بھارت کی آبی جارحیت —— حبیبہ طلعت

0

بائیس مارچ کو دنیا میں پانی کا عالمی دن کے طور پر منایا گیا۔ اس حوالے سے پاکستان میں موجودہ صورتحال کیا ہے اور ممکنہ خدشات کیاہو سکتے ہیں۔ اس پر ہندوستان سے تجارتی روابط بڑھانے کی خواہشمند حکومت کو ہاد رکھنا چاہئے کہ بھارت کے انتہاء پسند وزیر اعظم نریندر مودی سال کے آغاز میں ہی آبی جنگ کی دھمکی دے چکے ہیں۔۔ چنانچہ حکومت پاکستان کو اس تناظر میں قومی بہبود کے حوالے سے اور اپنے آبی ذخائر کو محفوظ کرنے کے لئے ایک ہنگامی بنیادوں پر  منطقی اور مربوط کاوش کی جانی چاہئے۔ اس سلسلے میں یاد رہے کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے۔اس کی زراعت کا انحصار برف پوش پہاڑوں سے نکلنے والے دریاؤں، نہروں اور زیر زمین پانی کے زخائر پر ہے۔ دریائے سندھ پاکستان کا سب سے بڑا دریا ہے۔ مزید پاکستان کا نہری نظام دنیا کا بڑا نہری نظام ہے۔ ۔

تاہم بدلتے ہوئے موسمی حالات، درجہء حرارت میں تبدیلی کے باعث گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں اضافہ ہوچکا ہے۔ مون سونی بارشوں کی وجہ سے گزشتہ دہائی میں شدید ترین سیلابوں نے پاکستان کے قابل کاشت زرعی رقبے کو بہت نقصان پہنچایا رہی سہی کسر بھارت کی جانب سے دریاؤں کا پانی روکنے اور حسب منشاء چھوڑنے کے واقعات نے بھارت کی جانب سے آبی دھشت گردی کا ثبوت دیا ہے۔

اس کی ابتداء تقسیم کے فورا بعد دیکھنے میں آئی جب 1948 مشرقی سرحد سے آنے والے دریاؤں اور نہروں کا پانی روک لیا گیا ۔ بھارت کا دعوی تھا کہ یہ پانی بھارت سے آتا ہے چنانچہ پاکستان کو اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ پاکستان اپنی نو زائیدہ مملکت کے انتظام و انصرام میں ہی مصروف تھا۔ مگر پانی کی بندش کے باعث زرعی نظام کو نقصان پہنچنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا۔ چنانچہ بھارت کو آبیانہ ادا کیا گیا۔

پاکستان کی جانب سے مصالحانہ رویئے کے باوجود بھارت نے چھوٹے پیمانے پر جنگ چھیڑ دی۔ اس کشیدگی پر عالمی برادری نے مصالحت کی اور ہوتے ہوتے 19 ستمبر 1960 کو عالمی بینک کی ثالثی میں سندھ طاس معاہدہ ہوا۔ جس پر پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے دستخط کئے۔ اس اہم ترین معاہدے کے تحت پاکستان اور بھارت کے مابین آبی وسائل پر عملداری تقسیم کی گئی۔

سندھ طاس معاہدہ جیسا کہ نام۔سے ظاہر ہے دریائے سندھ اور اس کے اہم پانچ بڑے معاون دریاؤں کی تقسیم۔سے متعلق ہے۔ مشرقی سمت سے آنے والے تین بڑے دریاؤں۔ ستلج، بیاس اور راوی کے پانی پر بھارت کا حق تسلیم کیا گیا کہ وہ مکمل طور سے بھارت کے زیر انتظام علاقوں سے آتے ہیں ۔ جبکہ پاکستان کے حصے میں جہلم، چناب اور سندھ کے دریا آئے جن کا منبع چین ، تبت اور مقبوضہ کشمیر کے برف پوش پہاڑوں میں ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے دریا دریائے سندھ کو مشرقی سمت سے جہلم۔، چناب اور راوی معانت دیتے ہیں جبکہ مغربی معاونین دریاؤں میں دریائے سوات، کابل، کنہار، گومل اور بولان شامل ہیں۔ انہی دریاؤں سے نہروں، بند اور ہیڈورکس کا جال۔بچھا کر پاکستان کے طول و عرض کے علاقوں کو سیراب کیا جاتا ہے۔

سندھ طاس معاہدے میں گیارہ دفعات ہیں جن کا عمومی خاصہ یہ ہے کہ چھ میں سے تین مشرقی دریاؤں پر بھارت کو مکمل حق ملکیت دیا گیا۔ جبکہ پاکستان کے حصے میں آنے والے اہم دریاؤں میں سے، جن کا منبع مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے زیر انتظام علاقے ہے پاکستان کا اسی فی صد 80%  جبکہ بھارت کو بھی % 20 حق دسائی دیا گیا تاھم یہ بیس فیصدی حق بھی اس ضمانت کے ساتھ دیا گیا تھا کہ بھارت ان دریاؤں پر آبی ذخیرہ نہیں بنا سکے گا ۔نہ ہی قدرتی بہاو کے راستے میں مزاحم ہوگا۔ مزید یہ کہ پن بجلی کے بھی محدود استعمال کا پابند ہوگا۔

بھارت کے جانب سے اس کے برعکس اقدامات دیکھنے میں آئے اور بھارت انہی علاقوں سے آنے والے دریا کے پانی کا قدرتی بہاؤ متاثر کر رہا ہے۔ جس کے لئے وہ بگلیہار، کشن گنگا، اور وولر بیراج ، ٹل ہل بیراج، اوڑی ڈیم میمو ڈیم، ڈھمگر ڈیم کے علاوہ مزید ایسے 24 متنازعہ منصوبہ جات نہ صرف شروع کر چکا بلکہ تیزی کے ساتھ مکمل کرنے میں لگا ہوا ہے۔ ان مجوزہ ڈیمز کا مقصد پانی کے قدرتی بہاؤ کو متاثر کرنے اور حسب منشاء پاکستان کو تابع کرناہےکیونکہ آبی ذخائر کا وسیع حصہ بھارت کے زیر انتظام ہوگا۔۔ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر پاکستان نے شدید احتجاج کرتے ہوئے عالمی ثالثی عدالت میں اپیل کرکے بکشن گنگا منصوبے کو رکوا چکا ہے جو کہ اس کے حصے کے آبی وسائل کو شدید نقصان پہنچاسکتا تھا۔

بھارت سندھ، چناب اور جہلم پر 15 سے زائد ڈیم تعمیر کرچکا ہے۔جبکہ مزید 60 کے قریب ڈیمز بنانے کی تیاریاں ہیں۔بھارت کی جانب سے آب پاشی کے تیس سے زائد منصوبے بھی مکمل کئے جا چکے ہیں۔۔۔ظاہر ہے کہ بھارت کو اپنے عوامی بہبود کے لئے جائز اقدامات کا پورا حق ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے جن میں سے کشن گنگا منصوبے کی تعمیر پاکستان نے جب سے عالمی عدالت کی کوشش سے رکوائی ہے بھارت نے اپنے معاندانہ بیانات اور کوششوں کو تیز تر کر دیاہے۔بھارت کا حکمران طبقہ اور سیاستدان پاکستان کو سندھ طاس معاہدے کو توڑنے اور بوند بوند پانی کے لئے ترسانے کی دھمکیاں متعدد بار دے چکے ہیں۔جن کو مقبوضہ کشمیر میں جاری مزاحمتی تحریک اور پاک چین بڑھتے ہوئے روابط کے تناظر میں سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے۔

پیار کی پینگیں بڑھانے کے خواھشمند سیاست دانوں اور حکومتوں کو اس حوالے سے ہمیشہ زمینی حقائق مد نظر رکھنا ہوں گے۔ جو پاک بھارت تعلقات میں برابری کے متقاضی ہیں۔۔یہ ممکن نہیں کہ یک طرفہ محبتوں کا راگ الاپا جائے۔ ویسے بھی خارجہ اور معاشی تعلقات برابری کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں اور ان کی استواری خلوص عمل کی متقاضی ہوتی ہے۔

وہ ساری خوشیاں جو اس نے چاہیں، اٹھا کے جھولی میں اپنی رکھ لی

ہمارے حصے میں عذر آئے،- —جواز آئے،— اصول آئے
اعزاز احمد آزر

سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے ماہرین متعدد بار رائے ظاہر کر چکے ہیں کہ اس وقت بھی پاکستان کی جانب سے ضروری تحقیق مزید کی جانی چاہئے تھی۔ جن کی وجہ سے معاہدے میں زیر زمین پانی کے انتظام و انصرام سے متعلق ضمانت نہیں دی گئی۔ اس کے علاوہ پانی کے معیار کے حوالے سے عالمی اصول شامل نہیں کئے گئے۔جن کا فائدہ اٹھا کر بھارت نے پاکستان کے حصے میں آنے والے پانی کو آلودہ کرنے کی مذموم کوشش بھی کی۔
معاہدے میں پاکستان کے لئے مفید رہتا کہ مشرقی سمت میں دریاؤں کے سیرابی علاقوں کو واٹرشیڈ مینجمنٹ کی سہولت فراہم کی جاتی۔جبکہ متنازعہ ترین شق یہ رہی کہ جو بھارت کوپاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں پر بیس فیصد حق کا استعمال دیتی ہے۔اسی شق کے ناروا استعمال کے باعث بھارت جانے بوجھے طریق پر ڈیمز کے بے تحاشا منصوبے مکمل کرکے پاکستان کی زمین کو بنجر بنانا چاہتا ہے۔

 بدلتے ہوئے موسمی حالات، گلوبل وارمنگ اور بھارت کی جانب سے آبی دھشت گردی کے مسلسل اعلانات اور کوششوں کا سد باب کرتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر اپنےآبی ذخائر کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے ۔غفلت سے نکل کر ڈیمز بنانے چاہیں جن میں سے پاکستان کی بقاء اور خوشحالی کا ضامن کالا باغ ڈیم کا منصوبہ بھی ہے۔جسے س پیک کی طرح اولین ترجیحات میں شامل کیا جائے۔۔ خود مختاری اور ملکی سالمیت کے لئے عوام اور سیاستدانوں میں شعور بیدار کیا جائے۔ اس کے لئے جوش کی نہیں ہوش کی ضرورت ہے۔

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: