خالی بدن کی خاموشی میں: چند سرسری باتیں —   محمد حمید شاہد 

0

قاسم یعقوب کی نئی کتاب ”خالی بدن کی خاموشی میں” میرے سامنے ہے۔ اس کے بالکل آغاز میں ’’طبقات الشعرا‘‘ سے ایک قول مقتبس کیا گیا ہے۔ میں نے پڑھا تو کچھ وقت کے لیے اس پر ٹھہر گیا تھا۔ آپ کے لیے یہاں نقل کیے دیتا ہوں: ’’الفاظ کو اتنا رواں اور شیریں ہونا چاہیے جیسے آب ِزُلال۔ ‘‘ ’’اتنا‘‘ کے ساتھ ’’جیسے‘‘ کیوں؟ میں اٹک گیا اور الجھ گیا۔ کبھی لفظ’’اتنا‘‘ کو’’ایسے‘‘ سے بدل کر رواں کیا اور کبھی’’اتنا ‘‘بحال رہا اور ’’جیسے‘‘ کو ’’جتنا‘‘ کر لیا۔ ’’آب‘‘ فارسی کاتھا اور اضافت کے ساتھ اس سے جڑا ہوا ”زُلال” عربی کا۔ زُلال میں’’ آب‘‘ کا مفہوم پہلے سے موجود ہے، مگر اس لفظ نے یہاں آکر دوسرے مفاہیم کی راہ روک دی۔ ایسے میں مجھے سوجھتا ہے کہ بات کہنے کے کتنے ہی قرینے ہیں۔ لفظ بدلتے جائیں، اضافت لگا کر دو لفظوں کو ٹانکا لگالیں، یا پہلو بہ پہلو رکھ کر ان میں اپنے معانی داخل کر لیں، جملے کی ساخت تبدیل کر لیں، یا اوقاف ڈال کر پڑھنے والے کی سانسوں میں ایک آہنگ رکھ کر کچھ اور گنجائشیں پیدا کر لیں، جملہ ہو یا مصرع وہ رواں دواں اور کہیں زیادہ شیریں ہوتا چلا جائے گا۔ تو گویا شاعری زبان کا کھیل ہوا اور بہ قول کالرج اس کا سارا حسن، اس کا سارا جادو، اس کی ساری قوت اس فلسفیانہ اصول میں ہے جسے ہم طریقہ کار کہتے ہیں۔ میر ببر علی انیس کا ایک مصرع ذہن میں گونجنے لگا ہے، وہی ’’اِک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں۔‘‘ یہ کھیل دلچسپ رہا مگر کہیں سے غالب آگئے ہیں اور معترض ہوئے:قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کلکھیل لڑکوں کا ہوا دیدئہ بینا نہ ہوا لگتا ہے، قاسم یعقوب غزل کے معاملے میںغالب کا طرف دار ہے۔ اتنا کہ اس باب کی سند وہ میر سے بھی لا سکتاہے اور سندنکال دکھائی بھی ہے کہ اسے اپنی غزل کا قبلہ’’عقل کی باتاں‘‘ نشان کرنا تھا۔ باولے سے جب تلک بکتے تھے، سب کرتے تھے پیارعقل کی باتیں کیاں، کیا ہم سے نادانی ہوئی
طرفگی دیکھیے کہ اردو غزل چھیل چھبیلی بھی ہے اور چھوئی موئی بھی۔ اپنے چاہنے والے بے شمار پیدا کر لیتی ہے مگر اپنا بھیتر کسی کسی پر کھولتی ہے۔ بیک وقت آسان اور مشکل کہ گننے لگو تو درجنوں غزل گو ہر شہر میں موجود اپنی انتہائی مستحکم اور عالی شان روایت سے وابستہ کہ شوقین مزاجوں کے ہاتھ سے یوں پھسل نکل جاتی ہے جیسے گیلے ہاتھ سے گیلی مچھلی۔

قاسم یعقوب کی کتاب میں 29 غزلیں ہیں اور انہیں کتاب کے دوسرے حصے میں رکھا گیا ہے۔ پہلے حصے میں 35 نظمیں ہیں۔ ایک شاعر جس کے ہاں غزل اور نظم دونوں یکساں ترجیح ہوں، اس کی تخلیقی توفیقات پر متوازن بات کرنے کے لیے یہ تعداد بہت معقول ہے۔ لیکن بہت جلد ایک قاری کو دکھنے لگتا ہے کہ قاسم یعقوب کی ترجیح غزل نہیں نظم ہے۔ یہاں غزل کے حصے میں بھی آپ کا واسطہ ایسی لغت سے پڑسکتا ہے جو نئی نظم کو مرغوب ہے۔ اگرچہ کہیں کہیں ’’جمالِ سبزہ آرائی‘‘، ’’نقشِ کف ِپا‘‘، ’’عشقِ لازوال‘‘، ’’شاخِ زماں‘‘ اور ’’صدائوں سے کنواں بھرنا‘‘، حتی کہ ’’تقدیرِ خود نوشت‘‘ جیسے مرکبات و لفظیات پڑھتے ہوئے غزل کی روایت سے اخذ کی گئی لغت کی طرف خیال جاتا ہے لیکن مصرع کی ساخت جس طرح قاسم یعقوب کے ہاں بن پاتی ہے، اسے پڑھتے ہی یہ خیال باطل ہو جاتا ہے بہ طور خاص وہا ں جہاں وہ ’’اکھڑا پلستر مجھ سے بڑوں کی باتیں کرتا ہے‘‘ یا ’’ویگن سٹاپ پر کھڑے گاڑی کا انتظار‘‘ جیسے مصرع جات سے مُصارَعت کرتے نظر آتے ہیں۔

خیر میں، قاسم یعقوب کی محبوب شعری ساخت نظم کی طرف آتا ہوں۔ ’’خالی بدن کی خاموشی میں‘‘ کی نظمیں پڑھتے ہوئے میرا دھیان رہ رہ کر اڈ منڈ ولسن کے اس جملے کی طرف جاتا رہا۔ ’’ Its themes are overlapping and fragmentary.‘‘

یہ جملہ اس نے 1925 میں تخلیق ہونے والی ٹی ایس ایلیٹ کی 98 لائینوں اور پانچ حصوں پر مشتمل معروف نظم ’’دی ہالو مین‘‘ کا محاکمہ کرتے ہوئے لکھا تھا۔

یہ بدن کہاں خالی ہوتا ہے اور کناروں تک بھرتا کیسے ہے؟ یہ مسئلہ اردو والوں کے ہاں بھی آیا ہے۔ مجھے یقین ہے یہاں آپ کا دھیان محمدحسن عسکری کے ’’انسان اور آدمی کی طرف گیا ہوگا، جو بعد میں ’’آدمی اور انسان‘‘ ہو گیا تھا اور سلیم احمد کی’’ نئی نظم اور پورا آدمی‘‘ والی بحث بھی یاد آئی ہوگی۔ ہم ان مباحث کو کیسے بھول سکتے ہیں کہ اردو شاعری لفظوں کا کھیل ہے نہ فقط دیدہء بینا کا معاملہ، اس میں جسمانی، ذہنی، حسی اور روحانی ہر سطح پر تخلیقی سفر ہوتا ہے، یہی سے ہر شاعر کے ہاں ایک آہنگ بنتا ہے۔ اس کا اپنا آہنگ۔ خالی بدن آدمی یا کھوکھلا آدمی روحانی اور حسی طور پر مردہ رہتا ہے اور آپ جانتے ہی ہیں کہ محض جسم زندگی نہیں ہے۔

