کے بھی رکن تھے جہاں ہر پندرہ دن کے بعد اجلاس میں مختلف سطح کے اہم ماہرین سیاسی، سماجی، معاشی اور داخلی وخارجی امور پر بحث کرتے تھے۔ خاص بات یہ تھی کہ خالد صاحب کو اپنے علم پر کوئی بڑا گمان نہیں تھا۔ ان کی دلچسپی کا موضوع معاشی امور تھا اور خود کو ان ہی معاملات تک محدود رکھتے تھے۔ جہاں ضرورت ہوتی وہاں اپنا نکتہ نظر مختصر پیش کرتے۔ بلاوجہ لمبی بات کرنا اور خود نمائی کا ان کو شوق نہیں تھا۔ وہ زیادہ تر سنتے تھے اور سننے والوں کی حوصلہ افزائی کو بڑھانا ان کی طبعیت کا خاص پن تھا۔ مرحوم میجر شبیر صاحب کے گھر قیوم نظامی، خالد سلیم صاحب اور راقم وقتا فوقتا بیٹھتے تھے اور خوب مجلس کو سجاتے اور مختلف پہلو پر سیر حاصل گفتگو ہوتی تھی۔ میجر شبیر صاحب کی وفات کے بعد یہ مجلسیں بھی ختم ہوگئیں تھیں۔ کبھی کبھار فون پر بات ہوتی تو خالد سلیم صاحب کی طبیعت کے بارے میں آگاہی ہوتی تو ہمیشہ کہتے تھے کہ اپنا وقت گزار چکا ہوں اور اب بونس کی زندگی چل رہی ہے۔ آپ دعا کریں کہ یہ سفر بھی خوش اسلوبی سے طے ہوجائے۔ آخری دنوں میں ماڈل ٹاون پارکس میں ان کو چہل قدمی کرتے دیکھا تو کافی کمزو رہوگئے تھے اور اندازہ ہوا کہ وہ اچھی حالت میں نہیں ہیں۔ لیکن اس ملاقات میں بھی خوب باتیں کی اور مجھے بہت زیادہ دعائیں بھی دی کہ تم صحت مند بھی رہو اور اسی جرات کے ساتھ لکھتے بھی رہو۔

خالد سلیم صاحب اگرچہ معاشی امو رکے بڑے نقاد تھے لیکن ان کے پاس حل کی تجاویز بھی ہوتی تھیں اور کبھی انہوں نے کسی پر اپنا نکتہ نظر کو تھوپنے یا مسلط کرنے کی کوشش کی۔ جب کوئی ان کی گفتگو پر تنقید کرتا تو کہتے تھے کہ میںنے اپنا موقف بیاں کیا ہے اور ضروری نہیں کہ یہ ہی مکمل سچ ہو اور میں آپ کی رائے کا بھی احترام کرتا ہوں۔ لیکن یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ دنیا کی اہم معاشی ممالک کی پالیسیوں پر ان کی گہری نظر تھی۔ ان کے پاس معاشی امور سے جڑے جو اہم تجاویز ہوتی تھیں یا جو منصوبہ ان کی نظر میں تھا اسے بڑے طبقا ت کو وہ بھیجتے تھے، مگر کون سنتا ہے اس حکمرانی کے نظام میں۔ یہاں پڑھے لکھے افراد کے مقابلے میں حکمرانوں کو چاپلوس اور کمزور لوگ درکار ہوتے ہیں اور ایسے سماج میں خالد محمود سلیم جیسے لوگوں کی کون سنتا۔ یہ دکھ خالد محمود سلیم تک ہی محدود نہیں بلکہ قیوم نظامی سمیت ہمارے جیسے لوگوں کا یہ ہی دکھ ہے کہ اس نظام میں اچھے لوگوں کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے اور ان لوگوں کا علم گمنامی کا شکار ہوجاتا ہے۔

ایک بہت ہی شفیق اور محبت کرنے والا انسان ہم سے جدا ہوا ہے۔ یقین جانیے دل بہت اداس ہے کہ میں اپنے عظیم راہنما اور پیار کرنے والے استاد دوست سے محروم ہوا ہوں۔ ان کے تواتر سے آنے والے پیغامات سے بھی محرومی کا احساس اور زیادہ دکھی کردتیا ہے۔ خالد سلیم لاہو رکے مجلسوں کو بھی اداس کرگئے جس کی وہ رونق سمجھے جاتے تھے۔ ان کی بڑی خوبی ان کی شائشتگی تھی اور مجلس کے اداب کو اچھی طرح وہ جانتے تھے۔ مکالمہ کے آدمی تھے اور ہمیشہ مکالمے کرتے کسی کی تضحیک نہیں کرتے تھے۔ مجھے ان سے اپنے تعلق پر ہمیشہ فخر رہے گا اور وہ ہمیشہ جدا ہونے کے باوجود میرے دل میں آباد رہیں گے اور کہاں ڈھونڈیں گے اب ان جیسے لوگ، برحال وہ میرے لیے ایک خوشبو کی مانند تھے اور ہمیشہ مجھ میں خوشبو کی طرح آباد رہیں گے۔ اگرچہ یہ دنیا عارضی ہے اور جانا سب نے ہے، مگر کچھ لوگوں کے جانے سے واقعی دل اداس ہوتا ہے اور ان میں خالد محمود سلیم صاحب بھی ہیں، بقول شاعر
سوچتا ہوں کے ڈھلیں گے یہ اندھیرے کیسے
لوگ رخصت ہوئے اور لوگ بھی کیسے کیسے

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20