غیر محفوظ زندگی —— سعدیہ اسلم

0

پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے حادثات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جو گاڑی آپکے استعمال میں ہے یا جس میں آپ سفر کر رہے ہیں کیا وہ محفوظ ہے۔ آپکو گاڑی کے ”سیفٹی فیچرز” کے بارے میں کتنی معلومات حاصل ہے؟ یقیناً نہیں ہوگی؛ پاکستانی صنعتوں میں اب بننے اور درآمد شدہ گاڑیاں سفر کے لیے غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔ سڑکوں پر روز بروز ہونے والے خوفناک حادثات اس بات کی گواہی ہے کہ گاڑیاں انتہائی بُرے معیار کی ہیں۔

گاڑیاں نقل و حمل کا ایک آسان ذریعہ ہیں، ان میں موجود ”سیفٹی سسٹم” ایک اہم جُز ہے جو گاڑی استعمال کرنے والے لوگوں کی حفاظت کرتا ہے۔ گو کہ گاڑیوں میں موجود سیفٹی فیچرز زندگی کی زمانت تو نہیں دیتے لیکن حادثے میں لگنے والی شدید چوٹوں کی شدت کو کم ضرور کر سکتے ہیں۔ گاڑی کی ساخت اور حفاظتی خصوصیات تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور نقصان کم سے کم کرنے میں بھی مدگار ثابت ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت کچھ قوانین تو موجود ہیں جو گاڑیوں پر کام کرتے ہیں اور سڑک پر چلنے والی گاڑیوں کے معیار کو یقینی بناتے ہیں۔ ان میں سے موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 اور موٹر وہیکل رولز 1969 ہیں جو گاڑیوں کی فٹنس، تعمیر و مرمت اور کوالٹی جو گاڑیوں کی بحالی کے لئے ضروری ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں اداروں کی جانب سے ”آٹو پالیسی” پر عملدرآمد ہی نہیں کیا جارہا اسی وجہ سے گاڑیوں کا معیار دن بدن بدترین ہوتا جا رہا ہے۔

جیسے کہ سوزوکی اب یورپ اور جنوب مشرقی ایشیاء کی مارکیٹوں کے لیے 15 اسٹار گاڑیاں تیار کر رہی ہے۔ پاکستان میں اس نے 27 سالوں میں مہران کا 0 اسٹار سیفٹی ماڈل تیار کیا گیا ہے۔ فی الحال جاپان، کوریا، مشرقی وسطی اور یورپ سے درآمد شدہ گاڑیاں حفاظی معیارات پر پورا اترتی ہیں۔ یورپی ماڈل کہ وہ ماڈل جو پاکستان میں بنتے ہیں، ان میں موجود سیفٹی فیچرز کا جائزہ لیا جائے جس میں ٹویوٹا کرولا، ہونڈا، سی ویک، سوزوکی مہران شامل ہے۔ سب سے پہلے پاکستان میں موجود ہونڈا سی ویک ماڈل 34 اور ٹویوٹا کرولا ماڈل 36 میں سیٹ بیلٹ، پریشر سیٹ بیلٹ یاد کروانے والا سسٹم، ایئر بیگ، اے بی ایس، ای ایس سی، بیلٹ لوڈ لیمیٹر موجود ہے جبکہ ان دونوں پاکستانی ماڈلز میں بچوں کے لیے سیٹ بیلٹ، سر، گھٹنوں اور سینے کے لیے ایئر بیگ موجود نہیں ہیں۔ جبکہ پاکستانی ماڈل مہران 38 میں سرے سے ہی کوئی حفاظتی انتظامات موجود نہیں ہوتے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ گاڑی چلانے والوں کے تحفظ کے لیے کچھ معیارات طے کیے ہوئے ہیں جن میں مہران بدقسمتی سے کسی بھی سیفٹی معیار پر پورا نہیں اترتی۔ جبکہ یورپی ماڈل ہونڈا 33، کرولا 35 اور سویف 37 میں یہ تمام سیفٹی فیچرز موجود ہیں ماسوائے گھٹنے کے لیے ایئر بیگ کے۔

پاکستان میں زیادہ تر استعمال شدہ جاپانی اور سمگل ہوئی گاڑیاں درآمد ہو رہی ہیں، ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں پچھلے کئی عرصے میں درآمد ہونے والی گاڑیوں کی تعداد 250,000 ہے۔ پاکستان میں اس وقت صنعتیں زوال کا شکار ہے، اس میں بننے والی گاڑیوں میں استعمال ہونے والا مواد دو نمبر کوالٹی کا ہوتا ہے جو ایک ہی حادثے کے بعد گاڑی کو مکمل طور پر تباہ ہو جاتی ہے۔ دنیا بھر میں گاڑیاں جدید قسم کے سیفٹی فیچرز سے آراستہ ہیں جبکہ پاکستان میں زیادہ تر گاڑیاں ان حفاظتی انتظامات سے محروم ہیں، اسکی وجوہات گاڑی بنانے والی صنعتوں میں موجود بحران، وسائل کی کمی اور حکومت کی طرف سے عدم توجہی ہے۔

پاکستان میں ایسا کوئی بھی ادارہ موجود ہی نہیں ہے جو پاکستان میں بننے اور باہر سے آنے والی گاڑیوں کی مکمل جانچ پڑتال کر سکے۔ ہوتا یہ ہے کہ جب بھی کوئی بھی گاڑی باہر سے آتی ہے تو ڈیلرز ان گاڑیوں میں موجود سیفٹی فیچرز جیسے کہ ایئر بیگ اور اے بی ایس جو انکو مقامی منڈی میں بیچ کر منافع کماتے ہیں اور خریدنے والے صارفین ان ڈیلز کے ہاتھوں آسانی سے بےوقوف بنتے جاتے ہیں، بے وقوف بننے کی ایک وجہ ان صارفین کے پاس کم معلومات کا ہونا بھی ہے۔

وزیر مواصلات کی طرف سے حکمت عملی مرتب کی گئی جسکا ذکر ”پاکستان میں روڈ سیفٹی کے مقاصد” کی 2018 کی ایک رپورٹ میں ایک مقصد یہ بھی بنایا گیا کے 2030 تک پاکستان میں ہر سال ٹریفک حادثات سے 6000 جانیں بچائی جائیں گی۔ اس رپورٹ کی 2030 تک کی حکمت عملی کے مقاصد مندرجہ ذیل ہیں جو لاگو کیے جائینگے۔ اس رپورٹ میں اقوام متحدہ کی گاڑیوں کے ضابطے نمبر 16, 17, 94, 95 اور عالمی تکنیکی ضابطوں جی آر ٹی 8 اور جی ٹی آر 9 لاگو کیا جائے گا۔ جبکہ جو لوگ گاڑیوں کے لیے آئیں گے انہیں معلومات تک رسائی حاصل ہوگی۔ اسکے علاوہ سڑکوں کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے لائسنس سازی کا جائزہ بھی لیا جائے گا اور اس میں مزید ترمیم بھی کی جائے گی۔

اس رپورٹ میں حکمت عملی تو بیان کر دی گئی ہے لیکن دیکھنا یہ کہ گاڑیوں کے تحفظ پر کب اور کیسے کام شروع کیا جائے گا۔ بڑھتے ہوئے حادثات کی وجہ سے ہونے والا نقصان کی وجہ سے معیشت کا معیار نیچے کی طرف گر رہا ہے۔ اس ملک میں بے شمار مسائل ہیں اور لوگوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ابھی تک گاڑیوں کے تحفظ پر کام شروع نہیں کیا جارہا جبکہ حکومت کو ملک میں بننے والی تمام گاڑیوں کے لیے سیفٹی کا نظام متعارف کروانا ہوگا۔ اسکے علاوہ درآمد شدہ گاڑیوں کے معائنے کے لئے ایسے طریقہ کار بنانے ہونگے، جو ان آنے والی گاڑیوں کی جانچ پڑتال اور ان کا باریک بینی سے معائنہ کر سکے۔ صارفین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے وہی گاڑیاں پاکستان میں آنی چاہیئے جو پریسمنٹ ایجنسی کے ذریعہ تصدیق شدہ ہونگی جس میں چند باتوں کا خیال رکھنا ہوگا؛ مثال کے طور پر گاڑی چوری کی نہیں ہونی چاہیے، نہ ہی اس پر حادثہ کی وجہ سے نشانات موجود ہوں اور گاڑی کا اوڈومیٹر مائلیج 15000 کلومیٹر سے کم ہونا چاہیے۔ اوڈومیٹر مائلیج سے استعمال شدہ گاڑی کی مسافت کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کتنی چل چکی ہے، بعض اوقات گاڑی بیچنے والے گاڑی کو اچھی قیمت پر بیچنے کی وجہ سے غلط راستے کا انتخاب کرتے ہوئے گاڑی کا میٹر پیچھے کی جانب کر دیتے ہیں، جس سے استعمال شدہ گاڑی کی مسافت کم نظر آتی ہے۔

سمگل اور غیر کسٹم پیڈ شدہ گاڑیوں کے استعمال کی اجازت نہیں ہونی چاہئے جبکہ نیشنل پالیسی کے تحت وہ گاڑیاں جو 15 سال سے زائد کی ہیں انہیں استعمال میں لانے کی ممانعت ہونی چاہیے۔ اسکے علاوہ کسی بھی اسکیم کے تحت اسی ملک کو درآمد شدہ گاڑیوں کی اجازت ہونی چاہیے جس میں ”پاسپورٹ ہولڈرز” رہ رہے ہوں۔

وہ لوگ جو گاڑی آنے اور بنانے کے درمیان کرپشن کرتے ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ لوگوں کو موت کے منہ میں دکھلانے کے ذمہ دار ہیں۔ اگر بروقت حکومت کی جانب سے قدم نہ اٹھایا گیا تو جان و مال کے ساتھ پاکستانی معیشت کو بھی نقصان ہوتا چلا جائے گا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20