معیشت کی دوسری بیماری   معیشت اور عوام کا نصیب: (5)  لالہ صحرائی

0

[ معیشت کی دوسری بیماری ]

ٹیکس چوری معیشت کا ایسا سیٹ۔بیک ہے جو انفارمل اکانومی، عوامی بے اعتناعی اور سرکاری مصلحتوں کی پیداوار ہوتا ہے، عوام ٹیکس دینا نہیں چاہتے اور حکومتیں عوامی ردعمل سے بچنے کیلئے زور دے کر اپنا ووٹ بینک خراب کرنے سے ہچکچاتی ہیں نتیجۃً خزانہ خالی ہے کی آواز یہاں مسلسل گونجتی رہی ہے لیکن اب ایسی آواز آپ نے گزشتہ سولہ سال سے نہیں سنی ہوگی۔

1998 کے جمہوری دور تک ہماری جی۔ڈی۔پی محض پچھتر ارب ڈالر تھی، جس سے محض تین سو ارب روپے ٹیکس حاصل ہوتا تھا جس میں سے صوبوں کو بھی حصہ دینا تھا اور مرکز بھی چلانا تھا، اس سے پچھلے ادوار کی کم مائیگی آپ خود کیلکولیٹ کرلیں، 1960 کی جی۔ڈی۔پی محض سوا چار ارب ڈالر تھی جبکہ ہمارا جی۔ڈی۔پی گروتھ ریٹ اسوقت بھی چھ فیصد تھا۔

جب پچھتر ارب ڈالر کی اکانومی سے انیس سو اٹھانوے میں صرف تین سو ارب روپے ریوینیو ملتا تھا تو انیس سو ساٹھ کی اکانومی سوا چار ارب ڈالر سے کیا ریوینیو حاصل ہوتا ہوگا، اور پھر یہی اکانومی انیس سو ستر میں پونے گیارہ ارب ڈالر، انیس سو پچھتر میں سوا تیرہ ارب ڈالر، انیس سو پچاسی میں پینتیس ارب ڈالر، انیس سو نوے میں اڑتالیس ارب ڈالر، انیس سو پچانوے میں چوہتر ارب ڈالر اور سن دوہزار میں بھی یہی تھی، پھر سن دوہزار پانچ میں ایک سو دس ارب ڈالر ہوئی، دوہزار سات میں ایک سو ساٹھ اور جب مشرف صاحب نے اقتدار چھوڑا تو اسوقت دوہزار آٹھ میں ایک سو ستر ارب ڈالر تھی جبکہ ٹیکس کلیکشن تیرہ سو ارب کے قریب تھی۔

اس سارے عرصے کا بغور مطالعہ کریں تو پہلا بڑا جمپ ضیاء صاحب کے دور میں آیا اور دوسرا بڑا جمپ پرویز مشرف صاحب کے اقدامات سے ان کے آخری چھ سات سال میں ایک سو ارب ڈالر کا اضافہ کرکے گزرا ہے اور بعد کے دو جمہوری ادوار یعنی اگلے آٹھ سال میں مزید ایک سو ارب ڈالر کا کاروبار ریکارڈ پر آیا ہے یعنی اس وقت ہماری جی۔ڈی۔پی لگ بھگ دو سو پچھتر ارب ڈالر ہے جس سے ستائیس سو ارب روپیہ ٹیکس حاصل ہوتا ہے۔

پچھلے سولہ سال میں ایسی کوئی انڈسٹریلائزیشن ہوئی نہ ہی کوئی اتنا بڑا کمرشل انقلاب آیا ہے جس سے جی۔ڈی۔پی میں دوسو ارب ڈالر اور ٹیکسیشن کے نظام میں چوبیس سو ارب روپے کا اضافہ ہوسکے، اگر کوئی انقلاب آیا بھی ہے تو اطمینان رکھیئے کہ ٹیکس دینے کیلئے اس میں سے کوئی بھی آگے نہیں بڑھا۔

یہ خوشگوار مالیاتی تبدیلی صرف پرویز مشرف صاحب اور یوسف عبداللہ صاحب کے اٹھائے ہوئے انقلابی اقدامات سے ممکن ہوئی جن کی بدولت دن بدن ہر بزنس سیکٹر رجسٹریشن اور ٹیکسیشن کے نظام میں آنے پر مجبور ہوتا جا رہا ہے، بزنس سیکٹرز میں بعض نئی راہیں ضرور کھلی ہیں لیکن وہ بھی انہی کی مرہون منت ہیں، اس میں شوکت عزیز صاحب کا کمرشل بینکنگ سسٹم کو آگے لاکر ٹریکل ڈاؤن اکانومی اسٹنٹ ایمپلائے کرنے کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے، ان امور پر آگے چل کر مزید بات ہو گی۔

واپس گروتھ ریٹ کی طرف آتے ہیں، اب ہوتا یہ ہے کہ ہر سال پچھلے ریکارڈ کی نسبت مزید کچھ ان۔رجسٹرڈ بزنس۔مین ریکارڈ پر آجاتا ہے یعنی خالی پڑے ہال میں چار نشستیں پُر ہوجاتی ہیں اور کچھ نئی لگ جاتی ہیں، یہ اضافہ چار سے پانچ فیصد جی۔ڈی۔پی گروتھ کا باعث بنتا ہے، جس دن یہ سارا بزنس ریکارڈ پر آگیا اس کے بعد ہی اصل ترقی کا پتا چلے گا فی الحال تو ہم کلاس کی حاضری بھی پوری نہیں کر پا رہے ہیں۔

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اب جو بھی بزنس ریکارڈ پر آتا ہے وہ کچھ چھپا نہیں سکتا بلکہ اپنی اصل آمدنی کے ستر اسی فیصد حصے پر ٹیکس دینے پہ مجبور ہو جاتا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ 2002 میں جو بزنس صرف ایک روپیہ سالانہ ٹیکسز دیتا تھا وہی بزنس 2008 تک دوگنا ادا کرتا تھا اور آج وہی بزنس پانچ گنا ٹیکس ادا کر رہا ہے، یہ اضافہ ایک طرف چوری کے راستے بند کرنے سے تو دوسری طرف ٹیکسز کی رعائیتیں ختم کرکے بتدریج انہیں اسٹینڈرڈ ٹیکس ریٹ پر لانے سے ممکن ہوا ہے۔

بعض سیکٹرز میں بیس تیس، بعض میں پچاس اور بعض میں اسی فیصد گھپلے کی گنجائش ابھی بھی ہے، ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ جب ہم کسی نئے بزنس سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لاتے ہیں تو ابتدائی طور پر اسے کم شرح یا کسی سمجھوتے کے تحت نومینل ریٹ پر ٹیکس لگاتے ہیں جیسا کہ پچھلے سال ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو نومینل ریٹ پر ٹیکس نیٹ میں شامل کیا گیا اور نان۔ٹیکس پیئرز کو بینکنگ پر نومینل سا ٹرانزیکشنل ٹیکس لگایا گیا ہے، ایسے لوگوں کو حاصل شدہ رعائیت کو لیگل ایویژن کہا جاتا ہے، آئیندہ چند سال میں جیسے جیسے ان کی اصل آمدنی منظر عام پر آتی جائے گی تیسے تیسے یہ ریٹ بھی بڑھتے بڑھتے اسٹینڈرڈ سطح پر آجائے گا، بزنس کے سروائیول کیلئے اس لیکونے کو جان بوجھ کے چھوڑا جاتا ہے تاکہ نئے بزنس سیکٹر کو ٹیکسیشن کے نظام میں ایڈجسٹ ہونا آسان رہے۔

مشرف صاحب نے جس روایت کو قائم کیا تھا اس کی بدولت اب تک اور آنے والی ہر حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج اسی روایت کو برقرار رکھنا ہے، اکانومی کو بتدریج رجسٹرڈ سطح پر لاتے جانا بھی کسی کارنامے سے کم نہیں ہوتا۔

ہمارے بزنس سیکٹرز کو بھی سوچنا چاہئے کہ جب تنخواہ دار طبقہ پانچ ارب روپے ٹیکس نیٹ میں شامل کرتا ہے تو ہر پچاس ہزار روپے ماہانہ کمانے والے پر بھی وہی ذمہ داری لاگو ہوتی ہے جو تنخواہ دار طبقہ ادا کر رہا ہے خواہ وہ پان والا ہو، ٹریڈر ہو، مینوفیکچرر یا عام دکاندار ہی کیوں نہ ہو ورنہ آپ کو کوئی حق نہیں کہ حکومت سے کسی قسم کی خدمات کا تقاضا کریں۔

ہماری معیشت کی سب سے بڑی بیماری یہی ہے اور اس کے ذمہ دار خود عوام ہیں، ٹیکسز لئے بغیر کوئی حکومت بھی خاطرخواہ انتظامی اقدامات نہیں کر سکتی، یہ عوام ہی ہے جو ماضی میں چوبیس سو ارب روپیہ ٹیکس چوری کرتی تھی جو اب ٹیکس نیٹ میں شامل ہو چکا ہے اور اس سے کہیں زیادہ ابھی بھی کھا پی رہی ہے، نہ ان کا بزنس والیم جی۔ڈی۔پی کا حصہ بن رہا ہے نہ ان کا پیسہ ٹیکس نیٹ میں شامل ہو رہا ہے حالانکہ ملکی نظام سے سہولتیں بھی سب سے زیادہ یہی لوگ اٹھاتے ہیں جو ٹیکس ایبل حد تک کمائی تو کرتے ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے۔

ایک بات باقی رہ گئی، جو لوگ یہ کہنا چاہیں کہ یہ ٹیکسز ظالمانہ ہیں، ان کی خدمت میں عرض ہے کہ مینوفیکچرنگ اور ٹریڈنگ سیکٹرز سترہ فیصد سیلزٹیکس+میکسیمم دس فیصد انکم ٹیکس، سروس سیکٹر تیرہ فیصد سروسزٹیکس+میکسیمم دس فیصد انکم ٹیکس دیتا ہے باقی سب رعائیتی نرخوں پر ٹیکس دیتے ہیں اور کل ملا کر دو ہزار سات سو ارب روپیہ کے ٹیکس جی۔ڈی۔پی یا جس بزنس کی کل مالیت پر وصول کئے جا رہے ہیں اس کا محض دس فیصد ایوریج کی بنیاد پر بنتا ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح سولہ فیصد ہے اور ان کے ہاں انفرادی سطح ستائیس کی بجائے پینتالیس فیصد ہے۔

مینوفیکچرنگ، ٹریڈنگ اور سروس سیکٹر کا ٹیکسز پہ اعتراض بھی قابل قبول نہیں کیونکہ وہ صرف انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں، سروسزٹیکس اور سیلزٹیکس وہ آگے خریدار کو پاس۔آن کرتے ہیں، مثال کے طور پر سگریٹ کا پیکٹ جس کی قیمت ایک سو چالیس روپے ہے، اس میں ایک سو بائیس روپے مینوفیکچرر کی کاسٹ بشمول منافع اور اٹھارہ روپے سیلزٹیکس خریدار ادا کرتا ہے، بزنس مین صرف کلیکشن ایجنٹ ہے، اس کے ذمے خریدار سے وصول کیا ہوا ٹیکس خزانے تک پہنچانا اور اس کا حساب بوقت ضرورت آڈٹ میں پیش کرنا ہے اور کچھ نہیں، اکاؤنٹنگ کے اصول کے تحت کاسٹ شیٹ میں راءمیٹیریل کی قیمت+ویسٹیج کی قیمت+مینوفیکچرنگ کا خرچہ+انتظامی خرچہ+سَیلنگ ایکسپینسز+ٹیک ہوم پرافٹ+انکم ٹیکس سب شامل کرکے قیمت فروخت نکالی جاتی ہے۔

ٹیکسز کے نفاذ پر احتجاج کرنے والے بیشتر بزنس سیکٹرز کا منافع پچیس سے سو فیصد تک ہوتا ہے، آپ کو اگر اس سے اتفاق نہیں تو پھر کوئی اطمینان بخش وجہ بتا دیجئے کہ انویسٹر، پراپرٹی ایجنٹ، آڑھتی، ٹرانسپورٹر، سپلائر، کنٹریکٹر، ٹریڈر اور مینوفیکچرر دن بدن امیر کیسے ہوتا چلا جا رہا ہے، آپ بزنس مین کی اس امارت کی کوئی معقول وجہ بتا دیں، عوامی غربت کی وجہ ہم بتائیں گے، عوام غریب کیسے ہوتی چلی جاری ہے یہ ہم آپ کو چھٹی قسط میں بتائیں گے جو معیشت کی تیسری بیماری ہے۔

ملک گیر سطح پر ہوٹلنگ اور فوڈ سینٹرز سوفیصد منافع رکھ کے کام کرتے ہیں، عوام کھانا کھا کے فوڈ پوائینٹ کو سوفیصد نفع دینے پر تو راضی ہیں لیکن ساتھ میں سات فیصد ٹیکس دینا معیوب سمجھتے ہیں، ایک سو بائیس روپے سگریٹ پر تو خرچ کرنا چاہتے ہیں لیکن اٹھارہ روپے ٹیکس دینا گوارہ نہیں کرتے، ایسا کیوں؟

یہی حال باقی اشیائے صرف کے بارے میں ہے، یاد رکھیئے ٹیکسز صرف صارفین ادا کرتے ہیں، کوئی بھی بزنس مین پلے سے ٹیکس ادا نہیں کرتا، یہ وہی ٹیکس ہے جو آپ دیں گے تو اس سے بجٹ بنیں گے، این۔ایف۔سی ایوارڈ کے ذریعے آصوبوں کو بھی انہی میں سے حصہ ملے گا جو گوورنینس، انفراسٹرکچر اور انتظامات میں خرچ ہوگا۔

۔۔۔۔

اگلے چیپٹر میں معیشت کی تیسری بیماری انفلیشن کا تذکرہ ہوگا۔

مضمون کا چوتھا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: