نوجوان اور حکومت کا ترتیب شدہ بجٹ —- ڈاکٹر محمد زمان

0

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) 2013 کے الیکشن میں پہلی بار مقبول ترین جماعت بنی جس نے نوجوانوں میں خاصی پذیرائی حاصل کی، جب کہ پی ٹی آئی کی 2018 کے الیکشن میں بھاری اکثریت سے جیتنے کی اصل وجہ پاکستان کے وہ نوجوان تھے جنہوں نے پی ٹی آئی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کام سر انجام دیا۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے 2020-19 اور 2021-2020 میں جو بجٹ پیش کیا اس میں ان نوجوانوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے جنکی وجہ سے جماعت الیکشن جیتی۔ انکے موجودہ بجٹ نے نوجوانوں کو معیشت میں حصہ بننے اور وسائل پیش کرنے کی امیدوں کو ختم کر دیا ہے، یوں نوجوانوں کو کسی بھی قوم کا قیمتی اثاثہ سمجھا جاتا ہے جسے کھونے سے ہر کوئی ڈرتا ہے لیکن پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق آبادی کا 64 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کی عمر 30 سال سے کم ہے جبکہ بجٹ میں ان کے لیے 2 ارب کا حصہ مختص کیا گیا جو کہ بہت کم ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق27-20 کی عمر کے 9۔7 لاکھ مرد جبکہ 9۔1 لاکھ خواتین ہیں جنکی کل تعداد 18۔8 لاکھ بنتی ہے، جبکہ ان نوجوانوں کی اصل ضروریات تعلیم و روزگار پر منحصر ہے۔

اگر 18۔8 لاکھ نوجوانوں کی آبادی کے لیے 2 ارب رقم کے استعمال کا تخمینہ لگائیں تو ہمیں سال 2020-21 تک کے لئے ہر شخص کو فی 106 روپے دینے ہونگے۔ یہ ایک ایسی رقم ہے جو ایک سال کے لئے مختص کی گئی ہے جسکی حیثیت مونگ پھلی میں دانے برابر بھی نہیں کہ اس سے مونگ پھلی کیا ضروریات زندگی کی ضرورتوں کو پورا کیا جا سکے۔ حکومت کی نااہلی ایسی ہے کہ اس نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ نوجوان اس رقم کو کس طرح استعمال کر سکتے ہیں اور کس قسم کی مالی اعانت کے لیے یہ رقم مستفید رہے گی۔ اگرچہ 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی جماعت نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے نعرے لگائے تھے، لیکن جب بجٹ مختص کرنے کی بات آتی ہے تو انکی ترجیحات یکسر تبدیل ہوگئی ہیں۔ مجھے اس بجٹ کے حوالے سے نوجوانوں کے رد عمل کا اندازہ نہیں ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ نوجوانوں کے خواب اور امیدیں ٹوٹ چکی ہیں۔

سابقہ ​​حکومت کی جانب سے جو بجٹ مختص کیا گیا تھا وہ بھی مثالی نہیں تھا: انھوں نے 19-2018 میں 22 ارب تک مختص کیے؛ تاہم، یہ رقم موجودہ رقم سے قدرے زیادہ تھی اور ہر نوجوان کو سال 2018 کے لئے 1، 170 روپیہ ملے۔ میرے خیال کے مطابق اس رقم کی حیثیت بھی مونگ پھلی برابر نہیں لیکن سابقہ حکومت کی جانب سے ایسے متعدد اقدامات بھی کیے گئے تھے جن کا مقصد نوجوانوں کی ضروریات کو پورا کرنا تھا؛ جیسے کہ پچھلی حکومت نے انٹرنشپ پروگرام شروع کروائے، اسکے علاوہ لیپ ٹاپ سکیم شروع کی (اگرچہ کم معیار کے تھے) اور نوجوانوں کو کچھ قرضے بھی فراہم کیے، لیپ ٹاپ اسکیم ایک اہم قدم تھا جسکا استعمال کویڈ-19 کے دوران آن لائن کلاسوں کے لئے کیا جاسکتا ہے، اسی طرح انٹرنشپ نے روزگار کے نئے راستے ہموار کیے۔ بہر حال، پچھلی حکومت کے دور حکومت میں بھی نوجوانوں کی بہتری کے لئے بہت محدود مواقع فراہم کیے گئے تھے۔

ایک نوجوان شخص تعلیم اور معیشت میں شراکت داری کی اہلیت رکھتا ہے لیکن اگر کسی کو مواقع میسر ہی نہیں ہیں تو وہ کیا کریں گے؟ ان کے پاس ایک اور موقع یہ ہے کہ وہ متشدد رہیں اور غیر سیاسی سرگرمیوں میں مشغول ہوں جائیں۔ وہ تفریح کی غرض سے منشیات کے استعمال میں خطرناک حد تک مشغول ہو چکے ہیں، جبکہ ان کے غیر قانونی سرگرمیوں میں مصروف ہونے کی وجہ بھی ملک کو معاشی بحران کا سامنا ہے۔ منشیات کے لیے آپ کو پیسے کی ضرورت ہے اور پیسہ حاصل کرنے کے لیے انکے پاس سوائے انحراف اور مجرمانہ سمت اپنانے کا اور کوئی راستہ باقی نہیں ہے کیونکہ قانونی راستے حکومت نے بند کر کے رکھے ہوئے ہیں۔ لہذا ہم پیشن گوئی کر سکتے ہیں کہ نوجوان اپنی بقا کے حصول کے لیے مزید ڈکیتی و چوری جیسے جرائم میں ملوث ہو سکتے ہیں۔

جب معاشرے میں جرائم سے منسلک پیشہ ور افراد کی تعداد بڑھ جائے تو انکو قابو میں کرنے کے لئے پولیس کی مدد درکار ہوتی ہے اور پولیس اہلکاروں کو دینے کے لیے خاص رقم مختص کی جاتی ہے۔ اگر اس طرح غیر قانونی جرائم میں اضافہ ہوتا چلا گیا تو یہ بعد میں ایک سفید نایاب ہاتھی بن سکتا ہے جسکو قابو میں کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ وسائل چاہیے ہونگے۔ پاکستانی معاشرے میں ریاست اور نوجوانوں کی بدحالی بڑھتی جارہی ہے جیسے کہ تاریخی طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک طویل عرصہ سے کراچی میں اسٹریٹ کرائم کلچر کا تجربہ کیا جا رہا ہے لیکن ہم نے کبھی بھی اس کی بنیادی وجہ جاننے اور اس سے نمٹنے کی کوشش نہیں کی۔ کراچی پچھلی تین دہائیوں میں خونریزی اور قتل و غارت کا تجربہ کر رہا ہے لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان غلطیوں سے سبق نہیں سیکھ سکی۔

بہترین اقدامات یہ ہونے چاہیے کہ پاکستانی حکومت کو بروقت نوجوانوں کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ان کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع شروع کرنے ہونگے، بجائے اس کے کہ وہ سوچیں، یاں نوجوانوں کو مزید صرف اپنی باتوں سے متاثر کریں۔ انہیں نوجوان کو شامل کرنے، ان کو بااختیار بنانے کے لئے نئے اقدامات کا آغاز کرنا ہوگا اور انہیں ملک کا قیمتی اثاثہ سمجھنا ہوگا۔ نوجوانوں کے شامل ہونے سے نہ صرف آمدنی میں اضافہ ہوگا، بلکہ وہ مثبت اثرات بھی ڈال سکتے ہیں کیونکہ یہی بااختیار اور خودمختار نوجوان دوسرے نوجوانوں کو ملکی معیشت و سرمایہ داری میں شامل کرنے کا سبب بنیں گے اور دوسرے ممالک کے لیے ایک مثال قائم کر سکیں گے۔

اگر نوجوان حکومت سے قومی بجٹ میں ان کے حصہ اضافے کے لیے مطالبہ کرتے ہیں تو نوجوانوں کا یہ حق ہے، اسی کے ذریعہ تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم ہونگے۔ اگر انہیں اثاثہ کے طور پر سمجھا جائے تو پاکستان کا نوجوان ایک قابل قدر قیمتی ہیرا بن جائے گا لیکن اگر یہ نظرانداز کیا گیا تو حکومت انکی قدر و قیمت بہت جلد کھو دے گی۔ حکومت پاکستان کو اپنے نتائج کے مطابق سرمایہ کاری کرنا چاہئے جو وہ دیکھنا اور لینا چاہتے ہیں۔

لکھاری قائد اعظم یونیورسٹی آف اسلام آباد کے شعبہ سماجیات کے چیئرمین ہیں، وہ پاکستان میں سماجی مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں، جہاں وہ سماجی مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں، وہیں وہ ان کے حل کی تجاویز بھی پیش کرتے ہیں۔

(اس کالم کا اردو ترجمہ سعدیہ اسلم اور حفضہ عرفان کی جانب سے کیا گیا، جنکا تعلق قائداعظم یونیورسٹی، اسلام آباد سے ہے۔)

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20