اچھا تو آپ فیمنزم بیچتے ہیں؟ —- خرم شہزاد

0

میرا نام نایاب ہے اور میں ایک شادی شدہ خاتون ہوں جو صرف گھر پر رہتی ہے۔ ایک بیٹے کی ماں ہوں اور اس کی اچھی تعلیم و تربیت اور پرورش کرنا میری زندگی کا مقصد ہے۔ میرے شوہر اپنی نوکری کی وجہ سے ملک سے باہر ہوتے ہیں۔ میں بازار نہیں جاتی بلکہ جو کچھ ضرورت ہو تو ساس سسر کو بتا دیتی ہوں اور مجھے گھر بیٹھے وہ چیز مل جاتی ہے۔ اگر آپ اس بات سے مجھے کسی بیک ورڈ گھرانے کا فرد یا بہو سمجھنے کا سوچ رہے ہیں تو آپ کو بتا دوں کہ میں خود لندن اسکول آف اکنامکس سے ایم بی اے ہوں اور میرے شوہر بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ میرے شوہر کے نہ ہوتے ہوئے بھی میرے کہیں بھی آنے جانے کی مکمل ذمہ داری میرے سسرال والوں کی ہے۔ میرے خیال سے میں ایک خوش اور مطمئن زندگی گزار رہی ہوں۔ آپ کے اس فیمنزم میں میرے لیے کیا ایسا ہے جس کی مجھے ضرورت ہو اور کیوں ہو؟

میرا نام انیلہ بانو ہے اور فیمنزم کا شور سن سن کر میرے کان پک گئے ہیں اس لیے میں نے عورتوں کے حقوق اور صنفی امتیاز و انصاف (جسے آپ جینڈر جسٹس کہتے ہیں) پر ریسرچ ورک کرنا چاہتی ہوں۔ کوئی مجھے پچھلے چار پانچ سال میں پاکستان سے اردو میں شائع ہونے والی ایسی کتب اور ریسرچ پیپرز کی نشاندہی کر دے جو عورتوں کے حقوق، صنفی امتیاز و انصاف کے بارے میں ہوں اور ان کتب اور ریسرچ پیپرز میں پاکستان اور اس کے علاقوں کے بارے ہی بات کی گئی ہو۔ ہمارے اپنے ملک کے مختلف علاقوں میں رہنے والوں کے نظام زندگی، رہن سہن، روایات اور سماجی تفریق کو سامنے رکھتے ہوئے مسائل کو نہ صرف سمجھنے کی کوشش کی گئی ہو بلکہ ان کا کسی قدر ممکنہ حل بھی دیاگیا ہو۔ ہاں یہ یاد رہے کہ ان کتب اور ریسرچ پیپرز کی نہ صرف بین الاقوامی سطح پر بھی کوئی مسلمہ اہمیت ہونی چاہیے بلکہ ان کتب اور ریسرچ پیپرز کو بین الاقوامی طور پر فیمنزم کو سمجھنے کے لیے کوٹ کیا گیا ہو۔ صفحے کالے کرنے، جذباتیت، یک طرفہ بیانیے اور اپنے نام کی تشہیر والی کتب کا نام بتا کر میرا وقت ضائع نہ کیجئے گا۔

میرا نام اسمارا ہے اور میں ایک کالج میں پڑھتی ہوں۔ مجھے اور میری بہنوں کو کالج چھوڑنے کی ذمہ داری بڑے بھیا پر ہے اور وہ صبح دیر ہو جانے کا جتنا مرضی شور مچالیں لیکن ہمیں لے کر جانا ان کے ہی ذمہ ہے۔ ہاں کبھی کبھار بھیا جلدی چلے جائیں تو ہم ابو کے ساتھ بھی چلے جاتے ہیں۔ ہمیں کہیں آنے جانے کی آزادی تو ہے لیکن اکیلے آنے جانے کی بالکل آزادی نہیں ہے، گھر کا کوئی نہ کوئی فرد ہمارے ساتھ ضرور ہوتا ہے۔ آپ کے اس فیمنزم میں میرے لیے کیا ایسا ہے جس کی مجھے ضرورت ہو؟ شائد آپ کہیں کہ آزادی، کہیں بھی آنے جانے کی، اپنی مرضی سے جینے اور سانس لینے کی لیکن یہ بتائیے کہ اس آزادی کی قیمت میں پھر کہیں آنے جانے کے لیے گھنٹوں سڑکوں پر اکیلے کھڑے ہونے، رکشے ٹیکسیوں کے انتظار، لوگوں کی نظروں کو برداشت کرنے اور رات کو دیر سے آتے ہوئے کسی انجان شخص کے تعاقب کے ڈر کو کیسے دور کیا جائے گا؟ ابھی میں آزاد بالکل نہیں ہوں اسی لیے بھائی اور باپ کے ساتھ باہر نکلتی ہوں لیکن آپ کی فریم کردہ آزادی کے بعد اگر کوئی میرا رستہ روک لے تو کیا یہ فیمنزم اس شخص کو راستے سے ہٹا پائے گا؟ فیمنزم سے لی آزادی کے بعد اپنے ساتھ ہوئی کسی بد تمیزی یا بدسلوکی کی وجہ سے مجھے انصاف کے لیے سالہا سال عدالتوں میں دھکے کھانے اور خاندان بھر کو ذلیل کروانے کے علاوہ کوئی اور راستہ ہے تو بتا دیجئے؟ جب کہ اس دوران مجھے میری پڑھائی، کام، دوستوں اور اہل محلہ سے عجیب سوالات اور طنز کا بھی سامنا رہے گا۔ کیا یہ فیمنزم ان لوگوں کی زبانیں پکڑنے اور رویے بدلنے میں میرا کسی طور معاون ثابت ہو گا؟

میرا نام مائی حاجن ہے اور میں راجن پور کے ایک دور دراز قصبے میں رہتی ہوں۔ میں بالکل ان پڑھ ہوں۔ میرے والد ایک زمین دار تھے جنہوں نے اپنی وفات کے وقت ساری زمین میرے بھائیوں کے نام کر دی اور ہم بہنوں کو کوئی حق نہیں دیا۔ میرا شوہر بھی ایک روایتی مرد ہے جسے جلد غصہ آ جاتا ہے۔ کبھی کبھار بات بڑھ جائے تو نوبت مار پیٹ تک بھی چلی جاتی ہے اور ایسے ہی زندگی گزر رہی ہے۔ آپ کے اس فیمنزم میں ایسا کیا ہے جس سے میری زندگی بدل سکے؟ مجھے خدارا باتوں سے بہلانے اور یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے کے آسرے مت دیں، نہ ہی مجھے بنائے گئے اور بنائے جانے والے قوانین کی فہرست پکڑائیں۔ مجھے صرف یہ بتائیں کہ فیمنزم کی حامی کتنی خواتین نے دیہات میں بچیوں کے لیے آکر سکول کھولے ہیں اور ان سکولوں میں کتنی بچیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں؟ مجھے یہ بتائیے کہ فیمنزم کی حامی کتنی خواتین اور حضرات ہم خواتین کے مفت کیس لیتے ہیں کیونکہ ہم غریب عورتوں کے پاس کیس کرنے کے پیسے ہوتے نہیں ہیں؟ اور ہاں زیادہ دور نہ جائیں تو پچھلے دس پندرہ سال کی بھرپور جدوجہد اور سات آٹھ سال کے جلسوں کے بعد میڈیا پر شور مچانے اور جوش دیکھانے والوں کو ایک طرف کر کے مجھے صرف ایک فیمنسٹ مرد یا عورت دیکھا دیں جس نے کچھ بھی عملی کیا ہو۔ عملی کا مطلب تو سمجھتے ہوں گے یعنی آن گراونڈ جس سے شہری عورت نہیں کیونکہ وہ لڑ جھگڑ کر پھر بھی کچھ نہ کچھ حاصل کر ہی لیتی ہے، ایک دیہاتی عورت کی زندگی میں ایسا بدلاو آیا ہو کہ اس کا اپنا گھر بھی سلامت رہ سکا ہو؟

میرا نام زیب النساء ہے اور میں ایک اسلامی مدرسے میں پڑھاتی ہوں۔ مکمل پردہ کرتی ہوں، جس کی وجہ سے میرے ہاتھ اور آنکھیں بھی کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ میں فخر سے بتا سکتی ہوں کہ ہمارے گھر کی سبھی خواتین باہر نکلتے ہوئے ایسے ہی پردے کا اہتمام کرتی ہیں۔ مدرسہ چونکہ گھر سے پندرہ بیس منٹ کے پیدل فاصلے پر ہے اس لیے میں پیدل اکیلے ہی چلی جاتی ہوں۔ میرے مشاہدے میں کبھی کوئی ایسا شخص نہیں آیا جو میرا پیچھا کرتا ہو، اس لیے اس پردے میں خود کو بہت محفوظ خیال کرتی ہوں۔ میرے خیال میں ایسا اس لیے ہے کہ مکمل پردے کے بعد کسی کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ پردہ دار سولہ سال کی لڑکی ہے یا پچاس سال کی کوئی عورت جبکہ وہ لڑکیاں جو چہرہ کھلا رکھتی ہیں ان کی شکایات اکثر سننے میں ملتی ہیں۔ آپ کے اسلامی فیمنزم یا ریفارمنزم میں ایسا کیا ہے جس کے بعد پردے کی نئی تعبیریں پڑھنے، چہرہ اور ہاتھ کھلے رکھنے کے بعد بھی میں اپنے آپ کو مردوں کی نظروں سے ایسے ہی بچا سکوں اور خود کو محفوظ خیال کر سکوں جیسا کہ اب خود کو محفوظ سمجھتی ہوں؟

اور احباب میرا نام خرم شہزاد ہے۔ میں وادی لیپا کا رہائشی ہوں اور آپ جانتے ہوں گے کہ وہ ایک پہاڑی علاقہ ہے جہاں اکثریتی مکانات لکڑی کے بنے ہوتے ہیں۔ کچھ مکانات اب بلاک سے بھی بنائے جانے لگے ہیں۔ سردیوں میں برف باری کے بعد دوسرے شہروں سے رابطہ کٹ بھی جاتا ہے اسی لیے سردیوں کی آمد آمد پر ہم کئی ہفتوں کا راشن اور لکڑیاں جمع کر لیتے ہیں۔ میرے پاس فیمنسٹ تو نہیں آئے البتہ ایک تنظیم کے لوگ آئے اور کہنے لگے کہ یورپ اور امریکہ میں لوگ ایک شاندار زندگی گزارتے ہیں اور آپ یہاں پہاڑی پر ایک کچے اور لکڑی کے گھر میں رہ رہے ہیں جس میں آپ کو یقینا بہت سے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہو گا؟ اسلام آباد میں لوگ کیسی کوٹھیوں میں رہتے ہیں ان کا تصور کریں، کیا آپ بھی ویسی کسی کوٹھی میں رہنے کی خواہش نہیں رکھتے؟ اسی وجہ سے ہم آپ کے لیے ایک آفر لائے ہیں کہ آپ کو نیا بہترین گھر بنانے کے لیے سہولت دی جائے، ٹائلیں لگے ایک بہترین گھر کی بھلا کسے ضرورت نہیں ہوتی؟ میں نے عرض کی کہ جناب گھر کے علاوہ بھی میری کچھ پریشانیاں ہیں یعنی یہاں سردیوں میں راستے بند اور دوسرے شہروں سے رابطے کٹ جاتے ہیں۔ آپ کمیونیکیشن کے لیے کچھ کر دیں۔ تعلیم کے بہت مسائل ہیں کیونکہ یونیورسٹی اس پورے علاقے میں نہیں، اگر کسی یونیورسٹی کا کیمپس یہاں لا دیں تو آپ کی نسلوں کو دعا دوں گا۔ بولے جناب معذرت کیونکہ ہم صرف گھر بنانے میں ڈیل کرتے ہیں اس لیے صرف اسی کے لیے آپ کو سہولت دے سکتے ہیں۔ آپ کے باقی مسائل سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔

احباب میں بھی خرم شہزاد ہوں اور بلوچستان کے ایک دور دراز علاقے آواران کا رہائشی ہوں۔ آپ نے یقینا اس علاقے کا نام مطالعہ پاکستان میں بھی نہیں پڑھا ہو گا لیکن آ پ کو بتاتا چلوں کہ میں پیاز کا کاشتکار ہوں۔ اپنی زمین کے ساتھ کچھ زمین ٹھیکے پر لے کر بھی میں کاشتکاری کرتا ہوں۔ افسوس کہ میرے پاس بھی فیمنسٹ تو نہیں آئے لیکن کچھ لوگ آئے جو صحت و صفائی کے لیے کام کرتے تھے اور گھروں میں پکی لیٹرین بنانے اور محلے کے سیوریج سسٹم کی بہتری کے لیے سہولت فراہم کرتے تھے۔ آپ کراچی اور اسلام آباد میں رہنے والے لوگ یقینا سوچیں گے کہ ہم کیسی دنیا میں رہ رہے ہیں لیکن معذرت کہ یہ دنیا بھی اسی ملک میں بسی ہوئی ہے اور اسی ملک میں بہت سے لوگ بہت ہی بے بسی کی زندگی بھی گزارتے ہیں۔ کچے گھروں میں پکی لیٹرین اور محلے میں بہترین سوریج سسٹم ایک خواب ہی ہوتا ہے جو مشکل سے پورا ہوتا ہے۔ ہم نے ان سے عرض کی کہ جناب ہم کسان لوگ ہیں اور ہمارے لیے سب سے زیادہ ضروری ہمارے کھیت اور اگائی جانے والی فصل ہوتی ہے۔ ہمارے علاقے میں کوئی پکی سڑک نہیں اور ملک کی کوئی بڑی منڈی بھی قریب موجود نہیں۔ حکومتی خریداری مراکز بھی بڑے شہروں میں قائم ہیں جہاں تک جانا آنا بھی اتنا آسان نہیں۔ اس لیے اگر ہمارے علاقے میں پکی سڑک کے لیے کچھ کر سکیں تو عنایت ہوگی یا پھر حکومتی خریداری مرکز یہاں کھلوا کر دے سکیں یا پھر یہاں مناسب ٹرانسپورٹ کا بندوبست ہو سکے تاکہ ہم اپنی فصل کسی بڑے شہر آسانی سے لے جا کر بیچ سکیں کیونکہ ان تین بڑے مسائل کی وجہ سے ہماری فصل کھیتوں میں ہی خراب ہونے لگ جاتی ہے اور ہمیں باہر سے آئے بڑے تاجروں کے ہاتھ اونے پونے داموں اپنی فصل فروخت کرنی پڑتی ہے۔ اگر یہ مسائل حل ہو جائیں اور ہمیں اپنی فصل کی اچھی قیمت مل جائے تو یہ پکی لیٹرینیں اورسیوریج سسٹم تو ہم خود اپنے خرچے پر بنوا لیں گے۔ ان لوگوں نے بھی معذرت کی کہ جناب ہم صرف صحت اور صفائی کے شعبے میں کام کرتے ہیں آپ کے باقی مسائل سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جورڈن پیٹرسن : فیمنزم کے ستائے ہوئے مردوں کا مسیحا ------- وحید مراد

یوں اپنے تجربے اور آپ بیتیوں کی بنا پر میں بھی فیمنسٹ خواتین و حضرات سے سوال کروں گا کہ آپ بھی کیا صرف فیمنزم میں ڈیل کرتے ہیں؟ اور کیا آپ کا بھی خواتین کے باقی مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں؟ آپ جس انسانیت اور ہمدردی کے دکھ درد میں ڈوبے ہوئے ہمیں نظر آتے ہیں اگر آپ اتنے پڑھے لکھے نہ ہوتے اور آپ کے پاس فرصت نہ ہوتی (کیونکہ فیمنزم سے وابسطہ بیشتر خواتین و حضرات کا جائزہ یہ بتاتا ہے کہ پڑھنے اور پڑھانے سے وابسطہ یہ لوگ چونکہ شام کو فارغ ہوتے ہیں اور امیر گھرانوں کی خواتین جن کے پاس کوئی کام نہیں ہوتا تو چلو ہلا گلا ہی سہی کے طور پر فیمنزم چلا رہے ہیں۔ یہاں صرف پاکستانیوں کی بات ہو رہی ہے) یا آپ کسی اور پروفیشن سے وابسطہ ہوتے تو کیا پھر بھی اتنے ہی فیمنسٹ ہوتے؟ ہمارے ملک کے مختلف طبقات کی خواتین کے سوالات اس کے علاوہ پیش کئے جا چکے ہیں جو اس بات کی کسی حدتک تائید کرتے ہیں کہ فیمنسٹ بھی خواتین کے صرف ان حقوق اور آزادیوں میں ڈیل کرتے ہیں جن میں انہیں معاشرے سے الگ کیا جا سکے، طلاقیں دلوانے میں سہولت پیدا کی جا سکے اور دوسرے مردوں کی آسان دسترس میں دیا جا سکے، جبکہ خواتین کے بنیادی مسائل جیسا کہ تعلیم، صحت، جائیداد میں حصہ، بول چال میں نرمی اور ہمدردی، کاروبار کے مواقع، مفت انصاف کی فراہمی، معاشرتی رویوں کی تبدیلی جیسے تمام معاملات صرف باتوں اور جب کبھی بنائے گئے قوانین کے لیے چھوڑ دئیے گئے ہیں۔

آپ فیمنسٹ ہیں اور فیمنزم میں ڈیل کرتے ہیں اچھی بات ہے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن خدارا بیچنے والا مال تو کچھ اچھا لائیے اور خواتین کو صرف خواب دیکھانے کے بجائے کسی عملی کام کی مثال سے وضاحت کیجئے۔ تاکہ خواتین کی اصل بھلائی اور حقوق کی بات بہتر طریقے سے ہو سکے۔

یہ بھی ملاحظہ کریں:

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20