پاکستانی عورت کا احساس کمتری اور فیمنزم کی ضرورت — خرم شہزاد

0

پاکستانی معاشرہ بھی دنیا کا عجیب و غریب معاشرہ ہے جہاں کوئی خاتون لکھاری شاعری یا افسانہ لکھ دے تو پڑھنے والے ایک ایک لفظ سے اس خاتون کی ذاتی زندگی ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کوئی مرد خاص کر خواتین کے کسی معاملے پر بات کر دے تو فورا اس کے گھر پہنچ جاتے ہیں جبکہ ہو سکتا ہے کہ وہ سننے والے کے گھر کی بات کر رہا ہو۔ اسی معاشرے میں جب یوم خواتین آتا ہے جو اصل میں کام کرنے والی خواتین کا دن ہے جس سے اب کام کرنے والی خواتین کو نکال کر باقی سب نے اپنا قبضہ کر لیا ہے، تو اس دن مرد دنیا کا ظالم ترین، سفاک، مکروہ، احساس تفاخر اور کمتری کا مارا ہوا، حقوق اور نہ نجانے کیا کچھ کھا جانے والا اور جاہل شخص ہوتا ہے لیکن فادر ڈے پر وہی دنیا کا سب سے مہربان شخص ہوتا ہے جو اگر نہ ہوتا تو شائد پچانوے فیصد بچوں کی زندگی کے بارے کچھ کہنا ممکن نہ ہوتا۔ اسی طرح اس معاشرے میں ساس بہو، نند بھابھی، دیورانی جٹھانی، سوکنوں اور مالکن نوکرانی کی آپسی پرخاش بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس بات کا فیمنزم سے کیا تعلق ہے تو آئیے پاکستان میں فیمنزم کی کوششوں کو ایک اور نظر سے دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ شہر کی پڑھی لکھی اور امیر خواتین کہیں احساس کمتری میں فمینزم کا جال تو نہیں بچھا رہی ہیں۔ آئیے کیس اسٹڈی کے طور پر دو مختلف طبقات کی خواتین کی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں۔

نور ایک غریب یا متوسط گھرانے میں پیدا ہوئی۔ تین بھائیوں کی سب سے بڑی بہن ہے جبکہ ایک چھوٹی بہن بھی اسی خاندان کا حصہ ہے۔ نور کے والد نے جب بھی اپنی بیٹیوں کو بلایا ’دھی رانی‘ کہہ کر بلایا، ہاں مگرجب کبھی ڈاٹنے کا وقت ہوتا تو نام سے ضرور پکارتے تھے۔ بچپن میں کہیں آتے جاتے وقت وہ بیٹیوں کو ہی اٹھا کر کندھے پر بیٹھا لیا کرتے تھے اور بہنوں کے ساتھ ہوتے بھائیوں کو کبھی یہ خیال بھی نہیں گزارا کہ والد انہیں بھی اٹھائیں گے، کبھی کسی نے فرمائش بھی کی تو ڈانٹ سنی۔ سکول جانے کا وقت ہوا تو والد خود اسے سکول چھوڑنے اور لینے جاتے تھے۔ بھائی جب بڑے ہوئے تو یہ ذمہ داری ان کے سر ہو گئی۔ کھانا کھاتے ہوئے مکھن کا ٹکڑا اگرچہ ماں بیٹوں کی پلیٹ میں پہلے رکھتی تھی لیکن سخت گرمی کی دوپہر ہوتی یا سردی کی رات، بہنوں کی فرمائش پر جتنی مرضی چوں چراں کریں لیکن کسی نہ کسی بھائی کو فرمائش پوری کرنے جانا ہی پڑتا۔ بچے جوان ہوئے تو شادیوں کی بات چلنے لگی تو بیٹے نوکریاں ڈھونڈنے لگے تاکہ والد کا ہاتھ بٹا سکیں اور اپنی بہنوں کو اچھے طریقے سے رخصت کر سکیں۔ ایک بیٹے کی تنخواہ تو پوری کی پوری اماں بچا کر رکھتی جاتی جبکہ دوسرے کی تنخواہ سے کچھ نہ کچھ لازمی بچا جاتی اور یوں جہیز کی تیاری چلتی رہتی۔ آخر وہ دن بھی آیا جب بھائیوں نے ایک فخر اور مان کے ساتھ بہن کو رخصت کیا۔ اب گھر سے کوئی جب بڑی بیٹی کے سسرال جاتا ہے تو خالی ہاتھ جانا باعث شرم سمجھا جاتا ہے کچھ نہ کچھ لے کرجایا جاتا ہے۔ بڑے بھائی کی شادی پر جب نور آئی تو اسے بالیاں پہنائی گئیں۔ اپنے شوہر کے ساتھ جب بھی وہ گھر آتی ہے وہ سارے گھر کا رنگ ہی الگ ہوتاہے، ہر بھائی کسی نہ کسی چیز کے لیے بھاگ رہا ہوتا ہے کہ بہنوئی کو کسی چیز کی کمی یا تکلیف نہ محسوس ہو۔

