اردو کا ایک گمنام شاعر: خستہ گلشن آبادی — اظہر عزمی

1

کہتے ہیں صرف و نحو، عروض و بیان کے قواعد پر عمل کئے بغیر ایک مستحکم شعر نہیں کہا جا سکتا۔ نظم و شاعری چار نبیادی ستون یعنی لفظ، وزن، قافیہ اور معنی پر کھڑی ہے۔ اس کے ایک مسلم الثبوت اور قادر الکلام شاعر جناب خستہ گلشن آبادی بھی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اپنی شہرت سے گریز طبیعت کے باوجود آپ نے مشکل قافیہ و ردیف کے ساتھ ا وزان اور معنیٰ پر مبنی طبع آزمائی کر کے مستحکم شاعری کی اور اہل دانش و ادب نواز حلقوں سے داد سمیٹی۔ ابتدا میں ہی کلام کے چند نمونے ملاحظہ کیجئے:

سایہ ء گیسو سے چھپ جاتا ہے آئینہ کا رُخ
دیکھتے ہیں یاس سے اغیار پشت آئینہ
_____________________
تیری ہے مہ لقا مجھے اک اک ادا عزیز
عشوہ عزیز، ناز عزیز اور حیا عزیز

مسلک ہے صلح کُل میرا، سب ہیں نظر میں ایک
تخصیص کچھ نہیں ہے وہ ہوں غیر یا عزیز

خستہ سنائوں بھی تو کسے دل کی داستاں
ہم درد ہم سخن ہے نہ کوئی میرا عزیز
_______________________
اپنے بس میں ہے نہ اب اپنے نفس کے بس میں
زندگی آج کل اپنی ہے قفس کے بس میں

کیا سنے وہ بتِ طنّاز ہماری فریاد
ایک دو چار نہیں اب ہے وہ دس کے بس میں

کیوں نہ کم مایہ ہوں غربت کاشکار اے خستہ
اہلِ سرمایہ ہیں جب حرص و ہوس کے بس میں

خستہ گلشن آبادی کا اصل نام محمد علیم داد خان تھا۔ آپ 1901 میں سینٹرل انڈیا(اب ایم پی) کی ریاست جاورہ (مالوہ) میں پیدا ہوئے۔ عمر کا بیشتر عرصہ غیرمنقسم بھارت میں گذارا۔ حضرت بیدل اجمیری کے آگے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔عمر کا زیادہ تر حصہ بمبئی میں گذرا جہاں آپ ملٹری کے کنٹریکٹ سپلائر زتھے۔ بمبئی میں مشاعروں میں شریک ہوتے رہے۔ آپ کے ادبی دوستوں میں درد کاکوروی اور نوح ناروی نمایاں رہے۔ قریبی تعلق ساغر اجمیری اور صادق اندوری سے تھا جن کی دعوت پر آپ اندور اور اجمیر مشاعروں میں شرکت کیا کرتے تھے۔ یہیں آپ کو “نادر الکلام اور فصیح البیان” کے القابات سے نوازا گیا۔

خستہ گلشن آبادی کے زمانے میں طرحی مشاعروں کا رواج عام تھا۔ آپ کو زود گوئی کی صلاحیت بھی عطا ہوئی تھی۔ ایک مصرعہ پر ایک ہی نشست میںکئی کئی اشعار کہہ لیا کرتے تھے۔ شاگردوں کی طویل فہرست تھی اس لئے طرحی مشاعرہ کے دن تک شاگرد اصلاح کلام کے لئے موجود ہوتے۔ آپ شاگردوں کے کلام کی فی الفور اصلاح کیا کرتے اور اس دوران جو آمد ہوتی وہ بھی انہیں دے دیا کرتے۔ دوست شعراء کہتے کہ ابھی یہ شاگرد مبتدی ہے۔ سامعین مشاعرہ سمجھ جائیں گے لیکن خستہ گلشن آبادی مسکرا کر رہ جاتے۔ آپ کے شاگردوں میں ادب گلشن آبادی نمایاں حیثیت کے حامل رہے۔ جاورہ اسٹیٹ کو ٹونک، دھار، گوالیار، رتلام، جبل پور اسٹیٹس وغیرہ سے مشاعروں کے جو دعوت نامے آتے۔ اسٹیٹ کی طرف سے وہ خستۃ گلشن آبادی کے حوالے کر دیئے جاتے پھر آپ جاورہ کے دیگر شعراء کے ساتھ مشاعروں میں شرکت کیا کرتے۔ایسے موقعوں پر اکثر یہی دیکھنے میں آیا کہ آپ شاعری میں ندرتِ خیال،اسلوب ِ بیان، بحر میں نئے تجربات ا ور مشکل قافیہ و ردیف کے ساتھ اپنی سحر انگیز آواز سے سننے والوں کے لئے ایک مختلف انداز کا سماں باندھ دیا کرتے تھے۔

اسی دوران تقسیم برصغیر ہوئی تو کراچی کو اپنا مستقر بنایا۔ خستہ گلشن آبادی علم ِ عروض کے حوالے سے ایک معتبر حوالہ تھے۔ اپنے دور کے نامور شعراء اس سلسلے میں آپ سے رہنمائی لیا کرتے تھے۔ گفتگو اختصار کے ساتھ فرماتے مگر اس میں علم و فن کے موتی پرو دیتے۔ الفاظ کو نئے معانی اور زاویہ سے بیان کرتے۔صوفی منش تھے اس لئے نوآموز شعراء میں بیٹھتے تو اس بات کا قطعاً احساس نہ ہونے دیتے کہ وہ علم و فضل میں ان پر دسترس رکھتے ہیں۔ عام اشخاص میں ہوں تو بہت عام فہم انداز میں ذہنی تربیت کا فریضہ انجام دیتے۔ شائستگی اور متانت کے ساتھ محفل کو زعفرانِ زار بنانے سے بھی کما حقہ واقف تھے۔ یہی وجہ تھی شعراء اپنی شاعری استعداد اور عام افراد اپنی ذہنی تربیت کے لئے خستہ گلشن آبادی کی صحبت کو غنیمت جانتے۔

خستہ گلشن آبادی کراچی کے ادبی حلقوں میں مستند شاعر تسلیم کئے جانے لگے لیکن اب مشاعروں میں پہلے جیسی دلچسپی و شرکت نہ رہی تھی۔ اگر کبھی کہیں مشاعرے میں چلے جاتے تو تقدیم و تاخیرکو کبھی اہم نہیں گردانتے۔ کہتے تھے کہ شاعر کے اوّل و آخر پڑھنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ شعر وہ ہوتا ہے جو شاعر کے جانے کے بعد یاد رہ جائے اور خستہ گلشن آبادی کے اشعار سے ان کے کہے کی تصدیق ہوا کرتی تھی۔ وجہ بہت سادہ تھی خستہ گلشن آبادی جب تک ایک مصرعے، ایک ایک لفظ کو فن ِعروض کے سخت ترین اصولوں پر نہ پرکھ لیتے،مطمئن نہ ہوپاتے۔ کتنے ہی ایسے اشعار ہیں جو انہوں نے اصولوں کی پاسداری میں قلم زد کر دیئے۔ خستہ گلشن آبادی نے آسان قافیہ اور ردیف میں بھی غزلیں کہیں اور اہل ادب سے داد پائی۔ذیل کی غزل میں کس سادگی سے ۲(دو) کو بطور ردیف استعمال کیا ہے۔

اِک سینے میں، اِک آنکھوں میں رکھی ہیں تیری تصویریں دو
رہتی ہیں بہردم زیرِنظر اب حُسن کی یہ تفسیریں دو

پروانہء شمعِ حُسن بنے، دیوانہ ء عالم کہلائے
کیا خوبی ء قسمت سے اپنی الفت میں ہوئیں تشہیریں دو

جب تم ہی نہیں بنتے میرے، مجھ کو ہی بنا لو تم اپنا
لاریب پلٹتی ہے کایا، مل جاتی ہیں جب تقدیریں دو

دیوانگی آئی حصہ میں، صحرا میں حکومت اپنی ہوئی
اس عشق و محبت کے صدقے کیا خوب ملیں جاگیریں دو

اقرارِوفا، انکارِ جفا خستہ میں بالآخر میں کیا سمجھوں
مضموں سے نمایاں دو پہلو،نامہ تو ہے اک تحریریں دو

سہل ِ ممتنع میں ایک غزل ملاحظہ کیجئے۔ خیال کو لفظوں سے سجا کر کس طرح سینہء قرطاس پر منتقل کیا ہے۔

لمعہء آفتاب ہو، پرتوِ ماہتاب ہو
تحفہء حُسن ِ بے مثال شمس و قمر نے دیدیا

کس لئے غیر کا گذر ہو میری بزم ِخاص میں
مجھ کو وفاکا یہ صلہ رشکِ قمر نے دیدیا

ہمت و شوق ہم رکاب منزل، یار تک رہے
حضر کا کام راہ میںرختِ سفر نے دیدیا

ایک جفا شعار کو اہل، وفا سمجھ لیا
کتنا فریبِ بر محل خستہ نظر نے دیدیا

اِس طویل بحر میں سادگی، اثر آفرینی اور تازہ کاری نمایاں ہے۔ اردو شاعری میں یہ طمطراق خال خال نظر آتا ہے۔

اب آئے ہیں دن اہل عُسرت تمھارے، تمھاری یہ افسردگی چھین لونگا
امیروں کو دن دون گا عشرت کے بدلے، کسی دن میں ان کی خوشی چھین لونگا

میرا حالِ دیوانگی توبہ توبہ کہ ہنستا ہے گُل مسکراتا ہے غنچہ
جلادون گا میں آہء سوزاں سے گلشن، گلوںکے لبوں سے ہنسی چھین لونگا

غریبوں میں جاری رہے دور عُسرت، امیروں کو ہر دم ملے جامِ عشرت
نتیجہ کسی دن یہ ہے کشمکش کا، امیروں کی یہ زندگی چھین لونگا

یہ مستی یہ بیگانگی اللہ اللہ،نہ پروائے عقبیٰ نہ کچھ فکرِ دنیا
بہت جامِ غفلت پئے ہیں جہاں نے، زمانے کی سب بے خودی چھین لونگا

بہت ہم نے چاہا نہ پلٹی یہ کایا، وہی قلبِ مجروح وہی قلبِ خستہ
زمانے اگر تو نے کروٹ نہ بدلی تو تیری میں یہ دلبستگی چھین لونگا

خستہ گلشن آبادی فارسی میں بھی شاعری کیا کرے تھے مگر اکثر افراد اس سے ناواقف تھے۔کبھی کبھی بہت قریبی شعراء کواپنا فارسی کلام سنا دیا کرتے تھے مگر اس کی تشہیر نہ کرتے۔ایک فارسی غزل ملاحظہ کیجئے:

رسیدہ بر درِ جاناں چُناں رنجیدہ رنجیدہ
تپاں قلم بہ سینہ و قدم لرزیدہ لرزیدہ

بآلاخر کرد نظم وضبط عالم را تہہ و بالا
فرو آمدز عارض کا کُل پیچیدہ پیچیدہ

بیا تو بہرِ دیدن حالتِ بیمارِ ہجراں را
بہ یفکن جانِ جاناں یک نظر دزدیدہ دزدیدہ

اگر نازی بہ بیں در آئینہ حُسن دُجا میے را
مآل خویش بیں آخر مشور رنجیدہ رنجیدہ

بہردم گریہ و زاری بہ ہر لحظہ خفاں خستہ
غلامِ جانِ جاناں شُد دلِ گرویدہ گرویدہ

کراچی میںفردوس کالونی میں قیام کے دوران آپ کی ملاقاتیں مولانا ماہر القادری، محشر بدایونی، ایوب گونڈوی اور ڈاکٹر یاور عباس سے رہیں۔ تاہم باقاعدگی سے نشست و برخواست کا سلسلہ فیڈرل ـ’بی’ ایریا آنے کے بعد شروع ہوا۔ یہاں زینت آباد لائبریری آپ کی استاد قمر جلالوی سے مستقل ملاقاتیں رہا کرتیں۔ شاعر لکھنوی بھی کبھی کبھی آجایا کرتے تھے۔ ان کے علاوہ اطہر ضیائی،احمد حمید، جمیل نظر اور کوثر سلطان پوری سے بھی مسلسل رابطہ و ملاقاتیں رہتیں۔

خستہ گلشن آبادی نے مختلف اصناف ِ سخن میں طبع آزمائی کی تاہم زیادہ تر غزل کو ہی طبیعت سے موزوں پایا۔ تضمین میں بھی آپ کو ید طولیٰ حاصل تھا۔مومن خان مومن کی غزل کے مصرعہ “مومن اندیشئہ خدا کب تک” پر تضمین دیکھیئے:

خستہ کیوں صدمہ ء فراق سہیں
کس کو اُ مید اب جیئں کہ مریں
چل دلِ زار اب تو خود ہی چلیں
مر چلے اب تو اس صنم سے ملیں
مومن اندیشہء خدا کب تک

بیدل اجمیری کے مصر عہ “سراپا دردر کے تصویر ہوں حسرت بھرا دل ہوں” پر تضمین ملاحظہ کیجئے:
نگاہِ ناز کا کشتہ ادائوں کا میں بسمل ہوں
مجسم غم کی صورت حُسنِ دلکش پر میں مائل ہوں
غریقِ بحرِ درد و رنج ہوں گُم کردہ ساحل ہوں
ازل سے کشتہء تیغِ تغافل بائے قاتل ہوں
سراپا دردکی تصویر ہوں حسرت بھرا دل ہوں

آپ نے حمد، نعت، مناجات، منقبت اور سلام بھی کہے۔ ذیل میںآ پ کی مناجات کا ایک بند پیش ہے:

مجھ کو خطا پہ ناز ہے شان ہے تیری بے نیاز میں تو گناہگار ہوں اور ہے تو کرم نواز
تجھ سے چھپا ہوا ہے کب سارا عیاں ہے میرا راز خستہ و بے نوا ہوں میں تو ہے کریم و کارساز
شانِ کرم رہے خیال اپنے اُمیدوار کا

خستہ گلشن آبادی سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں:

جو بادہ کشانِ روزِ ازل مستِ مئے ِ عرفاں ہوتے ہیں
وہ کاشفِ یملہ،سرِ نہاں نے عالم ِامکاں ہوتے ہیں

شعلے غم ابن ِ حیدرؑ کے سینے میں جو پنہاں ہوتے ہیں
وہ داغ جگر میں بن بن کر گویا گل و ریحاں ہوتے ہیں

خود شانِ عباد ت نازاں ہے، سر شوقِ لقا میں جھکتا ہے
کس صبر سے پورے سرور ؑکے سب وعدہ و پیماں ہوتے ہیں

اس لذتِ غم کے جاں صدقے،اس درد فراواں کے قرباں
عشقِ غم شہؑ میں رس رس کر خود زخم نمک داں ہوتے ہیں

بیمار ِ غمِ آل ِ حیدرمنتِ کشِ عیسیٰ ؑ ہو کیونکر
بیمارِ محبت خود ان کے جب عیسیٰ ِ دوراں ہوتے ہیں

ہے جلوہ گہہ نورِ وحدت، یہ حضرتِ موسی ؑ طور نہیں
سو طور یہاں بن جاتے ہیں، سو موسیٰ ِعمراں ہوتے ہیں

پہنچا ہے نہ پہنچے گا اس تک، یہ دورِ خزاں تا روز ِ ابد
یہ باغ ِ علی ؑ کے غنچہ و گل صد رشکِ بہاراں ہوتے ہیں

کچھ فکر نہیں روزِ محشر خورشیدِ قیامت کی ان کو
ؑعاصی جو قیامت میں خستہ شہ ؑ کے تہہِ داماں ہوتے ہیں

ناصر علیم ابن خستہ گلشن آبادی اپنا کلام نذر سامعین کر رہے ہیں ۔

خستہ گلشن آبادی کے دو صاحبزادوں نے احسان علیم مرحوم اور ناصر علیم نے آپ کے شعری ورثے کو آگے بڑھایا۔ احسان علیم مرحوم کا مجموعہ کلام شائع ہوچکا ہے۔ خستہ گلشن آبادی کے تین شعری مجموعے ساغرِ حق،نذر ِ حیات اور نالہء غم کے نام سے طباعت کے مراحل میں ہیں۔ آپ نے اپنے انتقال سے قبل الوداع کی ردیف پر ایک غزل کہی۔
اب آگیا جدائی کا پیغام الوداع،
سونپا خدا کو اے سحر و شام الوداع

یہ غزل کہنے کے بعدایک دن حسبِ معمول اسکول گئے جہاں آپ محاسب کے عہدے پر فائز تھے۔جاتے ہوئے اہل ِخانہ سے کہہ گئے کہ آج میں روز روز اسکول جانے کا سلسلہ ختم کر کے ہی آئوں گا۔ منتظمین سے اپنی سبکدوشی کے لئے معاملہ فہمی کی۔ یک سو ہو کر نمازِ ظہر ادا کی اور چائے پینے کو بیٹھے۔ چائے کی پیالی ہاتھ میں تھی کہ دردِ دل نے آلیا اور پھر ایک ایسے سفر پر روانہ ہوگئے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔

احسان علیم مرحوم فرزند خستہ گلشن آبادی اپنا کلام سناتے ہوئے ۔ ڈاکٹر یاور عباس بھی تصویر میں نمایاں ہیں۔

1972کو انتقال کرنے والے خستہ گلشن آبادی کراچی میں آسودہء خاک ہیں۔ خستہ گلشن آبادی کی یاد میں ایک شعری نشست ناصر علیم کی قیام گاہ پر زیر ِصدارت ڈاکٹر یاور عباس اور مولانا ماہر القادری منعقد ہوئی جس میں محشر بدایونی، پروفیسر اقبال عظیم، شاعر لکھنوی، ایوب گونڈوی، دلاور فگار،احمد حمید، اطہر ضیائی وغیرہ نے شرکت کی اور آپ کی شخصیت و فن کے بارے میں مضامین اور قطعات پیش کئے جس کی تفصیلات ایک مقامی اخبار میں شائع ہوئیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20