قاسم یعقوب کی نظموں میں یہاں وہاں تواتر سے کھوکھلا پن نشان زد ہو رہا ہے۔ جہاں جہاں حرکت عمل میں، تصور تصویر میں اور خواب تعبیر میں نہیں بدلتا وہاں وہاں خالی بدن کی خاموشی میں اس کی نظم بولتی ہے۔ ایلیٹ کا کہنا تھا کہ اس نے نظم ’’دی ہالو مین‘‘ کا ٹائیٹل رڈ یارڈ کپلنگ کی نظم ’’دی بروکن مین‘‘ سے لیا تھا۔ ٹوٹے ہوئے آدمی ضروری نہیں کہ سارے کے سارے خالی بھی ہوں، مگر ’’ہالو مین‘‘۔۔۔ کھوکھلے ہوتے ہیں اور متحجر یعنی سٹفڈ بھی، اُس مرے ہوئے بچھڑے کی طرح جس کی کھال میں بھس بھر کر اسے اپنے قدموں پر کھڑا کر دیا جاتا ہے حالاں کہ اُس کا اپنے قدموں پر کھڑے ہونا، ایک التباس ہی تو ہے۔ قاسم یعقوب کی نظموں میں التباس نہیں، احساس ہے۔ یہاں جس خالی پن کا احساس ہے، یہ احساس زیاں جیسا ہے۔ اِس خالی پن میں گم شد آدمی کا مسئلہ شاعری کے ذریعے اپنی پہچان مستحکم کرنا نہیں ہے۔ شاعری اس کی ضرورت ہے۔ پہلی نظم میں یہی کہا گیا ہے۔ ’’شاعری میری پہچان بننے سے زیادہ میری ضرورت کو پورا کرتی ہے۔‘‘

تاہم عین اسی نظم میں کچھ آگے وہ اپنے اس تعلق کو ایک اور پہلو سے دیکھ رہا ہے۔ یہ تعلق یہاں بھیڑ اور اس کی اون کا سا قدرتی ہو جاتا ہے، یعنی ضرورت بھی مگر اس سے کہیں زیادہ، بھیڑ کی شخصیت کا حصہ اور پہچان۔ قاسم یعقوب نے اپنے اس تعلق کی تظہیر کے لیے اپنی نظم میں جو قرینہ برتا ہے، یہ وہی ہے جسے ایڈ مونڈ ولسن نے ایک تھیم کے دوسرے پر اور لیپ کرنے اور خیال کے فریگمنٹس میں ہونے جیسا شناخت کیا تھا۔

قاسم یعقوب کی نظموں میں خیالات کا ٹکڑوں میں آنا اور اوورلیپ ہونا ابہام پیدا کرنے کامیکانکی عمل نہیں ہے کہ یہاں ایک ٹکڑے کا خیال دوسرے سے کہیں نہ کہیں انسلاک بناتا ہے؛ کہیں دھندلا سا، کہیں مدہم اور کہیں گہرا۔ نظم کہنا دراصل اس کے ہاں اُس پہلے برس کے بچے کی طرح اذیت سہنے کا عمل ہے جس کے نئے نئے دانت نکل رہے ہوتے ہیں۔ یہ بچے کے دانت نکلنے والی بات قاسم یعقوب نے اپنی نظم ’’نوآموزی کا دُکھ‘‘ میں کہی ہے۔ جب میں نے اس نظم کی یہ ابتدائی سطریں پڑھی تھی کہ ’’یادوں کی ویرانی میں اُگے درخت میرے دل میں جڑیں پھیلا رہے ہیں‘‘ تو مجھے یاد آیا تھا کہ جس دوسری کتاب سے اپنی نظم کا عنوان اخذ کرنے کا ذکر ایلیٹ نے کیا تھا وہ ولیم موریسن کی کتاب دی ہالو لینڈ تھی۔ فینٹسی فکشن کا کلاسیک نمونہ:

Do you know where it is …. the Hollow Land? I have been looking for it now so long, trying to find it again the Hollow Land for there I saw my love first.

قاسم یعقوب کی نظمیں فینٹسی نہیں ہیں، خالی پن کی خاموشی سے اٹی پڑی سفاک حقیقت کا بیان ہیں۔ جی، زمین کا خالی پن، گزرنے والے زمانے کے اندر کا خالی پن، آدمی کا کھوکھلا پن اور خیال کا کھوکھلا پن جو ہمارے زمانے تک آتے آتے مابعد جدیدیت کے نام سے موسوم ہونے لگا ہے۔ کچھ بھی مربوط نہیں، سب ٹکڑوں میں بٹا ہوا ہے اور ٹکڑے بھی ایسے جو ایک دوسرے پر ڈھیر ہو رہے ہیں۔ قاسم یعقوب نے انہی ٹکڑوں سے اور ٹکڑوں کے اسی ڈھیر سے معنویت کشید کرنے کے لیے ایک اور طرح کا ایڈونچر اور ایک اور طرح کی فینٹسی سے معاملہ کیا ہے۔ ایڈونچر ایسا کہ کہیں تو شاعر اپنی آنکھیں بدن کے ناتواں بستر پر پتھرائے ہوئے پاتا ہے اور کہیں ایک اڑتے پتھر پر بدن کا اژدھا لپٹتے دیکھتا ہے اور دکھاتا ہے۔ رہی بات فینٹسی کی، تو یوں ہے کہ اسے نظم ’’ایک ذائقہ اپنی دریافت میں‘‘ اور اسی نوع کی دوسری نظموں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس نظم میں وہاں، جہاں ہوا کی نرم سطحیں اس کے پروں کو ذائقوں سے بھر رہی ہوتی ہیں۔ یا وہاں بھی جہاں گھروں کی چھتوں پر بادل سو رہے ہوتے ہیں اور درختوں میں ہوائیں گھونسلے بننے لگتی ہیں۔ قاسم یعقوب نے اسی نظم کو یہ کہہ کرمکمل کیا ہے: ’’میں پھر سے جسم کے روزن سے وہ شہر تجسس دیکھتا ہوں  جو میرے تجربوں کو ذائقوں سے بھر گیا ہے‘‘ تو واقعہ یہ ہے کہ محض جسم اس کا مسئلہ نہیں ہے۔ وہ جسم جس کے ہر روزن سے لذت اور اشتہا کا شیرہ بہتا ہے۔ اس کا مسئلہ شہر تجسس ہے۔ اور ہاں جسم کا خالی پن بھی تو اس کا مسئلہ ہے۔ جسم اس کی کئی نظموں میں آیا ہے یوں جیسے کوئی کردار کہانی میں ضمنی ہو مگر مرکز میں رہے۔ یہ جسم ڈسپوزایبل رشتوں کے کباڑخانے میں پڑی اس پاکیزہ محبت کا کردارہے جو نظم ’’تیرے گھر جیسا میرا گھر نہیں‘‘ میںہے اور ’’چھپڑاں والی مسجد کی گلی‘‘ سے ملحقہ قبرستان کی ایک قبر میں چلہ کشی کا ریاض کرنے والے کا جسم بھی۔ دونوں اجسام میت ہو کرزمین کی گود میں سو رہے ہیں مگر انسانی رشتوں اور تعلق میں ظاہر ہو کر پھر سے زندہ ہو گئے ہیں۔  قاسم یعقوب نظموں کو تراشنے کے قرینے بدلتا رہا ہے۔ کہیں کہانی کہنے اسلوب ہے تو کہیں مکالمے کا، کہیں خواب کی سی کیفیت میں خود کلامی ہے اور کہیں دوستوں اور اپنے پیاروں کے نام نظمیں لکھ لی گئی ہیں، لیکن لطف یہ ہے کہ کہیں بھی وہ جسم کو نظر سے اوجھل نہیں ہونے دیتا۔ جسم نہیں اس کے خالی پن کو۔ وہ زمانے کی سرحد پر بچھی کھائی کا ذکر کرتاہے اور دھیان میں وہ بدن آجاتا ہے جس کی خالی جیبوں میں ِمٹی بھری ہوتی ہے (نظم:’’میں برابر پھسلتا جاتا ہوں‘‘)۔ وہ رات کی تاریک خاموشی میں چھوٹے بڑے نوٹوں کو جسم کے غلے میں بھرتے بھرتے تھک گیا ہے کہ اس دولت کا حاصل بے کاری ہے۔ (نظم: ’’میرے جسم کے غلے میں‘‘)، گیلے فرش پر تڑپتا لال بیگ بھی جسم ہے؛اپنے الٹے وجود کی نامختتم اذیت کو سہتا ہوا جسم۔ (نظم: ’’لال بیگ‘‘)۔ وہ جسم جس پر گہری نیند حملہ کرتی ہے اور کمرے کی بے معنی تنہائی میں پڑا ہوا وہ ناآسودہ بدن بھی جس سے لذت بہہ چکی ہے اور جو شکستہ ہو کرمرنے لگتا ہے(نظم:’’ رات اور رنگوں کی روشنی‘‘)۔ کسی اور کا جسم بھی جسے ہونٹوں کے لمس کے ہالے میں لے کر تپتی ریت اور وحشی دھوپ سے بچایا جاسکتا ہے (نظم:’’میں کبھی ایسا دیکھوں‘‘) اور کچی عمر میں چھو لینے کی اِشتہا جگانے والا محبوبہ کا جسم بھی، جو بارشوں میں پھر سے آکر بھیگتا ہے اور بھگو دیتا ہے (نظم: ’’جب بارش ہوتی ہے‘‘)۔

