دو مینار، پاکستان بیتی —- تحریر:نعیم الرحمٰن

0

مسعود مفتی پاکستان کے سینئراورنیک نام سابق بیوروکریٹ ہیں۔ وہ انیس سو پچاس کی دہائی میں بیورو کریسی میں شامل ہوئے اورنوے کی دہائی میں ریٹائر ہوگئے۔ 1971ء میں سقوطِ ڈھاکا کے وقت مسعود مفتی سابقہ مشرقی پاکستان اور حالیہ بنگلہ دیش میں فرائض انجام دے رہے تھے۔ جہاں وہ دوسال بھارت میں جنگی قیدی بھی رہے۔ وہ ایک بے مثال مصنف، افسانہ، ناول اور ڈرامہ نگاربھی ہیں اور باسٹھ سال سے ایسابہترین ادب تخلیق کر رہے ہیں۔ جو ہمارے ناہموار معاشرے کے عروج و زوال کی حقیقی عکاسی کرتاہے۔ مسعود مفتی مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کے عینی شاہد ہیں اور انہوں نے ان چشم دید واقعات کوبصیرت اور دردمندی سے تحریر کیا ہے۔ جس کے لیے انہوں نے اردو ادب کی نسبتاً نئی صنف رپورتاژ کا عمدگی سے استعمال کیا ہے۔ جس میں مشرقی پاکستان سے متعلق ’’چہرے‘‘ اور بنگلہ دیش کی قیام کے پس پردہ حقائق کے بارے میں ’’ہم نفس‘‘ اور ان کرداروں کے چہرے سے نقاب ہٹانے والی ’’چہرے اور مہرے‘‘ کے علاوہ ’’پتھر میں پھول‘‘ بھی شامل ہیں۔ ان کتابوں کے بین السطور مسعود مفتی کی حب الوطنی اور دردمندی عیاں ہے۔ دیگر اصناف میں انہوں نے چھ افسانوی مجموعے’’محدب شیشہ‘‘، ’’رگِ سنگ‘‘، ’’ریزے‘‘، ’’سالگرہ‘‘، ’’توبہ‘‘ اور ’’وقت کی کاش‘‘ شامل ہیں۔ ’’رگِ سنگ‘‘ 1965ء کی اور ’’ریزے‘‘ 1971ء کی پاک، بھارت جنگ کے پس منظرمیں افسانوں پر مشتمل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک ناول ’’کھلونے‘‘ اور مزاحیہ تحریروں پر مبنی ’’سر راہے‘‘ چند ڈرامے ’’تکون‘‘ اور ’’ڈائری لمحے‘‘ اور ’’جھرنوں سے کرنیں‘‘ کے عنوان سے یادداشتیں بھی تحریر کی ہیں۔ ان کے ناولٹ کھلونے پر مبنی ڈرامہ پی ٹی وی سے نشر بھی کیا گیا۔ جبکہ ان کی تحریروں کو متعدد ادبی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

مسعود مفتی کا پانچواں رپورتاژ ’’دو مینار‘‘ حال ہی میں آکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیاہے۔ ہماری مسخ شدہ قومی تاریخ پر دروغ کی دبیز دھول ہے۔ لیکن یہ کتاب کہیں کہیں سے گرد صاف کرکے کچھ نقوش واضح طور پردکھاتی ہے اور بعض ایسے حقائق بھی پیش کرتی ہے۔ جنہیں عوام کی نظروں سے اوجھل ہی رکھا گیا۔ ان نقوش میں دو حیات افزا معجزے اوران گنت مفادات کے شعبدے صاف نظرآتے ہیں۔ پہلا معجزہ 1947ء میں ہوا۔ جب شدید مخالفت کے باوجود پاکستان قائم ہوگیا اور دوسرا معجزہ اگلی دہائی میں ہوتا رہا۔ جب نئے ملک میں برطانوی دور کی تربیت یافتہ بیوروکریسی قائد اعظم کی نگرانی میں قانون اور قواعد کا نفاذ کرنے لگی اور پاکستان حیرت انگیز ترقی کرنے لگا۔ پھر چند خودغرض عناصر نے اپنی ذاتی اور گروہی مفادات کے لیے قائد اعظم کے پاکستان کو اغوا کرلیا۔ بعدازاں اگلے تیرہ برسوں میں بیورو کریسی اور حسنِ انتظام کو بتدریج سنگسار کردیا گیا۔ یہ کتاب اسی مرحوم بیوروکریسی کے ایک رکن کے معتبر قلم سے اس قتلِ عمدکی عینی شہادت ہے۔ کتاب کے انتساب سے بھی یہ واضح ہے۔ ’’انتساب اُس مرحوم بیوروکریسی کے نام جس نے قائداعظم کے پاکستان کو پہلے گیارہ سال میں آسمان پر پہنچادیا اور جسے انقلابی رہبروں نے اگلے ساڑھے تیرہ برس میں ہلاک کردیا تاریخ پیدائش 14اگست 1947 تاریخ وفات 21اپریل 1972 ‘‘۔

کتاب کے پیش لفظ میں مسعود مفتی لکھتے ہیں۔ ’’آج کے پاکستانی نوجوان نے قائداعظم کا پاکستان نہ تو دیکھا ہے، نہ اس کے بارے میں وہ کچھ جانتاہے۔ قائداعظم کے پاکستان کی عمرصرف گیارہ برس تھی۔ جس کے بعدیہ اغواہوگیا اور پچھلے ساٹھ برسوں سے سیاسی، غیرسیاسی اور مذہبی اقتدارپرستوں کے ذاتی مفادات اور باہمی گٹھ جوڑ کا یرغمال ہے۔ قائد اعظم کا پاکستان ایک فلاحی ریاست تھی۔ اس کے شہری باکردار تھے۔ کیونکہ وہ یوپی کے سرسید، بنگال کے اے کے فضل الحق، نواب سلیم اللہ خان، پنجاب کے علامہ مشرقی، علامہ اقبال، مولاناظفر علی خان، بمبئی کے محمد علی جناح اور کئی دوسرے علاقوں کے باکردارلیڈروں کاپروردہ تھے۔ اس کی بیوروکریسی امورِ سلطنت کی ماہرتھی۔ کیونکہ وہ ایک صدی سے برطانوی سلطنت کی وسعت میں حسنِ انتظام کی مضبوط کڑی رہی تھی۔ اس کے سیاستدان ابتدائی تربیتی لڑکھنیاں کھا کر سنبھل گئے تھے اوراب اتنے بالغ نظر ہوگئے تھے کہ 1956ء کے آئین میں مشرقی اورمغربی پاکستان کے باہمی اختلافات حل کرچکے تھے۔ اس کے بعد ملک کے دونوں حصے پوری یک جہتی سے ہم قدم تھے۔ آج کا نوجوان یہ سب نہیں جانتا۔ کیونکہ اسے دانستہ لاعلم رکھا گیا ہے۔

اغوا کرنے والے نہیں چاہتے کہ اغوا ہونے والے کی پہچان ہوسکے یا اس کا ذکر بھی ہو۔ آج کا پاکستانی نوجوان صرف اس پاکستان کو جانتاہے جس کے سیاستدان موقع پرست ہیں۔ عوام بے آوازہیں۔ بیوروکریسی بدنام ہے اور لیڈر خودغرض ہیں۔ جس میں بدامنی، بدقماشی اور بد عہدی ہے اورہربدی کے سر پر چمکدار تاج ہے۔ منافقت سے بھرے ماحول میں اسلام، جمہوریہ، آئین، قانون، انصاف اور عوامی بہبود کے قصیدے تو دن رات گائے جاتے ہیںلیکن عملی طرزِ عمل سے ہر دم ان کا گلا گھونٹا جاتا ہے۔ ملک میں جابجا دھماکے ہیں، لاشیں ہیں، خون کے فوارے ہیں، سنگ وخشت مستقل طور پرمقیدہیں اور سگ بالکل آزادہیں۔‘‘

مسعودمفتی نے زندگی کی ہر دہائی کو ایک مینار قرار دیا ہے اور آٹھویں مینار پر پہنچنے کے بعد وہ نیچے جھانک رہے ہیں۔ اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ’’میں آپ بیتی لکھنے سے گریز کرتا ہوں۔ اسکی وجہ ہے کہ آپ بیتی لکھنے والے کی تخلیقی صلاحیتیں معطل اورفالتو ہوجاتی ہیں۔ افسانہ یاناول نگار کے برعکس یہاں نہ تو تخیل کی پرواز مصنف کی ہے، نہ جذبے اٹھان اس کی، نہ وہ اس کا پلاٹ سوچ سکا، نہ اس کے کردار ایجاد کرسکا، نہ اتفاقات تراش سکا، نہ حادثات گھڑ سکا۔ آپ بیتی کے مندرجات تواس مستعارزندگی کے نقش ونگار ہوتے ہیں جسے لوحِ محفوظ کے مطابق خالق نے تخلیق کیا۔ پھر پھل داردرخت کے بیج کی طرح مقررہ موسم (یعنی عمر) میں نمود وافزائش کے مدارج طے کرا ئے اور معینہ مقدار کے سانسوں کے بعداپنے پاس واپس بلالیا۔ لیکن یہ اعتراض بھی بجاہے کہ اگرمیں آپ بیتی نہیں لکھ رہا تو پھر اپنی زندگی کے مینارکی آٹھویںمنزل سے نیچے کیوں جھانک رہاہوں۔ جی نہیں میں نیچے جھانک کراپنے مینار کو نہیں دیکھ رہا۔ بلکہ ایک دوسرے مینارکی بنیاد، اُٹھان اورمنازل میں جھانک رہاہوں جو بالکل متصل ہے۔ کم وبیش میرا ہم عمر ہے اور جس کا ذہنی تصورمیری پیدائش کے آس پاس ہوا تھا۔ جب 1930ء میں علامہ اقبال نے پہلے خطبہ الہ آباد میں ہندوستان کے کچھ حصوں میں مسلمان ریاست کاخیال پیش کیاتھااورجب قیادت علماء اوراُس وقت کی مسلم لیگ نے اس خیال کو نظرانداز کیا تو پھر دو برس بعدکُل ہندکانفرنس کے خطبہ صدارت میں پھر اس پر زور دیا۔ اس طرح میں اور علامہ اقبال کا تصور پاکستان دونوں قریب قریب ہم عمرہیں۔ تصورصرف اتنا بڑا کہ جب میں ہوش سنبھال رہاتھا اورمیرا مینار تعمیر کے ابتدائی مراحل میں تھا، توایک نئی مملکت کے تصورات اُبھرنے لگ گئے تھے۔ جس کاجین 1940ء میں لاہور ریزولیشن کے بطن سے پیدا ہوا۔ دھیرے دھیرے قومی مطالبے میں ڈھلا۔ پھر قومی جدوجہد میں بدل گیابالآخر چودہ اگست انیس سو سینتالیس کو لاہور کی کرفیو زدہ رات کے بارہ بجے ’’ریڈیوپاکستان‘‘ کا پہلا اعلان کوہ ِ رحمت سے ایک نداکی طرح ابھرا اور سورۃ فتح کی تلاوت کے بعد مولانا ظفرعلی خان کی نعت سے نئی مملکت کے مینارکی تعمیرشروع ہوئی۔ اُ س وقت مجھے یوں لگا کہ میرا نامکمل مینار کسی طلسماتی اندازمیں اس نئے مینارکے اندرسماگیا۔ یہ میری آپ بیتی نہیں، یہ توصرف میری وطن بیتی کا کا تھوڑا سا حصہ ہے۔ محدود جادہ پیمائی۔ جزوی راہ بیتی۔ جن راستوں سے میں گزرا ہوں ان کے کچھ حصے۔ ان میں ’میں‘ نہیں بلکہ ’وہ‘ ہیں، جنہیں میں نے دیکھا۔ برداشت کیا۔ ان سب سے میراتعلق اتناہی ہے، جتناایک راوی کااپنے موضوع سے ہوتا ہے۔ یا ایک راہگیر کا اپنے رہبروں سے ہوتاہے۔ یابھراُن رہزنوںسے جواس کے راہبربن کراسے لوٹتے رہتے ہیں۔‘‘

پاکستان کی قیام کوصرف بارہ سال ہوئے تھے، بے سروسامانی کا آغازقصہ ماضی بن چکاتھا۔ اب پاکستان کا اپنا پراعتماد وجود دونوں پاؤں پر کھڑا ہوچکا تھا اور زندگی کے ہرشعبے میں تیزی سے ترقی کرنے والا پاکستان دنیا کے نقشے پرایک نمایاں ملک کی حیثیت سے قابل توجہ بن چکا تھا۔ اسکولوں کی حاضریاں بڑھ رہی تھیں۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیمی اورغیرنصابی سرگرمیاں عروج پرتھیں۔ ہونہار طالبعلم دھڑا دھڑ وظائف کے سہارے بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے جارہے تھے۔ پاکستان ریلوے ملک میں نقل و حمل کا بہترین ذریعہ بن چکی تھی۔ تین ڈکوتا جہازوں سے قائم شدہ پی آئی اے اب ساری دنیامیں اپنی دھاک بٹھا رہی تھی، بلکہ وہ مشرق وسطیٰ سمیت کئی ممالک کو اپنی ایئرلائن قائم کرنے میں مدد دے رہی تھی۔ پاکستانی بینکاروں کی طلب عالمی بینکوں پربڑھ رہی تھی۔ عالمی بینک واپڈا کو قابل فخرادارہ قرار دیکر حکومتی گارنٹی کے بغیرقرضہ دینے کوتیارتھا۔ اس پس منظر میں مسعود مفتی سول سروس کی اعلیٰ تربیت کے لیے بڑی خود اعتمادی سے انگلینڈ پہنچے اور بڑے خلوص اور بیدارمغزی سے ریاستی امورکی ابتدائی تربیت میں کھو گئے۔ تربیت کے تمام اخراجات برٹس کامن ویلتھ آفس برداشت کرتا تھا۔ ان کے گروپ میں مشرقی پاکستان کے بارہ اور مغربی پاکستان کے گیارہ افسران شامل تھے، جنہیں آکسفرڈ اور کیمبرج یونیورسٹی میں پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کرنی تھی۔ دوران تعلیم ہرکسی کوطویل فہرست سے موضوع منتخب کرکے تھیسس لکھناپڑتاتھا۔ دوسری جنگِ عظیم میں انگلستان خصوصاً لندن کی کوئی عمارت صحیح سلامت نہیں بچی تھی۔ صرف چودہ سال بعدجب مسعود مفتی وہاں پہنچے تواس تباہی کے آثار بھی نظرنہ آتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے’’ جنگِ عظیم کے بعد انگلش حکومت نے رہائشی گھروں کی کمی کامسئلہ کیسے حل کیا ‘‘کا موضوع چن لیا۔ انہیں علم ہواکہ پارلیمنٹ نے قومی پالیسی مرتب کی کہ قوم وملک کے ہر پرزے سے یہ کام ترجیحی بنیاد پرلیاجائے گا۔ نہ صرف حکومت گھر بنائے گی، بلکہ تمام ادارے اپنے ملازمین کے لیے، عوام خود قرض لیکرگھربنائیں گے، نجی شعبہ بھی یہ کام کرے گا۔ حکومت ہرممکن مدد فراہم کرے گی۔ پالیسی تشکیل پانے کے بعد قوانین بنائے گئے، ماتحت اداروں نے اپنے قوائد تشکیل دیے۔ مالی قرضوں کے متعلق، عمارتوی سامنا کی فیکٹریوں کے متعلق، عام زندگی میں رکاوٹ روکنے کیلیے قوانین بنے۔ ان سب کی خلاف ورزی کرنے پرسزاؤں کاتعین کیا گیا۔ اس تھیسس کی تیاری کے دوران مسعود مفتی اس نظام سے بیحد متاثر ہوئے۔ کیمبرج میں پڑھائی کے دوران ان پر اس راز کاانکشاف ہواکہ انگلینڈ میں گڈگورننس کے لیے ہرادارے میں چندصفحات پرمشتمل چھوٹا سا قوائد و قوانین کا کتابچہ پوری برٹش ایمپائر کانظم ونسق چلانے کی کنجی ہے۔ ان کے نفاذ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔ اپنے حسن انتظام کی بدولت ہی ایک دور میں برٹش راج پر سورج غروب نہیں ہوتاتھا اور تین صدیوں تک وہ دنیاکی عظیم ترین طاقت رہی۔

ان دنوں مشرقی اورمغربی پاکستان کوقریب لانے کااہتمام کیاجاتاتھا۔ مسعود مفتی نے لکھا۔ ’’ تربیت کے دوران اکیڈمی میں گیارہ مغربی پاکستانیوں بنگلہ زبان سکھانے کی کلاس ہوتی تھی۔ جبکہ بارہ بنگالیوں کو صوفی غلام مصطفٰے تبسم اردو پڑھایا کرتے تھے۔ ان کے کمروں کے مکین اس طرح بدلے جاتے کہ سب بنگالی اور غیر بنگالیوں کو اکٹھے رہنے کاموقع مل سکے۔ ڈائنگ روم میں سب کو ساتھ کھانا پڑتا تھا۔ چند ماہ ساتھ گزارنے کے بعدہمیں چار ماہ کے لیے مشرقی پاکستان بھیجا جاتا تھا، جہاں مختلف اضلاع کی ضلع کچہریوں میں ہم زیرِتربیت مجسٹریٹ کے طور پر کام کرتے تھے۔ اکیڈمی میں قریبی سنگت کے دوران میں بنگالیوں کی پاکستانیت کاقائل ہوچکا تھا۔ اس لیے مشرقی پاکستان میں پہلی تقرری کیلیے چشم براہ تھا۔ ہم لوگوں نے ٹریننگ شروع تو اسی پروگرام کے تحت کی تھی، مگر جیسے جیسے صدر ایوب کے قدم جمتے گئے اس میں ایسی تبدیلیاں کی جانے لگیں جو سمجھ سے بالا اور ملک کے دونوں بازوؤں کو ملانے والے روایات سے انحراف کرتی تھیں۔ مشرقی اور مغربی پاکستانی طلبا کے تبادلے پر پابندی لگادی گئی۔ کامن ویلتھ پروگرام کے تحت انگلستان میں تربیت بھی ختم ہوگئی۔ جبکہ دوسرے رکن ممالک آج بھی تربیت حاصل کررہے ہیں۔ اور سول سرونٹ کاکول اکیڈمی میں ٹریننگ کرنے لگے۔ نئی پالیسی کے تحت اب مشرقی اور مغربی پاکستان کے سرکاری ملازم صرف اپنے اپنے علاقوں میں ہی فرائض انجام دیں گے۔ 1960ء کی اس انتظامی تبدیلی کے صرف دوسال بعد مشرقی پاکستان کے سیاسی حلقوں تک صدر ایوب کایہ خیال بھی پہنچایاگیاکہ اگروہ چاہیں توالگ ہو جائیں۔ یہ انکشاف ان کے وزیر اور سابق چیف جسٹس محمد منیر نے اپنی کتاب میں کیا۔‘‘

پاکستان کے ابتدائی گیارہ برسوں میں بیوروکریسی نے بے مثال کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور زندگی کے ہرشعبے میں ملک نے شاندارترقی کرکے دنیا کو حیران کر دیا۔ یہ قائداعظم کا پاکستان تھا۔ جس کے خدوخال وہ ہر دم اپنے قول وفعل سے قوم پر واضح کر رہے تھے۔ لیکن اس کے بعد یہ جرنیلوں اور وڈیروں کا پاکستان بن گیا۔ کڑی تربیت سے قائم حسن ِ انتظام سے برٹش ایمپائرنے تین صدی تک دنیا پرحکمرانی کی یہ قانون، ضابطے اورڈسپلن کی بدولت ممکن ہواتھا۔ قائد اعظم نے انہیں بنیادوں پرسول سروس کومضبوط کیا۔ قانون کی بالادستی اور جمہوریت کو وہ اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ سمجھتے تھے، جس کی مثال رسولِ کریمﷺ کی ریاست مدینہ اور خلافتِ راشدہ کی وہ پالیسیاں تھیں جو حقوق العباد اور سوشل جسٹس کے بنیادی تقاضے پورے کرتی تھیں۔ وہ اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی سول سروس کے پر کاٹنے کا فیصلہ کرچکے تھے۔ جس پر عمل کا آغاز مارشل لا ریگولیشن کے تحت پندرہ سو ملازمین کو برطرف کر کے کیا گیا۔ ایوب کے بعد یحیٰی خان، ذوالفقار علی بھٹو اورضیا الحق بھی اس پالیسی پر کاربند رہے۔ ایوب کے دورمیں سول سروس قوانین کی تبدیلی کا جو عمل شروع ہوا، اسے انتہاتک ضیاالحق نے پہنچادیا۔ لکھتے ہیں۔ ’’میرے ایک عزیزنے اعلیٰ ملازمتوں کے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ اب اپنی ٹریننگ مکمل کرلی توکسی تحصیل میں سب ڈویژنل مجسٹریٹ کے طور پر تعیناتی کا مرحلہ پیش آیا، مگر آٹھ ماہ تک تعیناتی نہ ہوسکی، کیونکہ جس ضلع میں اس کی تقرری کی جاتی، وہاں سے اسمبلی ممبر اعتراض کر دیتا کہ یہ میراآدمی نہیں ہے۔ اسے سیکریٹریٹ بلا کر کہا گیا کہ پہلے اپنے طور پرکسی اسمبلی ممبرکی حمایت حاصل کرو، تاکہ تمہیں اس کے علاقے میں تعینات کیا جاسکے۔‘‘

جنرل ضیانے غیرجماعتی الیکشن کرائے، پھر اسمبلی ممبران کی حمایت حاصل کرنے کیلیے انہیں مراعات دی جانے لگیں۔ اعلیٰ سول سروس کا سفر جو اس تنبیہ سے شروع ہوا تھا کہ بالکل غیرجانبدار اور مفاد پرست عناصرسے دور رہیں۔ ضیا حکومت نے یہ واضح تلقین کردی کہ وہ مفاد پرست عناصرکی سرپرستی حاصل کریں۔ یہی نہیں سول سروس میں براہ راست حاضر سروس فوجی افسران کوشامل کرنے کی اجازت بھی دیدی گئی۔ اس طرح قائداعظم کے پاکستان کی بیورو کریسی کاروپ ہی بگاڑ دیا گیا۔

مسعودمفتی کے مطابق ’’قائداعظم کے زیارت سے کراچی تک کے آخری سفرکی خصوصی شہادت ہمیں بتاتی ہے کہ قائداعظم اس وقت کی پاکستانی حکومت کے تغافل کاشکار رہے اور نواب زادہ لیاقت علی خان سمیت سب نواب زادوں، جاگیرداروں اور وڈیروں کا ذہن پاکستان کے اُس تصور کا بالکل حامی نہیں تھا جو قائد اعظم کی تیرہ ماہ کی تقاریر سے ابھر رہا تھا۔ ان کی وفات کے بعد باقی سب مل کرآئین سازی میں رکاوٹ ڈالتے رہے پہلے سات برسوں میں آئین سازاسمبلی نے ایک سوسولہ دنوں پر مشتمل صرف پندرہ اجلاس منعقد کیے جن میں اوسط حاضری سینتیس سے چھپن ارکان ہوتی تھی۔

سابق چیف جسٹس اور وفاقی وزیر محمد منیر نے اپنی کتاب میں یہ جائزہ لیاہے کہ ’’کس طرح قائداعظم کے سماجی انصاف والے اسلام کے بر عکس ان کے تصورِ پاکستان کو بتدریج ملا کے فتنہ انگیزاسلام کی جانب دانستہ دھکیلا گیا۔ قائداعظم کی وفات کے چھ ماہ بعدیہ عمل لیاقت علی خان نے قراردادِ مقاصد سے شروع کیا، اگلی حکومتوں نے آگے چلایا اور ضیاالحق نے اپنے دور میں مکمل کردیا۔‘‘

قراردادِ مقاصدکے بارے میں فقیر منش حسرت موہانی کاتاسف بھراتبصرہ تھا۔ ’’اللہ کی حاکمیت کا تصور خارجیوں کا نعرہ ہے۔ خارجی قبائلی لوگ تھے اور کوئی خودکار ریاستی ڈھانچہ قائم نہ کرناچاہتے تھے۔ اس لیے وہ اپنی سرداری قائم رکھنے کے لیے اللہ کی حاکمیت کا سہارا لیتے تھے۔ اب آج زمانے میں جب آپ اس ارفع نظریے کو ریاستی ڈھانچے کا رہنما اصول بناتے ہیں تو بے ایمانی کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ ارفع نظریہ زمان ومکان کی قید سے ماورا ہے۔ اسے کسی ریاستی آئین کی بنیاد نہیں بنایاجاسکتا۔ آئین زمان و مکان کا پابند ہوتا ہے اورتبدیل ہوتارہتا ہے۔ محمدعلی جناح زندہ رہتے تو اس کی نوبت کبھی نہ آتی۔ لیاقت علی خان زمینداروں اورجاگیرداروں کے ساتھ حکومت کرنا چاہتے تھے۔ اگر وہ پاکستان کے عوام کے حق میں حاکمیت کوتسلیم کرتے تو پھر وہ استحصالی طبقے کونہیں بچاسکتے تھے اوراب اس میں مولوی ان کومذہبی جواز پیش کردیں گے۔‘‘

مرحوم وفاقی سیکریٹری مختار مسعود کو اپنی ملازمت کے اوائل میں بطور افسرِ مہمانداری مس فاطمہ جناح کے ساتھ سفر کرنے کااتفاق ہوا اس کا تذکرہ وہ کچھ یوں کرتے ہیں۔ ’’مس جناح نے راستے میں بہت سی باتیں کیں اور یہ اکثرصاف اور کھری باتیں تھیں۔ مس جناح نے بتایا کہ قائداعظم نے لیاقت علی خان کی سوجھ بوجھ پر لیاقت ڈیسائی پیکٹ کے بعد کبھی بھروسا نہیں کیا اور اگر وقت اور واقعات کی رفتاراتنی تیز نہ ہوتی تو وہ ضرور کسی اورشخص کو ان کی جگہ دے دیتے۔ محترمہ نے یہ بھی کہاکہ ہیکٹربولیتھو کو قائداعظم کی سوانح عمری لکھنے کے لیے منتخب کیا گیا، تاکہ وہ لیاقت علی خان کے کام کو بڑھا کر پیش کرے۔ جب ہیکٹر بولیتھو کی کتاب اس گفتگوکے چارسال بعد چھپ کر آئی تومیں نے اس کی ایک جلد خاص طور پر کراچی سے منگوائی اور یہ دیکھ کر حیران ہواکہ مس فاطمہ جناح کے خدشات بالکل درست تھے۔ اس کتاب میں لکھاہے کہ پاکستان کی قسمت کافیصلہ بڑی حد تک جولائی1932ء میں اس روز ہوگیا تھا، جب لیاقت علی خان ہیمپسٹڈ گئے، تاکہ جِلاوطن جناح سے گفتگو کریں۔ یہی نہیں بلکہ اس کتاب میں بیگم رعنا لیاقت علی خان کے ذکر کے ساتھ یہ اشارہ بھی ہے کہ قائداعظم اپنے خط میں لیاقت علی خان کو لکھا کرتے تھے کہ میرا دل تم دونوں کے ساتھ ہے۔ لطف یہ ہے کہ اس کتاب کے پانچویں باب میں بیگم رعنالیاقت کی زبانی اس خیال کو بھی غلط ثابت کیا گیا کہ قائد اعظم کو حالات فرصت دیتے تو وہ لیاقت علی خان کو علیحدہ کر دیتے۔ مجھے بولیتھو کی یہ کتاب ہی مہمل معلوم ہونے لگی۔‘‘

خورشیدکمال عزیز نے اپنی کتاب ’’دی مرڈرآف ہسٹری‘‘ میںلیاقت ڈیسائی پیکٹ کے بارے میں لکھاہے۔ ’’1945ء میں لیاقت علی خان نے کانگریس کو آمادہ کرلیا کہ عمر رسیدہ اور قریب المرگ قائداعظم سے گفت و شنید کے بجائے وہ لیاقت علی خان سے رابطہ رکھیں۔ اس رابطے کے نتیجے میں بھولا بھائی ڈیسائی اورلیاقت علی خان کے مابین قائد اعظم سے بالا بالا یہ معاہدہ کیاگیا۔ جس سے آئندہ کی آئینی جدوجہد میں مسلم لیگ کوایک قابل اعتراض عمل کا پابند کیا گیا تھا۔ اخبارات میں خبرچھپنے پرجب قائد اعظم کو اس معاہدے کا پتا چلا تو وہ سخت ناراض ہوئے۔ معاہدے کو کالعدم قراردیا۔ لیاقت علی خان سے ملاقات سے انکار کردیا اور اپنے اسٹاف کو حکم دیاکہ اگر وہ ملنے آئیں تو انہیں گھرمیں داخل نہ ہونے دیں۔ اس نازک مرحلے پر قائد اعظم انگریزوں اور کانگریس کو یہ تاثر نہیں دینا چاہتے تھے کہ مسلم لیگ میں اندرونی نفاق پیدا ہوچکا ہے۔ اس لیے وہ خاموشی سے لیاقت علی خان کو برداشت کرتے رہے۔ اسی لیے جولائی1947ء میں قائداعظم نے بھوپال کے نواب محمد حمیداللہ خان کو پاکستان آکر وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کی پیش کش کی، مگران کی ذاتی مجبوریاں حائل ہوگئیں۔ تب حالات کی عجلت میں نواب زادہ لیاقت علی خان کو وزیر اعظم بنادیاگیا۔‘‘

مسعود مفتی نے دومینارمیں تحریکِ پاکستان کے ایک قدرے گمنام ہیرو اور خاکسارتحریک بانی علامہ عنایت اللہ خان مشرقی کو بھی خراجِ تحسین پیش کیاہے۔ جن سے ہماری نوجوان نسل واقف نہیں۔ علامہ مشرقی نے پنجاب یونیورسٹی سے ریاضی میں فرسٹ کلاس میں ایم اے کیا۔ کیمبرج یونیورسٹی انگلینڈ میں پانچ برس کے عرصے میں اعلیٰ نمبروں سے چار ٹرائی پوس مکمل کیے۔ جن میں ریاضی، قدرتی سائنس، میکینکل سائنس اور علوم شرقیہ جن کی وجہ سے وہ علامہ مشرقی کہلائے۔ پھرڈی فل میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ ان کاریکارڈ کیمبرج یونیورسٹی میں آج تک کوئی نہ توڑسکا۔ علامہ مشرقی نے قرآن حکیم پرسائنس کی رُو سے ایک تبصرہ لکھا جس کا عنوان تھا ’’تذکرہ‘‘ اسے 1925ء میں نوبل پرائز کے لیے نامزد کیا گیا۔ علی گڑھ یونیورسٹی کے چانسلر آفتاب احمدخان نے نوبل پرائزکمیٹی کی شرط کے مطابق اپنے طور پر پروفیسر نکلسن سے تذکرہ کا انگلش ترجمہ کرایا۔ علامہ صاحب کا کہنا تھا کہ اس ترجمے سے ان کا مافی الضمیر کی صحیح ترجمانی نہیں ہوتی۔ عظیم سائنس دان البرٹ آئن اسٹائن کاخیال تھاکہ اس نقطہ نظر پر مزید کام کرکے اگر سائنسدانوں کی عالمی سوسائٹی کے سامنے پیش کردیاجائے تو سائنس، مذہب اور انسان کے متعلق مروجہ نظریات میں انقلابی تبدیلی کے امکانات ہیں۔ آئن اسٹائن کی مدد سے علامہ مشرقی کو کئی سائنسی انجمنوں کا فیلو بنایا گیا مگر وہ ہندوستان کے مسلمانوں کی عملی زندگی سنوارنے کی طرف بہت شدت سے مائل ہوگئے اوریہ معاملات آگے نہ بڑھ سکے۔

علامہ مشرقی کی خاکسارتحریک نے کیاکرداراداکیا اوراسے مولوی اور انگریزوں کے گٹھ جوڑسے کس طرح تباہ وبرباد کیا گیا۔ یہ المناک داستان بھی کتاب کاحصہ ہے۔ دومینار میں ایسے بہت سے حقائق پیش کئے گئے ہیں۔ جوہماری تاریخ کے صفحات سے حرفِ غلط کی طرح مٹا دیے گئے ہیں۔ یہ کتاب تاریخِ پاکستان سے دلچسپی رکھنے والے ہرشخص کو ضرور پڑھنی چاہئے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20