مسئلہ قرآن سے نہیں ہے تو پھر۔۔۔۔۔ خرم شہزاد

0

منافقت بہت زیادہ سخت لفظ ہو جائے گا لیکن موجودہ صورت حال کی عکاسی کے لیے اس سے بہتر لفظ بھی شائد ہی کوئی ہو۔ چلیں ہم بہت سے لوگوں کی نازک طبیعت کا خیال کرتے ہوئے کہہ دیتے ہیں کہ پاکستانیوں کی اکثریت اس وقت مختلف طرح کے موضوعات پر شدید مخمصے کا شکار ہے جسے انگریزی میں کنفیوژن بھی کہتے ہیں۔ انہیں یہ پتہ ہی نہیں کہ ان کا اپنا موقف کیا ہے اور یہ جس موضوع پر اپنی رائے دے رہے ہیں اس کی کتنی جہتوں سے خود بھی آگاہ ہیں۔ سوشل میڈیا کی چار پوسٹوں کو پڑھ کر بقراط بننے والوں کا یہی المیہ ہوتا ہے کہ جب ان سے جوابی سوالات کئے جاتے ہیں تو ملنے والے جواب ان کے اپنے پہلے بیان کئے گئے موقف سے ایک سو اسی ڈگری مخالف زاویے کے حامل ہوتے ہیں کیونکہ ہر پوسٹ لکھنے والا ہر وقت آن لائن تو ہوتا نہیں جس سے مشورہ کیا جاسکے، اسی لیے موقف کا تضاد کھل کر سامنے آتا ہے۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال گورنر پنجاب کی طرف سے جاری کیا جانے والا نوٹیفکیشن ہے جس کے مطابق یونیورسٹیوں میں قرآن پاک ترجمہ کے ساتھ پڑھنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے اور اس کے بغیر ڈگری جاری نہیں ہو سکے گی۔ ایک اسلامی ملک میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس قدم کی تعریف کی جاتی لیکن یہاں بگڑے ہوئے آوے کی وجہ سے روشن خیالوں، تعلیم یافتہ لوگوں اور اپنے آپ کو سمجھدار، دانشور سمجھنے والوں کی ایک بڑی تعداد اس بات کی مخالفت کر رہی ہے۔ آئیے ان کے موقف پر کچھ وضاحت چاہتے ہیں۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ زبردستی کسی کو نماز اور قران پڑھانے سے بھلا کتنے نوافل کا ثواب ملے گا، حکومت کو زبردستی کسی پر پڑھائی مسلط نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یونیورسٹی کے باشعور طالب علم خود ہی اپنی پڑھائی کے بارے بہتر سمجھتے ہیں۔ یقینا یہ جملہ کہنے اور لکھنے میں خوبصورت ہے لیکن جہاں تک زبردستی کی بات ہے تو ہمیں پتہ ہونا چاہیے کہ قانون کسی بھی بات پر زبردستی عمل کروانے کے لیے ہی بنائے جاتے ہیں۔ اپنی رضا مندی سے کرنے والے کام مذہبی تعلیمات اور اخلاقیات میں شمار کئے جاتے ہیں جن کے نہ کرنے پر کوئی گرفت نہیں ہوتی۔ قانونی زبردستی کس قدر ہو گی یہ ہر شخص کی اپنی قانون پسندی اور عمل داری پر منحصر ہے اسی وجہ سے ہمارے اردگرد ٹریفک سے لے کر کالج اور یونیورسٹیوں میں حاضری کے معاملات تک، ہر معاملے میں مختلف قوانین موجود ہیں اور ایک اچھے شہری کے فرائض میں یہ بات شامل رہتی ہے کہ وہ قوانین پر سوال اٹھانے کے بجائے ان پر عمل کرے۔ کالجز اور یونیورسٹیوں میں کوئی یہ نہیں کہتا کہ جب طالب علم کے والدین اتنا خرچہ کرتے ہیں اور طالب علم کو مستقبل میں کچھ بننا بھی ہوتا ہے تو متعلقہ ادارے میں کم حاضریوں پر داخلہ روکنے کا قانون کیوں ہے؟ طالب علم اپنے بارے میں بہتر سمجھتا ہے اور اسے اپنے مستقبل کی فکر ہے تو کالج یا یونیورسٹی کو اس طالبعلم سے زیادہ اس کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں اور ایک طالب علم کو زبردستی کلاس لینے پر مجبور کرنا زیادتی ہو گی۔ جب ماسٹرز کسی ایک مضمون میں کرنا ہوتا ہے تو میٹرک میں دس مضامین کیوں پڑھائے جاتے ہیں اور سبھی کو پاس کرنا کیوں ضروری ہوتا ہے؟ سوال تو یہ بھی ہونا چاہیے کہ ایم اے ہسٹری کرنے والے سے این ٹی ایس ٹسٹ میں حسابی سوالات کیوں پوچھے جاتے ہیں اور میڈیکل والوں کو اپنے انٹری ٹسٹ میں میڈیکل کے علاوہ دوسرے مضامین کا ٹسٹ کیوں دینا ضروری ہوتا ہے؟ پاکستان کے سو فیصد والدین یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ ساتویں آٹھویں کلاسوں میں پڑھائے جانے والے قالب (میٹریکس) کے سوالات کا عملی اطلاق کہاں اور کیسے ہوتا ہے لیکن چونکہ یہ نصاب میں شامل ہیں اور ہم نے خود زبردستی پڑھے تھے اس لیے بچوں کو بھی پڑھا رہے ہیں۔ اس طرح اگر دیکھا جائے تو صرف پڑھائی کے معاملے میں درجنوں باتیں ہیں جن کی کوئی وجہ یا ضرورت شائد نہ ہو لیکن یہ سب نہ صرف زبردستی نافذ ہیں بلکہ ہم ان پر بلا چوں چراں عمل بھی کرتے ہیں۔

جرح میں بہت سے احباب یہ بھی کہتے ہیں کہ یونیورسٹی کے طالب علم کوئی بچے نہیں ہوتے اس لیے ان پر ایسے فیصلے نہیں تھوپنے چاہیے۔ یہ بالکل درست ہے لیکن فی زمانہ ہمارے پاس یونیورسٹیوں میں ایسے کوئی بڑے بھی نہیں ہوتے کہ ہم انہیں یوں تنہا چھوڑ دیں۔ چلیں باقی باتوں کو چھوڑتے ہوئے صرف یہ بتا دیں کہ آج کی تاریخ میں ہماری یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے کتنے فیصد بچے قران کی پچاس سورتوں کے نام (ترتیب سے نام بتانے کی تو بات ہی نہیں ہو رہی) بھی بتا سکتے ہیں؟ ہمارے کتنے فیصد طالب علم رضاکارانہ طور پر قران کا مطالعہ کرتے ہیں؟ آپ بہت سارے کہہ کر جان چھڑانا چاہیں گے اور شائد اکا دکا مثالیں بھی پیش کر دیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آج کسی بھی میڈیکل یا انجئیرنگ چھوڑ اردو ادب کی کلاس میں کھڑے ہو کر قران کے بارے چار سوال کر لیں تو نوے فیصد سے زیادہ کے ہاتھ ہی غائب ہو جائیں گے جنہیں وہ ذرا سا اٹھا کر اپنے مسلمان ہونے کا بھرم قائم رکھ پائیں۔ قرآن کس بارے کیا کہتا ہے، اس بارے میں ہمارا نوے فیصد سے زیادہ علم سوشل میڈیا کی پوسٹوں تک محدود ہے۔ ہمارے نوے فیصد سے زیادہ یونیورسٹی طالب علم (اسلامی علوم کے طلبہ کو چھوڑ کر) یہ ہی بتانے سے قاصر ہیں کہ ’تعلیم حاصل کرو چاہیے اس کے لیے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے‘ کے مفٖہوم والی مکمل حدیث کیا ہے اور کس کتاب میں ہے؟ معذرت لیکن ہماری اسی کمی، کوتاہی اور بچوں پر سب کچھ چھوڑ دینے کی عادت کا نتیجہ ہے کہ جب کوئی بھی طالب علم اعلیٰ تعلیم کے لیے باہر جاتا ہے تو اسے غیر مسلم بہت آسانی سے شکار کر لیتے ہیں۔ کسی بھی بحث میں قرآنی یا اسلامی حوالہ نہ دے پانے یا کسی بھی قرآنی یا اسلامی حوالے کے پس منظر سے عدم واقفیت کی وجہ سے ہونے والی سبکی ہمارے طالب علموں میں مستقل احساس کمتری کو جنم دیتی ہے لیکن افسوس کہ اس کو ذاتی کمی کے بجائے مذہبی خامی کے خانے میں ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اپنی مذہبی اور قرآنی تعلیمات کی یہی کمی ہوتی ہے کہ ہم بہت سے ایسے لوگوں کے بارے گواہ بھی ہوتے ہیں جنہوں نے مذہب تبدیل کر لیا یا الحاد وغیرہ کے راستوں پر چل نکلے۔ شادی بیاہ اور دوسرے بہت سے معاملات جو باہر کے ممالک میں طے کر لیے جاتے ہیں جن کو بعد میں ہمارے اس معاشرے میں قبول نہیں کیا جاتا۔ تو کیا اس سب سے بہتر نہیں کہ ہم وقت پر اپنے طلبہ کو اسلام اور قران سے روشناس کروائیں۔

سوال بہت سے ہیں، جوابات بھی اتنے ہی ہیں، دلائل اور ان کا رد بھی اتنا ہی ہے لیکن کیا یہ ایک اچھی بات نہیں ہو گی کہ ایک مسلم معاشرے کا فرد جب تعلیم حاصل کر کے عملی میدان میں اترنے کو تیار ہو تو صرف دنیاوی جدوجہد کا اسے پتہ نہ ہو بلکہ دینی تعلیمات کی وجہ سے وہ بہتر راستے پر چلتے ہوئے معاشرے کے لیے ایک اچھا فرد ثابت ہو؟ اگر آپ کو قران اور اسلام سے مسئلہ نہیں ہے تو طلبہ کی دینی تربیت جیسے معاملات پر رائے عامہ ہموار کیجئے تاکہ آنے والے کل میں آپ کو صرف پروفیشنلز سے واسطہ نہ پڑے بلکہ معاشرے کے ایک بہتر فرد کے ساتھ رہتے ہوئے خوشی محسوس ہو۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20