تغیر پذیر سماج میں اسلامی تشخص: روایت و جدت کے تناظر میں — محمد طیب عثمانی

0

بیسویں اور اکیسویں صدی میں انسان اور انسانی سماج نے مادی اور علمی میادین میں قابل قدر ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ ساتھ سوشل سائنسز نے بھی اپنے دامن میں وسعت پیدا کی ہے۔ معاشرتی علوم کی وسعت نے انسانی سماج میں نئےاقدار و معیارات ِ جانچ پرکھ یعنی تحقیقی مناہج و اسالیب کو نہ صرف متعارف کروایا بلکہ انسانیت کے مسائل کو خالص نفسیاتی، سماجی اور قانون کے تناظر میں پرکھ کر فلاح و بہبود کے ساتھ حقوق کی ضمانت دی۔ اس مادی، علمی ا ور سماجی ارتقاء میں مختلف اقوام نے ایک دوسرے کا سامنا کیا اور استفادے کے ساتھ ساتھ کہیں کہیں فکری، سماجی و تہذیبی مخاصمت بھی مول لی۔

انسانیت کے لیے انسانی فکر و تعبیرات میں جدت پیدا ہوئی، اسی جدت نے مذاہب اور مذہبی معیارات کی حتمیت کے لحاظ سے فرد کے سماجی خیالات و تصورات میں جدت و تبدیلی رونما کر دی، اس دورانیے میں مسلم مذہبی فکر بھی متاثر ہوئی اور اسی اثر پذیری میں اسلامی شناخت کے قیام اور اسلامی نشاۃ ثانیہ کے حوالے سے منظم تحاریک کا آغاز ہوا۔ اس اثر پذیری کے تناظر میں مسلم مفکرین کے سامنے اس بدلتے سماج نے اسلامی شناخت کے حوالے سے مندرجہ ذیل سوال کھڑے کر دیئے:-

۱- اسلامی تشخص سے کیا مراد ہے؟
۲- اسلامی تشخص کیا عین ِ مطلوب اور معین ہیئت میں ہے؟
۳- عصر حاضر میں اسلامی تشخص کے لیے پہلے سے طے شدہ مآخذ و مصادر، مناہج بحث و تحقیق کافی و شافی ہیں

یا پھر جدید ماخذ و مصادر کے ساتھ نئے اقدار و معیارات سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے؟
ان سوالات کے ضمن میں دو بڑے اہم رجحانات پیدا ہوئے۔ ۱: تقلیدی رجحان ۲: اجتہادی و عقلی رجحان

1- تقلیدی/ روایتی رجحان:۔
تقلیدی رجحان کے حاملین کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اسلام ابدی دین ہے اور خیر القرون بہترین دور لٰھذا اس دین کے خیرالقرون میں طے شدہ اقدار، معیاراتِ بحث و تحقیق، مناہج و اسالیب منظم انداز سے متعین ہو چکے۔ چنانچہ انہی معیارات و مناہج کی روشنی میں سیاسی، سماجی او ر معاشی احکام کے ساتھ ساتھ مخصوص ائمہ و فقہاء کی آراء کی تہذیب، ترتیب و تنقیح، اختیار و ترجیح پر توجہ دی گئی مزید برآں متذکرہ امور کی روشنی میں کتب ِ اختصارات ، شروح اور شروح الشروح جیسی تصانیفات و تالیفات سامنے آئیں۔ اس کاوش کے ضمن میں (Stability) کا حتمی فیصلہ کرتے ہوئے اجتہاد(Flux) کو شجر ممنوعہ قرار دے دیا گیا۔ مصطفی احمد زرقاء کے بقول اگر اجتہاد کی کہیں کچھ گنجائش تھی تو اس کے لیے کڑی شرائط کے اعلی معیار مقررکر دیئے گئے۔ (1)
انہی معیارات و مناہج کی حیثیت ابدیت اختیار کر گئی یہانتک کہ جدید مسائل کو بھی انہی کی روشنی میں حل کیے جاتے ہیں خواہ اس کے مفسداتِ

نفسانی و سماجی ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کی مثال میں معاصر اسلامی بنکاری، اسلامی ممالک کے قوانین کی تعبیرات، عائلی قوانین اور اسلامی جماعتوں کا سیاسی منہج، اسلام ممالک کے دساتیر وغیرہم کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ عالم اسلام پر طاری جمود کا اعتراف کرتے ہوئے ماضی قریب کے عالم دین مولانا یوسف لدھیانوی لکھتے ہیں :۔
“یہ صحیح ہے کہ عالم اسلام کا جدید اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ اور وہ حضرات جن کے ہاتھ میں حکومت کی باگ دوڑ ہے اسلامی قانون سے یادین اسلام سے ان کی مایوسی کا کسی قدر سبب وہ جمود بھی ہے جو اسلامی مرکزوں پر عرصہ سے طاری ہے۔”(2)

مزید اس جمود سے گلوخلاصی اور جدید مسائل کو صرف اور صرف قدیم معیارات و روایت قدیمہ کی روشنی میں حل کرنے کے حوالے سے لکھتے ہیں:۔

“بلاشبہ دین اسلام کے حقائق و قوانین کی ابدیت اپنی جگہ قطعی و یقینی ہے لیکن اسلام کی برتری و فوقیت کو قائم رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ قدیم فقہی ذخیرہ کو جدید قالب میں ڈھالا جائے اور اس کی روشنی میں فقیہانہ انداز سے اور مخلصانہ کوششوں سے ایک نقشہ ایسا تیار کریں کہ جدید دور اس کو قبول کرے اور نئی نسل کے دل و دماغ پر اس کا اثر ہو”(3)

اس تقلیدی رجحان نے تعبیراتِ نصوص پر فکری و فقہی رویے اختیار کر کے سماج میں روایتی دھارا دھار لیا اور اسی بنا پر اہل سنت و تشیع، اشعری و ماتریدی، حنفی، مالکی، شافعی و حنبلی اور جعفری و اسماعیلی کہلائے۔ انہی سماجی ڈھانچوں میں ڈھلنے کی وجہ ہم انہیں روایت پسند طبقہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ روایت پسند طبقے کے لیے روایتی ڈھانچہ ہی اسلام ہے اور اس کی مخالفت خروج عن الاسلام۔ روایت پسندی کی مخالفت کی وجہ سے اس مین اسٹریم سے کچھ خارج از اسلام ریاستی و غیر ریاستی لحاظ سے کہلائے جیسےمعتزلی، خارجی، احمدی و پرویزی۔

2: اجتہادی و تجدد پسند رجحان:
اس رجحان کے حاملین تاریخی جانچ کے حامی ہیں۔ ان کا نقطہ فکر یہ ہے کہ سابقہ عہود میں طے کردہ معیارات و اسالیب کو ازسر نو تاریخی وتحقیقی مراحل سے گذار کر کر دیکھا جائے کہ ان کی اسلامی حیثیت کیا ہے؟۔ کیا وہ معیارات بھی شرع اسلامی کی طرح ابدی و حتمی ہیں یا وقتی و قابل بدل؟

سائنسی اکتشافات، علوم کی وسعت، معاصرمناہج و اسالیب کی تبدیلی، ہمہ جہت مآخذ تک رسائی نے فرد کی نفسیات کے ساتھ ساتھ داخلی و خارجی سطح پر جدت پیدا کی ہے۔ اس تجدد اور نئے پن نے انسانوں کی گروہی و انفرادی درجاتِ حیات میں ثقافتی و سماجی تصوارت و اعمال میں انقلاب پیدا کر دیاہے جس کی وجہ انسان کا مذہب سے تعلق، ریاست و مذہب کا باہمی تعلق، فرد خاندان، سیاست و حکمرانی، معاشی اقدار بھی متاثر ہوئے نہ رہ سکے۔ اس انقلاب ِ زندگی کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے جس کے حل کی دو اہم کوششیں ہوئی:۔

۱- مذہب کو ذاتی زندگی تح محدود سمجھا جائے۔
۲- قدیم و جدید معیارات و اقدار، مناہج و اسالیب میں موافقت پیدا کی جائے اوراسلاف کے کام کو سراہتے ہوئے انہی کے انداز ِ فکر و عمل پر بنیاد رکھتے ہوئے تجدد پیدا کیا جائے کیونکہ اسلاف نے اپنی عملی کاوشوں میں دین، شرع، منہاج، حکمت، فقہ و قانون کو تشکیل پسندی، روایت پر جمود، قانون پرستی اور مسلکیت سے پاک رکھ کر ان میں وسعت در وسعت پیدا کی۔ اسلاف کے مقامی علوم و فنون اور اس وقت کے جدید وعلوم سے استفادہ کرتے ہوئے اجتہادی عمل کے ذریعے نئے نئے معیارات و اقدار کو متعین کیا۔ اس تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے مجتھدات کے دوائر میں نئے آفاقی علوم سے استفادہ کرتے ہوئے اسلامی تشخص کی معاصر ہیئت تشکیل دی جائے جس کے زمرے میں مسلم کو ایقان کامل حاصل ہو کہ اللہ کے مطلوب اس اکمل و اتمم دین میں انسانی حق میں ضروری و مفید چیز کی کمی نہیں ہے۔ معیارات و اقدار اور مناہج تحقیق میں جدت کے لیے نئے انداز اختیار کیے جائیں اور جدید علوم اور مناہج بحث و تحقیق سے استفادہ کیا جائے۔ اس جدت فکر و عمل کی وجہ سے اس طبقے کو اجتہادی، عقلی اور جدت پسند کہہ سکتے ہیں۔
مختصرا آج کی دنیا میں تجمد، روایت پسندی، شخصیت و روایت پسندی کی نہ صرف کوئی گنجائش ہے بلکہ آج کے انسان کے لیے یہ سب ناقابل فہم ہے۔ عصر حاضر میں اسلامی شناخت کے لیے قانون میں قیاس اور عملی مسائل میں استخراج و استقرائی کے اسلامی مزاج پر عمل پیرا ہوکر خداوند کی قائم کردہ مسلمات و غایاتِ حیات کے تناظر می وحی ربوبی وعقل انسانی، قانون و دانش اور روح و مادہ کے تعارض ِ مذعوم سے رفع ہو کر ان سب کو ایک وحدت میں پرو کر کوششیں کرناہونگی تا کہ فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ اور عبدِ خداوند ی کے حقیقی حقدار بن جائیں۔

حوالہ جات:
(1) زرقاء، مصطفیٰ احمد، المدخل الفقہی العام، ج ۱، ص ۱۷۶
(2)بنوری، محمد یوسف، مولانا، مرتب: تنزیل الرحمن، ، تقریظ برمجموعہ قوانین اسلام، ادارہ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد، 1973ء، ج4
(3) ایضا

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20