اور سید رخصت ہوگئے —– سید منور حسن

0

ایک ہفتے قبل رات کے اول پہر امام کلینک، میں ڈاکٹر عبداللہ متقی کے پاس جانا ہوا۔ تھوڑی دیر میں ہمایوں نقوی آگئے، سید کے جانثار، ان پر فدا، کوئی وقت ان کے بغیر نہیں گزرتا، مسجد لانا لیجانا، ان کی خدمت میں حاضر رہنا، اور مرشد کے ساتھ رہنا تو کوئی ان سے سیکھے، امام کلینک کے ایک کمرے میں سید منور حسن زیر علاج ہیں، گزشتہ دو ہفتوں سے ہمایوں، سید کے قصے سنا رہے تھے، طبیعت اچھی نہیں ہے۔ تھوڑی دیر میں ڈاکٹر معراج الہدی بھائی بھی آگئے۔ ظاہر ہے سید ہی کے لیے آئے ہوں گے۔ تینوں نے سلام کیا، لیکن سید منور حسن کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔ ان کی صحت کے بارےمیں اللہ کے حضور دعا کی۔ دل بہت مچل رہا تھا کہ سید کو ایک نظر دیکھ لوں، ایک بار ان کے ہاتھوں کو، شکیل خان کی طرح عقیدت سے بوسہ دوں، ان کی تبسم ریز مسکراہٹ سے روح کو سرشار کروں، ان کی روشن آنکھوں اور کشادہ پیشانی کو چوموں، جیسے سرد خانے میں نعمت اللہ خان کے کفن کو سرکا کر ہمایوں نقوی نے اپنے قائد کا آخری بوسہ لیا تھا۔ سید تو زندہ تھے، ان کی سانس کی ڈوری کی مشیّت سے بندھی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر عبداللہ متقی سے حال پوچھا تو انھوں نے بھی کہا کہ دعا کیجیے۔

جمعہ سید الایام ہے، اور سید کی رخصتی بھی سید الایام یوم جمعہ ہی کو لکھی تھی، اللہ کا بندہ، اللہ کےحضور حاضر ہوگیا۔

زمانہ طالب علمی میں سید میرے رول ماڈل تھے، پھر قائد، پھر مربی اور پھر میرے مرشد ہوگئے، ایک دن لاہور منصورہ میں نماز فجر پڑھی، تو نماز کے بعد سید منور حسن سے ملاقات ہوئی، امیر جماعت تھے، ایسی محبت اور وارفتگی سے گلے ملے کہ دل میں ٹھنڈک پڑگئی۔ یہ محبت کی یہ تمازت اب بھی باقی ہے، کراچی جماعت کے نائب امیر تھے، قاضی حسین احمد امیر بنے تو ان پر کتاب لکھنے کی محرک سید ہی کی ذات تھی، یہ قاضی حسین احمد پر لکھی جانے والی پہلی کتاب تھی، کراچی میں سید منور حسن سے محبت کا رشتہ ایسا قائم ہوا کہ اب اکثر ان سے ملنا، ان کی صحبت سے فیض یاب ہونے کا موقع ملتا رہا۔ امیر جماعت کی حیثیت سے وہ مختلف چینلز پر جاتے، اپنی بات کہنے میں وہ کبھی منافقت اور مصلحت سے کام نہیں لیتے، اس باب میں وہ کسی مداہنت کے رودار نہیں ہوتے۔

سید کی یاد داشتیں تحریر کرنے کا قرعہ میرے نام نکلا، ڈاکٹر فیاض عالم نے اس سلسلے میں پیش رفت کی، منور صاحب امارت سے سبکدوش ہوئے تھے۔ وہ یہ یادداشتیں ریکارڈ کرنے پر آمادہ ہوگئے، میں ہفتے میں ایک دو بار ان سے ملنے اکیڈمی جاتا، سید صاحب کے آنے کےبعد، بات چیت شروع ہو جاتی، ریکارڈنگ بھی ہوتی، لوگ بھی آتے جاتے اور ظہر تک یہ سلسلہ جاری رہتا، بعد میں اس پروجیکٹ کو کراچی جماعت نے ’’ گود‘‘لے لیا، ایک کمیٹی بنی اور انٹرویوز کا ایسا لا متناہی سلسلہ شروع ہوا جس نے اس پروجیکٹ میں دلچسپی کو ختم کردیا، پھر اس دوران سید منور حسن کی صحت بھی وہ نہ رہی جو آغاز میں تھی، بھلا آٹھ سال تک جاری رہنے والے سلسلے سے کس کو دلچسپی ہوسکتی ہے، اور انٹرویو میں ایک ہی بات کو کتنے پیرائے میں بار بار بیان کیا جاسکتا ہے۔

یہ محفلیں اور انٹرویوز کا سلسلہ بہت مفید تھا، بات کرتے کرتے کوئی قصہ، واقعہ، یا تاریخی بات آجاتی اور سید کی یاداشت بہت اچھی تھی، انھوں نے اپنی عمر سیاست میں گزاری تھی، ہزاروں واقعات، بات چیت، معاملات اور شواہد ان کے سینے میں تھے، کاش یہ سب اچھی طرح سامنے آتے تو نئی نسل کو اس سے بہت کچھ سیکھنے ملتا اور تاریخ کے بہت سے مغالطے درست ہوتے۔ ان محفلوں میں شکیل خان کے آنے سے پھلجڑیاں چھوٹنے لگتی، وہ زبردستی سید منور حسن کے ہاتھ چومتے، ان کےچہرے اور ڈاڑھی کو بوسہ دیتے، اپنے بریلوی ہونے کا ذکر کرتے، یوں سید صاحب کے چہرے پر ایک بشاشت سی آجاتی۔ ایک دن وہ بہت سارے قلم، عطر، اور خوشبو، موزے، رومال، ٹوپیاں لے آئے، اور کہا جس جس کو جو پسند ہے وہ لے لے، ہم نے پوچھا منور صاحب یہ کہاں سے آئے، بولے بھئی جو لوگ ملنے آتے ہیں، وہ اپنی محبت کا اظہار کرنےکے لیے کچھ نہ کچھ تحفے بھی لے آتے ہیں، اب یہ میرے پاس جمع ہوگئے تو میں اسی طرح تقسیم کر دیتا ہوں۔ منور حسن امارت سے سبکدوشی کے بعد ہمیشہ کوئی بھی ایسی بات کہنے یاکرنے گریز کرتے جو نظم جماعت، یا اطاعت امیر، سے مناسبت نہ رکھتی ہو۔

سید منور حسن روزنامہ جنگ کے کالم نگار وں کے پینل میں شامل تھے، میں نے ان سے کئی بار کہا کہ وہ اپنا کالم لکھا کریں، عالم اسلام یا عالمی اسلامی تحریکوں پر لکھیں، لیکن وہ اطاعت امیر کے آگے اس طور سرنگوں تھے کہ وہ خیال کرتے تھے کہ ایسے مضامین قیادت کے لیے کوئی مشکل پیدا نہ کردیں اس لیے وہ اس بارے میں کوئی بات لکھنے سے گریز کرتے تھے۔ سید منور حسن کو اپنی والدہ سے بہت محبت تھی، والدہ کا ذکر کرتے اور ان کے واقعات سناتے تو آبدیدہ ہوجاتے، مخلصین جماعت کے واقعات بھی انھیں جب یاد آتے اور ان کا ذکر کرتے تو آبدیدہ ہوجاتے۔ گلشن اقبال میں سید مودودی کی یاد میں جلسہ تھا، سید بہت دیر تک جلسے میں بیٹھے رہے، میں سید کے انتظار مین اسٹیج کے سیڑھیوں سے لگ کر کھڑا ہوگیا۔ اترتے ہوئے بھی بہت لوگ ان سے ہاتھ ملاتے رہے، عقیدت مندوں کو احساس نہیں ہوتا کہ ان کا لیڈر کتنا تھکا ہوا ہے، میں نے قریب آکر سلام کیا، ان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی، میں نے انھیں تکلیف دہ اور مشکل حالات میں بھی پر عزم اور ایک مسکراتے ہی دیکھا، اب بھی وہی روشن چہرے میرے سامنے ہے۔

صبح منور شام منور، روشن تیرا نام منور۔ سید منور حسن کانام ملک کی سیاست میں ایک روشنی کی مانند ہے۔ ایک ایسی روشنی جوسچ کی روشن دلیل بن کر چمکتی ہے۔ میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند، وہ تلخ حقیقت سے منہ نہیں چھپاتے اور جو حق ہوتا ہے اس کا برملا اظہار کرتے۔ شائد یہی سچائی سید کی پہچان ہے۔ سیدمنورحسن کی جہد مسلسل کی داستان نصف صدی پر پھیلی ہوئی ہے۔ وہ دہلی کے ایک معزز گھرانے کے چشم و چراغ ہیں جو 47ءمیں ہجرت کے زخم جھیلتا ہوا پہلے دہلی سے لاہور، اور پھر لاہور سے کراچی پہنچا۔ سید منور حسن جن کی عمر ہجرت وقت سن شعور کو چھو رہی تھی، اس خون آشام سفر میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ تھے۔ یوں ان کے سینے پر تمغہ ہجرت بھی سجا ہوا ہے، نیا شہر کراچی سید منور حسن کی نمو پذیر شخصیت کے لئے نہایت موزوں ثابت ہوا، بلکہ یہ کہنا چاہئے، اس نے سید منور حسن کی صلاحیت کے لئے مہمیز کا کام کیا۔ سید منور حسن نے زمانہ طالب علمی میں بھرپور سیاسی زندگی گزاری ہے۔ انہوں نے نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے سیاست کا آغاز کیا کچھ ہی عرصے بعد سید ابوالاعلیٰ مودودی مرحوم کے انقلاب آفرین لٹریچر کے زیر اثر ان کی ایسی قلب ماہیئت ہوئی کہ وہ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے نکل کر اسلامی جمعیت طلبہ کے ہر اول دستے میں شامل ہوگئے۔ وہ اسلامی جمعیت طلبہ میں درجہ بدرجہ منازل علم و حلم طے کرتے اس کے ’ناظم اعلیٰ‘ منتخب ہوئے۔ طلبہ سیاست کے بعد سید منور حسن جماعت اسلامی کے کارواں میں شامل ہوگئے۔ بانی جماعت سیدابوالاعلیٰ مودودی مرحوم سے سید منور حسن کا رشتہ، ہم جماعت‘ (جماعت اسلامی) ہونے یا، ہم نسب، (سید زادہ) ہونے کا ہی نہیں ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ شہر دہلی کے ناطے سے سید مودودی مرحوم کے ہم وطن بھی ہیں۔ شاید اسی لئے سید منور حسن کی شخصیت میں بھی وہی متانت و لطافت ہے جو سید مودودی کی شخصیت کا خاصا تھی۔ تحریر و تقریر پر کامل قدرت رکھنے کے باعث سید منور حسن کو اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی میں جو مقبولیت حاصل رہی وہ جمعیت اور جماعت میں کم ہی لوگوں کے حصے میں آئی، بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جماعت اسلامی میں سید منور حسن کا اسلوب اظہار سب سے منفرد اور سب سے ممتاز تھا۔ ان کا انداز خطابت، جمعیت اور جماعت کی نوجوان قیادت کے لئے ایک قابل تقلید مثال بن گیا، بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ کریز بن گیا ہے۔ سید منور حسن، جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن ہوئے، جماعت اسلامی کے مرکزی سیکریٹری جنرل بنے اور پھر امیر جماعت اسلامی کی حیثیت سے اقامت دین کی جدوجہد کے سالار منتخب کئے گئے۔ امیر جماعت کی ذمہ داری سے سبکدوشی کے بعد آپ اسلامی ریسرچ اکیڈمی کراچی میں ذمہ داری نبھا رہے تھے۔ بیماری کے باوجود باقاعدہ اکیڈمی آتے، کچھ دیر بیٹھے، نماز پڑھتے، ملاقاتیں کرتے۔

سید منور حسن کی ایک خوبی یہ بھی رہی کہ وہ اپنے دوستوں سے ہمیشہ رابطہ رکھتے، پرانے دوستوں سے بھی ربط رکھتے، نفیس صدیقی۔ فتحیاب علی خان۔ معراج محمد خان حسین نقی سمیت بہت سارے دوست۔ حسین نقی کراچی پریس کلب آئے تو منور حسن بمشکل سیڑھیاں چڑھ سکتے تھے، لیکن انھوں نے شدید تکلیف کے باوجود سیڑھیاں چڑھ کر اوپری منزل میں حسین نقی سے ملاقات کی، بہت پر لطف محفل تھی۔ سید منور ھسن کے رخصت ہونے سے بہت ساری محفلیں بھی بے رونق ہوگئی۔ اللہ انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20