اسلام میں سفارت کاری کے اصول — حافظ محمد زوہیب

0

اسلام میں سفارت کاری کے اصولوں کا بنظرِ عمیق غور کیا جائے تو اندازہ ہوتاہے کہ سفیر ِ اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قیادت سے انسانی زندگی کا کوئی گوشہ نظریں نہیں چرا سکتا۔ جو رسول ﷺ طہارت و تیمم سے لے کر معاشی و معاشرتی اصولوں کے تمام معاملات میں رہنمائی کرتا نظر آتاہے اُسی رسول ﷺ نے بنی نوع انسان کو سفارتی اصول و ضوابط بھی سکھائے۔ یہاں اسلام نے سفارت کاری سے متعلق جو اصول سکھائے ہیں ان کا مختصر سا جائزہ یہاں سپردِ قرطاس کیا جاتاہے۔

سفارت کے لغوی و اصطلاحی معنی : لفظ سفارت عربی زبان کالفظ ہے جس کا مادہ ۔س۔ف۔ر۔ ہے جو عربی زبان کے لفظ’ سفر‘ سے مشتق ہے اس کا فعل باب ’نصر ینصر‘ اور ’ضرب یضرب‘ سے آتاہے جس کے معنی ’سفر کے لیے نکلنا۔ صاف کرنا۔روشن ہونا، کسی شے کو ایک دوسرے سے الگ الگ کرنا، کتاب لکھنا، دو قوموں کے مابین صلح کرنا وغیرہ۔ اسی سے سفارتی فرائض انجام دینے والے کو ’سفیر‘ کہتے ہیں جس کی جمع’ سُفرا ‘ہے۔ (ابن منظور، ابو الفضل محمد مکمرم، لسان العرب، مطبع دارلفکر، بیروت ۱۹۵۵، ج ۴)۔ اسی طرح یہ لفظ ترکی زبان میں بہ طورِ ایلچی کے اور انگریزی زبان میں ‘Ambassador’ کے مستعمل ہے۔ البتہ سفارت کے لیے انگریزی میں ‘Diplomacy’ کا لفظ مستعمل ہے جس کے معنی ہیں گفت و شنید کے ذریعے بین الاقوامی تعلقات کا طریقۂ کار۔

ان الفاظ کے معانی کو سامنے رکھ کر یہ واضح ہوتاہے کہ دوملکوں کے مابین غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کرنے والے کو ’سفیر‘ کہتے ہیں۔

رسالت ماآب ﷺ نے جب بہ حیثیتِ خاتم النبیین اپنا پیغام دنیا میں پہنچانا شروع کیا تو آپ ﷺ کے سُفرا آپ ﷺکے مکتوبات لے جاکر دوسرے ممالک کے بادشاہوں کو پیش کرتے تھے اور صحابہ ؓ جب دوسرے ممالک جاتے تو یہی کہتے:’نحن سفراء رسول اللہ‘ یعنی ہم اللہ کے آخری رسول کے سفیر ہیں۔ (الراغب الاصفہانی، محمد حیسن بن محمد، المفردا ت فی غریب القرآن، ص ۲۳۳)

سفارت کاری کی اہمیت : تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسان نے جب تمدنی زندگی میں قدم رکھنا شروع کیا اور قوانین وضع کرنے شروع کیے ،ان میں ایک قانون یہ بھی تھا کہ زمانہ ٔ و جنگ میں بادشاہوں کے سفیر دوسرے بادشاہوں کے لیے مخصوص پیغام لے کر مذاکرات کے لیے عارضی طور پر جایا کرتے تھے۔ (قانون، بین الاقوامی محمد عبد الرشید مکتبہ فریدی، ص، ۲۹۳ س ن) اسی طرح زمانۂ جاہلیت میں عرب مختلف قبیلوں میں منقسم تھے اور اُن میں صدیوں سے لڑائیاں جاری تھی۔ لیکن جب اصلاح کا خیال سوجھتا تو فوراً اپنے قبیلے سے ایک ایسے شخص کا انتخاب کرتے جو فصیح اللسان ہوتا، وہ دوسرے قبیلے جاتا اور افہام و تفہیم سے امن کا معاہدہ کرتا۔ عرب میں اسلام کی روشنی سے قبل سیدنا حضرت عمر فاروق ؓ سفارتی امور انجام دیتے تھے۔ سورۃ القریش کا پس منظر اگر دیکھا جائے تو ہاشم یہ چاہتے تھے بین الاقوامی سطح پر تجارت کو فروغ دیا جائے۔ ہاشم کی کامیاب سفارت کاری کی وجہ سے عرب ملکوں ملکوں تجارت کرنے لگے۔

اسلام کے نقطۂ نظر سے سفارت کاروں کی خصوصیات: اسلامی نقطہ نظر سے ایک سفارت کار میں جو خصوصیات ہونی چاہییں ان میں: نیک سیرت ہو۔ ذہانت و فطانت میں ملکہ رکھتاہو۔ سفارتی طریقہ ٔ کار پر مکمل دسترس رکھتا ہو۔ معاملہ فہم ہو۔ جغرافیائی حالا ت پر گہری نظر ہو۔مزاج شناس ہو۔ حاضر جواب ہو۔ خوش لباس ہو۔ ہمدردی و نرم مزاجی پر یقین رکھتا ہو۔ فوجی انتظام کا بھر پور جائزہ لینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ معاشی، معاشرتی حالات پر مکمل معلومات رکھتا ہو۔ دوسرے ملک کے سربراہ کے اوصاف معلوم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ مختلف زبانوں پر عبور رکھتا ہو خاص کر اقوامِ عالم میں رائج معرو ف زبانوں پر دسترس رکھتا ہو۔ (طوسی، نظام الملک، سیاست نامہ، باب ۲۱، ص ۸۷، مطبع لاہور، س ن)

سفیروں سے سلوک : اسلام یہ سکھاتا ہے کہ مہمانوں کی عزت میں کوئی کمی نہ رہے۔ اسی لیے کسی ملک کا سفیر اصلاً مہمان ہوتاہے ،اس کے ساتھ احسن طریقے سے پیش آیا جائے۔ اس کے قیام و طعام کا خاص خیال رکھا جائے۔اسی طرح اگر ان کا رویہ انسانیت کے بھی منافی ہو پھر بھی اسلام ان کے ساتھ تکریم سے پیش آنے کا حکم دیتاہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسیلمہ (مدعی نبوت) کے دو بھیجے ہوئے سفیروں کو رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے قبول نہ کی ﷺ نے فرمایا: لوکنت قاتلا وافدا لقتلکما۔ (السنن للدارمی) اگر میں سفیروں کو قتل کرنے والا ہوتا تو تم دونوں کو قتل کر دیتا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لا یقتل الرسول (المسند لاحمد) سفیر کو قتل نہ کیا جائے۔

ریاست ِ مدینہ میں سفارت کاری : مدینہ پہنچ کر آپ ﷺ نے ایسی فلاحی ریاست قائم کی کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔بیرونِ مدینہ آپ ﷺ نے جن قبائل سے سفارتی تعلقات و معاہدات قائم کیے یہاں اُن قبائل اور ان سے کی گئی معاہدات کی چند شقیں یہاں قلم بند کی جاتی ہیں :

