نئی نثری نظمیں —- اے وسیم خٹک

0

شاعری احساسات کا دوسرا نام ہے ہر کوئی شاعری کر بھی نہیں سکتا۔ اور کہتے ہیں کہ جو بندہ بہت حساس ہوتا ہے وہ شاعری کرتاہے یا لکھتا ہے جس سے اُس کے اندر کی کتھارسس نکل جاتی ہے اور وہ پھر اچھا محسوس کرتا ہے۔ شاعری جذبات کے انخلا کا دوسرا نام ہے جو ماحول کی عکاسی کرتا ہے اور لوگوں میں شعور اور آگہی پیدا کرتا ہے۔ ہر دور میں شاعری کی گئی۔ ہر موضوع پر اشعار لکھے گئے۔ نظمیں لکھی گئیں کوئی بھی موضوع نہیں رہا جس پر شاعروں نے طبع آزمائی نہ کی ہو یعنی موضوعات ہی ختم ہوگئے شاعری ختم نہیں ہوسکی۔ موجودہ دور میں کرونا پرر بھی ہر زبان میں ادب تخلیق کیاگیا۔ آرٹیکل لکھے گئے۔ تحقیقی مقا لے لکھے گئے شاعری کی گئی نظمیں اور نثری نظمیں لکھی گئیں۔

موجودہ دور میں شاعروں میں بجائے کمی کے زیادتی دیکھنے میں آرہی ہے۔جس کی بنیادی وجہ معاشرے میں گھٹن کی فضا ہے۔ اور عام لوگوں تک شاعری پہنچاننے کا واحد ذریعہ سوشل میڈیا ہے جس نے بہت سی نئی جہتوں کو متعارف کرادیا ہے۔جس کو نثری نظم کہا جاسکتا ہے۔جس میں نہ بحرہے اور نہ ہی کوئی تسلسل ہوتا ہے۔ کچھ نظموں کے خیالات بہت بہترین ہیں۔ جس نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا۔ جبکہ بعض نظمیں ایسی تھیں جس کو نہ میں سمجھا ہوں اور نہ ہی میرے کچھ شاعری سے شغف رکھنے والے دوست سمجھے ہیں۔ جن کے بارے میں بڑے بڑے شعرا بھی کوئی بات نہیں کرتے کیونکہ وہ اُن کے حلقہ احباب میں شامل ہیں۔اس لئے وہ اس شاعری پر خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ جتنا میں جاناہوں بہت سے لکھنے والوں کو بھی نہیں پتہ کہ وہ کیا لکھ رہے ہیں اس کے ساتھ ہی قاری بھی یعنی پڑھنے والا بھی نہیں جانتا بس وہ پڑھتا ہے اور لائیک کر کے آگے گزر جاتا ہے۔ پھر سمجھنے کے لئے پڑھتا ہے پھر پڑھتا ہے سمجھ نہیں آتی تو خاموش ہوجاتا ہے۔ ہم نے بھی بہت سی نظمیں مختلف ویب سائیٹس پر دیکھی جن میں کچھ میں نیچے شئیر کررہا ہوں

لذت انزال کی دھن
صفی سرحدی

ہر وقت یہ احساس کیوں ساتھ رہتا ہے
انجانی منزل سے دوری اور کتنی باقی ہے
کیا خود کو جھیلنا کافی نہیں ہے
یہ کوئی انوکھی بات تو نہیں ہے
ان گنت عورتوں کے ہوتے ہوئے بھی
کہانی میں میرا کوئی کردار نہیں ہے
لذت انزال کی دھن بتاتے سمے
مجھے یہ خیال کیوں نہیں آیا
میری پیدائش بھی تو
کسی کی لذت کے سوا اور کیا تھی
میرے پل پل کے اضطراب پر
نجانے خدا کیسے مطمئن رہ سکتا ہے
کیا مجھے اچانک جانا پڑے گا
کیا میں جانے کیلئے سفر میں نہیں ہوں؟
میں اتنا تو جانتا ہی ہوں
بغاوت کی سڑک کے اس پار
دھند کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے
مگر میں پھر بھی
وہیں پہ کھو جانا چاھتا ہوں۔

تیرہ بچے
(ممتاز حسین)

میز پر دھری چائے کی پیالی
سے اٹھتی ہوئی خبریں
میں نے اپنی شیشوں کے بغیر عینک اتار لی
اور اخبار کو اپنے برہنہ
جسم پہ لپیٹ لیا
بارش بادلوں کی سیڑھی سے
زمین پر اتری
حضرت موسیٗ کو خدا نے زمین پر
گیلے پاوں دیکھ لیا
فلسطینی ماں نے تیرہ شمعیں جلائیں
اور تیرہ بچے جنمے
ایک فوجی نے اپنی بندوق سے
جڑی سنگین پر تیرہ بچے پرو دئیے
اور بندوق پر آبدیدہ مگرمچھ کی
کھال چڑھا دی
اپنے آنسووں سے حضرت موسیٗ
کے قدموں کو دھو دیا
لیکن خون کے دھبے
مٹ نہ سکے
خدا بادلوں کی سیڑھیاں چڑھ کر
بارش کے لحاف میں سو گیا۔

مجھے ایک کشتی بنانے کی اجازت دو
(سید کاشف رضا)

اگر تم میری دھرتی کو
اپنے گھوڑوں کی چراگاہ
اپنے کتوں کی شکارگاہ بنانا چاہتے ہو
تو مجھے بھی ایک کشتی بنانے کی اجازت دو
جس میں میں لاد کر لے جا سکوں
اپنا کنبہ
خوابوں کی گٹھریاں
اور ایک عورت
جو میرے ساتھ چلنا پسند کرتی تھی
مجھے نکال کر لے جانے دو
گلیاں جن کی
دھول میرے پیروں نے چاٹی
شہر جن کی
خاک میری آنکھوں نے پھانکی
لوگ جو تم سے
اجازت لے کر پیدا نہیں ہوئے
لوگ جو تم کو
اطلاع دیے بغیر مر گئے
مجھے نکال کر لے جانے دو
ٹوٹے ہوئے چولھے
بکھری ہوئی تختیاں
بچے جن کی
قمیصوں میں بٹن نہیں ہوتے
مجھے نکال کر لے جانے دو
میری ماں کی قبر
جسے میں تمہارے گھوڑوں
تمہارے کتوں کے لیے نہیں چھوڑ سکتا

(ہوا سے مکالمہ)
صفیہ حیات

میں زندگی سے طلاق لے کر
موت سے بیاہ رچاتے
اپنی ہتھیلی پہ
اس کا نام لکھوں گی
جس کے ساتھ مجھے بھاگ کر شادی کرنا تھی
مجھے کبھی بھی
پسند نہیں رہا
حوروں کی ملکہ بننا
اور وہ بھی اس بدمعاش کی
جو دنیا میں
مجھے خوش کرنا نہیں جانتا
میں نے کیا کرنی ایسی جنت
جس کے لالچ میں
شادی کے نام پہ ناجائز بچے جنیں جائیں
چادر چار دیواری میں
رشتے درندے بن جائیں
محرم کی اولاد
کوڑے دان میں پھینکنی پڑے
میں ہر بار
ممنوعہ پھل کھاؤں گی
مجھے وہاں نہیں رہنا
جہاں ریشمی اطلس پہنے حوریں
میرے محبوب کو جنسی دعوت دیں
اور میں
نگینے جڑے تخت پہ بیٹھی انتظار کروں

اے میرے ہم خیال!
آؤ منافقت سے پاک کسی جزیرے پہ چلیں۔

کرونا کے دنوں میں (نظم)
ارمان علی

پچھلے چالیس دنوں سے
تنہا کمرے میں بیٹھا
نرگسیت کا مارا شاعر
سوچ رہا ہے
اس قورنتائین میں تنہا رہ کر
وہ خود سے اکتا گیا تو
کوئی نہیں ہے
جس کی بانہیں اس کا سہارا
بن پائیں
پچھلے چالیس دنوں سے
تنہا کمرے میں بیٹھا
نرگسیت کا مارا شاعر
ادھوری نظمیں لکھ کر
سوچ رہا ہے
کون ہے اس کا
ہم عصر شاعر
جو اس کی ادھوری نظمیں
مکمل کر سکے گا
پچھلے چالیس دنوں سے
تنہا کمرے میں بیٹھا
نرگسیت کا مارا شاعر
گوگل پر خودکشی کےطریقے
ڈھونڈ رہا ہے
لگتا ہے
پچھلے چالیس دنوں سے
تنہا کمرے میں بیٹھا
نرگسیت کا مارا شاعر
خود سے اکتا چکا ہے

موتی
سعید احمد

جب کبھی میرا دل
زحمی پرندے کی طرح
زمین پر گرنے لگتا ہے،
تو میں تمہارے خط
پڑھتی ہوں اور
آنسوؤں کو گرنے
نہیں دیتی
ان موتیوں کو
آنکھوں میں سنبھال کر
رکھ لیتی ہوں
شاید کبھی تم
ملو۔۔۔۔شاید
میں یہ سارے موتی
تمہارے سینے کے
کالے بالوں میں
بکھیر دوں۔۔۔۔۔!

آپ لوگوں نے مندرجہ بالا نظمیں پڑھ لیں ان کو میں نے فیس بک اورکچھ ویب سائٹس سے اٹھائی ہیں اس پر کچھ شاعروں سے بات ہوئی جنہوں نے اس شرط پر کچھ لکھنے کو دیا کہ اُن کا نام نہیں آنا چاہیئے کیونکہ سب اُن کے دوست ہیں۔اور وہ دوستوں کی ناراضگی مول نہیں سکتے۔ایک کا کہنا تھا کہ جدید اردو نثری نظم اپنے موضوعاتی تنوع کے لحاظ سے آگے بڑھتی محسوس ہو رہی ہے۔۔۔ کہیں نہ کہیں مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آگے چل کر زیادہ تر شعرا نثر نظم ہی لکھیں گے ،یہ نظمیں اپنے خیال کے لحاظ سے مختلف ہیں ، کچھ نظمیں عمدگی سے کرافٹ کی گئی ہیں جو موجود دور کے انسان کی بے بسی کی عکاس ہیں ، وہ فرار چاہتا ہے۔ایک نظم علامتی ہے جس میں تاریخی واقعات کو موضوع بنایا گیا ہے۔۔۔ جب کہ جنس کی نظمیں کرافٹ اور اس موضوع کو نظم میں برتنے کے لحاظ سے قدرے کمزور محسوس ہوئیں۔

ایک دوسرے شاعر کے بقول کہ یہ سب کمال کمال کمال نظمیں, منفرد تخیل سے مزین اور دلپذیر جڑت کی انوکھی نظمیں جو دل و دماغ کے نہاں خانوں میں ہلچل مچانے اور شعور کی تہوں پر دستک دینے اور ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی ہیں. نظمیں چھپی ہوئی سچائیوں کو نشابر کر کے قاری کے سامنے سوال کرتی ہوئی نظر آتی ہیں کہ اگر اس کے علاوہ کوئی اور حقیقت ہے تو پیش کرو. تخلیق کاروں کو سلام عقیدت

آپ لوگ اس نئی صنف کی نثری نظموں کو کس انداز سے دیکھتے ہیں اس بارے میں ضرور بتایئے گا کیونکہ یہ نظمیں ن م راشد کی نظموں سے بہت مختلف ہیں۔اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کیجیئے گا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20