لندن بلاسٹ اور دریاے تھیمز: ثمینہ رشید کا اظہاریہ

0

پچھلے دس برسوں سے تھیمز کے کنارے آباد شہر میں رہنے کی وجہ سے میرا اور دریائے تھیمز کا رشتہ بہت مضبوط ہے۔ میرا ماننا ہےایسا ممکن ہی نہیں کہ آپ تھیمز سے ملنے جائیں اور اس کے سحر میں مبتلا نہ ہوں ۔ یہ کوئی عام دریا نہیں یہ بہت خاص جگہ ہے یہ آپ کو اپنی محبت کے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔ بہت آہستگی کے ساتھ لیکن انتہائی مضبوطی سے۔

یہ محبت کرنے والوں کی پسندیدہ ترین جگہوں میں سے ایک ہے۔ کئی دہائیوں سے ان گنت لوگ تھیمز کو گواہ بنا کر محبت اور تجدیدِ عہد کرتے رہے ہیں ۔

لیکن کل سے میرا تھیمز بہت اداس ہے۔ وہ دریا جو محبت کے حوالے سے جانا جاتا ہے آج اداسی کے کُہر میں لپٹا محسوس ہوتا ہے۔ کل کا دن لندن کے باسیوں کے لئے بہت تکلیف دہ تھا کہ کل تھیمز پہ بنے ویسٹ منسٹر برج (پُل) پہ تین معصوم لوگوں کی جان لے لی گئی۔ ویسٹ منسٹر برج کو ویسٹ منسٹر ہاؤس کی وجہ سے یہ نام دیا گیا ہے۔ ویسٹ منسٹر ہاؤس برطانوی پارلیمنٹ کی بلڈنگ کو کہا جاتا ہے۔ دوپہر دو سے تین بجے کے دوران ایک کار میں سوار ڈرائیور نے فٹ پاتھ پہ چلنے والے راہگیروں پہ گاڑی چڑھاتے ہوئے گاڑی کو پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ سے ٹکرانے کی کوشش کی جس پر پولیس آفیسر نے اس کو روکا تو چاقو بردار حملہ آور نے پولیس آفیسر پہ حملہ کردیا اور چاقو کے وار کرکے پولیس آفیسر کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس دوران پولیس کی بھاری نفری نے موقع پہ پہنچ کے حملہ آور کو جوابی فائرنگ میں ہلاک کردیا۔ پولیس نے ویسٹ منسٹر ہاؤس کی عمارت میں لوگوں کو اندر ہی رہنے کی ہدایت کی اور لوگ تقریباً دو گھنٹے تک عمارت کے اندر ہی رہے۔ راہگیروں پہ گاڑی چڑھانے کےنتیجے میں ایک خاتون سمیت دو افراد ہلاک ہوئے اور بیس افراد بشمول تین اسکول کے طالب علموں کے زخمی ہوئے۔

اس واقعے کے وقت سے زرا دیر پہلے ہی وزیراعظم تھریسا مے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچی تھیں۔

لندن میں اس واقعے کے بعد ایک خوف اور سوگ کا عالم ہے۔ لندن کا شمار دنیا کے ان چند خوبصورت شہروں میں کیا جاتا ہے جہاں دنیا بھر سے سیاح سیر کرنے آتے ہیں۔ ویسٹ منسٹر برج اور اسکے آس پاس سیاحوں کے لئے بہت ساری اٹریکشنز موجود ہیں۔ لیکن کل ہونے والے واقعے نے لندن کی فضاؤں میں خوف کا عنصر شامل کردیا ہے۔

واقعے کے بعد سے شہر میں ہائی الرٹ ہے۔ رات گئے وزیرِاعظم تھریسا مے نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ کل پارلیمنٹ کا سیشن معمول کے مطابق ہوگا اور لندن کی ساری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔ جو لوگ اسطرح کی دہشت گردی سے ہمیں خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں ان کو پیغام دینا ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔

اس واقعے کے بعد یورپی ممالک کے رہنماؤں اور امریکہ نے وزیرِاعظم تھریسا مے سے اس واقعے پہ افسوس کا اظہار کیا۔ پیرس کے ایفل ٹاور کی لائنیں رات بارہ بجے لندن کے واقعے پہ اظہارِیک جہتی کے لئے بند کردی گئیں۔ 

 

کئی سال بعد لندن دوبارہ دہشت گردی کی اس لہر کی لپیٹ میں آیا ہے۔ امید ہے کہ اس شہر سے دہشت گردی کا یہ سایہ جلد دور ہوجائے گا۔تھیمز کی اداس لہریں جلد مسکرا کر اپنے شہر کے باسیوں اور سیاحوں کو مسکرا کر خوش آمدید کہیں گی۔ اور تھیمز سے محبت کرنے والے پھر اسکی محبت کے سحر کو محسوس کر سکیں گے۔

 

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: