سقوط قرطبہ: 29 جون —– محمد قرطبی

0

ہمیشہ کی طرح سقوط قرطبہ کا دن خاموشی سے آکر گزر جاتا ہے۔

خاموشی سے نہ بھی گزرے، چیختا چنگھاڑتا، ہماری غفلت و بے حسی کا زور وشور سے ماتم کرتا بھی آئے تب بھی ہم پر کیا اثرات چھوڑے گا…؟

یہ کوئی واحد پہلا اور آخری سقوط تو تھا نہیں اور نہ ہی ہے۔ سال میں آنے والے سبھی ایام ہی شاید کسی نہ کسی شہر کے یوم سقوط ہوں، لیکن ہم کبھی سبق سیکھنے کو تیار ہی نہیں ہوتے۔

لیکن قرطبہ کا تو ایک الگ ہی مقام تھا اور ہمیشہ رہے گا…!

ایک طویل عرصہ تلک اسلامی اندلس کا دارلحکومت رہا اور محض اندلس کا دارلحکومت ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کا تہذیبی وعلمی گہوارہ اور اہم مرکز بھی۔ اس سے پھوٹنے والی علم و خیر کی کرنیں محض عالم اسلام ہی نہیں بلکہ قرون وسطیٰ میں یورپ کو بھی منور کرتی رہیں، یورپ بھر سے طلباء طب و سائنس اور فلکیات کی تعلیم حاصل کرنے یہاں جوق در جوق آیا کرتے تھے۔ دنیا بھر میں بغداد کے بعد اس کا علمی مقام مسلم تھا بلکہ کچھ معاملات میں تو بغداد سے بھی برتر تھا۔

اور پھردنیا بھر کے شہروں پر فائق وبرتر اسلامی تہذیب و تمدن کا یہ اہم ترین مرکز بڑی خاموشی سے زوال پذیر ہو گیا۔ مجھے تجسس رہتا تھا کہ اس شہر کاسقوط کیسے عمل میں آیا ہو گا، شہر کے باسیوں اور اندلس کے حکمرانوں نے اپنی بے حمیتی کے باوجود یقینا اس کے دفاع میں جاں توڑ جنگ لڑی ہوگی، لیکن تلاش کے باوجود اس کے سقوط کے واقعات نہ ملے، بس چند سطور میں اس کے سقوط کا قصہ نمٹا دیا جاتا۔

غرناطہ اس سے کہیں زیادہ خوش قسمت رہا جس کے سقوط پر دسیوں کتابیں لکھی گئیں، آخری ایام کے روزنامچے مرتب ہوئے، سقوط کے بعد مسلمانوں کی مزاحمت کے نئے باب رقم ہوئے لیکن قرطبہ کا سورج بڑی گمنامی سے غروب ہوا۔

اردو کا تو خیر ذکر ہی کیا …! عربی کتب میں بھی سقوط قرطبہ کا واقعہ چند جملوں میں سمیٹ دیا گیا، اس سلسلے میں اردو میں تاریخ اندلس پر مسٹرسکاٹ کی تحریر کردہ کتاب جس کا اردو ترجمہ خلیل الرحمٰن صاحب نے کیا میں کچھ تفصیل اور اسی طرح عربی میں مشہور مصری مؤرخ محمد عبداللہ عنان کی کتاب دولۃ الاسلام فی الاندلس میں نسبتا زیادہ تفصیل سےذکر ملتا ہے۔ ذیل میں ذکر کردہ تفصیل انھیں کی کتاب سے اخذکر دہ ہیں۔

درحقیقت جنگ العقاب (Battle of Las Navas de Tolosa) میں الموحدین کی شکست اسلامی اندلس کی شکست وریخت کا آغاز تھی، فرڈیننڈ اور ابن ہود( اندلس کے جنوب مشرق علاقے کا حاکم ) کے مابین عارضی جنگ بندی قائم تھی، لیکن وہ وعدہ ہی کیا جو ایفاء کیا جائے بالخصوص جب ارباب کلیسا اسے یہ شہہ دینے کیلئے موجود تھے کہ ان مسلمانوں کے ساتھ کیا گیا عہد کوئی اخلاقی و مذ ہبی جواز نہیں رکھتا، چنانچہ فرڈیننڈ محض کسی اچھے موقع کی تاک میں تھا۔ دوسری جانب مسلم حکمران بجائے اس کے کہ ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے جنگ بندی کے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے اور اپنے آپ کو مضبوط کرتے باہم دست وگریباں تھے۔ ابن الاحمر اور ابن ہود کی باہم چتلقش جاری تھی، اور اس دوران ہی فرڈیننڈ کو قرطبہ پر قبضہ کرنے کا موقع بھی میسر آ گیا۔

1236 ء کے اوائل میں قشتالوی سواروں کی ایک جماعت جو کہ سرحدی پیشہ ور لٹیرے لوگ تھے نکلے (جنہیں ایک روایت کے مطابق فرڈیننڈ نے قرطبہ کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے بھیجا تھا)، ان کی اکثریت قرطبہ کے مشرق میں واقع اندوجر کے علاقے سے تعلق رکھتی تھی، انھوں نے قرطبہ کا رخ کیا۔ جب رات ہوئی تو شہر کے قریب آئے۔ اس وقت قرطبہ شہر پانچ حصوں یا محلوں میں تقسیم تھا۔ ہر علاقے کے درمیان حد فاصل دیوار تھی۔ جس میں پہلا علاقہ جو مشرقی قرطبہ کا علاقہ تھا مشرقی حصے یا الشرقیہ کے نام سے معروف تھا، اور اس سے ملحق علاقہ “المدینہ” کے نام سے جانا جاتا تھا جو الشرقیہ کے مغرب میں واقع تھا، یہ دونوں حصے الشرقیہ اور المدینہ دریائے وادی الکبیر کے شمالی کنارے پر واقع تھے۔ جب قشتالوی سوار المشرقیہ کے نواح میں پہنچے جو کہ انتہائی کم تعداد میں تھے، روایات میں ان کی تعداد کا ذکر نہیں، شاید دسیوں کی تعداد میں تھے تو انھوں نے فی الفور اس پرحملے کا منصوبہ بنایا۔ یہاں اس منصوبے کی تفصیلات کے بارے میں مختلف روایات ہیں، ایک روایت کے مطابق ان سواروں نے کچھ مسلمانوں کو گرفتار کرلیا جو کہ اپنے قائدین سے خفا تھے اور ان کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ شہر پر سخت پہرا ہے، انھوں نے آپس میں طے کیا کہ الشرقیہ کی دیواروں میں شگاف ڈالنے کا عمل شروع کریں، اس طرح سے وہ دیواروں پر حملہ کرنے میں کامیاب ہوئے اور ایک رات جب تیز آندھی آئی انھوں نے برجوں پر قبضہ کر لیا۔

ایک دوسری روایت میں کچھ مسلمانوں نے خاص طور پر ایک مسلمان جس نے نصرانیت قبول کر لی تھی، قشتالیوں کی ان کے منصوبے میں مدد کی، اور انھیں بتایا کہ الشرقیہ میں چند ایک لوگ ہی باقی رہ گئے ہیں اور اس کی بیرونی دیواروں پر پہرا کمزور ہے، اس طرح سے قشتالوی اس نصرانیت قبول کرنے والے غدار کی مدد سے دیواروں پر چڑھ کر اچانک حملہ آور ہو کر الشرقیہ پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔

یہ دیوار بیرونی دیواروں میں سے پہلی دیوار تھی، وہ دیوار نہیں جو کہ الشرقیہ کو باقی شہر کے محلوں سے الگ کرتی ہے۔ اہل الشرقیہ کی بہت بڑی تعداد قتل ہوئی اور باقی شہر کے اندر بھاگ نکلے، نصاریٰ نے فصیل کے کچھ مضبوط برجوں پر قبضہ کر لیا، شہر میں اضطراب پھیل گیا، اور دفاع کرنے والے نصاریٰ پر حملہ کرنے کیلئے آگے بڑھے، فریقین کی کافی تعداد ماری گئی لیکن نصاریٰ اپنے برجوں میں ثابت قدم رہے۔ اور انھوں نے فی الفور مزید کمک کیلئے قاصد دوڑائے، اسلامی روایات اس ناگہانی حملے کا اختصار ان الفاظ میں پیش کرتی ہیں : اس سال نصرانیوں نے قرطبہ کے شرقیۃ حصے پر رات کے آخری حصے میں سحری کے وقت کی غفلت میں حملہ کیا، شوال کی 3 تاریخ تھی، اللہ رب العزت نے عورتوں اور بچوں کو محفوظ رکھا کہ وہ الغربیۃ پہنچ گئے، اور باقی لوگوں نے ان کے خلاف شدید جنگ کی۔

قشتالیوں کی پکار سرحدی علاقوں تک تیزی سے پہنچ گئی، اور فی الفور سرحدی سالار وں میں سے دو آرڈنیو باریتھ اورالباربیرتھ اپنی سپاہ لے کر ان کی طرف مدد کیلئے روانہ ہوئے۔ ان دونوں کے پیچھے بیاسہ کا اسقف بھی اپنی سپاہ کے ہمراہ چل پڑا، اس کے بعد قونقہ کے اسقف نے بھی اپنی سپاہ کے ہمراہ پیش قدمی کی، اس کے بعد دوسرے لوگ بھی محاصرہ کرنے کیلئے نکل کھڑے ہوئے۔ جلد ہی یہ خبریں فرنینڈو سوم شاہ قشتالہ تک بھی پہنچ گئیں، جو کہ لیون کے قریب” بنفنٹی” میں موجود تھا۔ اس نے بس مختصر سی تیاری کی، اس کے بہت سے وزراء اور مشاورین اس معاملے کو خطرے اور پیچیدگی کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔ کیونکہ فرنینڈو کااس وقت ابن ہود کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ تھا، اور قرطبہ ابن ہود کی عملداری میں تھا اس کے ساتھ ساتھ، قرطبہ ایک عظیم الشان شہر تھا، جہاں بہت بڑی تعداد میں مسلمان بستے تھے اور دفاع کرنے والوں کی کمی نہ تھی، اوراسے بہت بڑی سپاہ کے ساتھ ہی فتح کیا جا سکتا تھا۔ دوسری جانب ابن ہود کو بھی مجبورا اپنی سپاہ کے ہمراہ اس کی حفاظت کیلئے آنا پڑتا۔ بالخصوص قرطبہ کے دفاع کیلئے جو مسلمانوں کی نظروں میں اندلس میں مسلمانوں کا سب سے بڑا مرکز تھا اور ان کے دلوں میں اس کا خاص مقام تھا۔

ایک جانب یہ صورتحال تھی اور دوسری طرف موسمی حالات بھی انتہائی سخت تھے، سردی اپنے جوبن پر تھی اور دریاؤں کا بہاؤ تیز، لیکن شاہ قشتالہ ان رکاوٹوں کو خاطر میں نہ لایا، اور نہ ہی قرطبہ پر حملے کو نقض عہد سمجھا، کیونکہ شہر کے ہی کچھ لوگوں نے فرنینڈو کو مدد کیلئے طلب کیا تھا۔

چنانچہ فرنینڈو سوم نے فی الفور جنوب کا رخ کیا، اس کے ہمراہ محض 100 سوار تھے اور منزل قرطبہ، 7 فروری کو قرطبہ پہنچا۔ نصرانی جتھے فصیل شہر تلے پیشقدمی کیلئے پرجوش تھے، دن بدن قشتالہ اور لیون کے جنگجو ان میں شامل ہو کر ان کی تعداد میں اضافہ کر رہے تھے۔ اسی طرح مختلف دینی جماعتوں کے نائٹس بھی آ کر مل رہے تھے۔ فرنینڈو نے قرطبہ کے پل کے سامنے اپنا پڑاؤ ڈالا، جو کہ استجہ کی جانب جانے والے راستے پر تھا۔ اور شہر پر قبضے کیلئے منصوبہ بندی شروع کر دی۔

یہاں یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ اس خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے اہل قرطبہ نے کیا کیا ؟ اور بالخصوص ابن ہود کا کیا کردار تھا؟ جہاں تک اہل قرطبہ کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ پہلے لمحے سے اپنے شہر اور مرکز کے دفاع کیلئے پرعزم تھے۔ لیکن یہ بھی واضح ہے کہ دوراندیش اور مخلص قیادت سے محروم تھے، اسی طرح باہمی اتحاد واتفاق کا بھی فقدان تھا۔ بہرحال اسلامی روایات سے علم ہوتا ہے کہ اہل قرطبہ نے نصاریٰ کے خلاف شدید مزاحمت دکھائی، لیکن کسی ایسے قائد یا سالار کا نام نہیں ملتا جس کے جھنڈے تلے اہل قرطبہ نے ان پریشان کن حالات میں اپنے دفاع کی جنگ لڑی۔ اگرچہ نصرانی روایات میں ذکر ملتا ہے کہ ان کی مزاحمتی جنگ کے سالار کا نام ابوالحسن تھا۔ جبکہ ابن ہود جو کہ اس شہر کا حقیقی حکمران تھا جس کا فرض تھا کہ اہل قرطبہ کی مدد اور اس شہر کے دفاع کیلئے آتا۔ اور درحقیقت ابن ہود نے اندلس کے قدیم دارلحکومت پر امنڈتے خطرے کا علم ہوتے ہی اپنی سپاہ کے ہمراہ مرسیہ سے پیشقد می شروع بھی کی، اس کے پاس ایک مضبوط لشکر تھا جو کہ 35 ہزار جنگجوؤں پر مشتمل تھا، اس کے ساتھ 200 نصرانی کرائے کے سپاہی بھی تھے، اس نے اپنے لشکر کے ہمراہ تیزی سے قرطبہ کا رخ کیا، اور تھوڑا سا جنوب مشرق کی جانب انحراف کیا اور استجہ کے قریب اپنے لشکر کے ہمراہ پڑاؤ ڈال لیا۔ اہل قرطبہ بے چینی سے ابن ہود کی آمد کے منتظر تھے تاکہ وہ نصرانیوں کو ایک فیصلہ کن جنگ میں شکست دے سکے، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ابن ہود اگر اپنے لشکر کے ہمراہ قشتالیوں سے جنگ کرتا تو یقینا انھیں بھاری نقصان اٹھانا پڑتا اور شہر کا محاصرہ اٹھا کر پسپائی اختیارکرنا پڑتی۔

کیونکہ قشتالہ کا لشکر عددی طور پر بہت کمزور تھا، شاہ قشتالہ کے ہمراہ محض 200 سوار تھے، قشتالہ کے مختلف حصوں سے آنے والی سپاہ کوئی قابل ذکر قوت نہ تھی، لیکن ہوا یہ کہ ابن ہود اپنے لشکر کے ہمراہ پڑاؤ ڈال کر بیٹھ گیا۔ اس کے اس طرح ایک جگہ پڑاؤ ڈال کر بیٹھنے کے سلسلے میں مختلف روایات ملتی ہیں، کچھ میں کہا جاتا ہے کہ موسم شدید سخت تھا موسلا دھار بارشوں، سامان رسد کی کمی نے ابن ہود کو تاخیر کرنے اور رکنے پر مجبور کیا، تاریخ الفانسو الحکیم میں ایک اور قصہ ملتا ہے جس کا خلاصہ یہ کہ ابن ہود کے لشکر میں ایک قشتالی نائٹ تھا جو شاہ قشتالہ کے حکم سے اپنے علاقے سے جلاوطن کیا گیا تھا اس کا نام لارنس تھا، جس کے ہمراہ 200 نصرانی کرائے کے سپاہی تھے، یہ ابن ہود کے کافی قریب تھا اور ابن ہود اس پر اعتماد کرتا اور اس کے مشورے پر عمل کرتا تھا۔ جب ابن ہود نے اپنے لشکر کے ہمراہ استجہ میں پڑاؤ ڈالا اور اس کا ارادہ قشتالیوں سے جنگ کا تھا، تو اس نائٹ نے سوچا کہ کوئی بڑا کارنامہ انجام دے کر اپنے بادشاہ کی رضامندی کو دوبارہ حاصل کیا جائے اور وہ کارنامہ یہ تھا کہ ابن ہود کو قشتالیوں کے خلاف جنگ اور اہل قرطبہ کی مدد سے روکا جائے۔ چنانچہ اس نے یہ ظاہر کیا کہ وہ رات کے اندھیرے میں نصرانی لشکر کے پڑاؤ میں جا کر ان کی تعداد اور لشکر کی صورتحال کا جائزہ لے گا۔ اور واقعی لارنس اپنے ساتھیوں کے ہمراہ نصرانی چھاؤنی کی جانب گیا، اپنے ساتھیوں کو نصرانی لشکر کے قریب چھوڑا اور خود بادشاہ کے خیمے کا رخ کیا، پہریداروں سے ایک حساس معاملے کے سلسلے میں بادشاہ سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ اسے پکڑ کر بادشاہ کے پاس لایا گیا، فرنینڈو اس پر غضبناک تھا، جب اس نے اپنی مہم کی تفصیل بیان کی اور کہا کہ وہ ابن ہود کو دھوکہ دینا چاہتا ہے اور قشتالیوں کی قوت اور تعداد سے ڈراکر اسے اس جنگ سے روک دے گا تو بادشاہ نے اسے معاف کر کے انعام دینے کا وعدہ کیا۔ ان دونوں کے درمیان یہ بات طے پا گئی۔ لارنس ابن ہود کی جانب واپس لوٹا اور اسے پوری شدت سے قشتالیوں کے خلاف جنگ سے ڈرایا۔

کہ ان کا لشکر انتہائی طاقتور اور بہترین تیاری اور عددی برتری کا حامل ہے، اور اس کی رائے میں اس جنگ میں نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ابن ہود نے اس کے مشورے پر عمل کیا اور فیصلہ کیا کہ اہل قرطبہ کی مدد اور قشتالیوں کے خلاف جنگ سے دستبردار ہو جائے۔ نصرانی روایات میں ابن ہود کے اہل قرطبہ کی مدد سے باز رہنے کی یہ وجہ تھی۔ ان روایات میں مزید اضافہ یہ کہ اگلے دن ابن ہود کو بلنسیہ کے حاکم ابو جمیل زیان کی جانب سے خط ملا کہ “خایمی” اراگون کا حاکم اس کے خلاف چھیڑ چھاڑ کر رہا ہے اور اسے محصور کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس کیلئے حاکم بلنسیہ اس سے مدد کا طلب گار ہے، ابن ہود نے اپنے مشیر لارنس خواریز کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے بلنسیہ جانے کا فیصلہ کیا، اس کے دل میں اس پر قبضہ کرنے کی خواہش بھی مچل رہی تھی۔ اور قرطبہ کو اس کے حال پر اس امیدکے ساتھ چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا کہ اہل قرطبہ اس کے دفاع کی ذمہ داری نبھا لیں گے اور وہ بعد میں اہل قرطبہ کی مدد کو آ جائے گا۔ مگر یہ نصرانی روایات ہماری نظر میں ابن ہود کے طرزعمل کی کوئی قابل قبول توجیہہ پیش نہیں کرتیں۔ دوسری جانب اسلامی روایات اس سلسلے میں بالکل خاموش ہیں۔ صرف روض القرطاس کا مصنف 633ھ کے واقعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے سقوط قرطبہ کا ذکر کرنے کے بعد ایک مختصر سی عبارت میں لکھتا ہے کہ : اس سال یعنی (633ھ) شاہ قشتالہ اور ابن ہود کے درمیان سالانہ 4 لاکھ دینار کے بدلے چار سال کیلئے صلح کا معاہدہ طے پایا۔

اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن ہود اور فرڈیننڈ کے درمیان جنگ بندی یا تو ختم ہو چکی تھی یا ابن ہود کی جانب سے طے شدہ خراج کی ادائیگی نہ کر پانے کی وجہ سے منسوخ ہو چکی تھی۔ اور ابن ہود کا قرطبہ کی مدد سے دستبردار ہو جانا اس نئی جنگ بندی کی شروط میں سے تھا جس کی جانب روض القرطاس کے مصنف نے اشارہ کیا ہے۔ قرطبہ شہر کے گرد چلنے والے واقعات سے بھی اس استدلال کو تقویت ملتی ہے۔

دوسری جانب فرڈیننڈ نے قرطبہ کا محاصرہ مزید سخت کر دیا، اور تمام تر زمینی راستے اور دریائے وادی الکبیر سے آنے والے پانی کے راستے مسدود کر دئیے، تاکہ باہر سے کوئی بھی امداد یا کمک نہ مل سکے، نہ شہر میں کوئی داخل ہو سکے اور نہ ہی کسی کیلئے نکلنا ممکن ہو۔ یہ اعصاب شکن محاصرہ بغیر کسی توقف کے جاری رہا یہاں تک کہ شہر کے خوراک کے ذخائر ختم ہونے کے قریب آ گئے۔

خوراک کے تیزی سے ختم ہوتے ذخائر نے اہل شہر کو ہتھیار ڈالنے کیلئے شاہ قشتالہ سے بات چیت پر مجبور کر دیا، شاہ قشتالہ نے ان مذاکرات میں اس بات پر رضامندی ظاہر کی کہ انھیں ہتھیار ڈالنے کے بعد اپنے اموال کے ساتھ شہر سے جانے کی آزادی ہو گی۔ لیکن اس دوران اہل قرطبہ کو علم ہو گیا کہ قشتالہ کے لشکر کو بھی سامان رسد کی کمی کا سامنا ہے اور اس میں بھی غذائی مواد کی قلت ہے، چنانچہ وہ اس امید پر ہتھیار ڈالنے کے معاہدے پر دستخط کرنے سے رک گئے کہ قشتالہ کا لشکر محاصرہ اٹھانے پر مجبور ہو جائے گا۔ اور شہر ان کے قبضے میں آنے سے بچ جائے گا۔

جب شاہ قشتالہ کو محسوس ہوا کہ ابن ہود کا اس تبدیلی میں ہاتھ ہے تو اس نے فورا محمد بن الاحمر امیر جیان کی جانب وفد بھیجا اور اس کے ساتھ اتحاد کا نیا معاہدہ قائم کیا۔ حالانکہ ابن الاحمر نے ابن ہود کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کر رکھا تھا مگر وہ تھا تو اس کا دشمن ہی اور اندلس کی بادشاہت کیلئے اس کا حریف۔ اور اس سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اہل قرطبہ کا دشمن تھا کیونکہ انھوں نے اسے اپنے شہر سے نکالا تھا۔

اہل قرطبہ کو صورتحال پھرقابو سے باہر ہوتی دکھائی دی، ان کی امیدیں منہدم ہو گئیں اور وہ دوبارہ سابق شرائط پر ہتھیار ڈالنے کیلئے بات چیت پر مجبور ہو گئے۔ اس دوران محاصرے کو کئی ماہ بیت چکے تھے۔ صورتحال بالکل بگڑ چکی تھی بالخصوص ابن ہود کی جانب سے محصور شہر کی مدد نہ کرنے اور قشتالہ لشکر کے خلاف جنگ سے باز رہنے کے بعد اہل قرطبہ بالکل مایوس ہو چکے تھے۔

شاہ قشتالہ کے کچھ شدت پسند مصاحبوں اور راہبوں نے اسے مشورہ دیا کہ ہتھیارڈالنے کے اس معاہدے کو قبول کرنے سے انکار کر دے اور شہر پر حملہ آور ہو کر تمام مسلمان باسیوں کو قتل کر دیا جائے۔ لیکن شاہ قشتالہ اور اس کے دیگر کچھ مشاورین کے خیال میں یہ قدم اہل شہر کو مایوسی کی جانب دھکیلے گا اور وہ شہر کو خراب کر کے اس کی تمام تر دولت و ثروت کو تباہ کر دیں گے اور یہ مایوسی انھیں مردانہ وار لڑنے پر بھی مجبور کر سکتی ہے جس کا نتیجہ نصرانیوں کے خلاف نکل سکتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ابن الاحمر شاہ قشتالہ کے حلیف نے اسے اہل شہر کو امان دینے پر قائل کیا ہو۔ اسی دوران شاہ قشتالہ اور ابن ہود کے درمیان 6 سال کیلئے نئی جنگ بندی کا معاہدہ ہوا، جس میں ابن ہود 52 ہزار سالانہ تین اقساط میں دینے کا پابند تھا۔

یہاں بھی کسی قسم کی اسلامی روایات میں ہمیں قرطبہ نصرانیوں کے سپرد کئے جانے اور نصاریٰ کے اس میں داخل ہونے کی تفصیلات نہیں ملتیں جیسا کہ سقوط بلنسیہ میں ہوا تھا، بلکہ مختصر سا ذکر ہی ملتا ہے جیسا کہ “نصاریٰ ان پر غالب آ گئے”، نصرانی قرطبہ شہر میں داخل ہو گئے ” نصاریٰ نے ان پر قبضہ کر لیا یا اس سے ملتی جلتی مختصر عبارتیں۔

یہاں بھی تفصیل جاننے کیلئے نصرانی روایات پر انحصار کرنا پڑے گا۔ جس کے مطابق جونہی اہل شہر اور شاہ قشتالہ کے درمیان شہر سپرد کرنے کا معاہدہ ہوا، اہل قرطبہ اپنے گھروں محلوں اور محبوب ترین قدیم شہر کو چھوڑ کر جتنا سامان اٹھا سکتے تھے اٹھا کرنکل پڑے۔ بھوک و غم نے انھیں نڈھال کر رکھا تھا، یہاں سے نکل کر اہل قرطبہ اندلس کے مختلف علاقوں میں پھیل گئے۔ اتوار کے دن شوال کی23 تاریخ 633ھ بمطابق 29 جون 1236ء کو قشتالوی سپاہی قرطبہ شہر میں داخل ہوئے، سب سے پہلے وہاں کی جامع مسجد پر صلیب بلند کی گئی، اوسمہ کا اسقف مسجد میں داخل ہوا اور اسے گرجا میں بدل دیا۔ اگلے دن بروز سوموار 30 جون کو فرنینڈو سوم اپنے مشیروں اور سپاہ کے ساتھ قرطبہ میں داخل ہوا سب سے پہلے الجامع الکبیر کا رخ کیا، جہاں اوسمۃ، بیاسہ اور قونقہ کے پادریوں اور مختلف مذہبی افراد نے اس کا استقبال کیا۔

سب سے پہلے شکرانہ عبادت کی گئی جس میں بادشاہ کو مبارک باد دی گئی، نصرانی روایات کے مطابق فرنینڈو نے حکم دیا کہ شنت یاقب گرجے کی وہ گھنٹیاں جو حاجب المنصور 387ھ (997ء) کو شنت یاقب شہر پر حملے کے بعد نصرانی قیدیوں کے کندھوں پر لاد کر قرطبہ تک لایا تھا، ان گھنٹیوں کو اکھاڑ کر مسلمان قیدیوں کے کندھوں پر لاد کر شنت یاقب تک لے جایا جائے تاکہ دوبارہ وہاں کے بڑے گرجا گھر میں نصب کی جا سکیں۔ اس کے بعد شاہ فرنینڈو قرطبہ کے محل کی جانب گیا، جو کہ قدیم امراء اور خلفاء کامحل تھا، وہاں سکونت اختیار کی، مفتوحہ شہر کے حاکم کے طور پر ڈون تلیو الفانسو کا انتخاب کیا، شہر کی حفاظت کیلئے سپاہ متعین کی۔ شاہ قشتالہ کے منصوبے کے مطابق نصرانی مختلف علاقوں سے وفود کی صورت میں وہاں کی تعمیر اور رہائش کیلئے آنے لگے، اور شاہ قشتالہ دوبارہ اپنے علاقے کی جانب لوٹ گیا۔

یہ اس عظیم شہر کے سقوط کی حسرت ناک داستان تھی …نہ کوئی پرجوش معرکہ، نہ کوئی ماہر جہاندیدہ سالار …حالانکہ یہ وہی شہر تھا جہاں سے اسلامی لشکر نصرانی علاقوں پر یلغار کیلئے روانہ ہوا کرتے تھے، اور اسے ام الثغور (محاذوں کی ماں) کہا جاتا تھا …آج اسے مقامی حکمرانوں کی بے حسی و جاہ طلبی کی قیمت اپنے سقوط کے ذریعے چکانی پڑی۔

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20