دلوں پر راج کرنے والا طارق عزیز —- سلمان عابد

0

ممتاز دانشور، مصنف، شاعر، ادیب، ادکار، سیاست دان اور پاکستان ٹیلی وژن کے طویل ترین معروف پروگرام ’’نیلام گھر‘‘ کے میزبان طارق عزیز بھی رب کے حضور پیش ہوگئے۔ مجھے یاد ہے کہ ہم اسکول میں ہی پڑھتے تھے تو سب سے زیادہ ہمیں ٹی وی ڈراموں کے بعد جو پروگرام دیکھنے کا شوق ہوتا تھا وہ طارق عزیز کا نیلام گھر ہی تھا۔ والد گرامی عبدالکریم عابد مرحوم کی ہدایت ہوتی تھی کہ اس نیلام گھر کو دیکھنے کو اپنی خاص عادت بنالو۔ یہ پروگرام اس قدر معلوماتی ہوتا تھا کہ ہمیں اپنی ذہانت کو پرکھنا اور اس کے نتیجے میں بہت کچھ نیا سیکھنے کا بھرپور موقع ملتا تھا۔ اصل امتحان اس وقت ہوتا جب طارق عزیز سوال کرتے او رکوئی اس کا جواب دے اس سے پہلے ہم اپنا امتحان خود لیتے تھے اور کبھی اس امتحان میں کامیاب ہوتے اور کبھی اپنی کم علمی کا بھرپور احساس بھی ہوتا تھا۔ اس کے بعد جو پروگرام جس نے ہمارے علم میں بڑا اضافہ اور شوق پیدا کیا وہ ’’کسوٹی‘‘ پروگرام تھا۔

طارق عزیز نے اگرچہ بہت سے شعبوں میں پنجہ آزمائی کی جن میں اداکاری، شاعری او رسیاست بھی شامل تھی،لیکن ان کی اصل اور حقیقی پہچان ’’نیلام گھر‘‘ ہی بنا او ربہت سے لوگ ان کو نیلام گھر کا طارق عزیز ہی کہتے تھے۔ کافی برسوں سے وہ گوشہ نشینی کی زندگی گزارہے تھے اور زیادہ وقت شاعری، مطالعہ یا جو لوگ ملنے آتے تو ان سے گپ شپ میں گزار دیتے تھے۔ مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ ایک ایسا شاندار انسان جو اپنے آخری دس پندرہ برسوں میں بہت کچھ کرسکتا تھا، لیکن حالات واقعات اور یہاں ریاستی و حکومتی عدم توجہی یا ان کی عدم ترجیحات کے باعث وہ بہت سا کام نہیں کرسکا جو وہ کرسکتا تھا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جو فرد شہرت کی بلندیوں کو حاصل کرتا ہے وہ اپنی شہرت خاص وقت کے بعد کھودیتا ہے۔ مگر طارق عزیز ان لوگوں میں سے تھے جو ہمیشہ مشہور رہے او راس نے ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں راج کیا۔ پہلے ٹی وی کے اناونسر بننے کا اعزاز بھی ان ہی کو حاصل ہے۔یعنی جب پی ٹی وی نے 26نومبر 1964 کو جنم لیا تو پہلی آواز ہمیں طارق عزیز ہی کی سننے کو ملی تھی جو ان کے لیے ایک بڑا اعزاز تھا۔

پاکستان سے محبت ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اس کا اظہار ان کے لہجے،لفظوں، اظہار اور عملی انداز سے جھلکتا تھا او رجب وہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ بلند کرتے تو سننے والوں کو بھی وطن سے محبت کا درس دیتے تھے۔ایک وطن پرست طارق عزیز نے ہمیشہ اپنے جوہر کو پاکستان کی ترقی، سربلندی کے لیے استعمال کیا۔ ٹی وی ان کا اصل میدان تھا او راسی میدان میں رہ کر انہوں نے پاکستان کے مفاد کی جنگ خوب لڑی اور دوسروں کو بھی اس بات پر قائل کیا کہ پاکستان سے محبت ان کا اہم اثاثہ ہونا چاہیے۔جب بھی کوئی پاکستان پر تنقید کرتا یا برے لفظوں سے اظہار کرتا تو طارق عزیز کی جذباتی کیفیت نمایاں طور پر نظر آتی تھی۔ مطالعہ ان کا خوب تھا اور ان کے گھر میں کتابوں کی بڑی تعداد میں موجودگی ان کے علم دوست ہونے کی بھی گواہی دیتی ہے۔

اگرچہ طارق عزیز نے کئی فلموں میں کام کیا جن میں سالگرہ، انسانیت، قسم اس وقت کی، چراغ کہاں روشنی کہاں، اور ہار گیا انسان جیسی بڑی شہکار فلمیں شامل تھیں۔ بالخصو ص سالگرہ او رانسانیت میں ان کا کردار بہت پسند بھی کیا گیا۔ان کا شعری مجموعہ ’’ہم زاد دا دکھ‘‘ بھی شائع ہوا اسی طرح اپنی زندگی پر ان کی کتاب ’’داستان‘‘ بھی موجود ہے۔سیاست میں قدم رکھا،لیکن سیاست میں ان کی بڑ ی تلخ یادیں تھیں او روہ اس کا برملا اعتراف کرتے تھے کہ زوالفقار علی بھٹو، معراج محمد خان، نواز شریف اور چوہدری برادران کے ساتھ سیاست ان کا اچھا تجربہ نہ تھا کیونکہ یہ سیاست قوم کے لیے کم او رذاتی مفادات کے گرد زیادہ گھومتی تھی۔ سپریم کورٹ پر حملہ بھی ان کی یادوں کو بہت دکھی کرتا تھا او روہ خود کہتے تھے کہ وہ ایک ناکردہ گناہ میں اس جرم کا حصہ بنے تھے۔ سیاست کو خیر آباد کہنے کے بعد کچھ وقت کالم نگاری بھی کی اور خوب لکھا لیکن اس تسلسل کو وہ زیادہ عرصہ برقرار نہ رکھ سکے۔

طارق عزیز کے ابتدائی الفاظ ہمیشہ ہمارے کانوں میں گونجتے تھے او ران کے جانے کے بعد بھی گونجتے رہیں گے ’’ابتدا ہے رب جلیل کے بابرکت نام سے، جو دلوں کے بھید خو ب جانتا ہے، دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام پہنچے۔‘‘ یہ وہ الفاظ ہیں جس کو بار بار سننے کے باوجود ان لفظوں کو پیش کرنے والے سے ہماری انسیت ختم نہیں ہوئی۔ طارق عزیز کی طرح ان کے والدمیاں عبدالعزیز پاکستانی بھی کمال کے پاکستانی تھے او روہ اپنے نام کے ساتھ پاکستانی لکھنا فخر محسوس کرتے تھے۔ ریڈیوپاکستان سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والے طارق عزیز ہماری ٹیلی وژن انڈسٹری کے ماتھے کا جھومر ہے او راس پر مجھ سمیت بہت سے لوگوں کو فخر ہے۔ کیونکہ لفظوں کی ادائیگی، شائشتگی میںان کو کما ل کا درجہ حاصل تھا۔اگر کوئی بات کسی کی بری لگتی تو اس انداز سے اس پراظہار کرتے کہ دوسرے کو تنقید بری نہ لگے او رحقیقی طور پر احترام آدمیت کے قائل تھے۔ کمزور اور غریب لوگوں کی بہت مدد کرتے تھے،لیکن کبھی اس کی تشہیر نہیں کرتے تھے او رکہتے تھے کہ جو کچھ مجھے ملا میں اس کا بڑا حق دار نہیں بلکہ یہ سب کچھ اللہ تعالی کر کرم نوازی ہے۔

طارق عزیز نے اپنی شنا خت کو بطورپاکستانی متعارف کروایا۔ ان کے پروگراموں میں چاروں صوبوں کا رنگ نمایاں ہوتا تھا اور یر شعبہ، کلچر، تہذیب، تمدن، رنگ، ثقافت، لباس،زبان کو انہوں نے بغیر کسی تعصب کے پیش کیا۔ ان کے بقول پی ٹی وی پاکستان کی پہچان ہے او راس میں سب کی نمائندگی ہی پی ٹی وی کی اصل پہچان اور ساکھ ہے جو لوگوں میں اسے مقبول بناتی ہے۔پاکستان میں اور پاکستان سے باہر جہاں بھی نیلام گھر جیسے پروگرام چلائے گئے اس کا اصل اور حقیقی بانی طارق عزیز ہی تھا او راسی کو دیکھ کر نئے پروگرام متعارف کروائے گئے۔ اسی طرح پاکستان سے ان کی محبت کا عالم دیکھیں زندگی میںہی وصیت کردی کے میرے مرنے کے بعد میری تمام جائداد پاکستان کے لیے ہی وقف کردی جائے کیونکہ مجھے جو کچھ ملا اسی پاکستان نے دیا ہے۔ ان کو اللہ تعالی ایک اولاد دی تھی، لیکن وہ جلد کی دنیا سے چلی گئی اس کے بعد طارق عزیز کی خواہش تھی کہ جو کچھ میرے پاس ہے جانے کے بعد میں اسے اسی وطن کو ہی لوٹادوں اور ان کے بقول یہ مجھ پر قرض بھی ہے اس ملک کا جو مجھے ادا کرنا ہے۔

اگرچہ طارق عزیز ایک فرد تھے، لیکن اپنی ذات میں ان کی حیثیت ایک ادارہ کی تھی او رایسا ادارہ جس نے کئی لوگوں کو درست لہجے میں بولنا سکھایا۔ جو شہرت طارق عزیز کو ملی وہ کسی اور کے حصہ میں نہ آسکی او رنہ ہی کوئی ان کے قریب پہنچ سکا۔ اپنی زندگی کے آخری دن سے ایک دن قبل انہوں نے ایک ٹویٹ کیا جو ان کے جذبات کی ترجمانی کرسکے گا۔ ان کے بقول ’’یوں لگتا ہے کہ وقت تھم گیا ہے، رواںدواں زندگی رک گئی ہے، کئی دنوں سے بستر پر لیٹے لیٹے سوچ رہا ہوں کہ آزادانہ نقل و حرکت بھی مالک کی کتنی بڑی نعمت ہے، نجانے پرانا وقت کب لوٹ کے آتا ہے، ابھی تو کوئی امید نظر نہیں آرہی۔‘‘

برحال طارق عزیز نہ بھولنے والی شخصیت ہیں او ران جیسی شخصیت باربار پیدا نہیں ہوتیں۔ وہ واقعی دلوںپر راج کرنے والی شخصیت ہیں او ر ان کو آسانی سے نہیں بھلایا جاسکتا کیونکہ وہ اس معاشرے کا حسن تھے او رمجھ سمیت بہت سے لوگوں کے وہ حقیقی ہیرو بھی تھے۔ اسی طرح جب بھی پاکستان میں یا باہر پی ٹی وی کی تاریخ لکھے گا، وہ طارق عزیز کے کردار کو نظر انداز نہیں کرسکے گاکیونکہ علم و آگاہی، تہذیب، و وقار، شستگی کا ایک عہد تما م ہوا جو طارق عزیز کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20