فیمنزم اور مردانگی کا بحران —- وحید مراد

0

مردانگی کا بحران کیا ہے؟ کیا مردانگی کا بحران اور نسائی بحران ایک ہی چیز ہیں؟ کیا امریکی دانشوروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ انکے ہاں یہ بحران پایا جاتاہے؟ کیا قتل و غارت، جرم تشدد، منشیات اور خودکشی کے رجحانات کا سبب یہی بحران ہے؟ اور اس بحران کو پیدا کرنے میں فیمنزم کا کیا کردار ہے؟ فیمنسٹ اسکالر زہریلی مردانگی کی اصطلاح استعمال کرکے مردوں کو گالی کیوں دیتے ہیں؟ شراب، منشیات اور کرائم کی انڈسٹری اس گالی کو عام کرنے میں بے دریغ پیسہ کیوں خرچ کر رہی ہے؟ کیا اسکا مقصد عورت اور مرد کے درمیان مصنوعی طورپر پیدا کی گئی خلیج کو اور گہرا کرنا ہے؟ تاکہ مایوس افراد منشیات اور کرائم کی طرف راغب ہوں اور یہ کاروبار خوب چمکے؟ ان سوالات کے جوابات کا مطالعہ اس مضمون میں کیجئے۔


اس سے قبل ایک مضمون میں، ہم نے کینیڈا کی ٹورانٹو یونیورسٹی کے کلینیکل سائیکالوجی کے پروفیسر جورڈن پیٹرسن کا تعارف کراتے ہوئے، اسکے کچھ اینٹی فیمنزم خیالات کو مختصر طور پر بیان کیا تھا۔ پیٹرسن یہ خیالات کتابوں، لیکچرز اور یو ٹیوب ویڈیوز کے ذریعے پیش کرتا ہے اور انکی وجہ سے آجکل مغرب اور شمالی امریکہ میں فیمنزم کے ستائے ہوئے سفید فام مردوں میں بے حد مقبول ہے۔ پیٹرسن بتاتا ہے کہ فیمنزم کا بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ عورت پر ہونے والے ظلم و تشدد کی وجہ پدرسری نظام ہے، حالانکہ یہ پدر سری نظام یا جبر کی دیگر اقسام جیسے تصورات محض سراب اورخام خیالی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے، یہ غیر سائنسی مفروضات ہیں اور انہیں علمی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ لہذا یہ خیال کہ “تاریخ میں خواتین پر ظلم و ستم برپا کیا گیا تھا” ایک خوفناک اور بے بنیاد تھیوری ہے۔ اسی طرح “صنفی شناخت” کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ کوئی “موضوعی Subjective” چیز ہے بالکل اسی قسم کا دعویٰ ہوگا جیسا کہ یہ کہا جائے کہ زمین چپٹی ہے۔

اسکے علاوہ پیٹرسن کہتا ہے کہ فیمنزم کا عویٰ ہے کہ مرد و عورت کی تنخواہوں اور معاوضوں میں فرق کی وجہ صنفی امتیاز ہے حالانکہ یہ واحد وجہ نہیں ہے، معاوضوں کے فرق کے پیچھے کچھ اور عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں۔ اسی طرح پیٹرسن کہتا ہے کہ مرد اور عورت نہ کبھی ایک جیسے تھے اور نہ ایک جیسے ہو سکتے ہیں۔ اور ایک جیسا نہ ہونا ہی انکے درمیان پائی جانے والی کشش اور تعلق کی وجہ ہے۔ اور نسل انسانی کی بقا کا انحصار مرد اور عورت کے درمیان پائے جانے والے اسی تعلق پر قائم ہے۔ اس تعلق کی باقاعدہ شکل کو میثاق کا نام دیا جاتا ہے، اوراسی میثاق کو ثقافت اور کلچر بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں مرد، عورت کے جنسی تعلقات اور ان کے گرد گھومنے والی رسومات بہت اہمیت کی حامل ہیں، اگر مرد اور عورت کے درمیان تعلق کی اہمیت نہ ہوتی تو ان رسومات اور ثقافت کو تخلیق کرنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی، اس ثقافت کی تخلیق ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ مرد اور عورت دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے اور ایک دوسرے کے بغیر یہ بخوشی زندہ نہیں رہ سکتے۔

ان کے علاوہ Political Correctness اور پوسٹ ماڈرن فیمنزم کے کئی دیگر مباحث ہیں جن پر پیٹرسن گفتگو کرتا ہے لیکن ان میں سب سے اہم مبحث، فیمنزم کی طرف سے پدرسری نظام معاشرت کا پیش کردہ مفروضہ ہے جسکی بنیاد پر فیمنزم کی عمارت قائم ہے، فیمنزم کی طرف سے اس “مفروضہ دشمن” پر شدید حملوں کی بوچھاڑ اور اسکے نتیجے میں یورپ اور امریکہ میں پیدا ہونے والا “مردانگی کا بحران Crisis of Masculinity” بھی اسی موضوع کا ایک اہم حصہ ہے اور اس مضمون میں ہونے والی ساری گفتگو اسی مبحث سے متعلق ہے۔

یورپ اور امریکہ کے نوجوان مردوں، خاص طور پر طالبعلموں میں وسیع پیمانے پر یہ رجحان دیکھا جا رہا ہے کہ وہ اس معاشرتی نظام کا احیاء اور بحالی چاہتے ہیں جو انہیں انکا “کھویا ہوا مردانہ وقار اور خود مختاری” واپس دلائے تاکہ وہ دوبارہ اپنے مرد ہونے پر فخر کر سکیں۔ پیٹرسن اس رجحان پر گفتگو کرتے ہوئے سوال اٹھاتا ہے کہ آخر آج کے دور کے نوجوان کیوں ناراض ہیں، کیوں غصے میں ہیں اور کیوں اجنبیت محسوس کرتے ہیں؟ اور پھر خود ہی جواب دیتا ہے کہ اسکی ایک اہم وجہ فیمنزم کی طرف سے وہ بیان بازی ہے جس میں مرد کیلئے نفرت اور حقارت کا اظہار کرتے ہوئے یہ دعوے کئے جاتے ہیں کہ اب عورت تمام چیزوں پر چھا چکی ہے اور مرد کے لئے مستقبل میں کچھ نہیں بچے گا۔ اس سے مردانگی کا ایک بحران Crisis of Masculinity پیدا ہو چکا ہے اورمردانگی کا یہ بحران لامحالہ طور پر “نسائی بحران بھی ہے” یعنی جہاں یہ مرد کیلئے نقصان دہ ہے وہاں عورت کیلئے بھی اتنا ہی نقصان دہ ہے۔ لیکن فیمنزم کی طرف سے اسے زہریلی مردانگی toxic masculinity کا نام دیا جارہا ہے تاکہ مرد اس گالی سے مشتعل ہوں، مردوں اور عورتوں کے تعلقات مزید کشیدہ ہوں اور ان کے درمیان مصنوعی طور پر پیدا کی گئی خلیج اور گہری ہو۔ اب بجائے اسکے کہ یورپ اور امریکہ کا میڈیا اور سوشل اسکالرز اس بات پر غور کریں کہ انکے جوانوں کی نئی نسل، معاشی عدم استحکام اورثقافتی پیچیدگی سے کیوں تنگ ہے، “معاشرتی انصاف کے کھوکھلے نعروں” کو عوام کی اکثریت کیوں نا پسند کر رہی ہے اور لوگ مردانہ وقار کی بحالی کیلئے کیوں بے چین ہیں؟ وہ اپنی ساری توانیاں اس بات پر صرف کر رہے ہیں کہ جورڈن پیٹرسن کو کسی طرح دائیں بازو کا ایک شائونسٹ اسکالر ثابت کر دیا جائے تاکہ لوگ اس سے متنفر ہو جائیں اور فیمنزم کے خلاف گفتگو نہ کریں لیکن اسکے باوجود فیمنزم کے ستائے ہوئے مایوس نوجوان دھڑا دھڑ جورڈن پیٹرسن کے لیکچرز اور ویڈیوز دیکھ رہے ہیں اور اسکے خیالات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے پر تول رہے ہیں۔

جورڈن پیٹرسن کی کتاب “12 قوائد برائے زندگی 12 Rules for Life” ایمیزون Amazon کی بہتر ین فروخت کنندہ کتب کی فہرست میں پہلے نمبر پر پہنچ چکی ہے۔ پیٹرسن کے پرستار انہیں، انکے عام فہم سائنسی دلائل کی وجہ سے پسند کرتے ہیں لیکن مغرب کے لبرل حلقے ان دلائل کو اپنے وجود کیلئے اس سے بھی ایک بڑا خطرہ محسوس کر رہے ہیں جو کچھ دہائیوں پہلے انہیں “کمیونسٹ طبقاتی شناخت کی سیاست” سے تھا، اس لئے ان میں سخت غم و غصہ اور گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ اس گہری تشویش کی وجہ یہ ہے کہ دی ٹائمز کے میلانیا فلپس Melanie Phillips کے مطابق جورڈن پیٹرسن کو “اکیڈمک راک اسٹار” اور “ایک سیکولر پیغمبر” کے خطابات سے نوازا جا رہا ہے اور ان کے خیالات کو نہ صرف یورپ اور امریکہ کے بالائی دائیں بازو کے آزاد خیال ونگ بلکہ کلاسیکل لبرلز کی بھی حمایت حاصل ہو چکی ہے۔ پیٹرسن کے زیادہ مقبول ہونے کی ایک وجہ اسکا وہ انٹرویو بھی ہے جو برطانیہ کے چینل 4 کی کیتھی نیومین نے لیا تھا۔ اس انٹرویو میں کیتھی نیومین، دیگر فیمنسٹ اور لبرلز کی طرح پیٹرسن کے خیالات کی علمی بنیاد کو سمجھنے سے قاصر رہی، نیو مین نہ پیٹرسن کے خیالات پر علمی قسم کے تنقیدی سوالات اٹھا سکی اور نہ ہی پیٹرسن کو اسی کے دائرے میں مشغول رکھ سکی بلکہ اس نے پیٹرسن کے خیالات کو مزید آسان اور متنازعہ بنا کر دکھایا جسے سے دیکھنے والوں کے سامنے نیومین کی سبکی ہوئی اور پیٹرسن ایک واضح فاتح کے طور پر سامنے آیا۔

مغرب کے اکثر سوشل اسکالر اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ یورپ اور امریکہ کے نوجوان مرد یہ محسوس کرتے ہیں کہ “سماجی انصاف کی تحریکوں اور نظام” نے انہیں جو کچھ دیا ہے وہ اسکے علاوہ کچھ نہیں کہ ان کے سماجی اور جذباتی معاملات میں انہیں غیر فعال کیا جا رہا ہے، ایک غیر منصفانہ صنفی درجہ بندی کرکے اصناف کے درمیان مصنوعی طور پر فاصلے بڑھائے جا رہے ہیں، مردوں کے اذہان اور نفسیات پر ایک غیرضروری احساس جرم کا بوجھ لادا جا رہا ہے اور انہیں یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ماضی میں وہ مراعات یافتہ تھے اورانہوں نے عورتوں پر بہت ظلم کئے ہیں اس سے مرد اور عورت کے درمیان ایک اجنبیت پیدا ہو رہی اور انکے رشتے میں ایک وسیع خلیج حائل ہوتی جا رہی ہے۔ ایسی صورتحال میں پیٹرسن کی مداخلت جس کو وہ “مردانگی کا بحران” کے نام سے بتاتا ہے بالکل بروقت اور گہری بصیرت کی حامل ہے کیونکہ جہاں معاشی خدمات فراہم کرنے والے کی حیثیت سے مردانہ معاشرتی کردار کے قدیم تصور اور Demography کو افرادی قوت میں خواتین کے بڑھتی ہوئی تعداد کے ذریعے ختم کیا جا رہا ہو، اس سلسلے میں انکے روائتی کردار کو تیزی کے ساتھ محدود کیا جا رہا ہو، ثقافتی اداروں میں کشیدگی کے ذریعے قابل قدر ثقافت اور تاریخ کی علامات کو مٹایا جارہا ہو، مرد اور عورت کے مابین صدیوں سے قائم ایک جنسی محبت کے تعلق کو دشمنی میں تبدیل کیا جارہا ہو تو ایسی صورت میں نوجوان مردوں کا مضطرب اور بے چین ہونا اور آج کے دور کی ماڈرن خواتین کے ساتھ اس حوالے سے کوآپریٹ نہ کرنا بالکل قابل فہم ہے کیونکہ ان ماڈرن اور نوجوان خواتین کے ذہنوں میں مرد کے خلاف بد اعتمادی ایک باقاعدہ تربیتی پروگرام کے تحت بھری جا رہی ہے اور یہ خواتین بظاہر “نسوانی مرد” کو پسند کرنے کا اظہار کرتی ہیں لیکن انکے دل کے اندر اب بھی ایک مضبوط اور طاقتور مرد ہی بسا ہوا ہے اب اس صورتحال نے مرد کو ایک دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو قابل قبول صورت میں کیسے پیش کرے، اگر وہ مضبوط اور طاقتور مرد کے طور پر پیش کرتا ہے تو اسے مجرم اور ظالم گردانا جاتا ہے اور اگر “نسائی مرد” کے طور پر پیش کرتا ہے تو نہ اسکے جذبات اور نفسیات کی تسکین ہوتی ہے اور نہ عورت کی اب ایسی صورتحال میں مرد کیا کرے؟ اور جب مرد کے جذبات کی تسکین نہیں ہوتی تو لامحالہ وہ عورت کا احترام بھی نہیں کرتا۔ یہ ہے وہ اضطراب اور مخمصہ جس میں یورپ اور امریکہ کی موجودہ سوسائٹی پھنس چکی ہے۔

ایک تحقیقی ادارے Samaritans کے مطابق یورپ اور امریکہ میں پندرہ سال سے چونتیس سال کی عمر کے مردوں میں خودکشی کے رجحانات کی شرح میں پچھلے دس سال میں عورتوں کی نسبت تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ اس ادارے کے سربراہ Claire Wyllie کا کہنا ہے کہ مرد بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ یہ توقع کرتے ہیں کہ انکی ایک شریک حیات ہوگی اور بچے ہونگے جن کے ساتھ وہ اپنا غم غلط کریں گے اور سب باہم ایک دوسرے کی دلجوئی کریں گے لیکن جب انکو لگتا ہے کہ وہ بڑھتی ہوئی عمر کے دائرے میں بالکل ہی مختلف انداز سے داخل ہو رہے ہیں اور انکی پدرانہ خواہش کی تسکین کی کوئی توقع نہیں اور انکا معاشرہ انکے بارے میں صرف یہ سوچ رکھتا ہے کہ وہ تو محض “روزی اور روٹی کمانے والے کارندے” ہیں تو وہ ایک ایسی مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں جو خودکشی پر منتج ہوتی ہے۔ Wyllie مزید کہتا ہے کہ مردانہ خودکشی کی شرح “معاشی ماحول” سے بہت باخبر ہوتی ہے اور مردوں کی معاشی بدحالی اورپدرانہ توقعات کو باہم ایک ہی مسئلہ سمجھنا چاہیے۔ جب صنف مخالف کے ساتھ جڑی ہوئی فطری امیدیں، بازار کے غیر فطری اور غیر حقیقی اتار چڑھائو کے ساتھ غیر مستحکم ہونے لگتی ہیں تو یہ صورتحال نہ صرف مردانہ شناخت کیلئے مضر ثابت ہوتی ہے بلکہ اس کے بہت ہی مضر اور جان لیوا اثرات اسکی ذہنی اور جسمانی صحت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے پیٹرسن جو کچھ پیش کر رہا ہے شاید وہ مسئلے کا حل نہ ہو بلکہ محض سبب کو ہی بیان کر رہا ہو لیکن بہرحال اس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

شمالی امریکہ میں پیٹرسن کوئی واحد اسکالر نہیں ہے جو مردانگی کے بحران کے موضوع پر گفتگو کرتا ہے بلکہ Alia Wong کے مطابق اس بات پر اکثر امریکی دانشوروں کا اتفاق ہے کہ امریکہ میں “مردانگی کا بحران” پایا جاتا ہے اور یہ بحران امریکی معاشرے کو نقصان پہنچا رہا ہے جس سے مردوں کے تعلیمی نتائج، خواتین کی فلا ح و بہود اور عوام کی حفاظت کے معاملات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ جب مرد محسوس کرتے ہیں کہ انکی مردانگی کو للکارا جارہا ہے تو وہ جنگ کی حمایت کرتے ہیں، اور اس بات کی حمایت کرتے ہیں کہ ہم جنس پرستوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جائے، وہ منشیات وغیرہ میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں، اور یہ بھی امکان ہے کہ وہ جنسی زیادتی اور زور، زبردستی کی حمایت کرنے لگ جائیں۔

کارلا کلارک Carla Clark اپنے ایک مضمون میں مرادنگی کے بحران کے حوالے سے ایک تحقیقاتی رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ اس تحقیق کے دوران جب مردوں سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ موجودہ دور کے اصناف کے نظریات کا اپنے ذہن پر ایک دبائو محسوس کرتے ہیں تو انکا جواب قطعی ہاں میں تھا۔ اس تحقیق کے مطابق اگرچہ مردوں نے نسوانیت کے کچھ پہلوئوں کو آہستہ آہستہ قبول کر لیا ہے لیکن انہوں نے ابھی تک نسل در نسل چلنے والے اس نظریے کو اپنے دماغ سے محو نہیں کیا کہ مرد انگی مضبوط چٹان کی مانند اٹل چیز ہوتی ہے۔ اس تحقیق میں Stanford University کے مرد طالب علموں کی مردانہ انا کا مطالعہ کیا گیا اور محققین اس نتیجے پر پہنچے کہ جو مرد، اپنی مردانگی کو خطرے میں محسوس کرتے ہیں وہ زیادہ جارحانہ اور متشدد انداز اپنانے کو پسند کرتے ہیں اور ان میں خودکشی، قتل و غارت گری، کے رجحانات پائے جاتے ہیں اس مطالعے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نسائی نظریات کے وسیع طور پر پھیلائو کے باوجود شاید مرد اپنی مردانگی کی صفت سے کبھی بھی دستبردار ہونے کیلئے تیار نہیں ہوگا۔

ولکنسن Wilkinson کے مطابق مردانگی کے جوہر میں تین اہم چیزیں موجود ہوتی ہیں جن کو مرد کی فطرت کہہ سکتے ہیں، اس میں سب سے پہلی، اہم اور بنیادی چیز “لڑنے کیلئے ایک جنگ” ہے اور بعض اوقات یہ جنگ صرف استعاراتی شکل میں نظر آتی ہے جیسے مرد اپنے گھر کو چلانے کیلئے معاشی جنگ لڑتا ہے، اسی طرح کاروبار میں اپنے مخالف پر برتری قائم رکھنے کی جدوجہد وغیرہ بھی اسی زمرے میں آتی ہے۔ دوسری چیز ہے “زندگی میں مہم جوئی اور سنسنی خیزی”، اسکی کئی مثالیں ہیں مثلاً سائیکل، موٹر سائیکل پر کرتب دکھانا، کار ریسنگ مختلف مقامات کا سفر وغیرہ وغیرہ۔ اور تیسری چیز ہے “حسن کا تعاقب” یعنی ہر مرد اپنی زندگی میں ایک خوبصورت عورت چاہتا ہے۔ ولکنسن مزید کہتا ہے کہ چونکہ مرد کی اس فطرت کا علم رکھنے والے کاروباری لوگ اپنی مصنوعات کو بیچنے کیلئے مرد کی اس فطرت کا غلط استعمال کر تے ہوئے مردوں کو گمراہ کرتے ہیں اور انہیں یہ باور کراتے ہیں کہ “حسن کا تعاقب” کا مطلب “سیکس کا تعاقب” ہے اور وہ اپنی اس خواہش کو پورا کرنے کیلئے کسی بھی خاتون کو خرید سکتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیکس وہ چیز نہیں ہے جو طویل المدت تعلقات میں مرد کو اچھا مرد یا اچھا انسان بناتی ہے۔ اسی طرح طاقت اور قوت، مردانگی کی صفات ہیں لیکن طاقت کا مطلب ذمہ داری ہے بد عنوانی نہیں ہے طاقتور کی قدر صرف اسی وقت ہوتی ہے جب وہ طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ عاجزی اور انکساری کی صفت بھی رکھتا ہو۔ تو گویا مردانگی کی اصل صفات کا کوئی متبادل نہیں ہے اور اگر کوئی متبادل کو اصل صفات کے طور پر اپناتا ہے تو وہ ضرور بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ مثلاً کسی عورت کو باقاعدہ بیوی بنا کر رکھنے کی بجائے پورن دیکھنے کی لت میں پڑنا یا نشہ، منشیات اور شراب نوشی کی لت میں پڑتا، اصل مہم جوئی کی بجائے گیمز کے ذریعےمصنوعی مہم جوئی پر اکتفا کر لینا وغیرہ۔

ولکنسن اس بحران پر قابو پانے کا حال یہ بتاتے ہیں کہ مردوں کو ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور ایک ذمہ دار مرد ہی خود شناس مرد ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے مغرب میں مرد کو “وہ کیا کرتا ہے” کی بنیاد پر تسلیم کیا جاتا ہے نہ کہ “وہ کیا ہے” کی بنیاد پر، اس لئے پیچھے آنے والی نوجوان نسل اسی غیر صحت مندرویے کی وجہ سے بے راہروی کا شکار ہو رہی ہے۔ Kimmel کے مطابق ایک اچھے آدمی اور ایک حقیقی آدمی کی تعریف میں فرقی کیا جاتا ہے جب پوچھا جائے کہ ایک اچھا آدمی کیا ہوتا ہے تو اسکے جواب میں سب کہتے ہیں کہ اچھا آدمی وہ ہوتا ہے جو اپنی ذمہ داری اور فرض کو پورا کرتا ہو، قربانی دینے ولا ہو، کمزوروں اور چھوٹوں کی حفاظت کرنے والا ہو لیکن حقیقی آدمی کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ جو مضبوط ہو، مستحکم ہو، امیر ہو، وغیرہ وغیرہ۔ اور اسکے مطابق یہی وہ حقیقی آدمی کا تصور ہے جو ہمیں اچھا آدمی بننے سے روکتا ہے۔

مائیکل سالٹر Michael Salter اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ پچھلے کئی سالوں سے یورپ اور امریکہ میں “زہریلی مردانگی Toxic Masculinity” کی اصطلاح عام استعمال کی جاتی ہے جسے مردوں کی طرف سے عورتوں پر ہونے والے تشدد اور جنسی حملے کے معنوں میں لیا جاتا ہے۔ جب سے یہ اصطلاح زبان زد عام ہوئی قدامت پرستوں اور ماڈرنسٹوں کے درمیان اس پر مباحثہ چل رہا ہے۔ قدامت پرستوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مردوں کے حوالے سے خودکشی، منشیات کے استعمال جیسے چیلنجوں کا سامنا ہے اور ایسی صورتحال میں اس اصطلاح کا استعمال مردانگی پر ایک واضح حملہ ہے۔

کونیل Connell نے اپنی ایک تحقیق میں بتایا ہے کہ معاشرے میں عام طور پر معاشرتی احترام، جسمانی طاقت اور جنسی طاقت کے آئیڈیل مشہور ہوتے ہیں اور مشکل اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ان آئیڈیل کا حصول ممکن نظر نہ آ رہا ہو توان آئیڈیلز سے متاثر ہونے نوجوانوں میں مایوسی اور اضطراب لاحق ہو سکتا ہے۔ اسکے خیال میں مردانہ تشدد وغیرہ مرد انگی کی فطرت میں داخل نہیں ہیں بلکہ یہ ایک خاص قسم کے سیاسی اور سماجی ماحول کی عکاسی کرتے ہیں۔ “زہریلی مردانگی” کی اصطلاح کو اگرچہ زیادہ تر فیمنسٹ رہنمائوں کی طرف سے استعمال کیا جاتا ہے لیکن الکحل، شراب اور دیگر نشہ آوار چیزیں بنانے والی کمپنیاں بھی اسکی حمایت کرتی ہیں کیونکہ نشے اور تشدد کے مابین ایک گہرا تعلق موجود ہے اور نشہ آور اشیاء بنانے والی کمپنیاں یہ چاہتی ہیں کہ مردوں اور عورتوں کے درمیان متشدد رویوں کی وجہ سے ایک خلیج حائل رہے تاکہ اسکے نتیجے میں شراب بکنے کا کاروبار خوب چلے۔ اس لئے وہ اس اصلاح کو خوب استعمال کرنے کیلئے مالی معاونت بھی فراہم کر رہی ہیں۔ زہریلی مردانگی کی اصطلاح کا تصور اس مفروضے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ مردانہ تشدد اور دیگر معاشرتی پریشانیوں کی وجوہات ہر جگہ یکساں ہیں اور ایک جیسی ہیں لیکن کونیل کے خیال میں ایسا نہیں ہے اسکے خیال میں اسکی جڑیں سفید فام، دولت مند طبقے میں واضح ہوتی ہیں جہاں مردانہ تشدد اور جنس پرستی ایک عام بات ہے۔

Sam de Bois، مردانگی کے حوالے سے اپنے ایک اداریے میں لکھتے ہیں کہ جنوری 2019 میں امریکن سائیکالوجی ایسوسی ایشن APAنے مردوں اور لڑکوں کے ساتھ کام کرنے کے بارے میں، اور خاص طور پر ان مردوں کے ساتھ کام کرنے میں جو مردانگی کے روائیتی تصور کی پاسداری کرتے ہیں، کچھ رہنما اصول جاری کئے۔ اس دستاویز میں اے پی اے نے روائتی مردانگی سے جبری سلوک، مسابقت، غلبہ اور جارحیت کے معنی مراد لئے۔ (Pappas 2019)۔ بعد ازاں جب میڈیا نے اے پی اے کی ان سفارشات کی تشہیر کی تو اسے “زہریلی مردانگی Toxic Masculinity” کے بارے میں رہنما سفارشات قرار دیا۔ یعنی می ٹو تحریک #Me too تو 1980 سے اس طرح کے الفاظ اور اصطلاحات استعمال کر رہی تھی لیکن اب عام میڈیا نے بھی مناسب موقع دیکھ کر می ٹو کی اصطلاحات کو اے پی اے کی سفارشات پر فٹ کر دیا۔ تشدد کی جن کاروائیوں کی طرف اس اصطلاح کو منسوب کیا جاتا ہے ان میں سے ہر ایک کا پس منظر مختلف ہوتا ہے، یہ پس منظر قوم پرستی، نسل پرستی، ذاتی لڑائی، جھگڑا، ذہنی خرابی، نشہ، جوا وغیرہ کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن اب میڈیا ہر طرح کے تشدد پر یہی اصطلاح فٹ کر دیتا ہے جس سے اس اصطلاح کے معنی میں پیچیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ شروع شروع میں پرتشدد رجحانات والے مخصو ص مردوں کو عام مردوں سے الگ کرنے کیلئے Masculinity کی اصطلاح وضع کی گئی پھراسکے ساتھ لفظ “زہر Toxic” جوڑا گیا اور بتایا گیا کہ ان مخصوص افراد میں پائی جانے والی مردانگی، زہریلی نوعیت کی ہے لیکن اب اس اصطلاح کو عام مردوں کیلئے بلا تخصیص استعمال کیا جا رہا ہے۔ وہ فیمنسٹ جو مردوں سے نفرت کرتے ہیں اس اصلاح کو استعمال کرکے یہ تاثر دیتے ہیں کہ یہ اینٹی فیمنزم اصطلاح ہے اور اسکے ذریعے وہ تمام مردوں کو تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔ اور ان میں سے کچھ ریڈیکل فیمنسٹ تو یہ بھی استدلال کرتے ہیں کہ مردانگی کے ساتھ “زہریلی” کا لفظ استعمال کرنا غیر ضروری ہے کیونکہ مردانگی کے لفظ میں پہلے سے ہی زہریلے پن کا تصور پایا جاتا ہے۔

پیٹرسن، بائیبل، نٹشے، مائیکل اینجلو Michelangelo اور سقراط کی طرف رجوع کرتےہوئے استدلال کرتا ہےکہ انسانی ثقافت کے پچھلے پانچ ہزار سالوں میں مایوسی کا شکار ہوئے بغیر دنیا کے مصائب کا سامناکرنے کے بارےمیں اہم نظریات پائے جاتے تھے۔ وہ لوگ بھی ہمارے ہی جیسے تھے لیکن وہ مصائب کا سامنا کرتے تھے، مصائب سے گھبرا کر خودکشیاں نہیں کرتے تھے۔ وہ اپنی کتاب “زندگی کے 12 اصول” میں لکھتے ہیں کہ اپنی زندگی خود بنائیں، اور دوسروں کو یہ زندگی بنانے میں مدد کریں، ہر چیز زیادہ قابل برداشت طریقے سے اور آسان طریقے سے سر انجام دیں، سب سے پہلے اپنے ارد گرد کی چیزوں کو بہتر بنانا شروع کریں۔ اگر آپ کو معلوم نہیں ہے کہ یہ کام کہاں سے شروع کرنا ہے تو بس سیدھے کھڑے ہو جائیں، وقار کے ساتھ کام کریں، ذمہ داریوں کو کندھا دیں، ظالمانہ قوتوں کا مقابلہ کریں، دوستوں کا انتخاب سمجھداری سے کریں، کھل کر بولیں، اپنے آپ سے جھوٹ بولنا بند کریں، اپنی ناکامیوں کا الزام دوسروں کو مت دیں، اپنی المناک کہانیاں بیان مت کریں۔ وہ مزید کہتا ہے کہ تشدد کوئی پوشیدہ چیز یا راز نہیں ہوتا، یہ امن ہے جو پوشیدہ ہوتا ہے، تشدد کا راستہ آسان راستہ ہے، امن کا راستہ مشکل راستہ ہے، تشدد کیلئے نہ تربیت کی ضرورت ہے نہ سیکھنے کی لیکن امن ایک شعوری کوشش کا نام ہے اسکو قائم کرنے اور باقی رکھنے کیلئے انتہائی کوشش کرنا پڑتی ہے۔

Louise Perrry اپنے ایک فیچر میں لکھتی ہیں کہ اگر غور کیا جائے تو پیٹرسن کا کام فیمنسٹ اسکالرز کیلئے بہت کام کی چیز ہے بشرطیکہ فیمنسٹ اسکالرز اور ایکٹیوسٹ اپنے کام میں سنجیدہ ہوں۔ پیٹرسن حقائق سے منہ نہیں موڑتے وہ صاف کہتے ہیں کہ جنسی تشدد بری چیز ہے اور یہ ہوتا ہے، یہ سب اصناف کی طرف سے دوسری اصناف پر ہوتا ہے اس میں مرد کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے مرد کی طرف سے زیادہ ہوتا ہو۔ پیٹرسن میں کئی انسانی کمزوریاں ہو سکتی ہیں لیکن وہ غیر سنجیدہ آدمی نہیں ہے۔ جس طرح پیٹرسن مشورہ دیتا ہے اگر اس فیمنسٹ تحریک اس پر عمل شروع کر دے تو یہ تحریک ہر گھر میں پہنچ جائے گی، پیٹرسن انکا کام آسان کر رہا ہے، وہ تو مردوں سے کہہ رہا ہے کہ گھر کی ذمہ داریاں سنبھالوں، عورتوں اور بچوں اور گھر والوں کی مدد کرو، اپنی زوجین کے ساتھ دیانت اور وقار کے ساتھ رہو، فحش دیکھنا چھوڑ دو، سیکس انڈسٹری کے آلہ کا ر نہ بنو، زندگی کے ہر شعبے میں اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرو وغیرہ وغیرہ, اگر فیمنزم کے بھی یہی مقاصد ہوتے تو وہ پیٹرسن کی حوصلہ افزائی کرتے لیکن انکی مخالفت بتا رہی ہے کہ وہ ایسا نہیں چاہتے بلکہ وہ تو مرد اور عورت کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کرنا چاہتے ہیں وہ چاہتے ہی نہیں کہ مرد اور عورت کے تعلقات اچھے ہوں وہ مردوں پر الزام تراشی کرکے، انہیں دھتکار کر مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا دشمن بنانا چاہتے ہیں۔

گرانٹ میکسویل Grant Maxwell کہتے ہیں کہ کچھ اسکالرز کا خیال ہے کہ ہمیں نوجوانوں کو معاشرتی وقار کے متبادل ذرائع بھی پیش کرنے کے طریقوں کے بارے میں سوچنا چاہیے جو کم نقصان دہ ہیں، کیونکہ ہم جب ورکشاپس کے ذریعے صرف مردوں کو “زیادتی نہ کرنے” کا درس دیتے ہیں تو اس سے کنفوژن اور ناراضگی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، پیٹرسن کم ازکم اس مسئؒلے پر ان مصنفین سے زیادہ سنجیدگی سے سوچ رہا ہے جنہوں نے “صنف اور جنسیت” کے موضوع پر بے شمار گلابی کتابیں لکھیں لیکن نتائج کچھ نہیں نکلے۔

پیٹرسن کے نظریات کی طر ف راغب ہونے والے لوگوں کو یہ گہر ا احساس ہے کہ معاشرے میں ان کا غالب کردار ختم ہو رہا ہے اور اسکی بنیادی وجہ فیمنسٹ ماڈرن ازم ہے، سیاست پر نظر رکھنے والے تمام لوگ اس شکایت سے واقف ہیں اور یہ انکی لئے کوئی نئی خبر نہیں ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ مابعد جدیدیت Postmodernism نے ایک طرح سے جدید موت کی تشکیل کا سامان کیا ہے اور یقین اور استحقاق کے اس دور کا خاتمہ کیا ہے جس کا تجربہ سفید فام مردوں کو حاصل تھا۔ ہیگل، ولیم جیمز، ہنری برگساں، ژونگ، الفریڈ نارتھ وائٹ ہیڈ جیسے نظریہ سازوں کے مطابق “مابعد جدیدیت Post Modernism”، کسی نئے دور کی بصیرت کے بغیر صرف پچھلے دور کے خاتمے کا اعلان ہے۔ یہ بصیرت Jacques Derrida کے پاس ہو تو ہو مگر اور تو کہیں نظر نہیں آتی لیکن اس نے بھی صرف عالمی نظریات کے مابین ایک عبوری لمحہ، اور نئے رشتوں کے جدید انداز میں ظہور کیلئے راستہ صاف کرنے کیلئے جدید مفروضوں کی تشکیل نو کا کام کیا ہے۔ لیکن اس طرح کے کسی بھی “مرحلہ وار منتقلیPhase transition” کے کام خواہ وہ سائنس اور سیاست میں انقلاب برپا کرنے کے پیمانے پر ہو، یا انفرادی نفسیات میں کامیاب تجربات کے حصول پر مبنی ہو، پہلے سے موجود مستحکم نظام کو ایک شدید بحران سے ضرور دوچار کرتا ہے، اب اگر اس نظام کو باقی رکھنے کی خواہش کی بھی جائے توبھی اسکی تنظیم نو کے بغیر یہ امید نہیں کی جا سکتی۔

تمام روائیتی ثقافتوں میں کچھ ایسی رسوم اور مشقیں ہوتی تھیں جو ہر فرد کو نوعمری سے جوانی کی طرف منتقلی کے دوران ایک خاص طرح کی نفسیاتی اور جذباتی تربیت کرتیں ہیں جس سے فرد کا ماضی اور حال اس خوبصورتی سے جڑ جاتا کہ اسے ایک فیز سے دوسرے فیز میں منتقلی کے دوران کسی زیاں کا احساس تک نہیں ہوتا اور یوں فرد کی شناخت اور انا ہر فیز کے دوران اسی طرح قائم و دائم رہتی ہے۔ پچھلے دور کی موت سے ایک زیادہ توانا اور پختہ شعور ابھرتا ہے جس میں انا اور شناخت زیادہ نفیس شکل اختیار کر جاتیں ہیں لیکن پوسٹ ماڈرن ازم کی تبدیلی ایک “یک لخت تبدیلی” ہے جس نے فرد کی شناخت، انا، نفسیات اور جذبات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس ٹوٹ پھوٹ کے عمل اور کیفیت سے مغربی یورپ اورشمالی امریکہ کے سفید فام افراد زیادہ متاثر ہوئے ہیں کیونکہ ان کی ثقافت پورے مغرب کی ثقافت کا ایک مرکز تصور کی جاتی تھی۔ جیسا کہ فلسفی Richard Tarnas اور ماہر نفسیات James hollis نے تجویز کیا ہے کہ ہم ایک اجتماعی آزمائش سے گزر رہے ہیں جس میں جدیدیت کی خصوصیت رکھنے والی مغربی ثقافت کی جوانی ختم ہو رہی ہے اور یہ زیادہ پختہ عمر میں ڈھل رہی ہے لیکن ان رسومات کا فقدان، بری طرح محسوس ہو رہا ہے جو افراد اور اجتماعی ثقافت کو بچپنے سے جوانی اور پھر جوانی سے بلوغت کے درمیانی سفر میں آنے والی تکالیف کو آسانیوں میں بدل دینے کا ایک متبادل بیانیہ پیش کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پیٹرسن اور ٹرمپ کی باتیں مغربی یورپ اور نارتھ امریکہ کے سفید فام افراد کو بہت پر کشش محسوس ہوتی ہیں کیونکہ انکی باتیں، انا کی اس جبلت کا مظہر Manifestation ہیں جو خود کو افراتفری اور لاشعوری قوتوں کے تاریک سمندر سے بچانے کیلئے، اپنے معمول کے ڈھانچے سے چمٹے رہنا چاہتی ہے۔

اس موضوع پر مزید مضامین کا مطالعہ کریں:

1۔جورڈن پیٹرسن : فیمنزم کے ستائے ہوئے مردوں کا مسیحا —- وحید مرادفیمنزم : نظریہ، تحریک، اہداف اور کردار —- وحید مراداستشراق نو کی خواہش: عالمی ہم جنس پرست اور عرب دنیا — Joseph Massad — ترجمہ و تلخیص: وحید مراد

نوٹ: “دانش” ایک خالصتاً علمی فورم ہے اسکا کسی سیاسی تحریک، تنظیم یا ادارے سے کوئی تعلق نہیں، یہاں پر شائع ہونے والے مضامین اور ان میں پیش کئے جانے والے خیالات و نظریات سے ادارہ دانش کا متفق ہونا ضروری نہیں، ان خیالات اور نظریات کے رد میں اگر کوئی لکھنا چاہیے تو دانش کے صفحات اسکے لئے بھی حاضر ہیں۔


صنف اور سماج سے جڑے موضوعات پہ ایک گفتگو اس وڈیو میں ملاحظہ کیجئے:

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20