مگر میں نے کہا نا ! یہ محض جسم کی نظمیں نہیں ہیں، اس کے خالی پن کی ہیں۔ اُس خالی پن کی نظمیں جو اپنے حال میں پھیلے تغیر کے تسلسل میں ہے، سب کچھ بے وقعت اور بے توازن بنانے والا، تہذیبی تصادم والا۔ نظم ’’مرکز کا معروضی تماشا‘‘ میں وہ صاف صاف کہہ رہا ہے کہ’’میں کتنا کھوکھلا ہوں‘‘ مگر ساتھ ہی یہ بھی کہہ رہا ہے کہ’’دل دھڑکتا ہے تو میری ہڈیاں آپس میں بجنے لگتی ہیں۔‘‘ گویا ’’دی ہالو مین‘‘ کے جس طبقے سے اسے تخلیقی سطح پر معاملہ کرنا پڑ رہا ہے اس کا جسم کھوکھلا تو ہے بالکل خالی نہیں ہے کہ وہاں دل ہے جو دھڑک کر ہڈیاں چٹخا سکتا ہے۔

قاسم یعقوب کی نظمیں، محض رواں دواں نظمیں نہیں ہیں۔ میں معذرت خواہ ہوں کہ یہاں پہنچ کر مجھے طبقات الشعرا سے لیا گیا ’’آب زلال‘‘ والا خیال اس کتاب کے اسلوب سے بالکل اُچٹا ہوا لگا ہے۔  میں نے اوپر ایڈمنڈ ولسن کا حوالہ دیا تھا، وہی تھیمز کی اورلیپنگ اور ٹکڑوں میں برتنے وال، تو یوں ہے کہ قاسم یعقوب اپنی نظم’’مرکز کا معروضی تماشا‘‘ میں اپنے اسی تخلیقی وتیرے کو نشان زد کررہا ہے۔  ’’میں اپنی آنکھ کے پردے پر چاروں طرف پھیلے منظروں کو جمع کرتا ہوں جو ریزہ ریزہ بکھراہے اسے معروض میں پھر جوڑتا ہوں۔‘‘

ایک طرف یہ بکھرے پڑے مناظر کے ریزے ایک دوسرے پر ڈھیر ہیں تو دوسری طرف وہ کھوکھلا جسم ہے جس کے خالی پن میں پڑا دھڑکتا دل ہڈیاں چٹخا سکتا ہے۔ یوں ٹکڑوں میں اور ادھ ادھورے یا پوری طرح ایک دوسرے پر منطبق ہوتے ریزوں سے، جسم کے خالی پن میں خاموش ہوچکی چیخوں کو گرفت میں لینے کے لیے جو اسلوب قاسم یعقوب کے ہاں بن پایا ہے اس میں بہائو کی طرف لپکنے پر قدرے کھردرے پن کو مقدم رکھا گیا ہے۔ ہر فریگمنٹ کے بعد ہمیں رُکنا اور اس کا ناطہ اس سے پہلے گزر چکے فریگمنٹ سے جوڑنا ہوتا ہے۔ تاہم یوں ہے کہ ہر منظر ذرا سی توجہ سے فوکس ہو جاتا ہے اور حسی سطح پر معنی کی تشکیل ممکن ہو جاتی ہے اور یہی وہ قرینہ ہے جو قاسم یعقوب کی نظم کی الگ شناخت بناتا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20