قبیلہ جہنیہ: یہ قبیلہ مدینہ منورہ سے اسّی میل کے فاصلے پر تھا۔ان سے اُس وقت یہ معاہد ہ طے ہوا جب آپ ﷺ نے ینبوع کے سفرپر تھے۔ اس قبیلہ کا وفد آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے سفارتی معاہد ہ اور تعلقا ت قائم کرنے کی بات کی آپ ﷺ نے اس قبیلہ سے سفارتی معاہدہ کیا اس کی چند شقیں یہ ہیں : قبیلہ جہنیہ کی جان و مال کوامن حاصل ہوگا۔جو بھی اس قبیلے پرزیادتی کرے گا تو اس کے مقابلے میں ان کی مدد کی جائے گی۔ (طبری، ابن جریر، تاریخ الامم والملوک، جلد۴، ص۱۲۲) بنو زراعہ سے سفارتی معاہدہ: جہنیہ کی جن مختلف شاخوں سے آپ ﷺ نے سفارتی تعلقات استوار کیے اُن میں سے ایک قبیلہ بنی زراعہ بھی ہے جس میں دشمنو ں سے ان قبیلوں کی حفاظت اور امداد کا وعدہ کیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔ بنو غفار سے سفارتی تعلق: قبیلہ بنی غفار مکہ مکرمہ سے شام،فلسطین کے راستے پر آباد تھا۔ قبول ِ اسلام سے قبل ان کا پیشہ راہزنی تھا۔ مشہور صحابی حضرت ابور ذر غفاری ؓ کا تعلق بھی اسی قبیلہ سے تھا۔ حضرت ابوذر ؓ کا بیان ہے کہ میں اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے قبیلہ میں واپس آیا اور اسلام کی دعوت دی میری اس سفارتی اسلامی دعوت سے تقریبا ً نصف لوگ ہجرت سے قبل اسلام لے آئے اور بقیہ ہجرت کے بعد اسلام میں داخل ہوئے۔فتح مکہ کے موقع پر چار سو سے زئد لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے قبیلہ بنی غفار نےنبی ﷺ کی خدمت میں سفارتی وفد بھیج کر معاہدے کی پیش کش کی جسے آپ ﷺ نے منظور فرمایا۔(البدایہ والنہایہ اردو ترجمہ تاریخ ابن کثیر، جلد ۶ ص، ۲۷۸مترجم، نور محمد، ص ۱، مقدمہ،نفیس اکیڈمی، کراچی،جون ۱۹۸۷ء) اس کے علاوہ جن قبائل سے آپ ﷺ نے سفارتی معاہدات کیے ان میں : قبلہ بنی ضمرہ،بنو اشج شامل ہیں۔

حدیبیہ کے موقع پر رسالت مآب ﷺ کی کامیاب سفارت کاری :صلح حدیبیہ سے کون واقف نہیں۔ ۶ ھجری کو ہونے والا یہ معاہدہ رسالت مآب ﷺ کی کامیاب سفارت کاری عملی نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے اس معاہدے کے ذریعے دنیائے عالم کو یہ سبق دیا کہ طاقت میں ہونے کے باوجود امن کے خاطر اگر کچھ قربانیاں بھی دینی پڑ جائیں تو کوئی مذائقہ نہیں۔ جیسا کہ اس معاہدے میں ایسی دفعات تھیں جو سراسر غیر متوازن تھیں لیکن آپ ﷺ نے اُن پر بھی دستخظ کردیے ( مثلاً یہ کہ ہمارا کوئی ساتھی آپ کی طرف آئے تو آپ چھوڑ دیں گے، لیکن اگر آپ کا کوئی ساتھی ہمارے پاس آئے گا تو ہم نہیں چھوڑیں گے )۔اس سے یہ معلوم ہوا کہ کامیاب سفارت کاری اصل میں یہ ہے کہ امن کے لیے جہاں تک جانا پڑے جایاجائے کیوں کہ انسانیت کی حرمت سب سے اوپر ہے۔

ان تمام تفصیلات کوسامنے رکھ کر ’سفارت کاری ‘ سے متعلق جو چیزیں سامنے آتی ہیں ان کا لُب لباب یہ ہے :

  • انسان نے تمدنی زندگی میں قدم رکھتے ہی امن و امان کے لیے سفارت کاری شروع کردی۔
  • زمانہ ٔ جاہلیت میں عربوں نے جنگ و جدال سے بچنے کے لیے کامیا ب سفارت کاری کی۔
  • قریش کے سردار ہاشم نے تجارت کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے کے لیے مختلف ملکوں سے تعلقات قائم کیے۔
  • کامیاب سفارت کار میں جن خوبیوں کا ہونا ضروی ہے ان میں، سیرت، کردار، زبان، جغرافیہ، تاریخ، ملکی معاملات وغیرہ شامل ہیں۔
  • اسلام سفیروں سے عزت سے پیش آنے کی تلقین کرتاہے۔
  • حضور ﷺ نے مدینہ کے قرب وجوار میں مختلف قبائل سے امن کے لیے کامیاب سفارت کاری کی۔
  • آپ ﷺ نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ طاقت ہونے کے باوجود امن کے خاطر کچھ چیزیں اگر اپنے خلاف بھی جارہی ہوں تو ان کو پسِ پشت ڈال دیا جائے جیسے صلح حدیبیہ۔
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20