یہ ہمارے ملک کے ستر سے اسی فیصد غریب اور متوسط طبقے کی گھروں کی عام سی کہانی ہے جو تھوڑے بہت فرق سے بہرحال ایسی ہی ہے جس میں بہت سی لڑائیاں اور شکوے شکایتیں چلتی رہتی ہیں لیکن اس تصویر کے رنگ پھر بھی پھیکے نہیں پڑتے۔ اب اس معاشرے کا ایک دوسرا طبقہ ہے جسے اپر کلاس، ایلیٹ کلاس، کریم یا اشرافیہ، جو مرضی کہہ سکتے ہیں جہاں کی لڑکی کی زندگی اس سب سے بہت مختلف ہے۔

سونیا ایک اپر کلاس گھرانے سے تعلق رکھتی ہے جو دو بھائیوں کی اکلوتی اور چھوٹی بہن ہے۔ والدہ اپنی این جی او چلاتی ہیں اور ساتھ ہی ایک برینڈ کو بھی دیکھتی ہیں۔ والد ایک نامور کاروباری ہیں۔ سونیا کی پیدائش پر ایک میڈ رکھ لی گئی جس کے ذمے سونیا کی مکمل دیکھ بھال تھی۔ ماں اپنے سوشل سرکل میں مصروف ہوتی تو باپ اپنی پارٹیوں اور کاروباری دوروں میں رہتا تھا۔ رات گئے جب کوئی گھر آتا تو میڈ سے کنفرم کر لیا جاتا کہ سونیا بے بی سو گئی ناں، اور پھر خود آرام کرنے اپنے کمرے میں چلے جاتے کہ تھکن سے برا حال ہوتا اور اگلے دن کی مصروفیات ابھی سے تھکن بڑھا رہی ہوتی تھیں۔ دو سال کی سونیا کے سکول جانے کی فکر ہونے لگی اور ڈھائی سال ابھی پورے نہ ہوئے تھے کہ اسے ایک سکول میں داخل کروا دیا گیا۔ ڈرائیور اسے لانے اور لے جانے کا ذمہ دار تھا۔ یوم والدین پر ماں باپ میں سے کسے جانا ہے یہ بڑی مشکل سے طے ہو پاتا اور اکثر یوم والدین ویسے ہی گزر جاتے۔ جوان ہوتی سونیا سے ماں باپ کی بات چیت تو چھٹی والے دن بھی مشکل سے ہو پاتی کہ اس دن وہ خود دن چڑھے تک سو رہی ہوتی تھی۔ کالج اور یونیورسٹی میں اس کی سہیلیاں، دوست، فرینڈز اور بوائے فرینڈز کون ہیں، اس تفصیل میں زیادہ جانے کی ماں باپ نے کبھی کوئی خاص ضرورت محسوس نہ کی کیونکہ ظاہر ہے وہ سب بھی امیر کبیر گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے تو اچھے بچے ہی ہوں گے۔ گھر پر دی جانے والی پارٹیوں کے باعث کچھ لڑکے لڑکیوں سے ماں باپ کا تعارف تو تھا لیکن جہاں ایک طرف سونیا کو یہ اچھا نہیں لگتا تھا کہ والدین اس کی پارٹی میں مداخلت کریں وہیں ماں باپ بھی بچوں کو ان کی زندگی بھرپور طریقے سے جینے دینا چاہتے تھے اور ان پر کسی قسم کی سختی یا پابندی نہیں لگانا چاہتے تھے جن سے بچوں کو لگے کہ وہ کوئی دقیانوسی سوچ رکھتے ہیں۔ کچھ عرصے بعد سونیا کی ایک امیر کبیر گھرانے میں شادی ہو گئی۔ آج کل وہ ایک این جی کا حصہ ہے اور خواتین کے مختلف قسم کے ایشوز پر کام کرتی ہے۔ میاں جی اپنے کاروبار اور سونیا اپنے سوشل سرکل کو بڑھانے میں لگی ہوئی ہے اور یہ ہماری اپر کلاس، ایلیٹ کلاس، کریم یا اشرافیہ کے بیشتر گھروں کی ایک عام سی کہانی ہے جو یہاں بھی تھوڑے بہت فرق سے ایک سی ہی ہے۔

ہمارے معاشرے کے یہ دونوں طبقات جو صدیوں سے نہ سہی لیکن برسوں سے ایک مخصوص زندگی جی رہے ہیں اور یقینا وہ اس زندگی کے عادی بھی ہیں لیکن پھر یہ گھٹن، حقوق، آزادی، مساوات، صنفی امیتاز و انصاف، بھیڑ بکری، گائے، کھونٹے، سماجی انصاف اور برابری، غلامی، نوکر اور باقی سب خرافاتی باتیں وغیرہ کیسے اور کیونکر ہمارے معاشرے کا حصہ بننے لگی ہیں۔ اس سوال کا جواب میرے خیال سے عورت کی نفسیات کے رشک و حسد کے جذبات میں ہے۔ آئیے اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایلیٹ کلاس کے بچوں کی اسی سے نوے فیصد تعداد اپنے ماں باپ کے بجائے نوکروں سے زیادہ جذباتی وابستگی رکھتی ہے کیونکہ ایک تو ان نوکروں نے انہیں پالا پوسا ہوتا ہے، دوسرا یہ کہ وہ ان سے ایک ایسی محبت سے پیش آتے ہیں جو ان بچوں کو اپنے ماں باپ سے میسر نہیں آتی۔ اسی کلاس کا وہ جذباتی گروہ جو روپے پیسے کے بجائے احساسات اور محسوسات کا مارا ہوتا ہے وہ اپنے غریب یا متوسط کلاس فیلوز کو بھی ایک حسرت سے دیکھتا ہے کہ انہیں گھر پر کس قدر توجہ دی جاتی ہے اور جس ڈانٹ ڈپٹ سے متوسط طبقے کا بچہ بیزار آگیا ہوتا ہے، اپر کلاس کے جذباتی بچے اس ڈانٹ ڈپٹ کو ترسے ہوئے ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ ان چیزوں کو مثبت طریقے سے لیتے ہیں اور کچھ منفی پہلو پہلے تلاش کرتے ہیں۔ سونیا کے پاس سب کچھ ہے لیکن جب وہ نور کو دیکھتی ہے تو یقینا ایک احساس کمتری کا شکار ہوتی ہے۔ اسے کبھی باپ نے اتنے پیار سے نہیں بلایا، اسے دھی رانی کہہ کر نہیں پکارا، اسے اٹھا کر کندھے پر نہیں بیٹھایا، اس کے ساتھ کھیلنے کے لیے باپ کے پاس وقت ہی نہیں تھا۔ باقی گھر والوں کے بجائے صرف اس کے لیے کوئی پھل نہیں آیا، اسکول سے آتے جاتے اس کا بستہ نہیں اٹھایا، اس کی شادی کی فکر میں راتوں کو جاگا نہیں، اس کی اپنے بھائیوں سے وہ بانڈنگ نہیں ہے جیسی نور کی ہے اور اس کے شوہر کے گھر آنے پر اسے وہ مہمان خصوصی کا درجہ نہیں دیا جاتا جو نور کے شوہر کو ملتا ہے۔ ایسی ہزار باتیں ہیں جو باتوں سے نکلتی رہتی ہے اور ان سب کے بعد جب سونیا کی اپنی بیٹی، مالی بابا کی بیٹی کی طرح ہاتھ اٹھائے اس سے فرمائش کرتی ہے کہ شائد میری ماما بھی مجھے اٹھا لے تو بات کہیں کی کہیں پہنچ جاتی ہے۔ اپنی پڑھائی لکھائی اور سوشل سرکل کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کو ویسے ساتھ ساتھ لیے نہیں پھر سکتی جیسے کوئی غریب عورت درجن بھر بچوں کے ساتھ نظر آتی ہے۔ درجنوں لڑائیوں کے باوجود کوئی ایک چھوٹا سا معمولی سا تحفہ بھی متوسط گھرانوں کی بیویوں کو جو خوشی دیتا ہے وہ اشرافیہ کے ہاں ڈائمنڈ کے سیٹ میں بھی تلاش کرنے کے باوجود نہیں ملتی۔ اپنے ارد گرد موجود خواتین کو سارے مسائل کے باوجود مطمئن اور کبھی کبھی خوش دیکھنا اور اپنے پاس سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کوئی بے چینی یا کمی ان کے اندر عجیب سے احساسات کو جنم دیتی ہے۔ غریب عورتوں کے پاس سارے مسائل کے باوجود روز کوئی نئی بات ہوتی ہے جبکہ یہاں ہر روز پارٹیاں کرنے کے باوجود کہنے سننے کو بس ایک دوسرے کی غیبتیں ہی رہ جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے امیر خواتین کا اپنی نوکرانیوں اور غریب ملنے ملانے والیوں سے رویہ ہر گزرتے دن کے ساتھ درشت ہوتا جاتا ہے۔

اب اسے قسمت کی مہربانی ہی کہہ سکتے ہیں کہ ان امیر اور پڑھی لکھی خواتین کے ہاتھ فیمنزم کا تصور لگا ہے۔ سونیا بھی اب کچھ عرصے سے خواتین کے حقوق پر کام کرنے لگی ہے اور چاہتی ہے کہ متوسط اور غریب گھرانے کی لڑکیوں کو ان کے حقوق سے آگاہی ہو اور انہیں سماج کے جبر اور قید سے آزادی دلائی جا سکے۔ یہ لڑکیاں اپنا پروفیشن اور شوہر چننے میں نہ صرف آزاد ہوں بلکہ ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے پر مجبورا شادی کے گلے سڑے رشتے کو لے کر نہ چلیں بلکہ اس سے جلد جان چھڑا کر ایک بہتر زندگی کی طرف آسکیں۔ یہ اپنے سسرال یا شوہروں کے گھروں میں نوکر نہیں بلکہ برابر کی انسان سمجھی جائیں اور اسی وجہ سے یہ جب چاہیں گھر کے کام کاج سے انکار بھی کرسکیں۔

یہ سب کیا ہے؟ یہ خوشنما نظر آنے والی باتیں دراصل کس لیے ہیں؟ کیا یہ سماج برسوں بلکہ عشروں سے نہیں چل رہا تھا کہ یکایک اب یہاں سارے مسائل پیدا ہونا شروع ہو گئے ہیں؟ ایسا کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ ہماری رائے کے مطابق یہ ایلیٹ کلاس خواتین کا متوسط طبقے کی خواتین سے حسد اور جلاپا ہے جس کی وجہ سے وہ ان سے ان کا گھر بار چھین لینا چاہتی ہیں۔ یہ چاہتی ہیں کہ حقوق کے نام پر بیٹی باپ کے سامنے کھڑی ہو جائے اور دھی رانی کہہ کر بلانے والے والد کو کوئی سخت فیصلہ یا بات کہنے پر مجبور ہونا پڑے۔ ان خواتین کو گھر سے باہر نکلتے ہوئے چونکہ خود کبھی باپ بھائی کا تحفظ حاصل نہیں ہوا جیسے ایک متوسط گھرانے کی لڑکی کو حاصل ہوتا ہے تو اب یہ آزادی کے نام پر اسے بھی گھنٹوں سڑکوں پر رکشوں ٹیکسیوں کے لیے کھڑا کرنا چاہتی ہے۔ خود پارٹیوں اور فرینڈ سرکل میں ڈسکس ہونے والی اس کلاس کی خواتین کوایک پردہ دار، چادر یا دوپٹہ اوڑھے لڑکی سے اس لیے بھی جلن محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس کا خیال ہے کہ ایسی لڑکیاں اس کے کردار اور پاکیزگی پر سوال ہیں۔ کسی بھی گفتگو میں حیا اور پاکیزگی کے لیے متوسط طبقے کی لڑکی کی مثال دی جا سکتی ہے، اس لیے اگر اب آزادی کے نام پر اس لڑکی سے چادر چھین کر اسے بھی بے پردہ،لوگوں کے ہجوم میں کھڑا کر دیا جائے گا تو کوئی اِن کی اپنی ذات کو نشانہ نہیں بنا سکے گا۔ معذرت کہ اگر کوئی لڑکی آزادی حاصل کر کے اکیلی باہر نکل آئے تو اس کے ساتھ ہوئی کسی بد سلوکی کا ان فیمنسٹ خواتین کے پاس کوئی علاج نہیں۔ سالوں سال چلنے والے عدالتی کیس اور زمانے بھر میں رسوائی کے بعد ایک اکیلی لڑکی اس معاشرے میں کیسے سروائیو کر پائے گی، اس بارے کوئی لائحہ عمل ان فیمنسٹوں کے پاس نہیں ہے کیونکہ ان کا اصل کام تو حسد میں صرف اس لڑکی کو سر بازار لا کر اپنے بدلے کو پورا کرنا ہے۔

رہی پاکستانی فیمنسٹ مرد کی بات تو وہ پہلے ہی گھر میں بیوی کے تلوے چاٹتا تھا، اب چومنے کو باہر ایک اور عورت دستیاب ہو گئی تو اس کے لیے فیمنزم سے اچھا بھلا اور کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں فیمنزم کی بس اتنی سی کہانی ہے۔

اس موضوع پہ ایک گفتگو:

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20