کیسے کیسے لوگ جدا ہوئے: ڈاکٹر مغیث الدین شیخ —- سلمان عابد

0

ایک بڑے استاد کی رخصت

میڈیا کی تعلیم کے ممتاز دانشور، استاد، مصنف, بڑے راہنما اور ہمارے ہر دلعزیز استاد دوست ڈاکٹر مغیث الدین شیخ بھی رب کے حضور پیش ہوگئے۔ اللہ تعالی ان کے درجات بلند کرے اور انھیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے۔

کیا کمال کی شخصیت تھے۔ دو دہاٸیوں سے زیادہ ان سے ایک استاد، دوست اور برادارانہ تعلق تھا۔ ہمیشہ ان سے بہت کچھ سیکھا اور وہ زندگی کی أخری سانس تک ایک جدوجہد کے طور پر اپنی جنگ لڑتے رہے۔

میڈیا ان کا جنون، شوق اور عشق تھا۔ہمیشہ نۓ خیالات کے ساتھ مدبرانہ تجزیہ کرتے اور کچھ نہ کچھ نیا کرنے کا نہ صرف مشورہ دیتے بلکہ خود بھی اس عمل میں پیش پیش ہوتے۔

ان کے ساتھ ہونے والی مجلسیں یا محفل میری زندگی کا قیمتی اثاثہ ہے۔ سلمان غنی، تنویر شہزاد، روف طاہر اور تاثیر مصطفے کے ساتھ کٸی گھنٹوں وقت گزرتا۔ دوستوں کو پکڑ پکڑ کر انہوں نے کٸی جامعات میں بطور میڈیا استاد متعارف کروایا۔ میں بھی ان میں سے ایک ہوں۔

میڈیا یونیورسٹی بنانا ان کا خواب تھا جو حکومتی عدم ترجیحات کی وجہ سے ممکن نہیں ہوسکا۔ نجی جامعات میں جو کچھ وہ کرنا چاہتے تھے اس کا انہیں موقع نہیں مل سکا۔

ہزاروں شاگرد پیدا کیے اور ہزاروں میڈیا میں کام کرنے والے بڑے نام ان کے شاگرد تھے۔ ہمیشہ سب کو متحرک کرتے اور اکساتے کہ آو مل کر کچھ کرتے ہیں۔ کھانا پینا ان کا مشغلہ تھا اور ہمیشہ میزبانی میں پہل کرتے تھے۔

پاکستان میں میڈیا کی تعلیم کو نٸی جہت دی اور میڈیا انسٹی ٹیوٹ کا بننا بھی ان کی کاوشوں کا حصہ تھا۔ وہ ایک ایسے دانشور تھے جو ہمیشہ مستقبل کی طرف دیکھتے اور چٹکی بجا کر مساٸل کا حل بتاتے تھے۔ کافی شاپ میں بیٹھ کر ان سے ڈھیر ساری باتیں اب کہاں ممکن ہوگا۔

لوگوں کی مشکل سنتے تو ساتھ چل دیتے اور ہمیشہ لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ دوستی نبھانے کا فن خوب جانتے اور بہت حساس طبعیت کے فرد تھےاور باتوں کو محسوس بھی کرتے اور سنجیدگی سے لیتے تھے۔ مزاح بھی خوب تھا اور کرکٹ سے بھی جنون کی حد تک شوق تھا۔

کٸی ان کے دکھ کے لحمات تھے جو انہوں نے مجھ سے کیے وہ راز ہی رہیں تو بہتر ہے۔ مگر ایک بھرپور زندگی گزاری، کئی نشیب و فراز دیکھے مگرہمت نہ ہاری بس کام کرتے رہے اور ہمیشہ کہتے بس کام کرتے کرتے جانا چاہتا ہوں۔

میرے ساتھ ان کا ہمیشہ سے محبت کا تعلق تھا اور ان کی شفقت محبت اور دوستی سے عملی طور پر محروم ہوگیا ہوں۔ دل رنجیدہ اور اداس ہے اور ان کے بغیر لاہور کی یہ مجلسی زندگی کا احساس اور دکھی کردیتا ہے۔ لیکن موت برحق ہے اور مجھ سمیت سب نے ہی رب کے پاس جانا ہے۔

ڈاکٹر مغیث ہم سب کی شان تھا اور ماتھے کا جھومر بھی، مجھ سمیت ہم سب کو ان سے تعلق پر ناز اور فخر رہے گا۔ وہ ہمیشہ ہمارے دل میں ایک خوشبو کی طرح زندہ رہیں گے اور ان کا احساس کچھ نہ کچھ کرنے پر مجبورکرتا رہے گا۔

جامعہ پنجاب کے سربراہ ڈاکٹر نیاز احمد سے گزارش ہے کہ میڈیا انسٹی ٹیوٹ کا ایک بلاک ڈاکٹر مغیث کے نام کردیا جاۓ جہاں ان کی بڑی زندگی درس و تدریس میں گزری۔

میں بھیگی آنکھوں سے ان کی خدمات کو بڑا خراج تحسین پیش کرتاہوں۔ وہ ایک فرد نہں بلکہ عملا ایک ادارہ تھے اور مجھ سمیت سب کو ان پر فخر کرنا چاہیے الوادع مغیث شیخ صاحب اور بہت ساری دعاٸیں تمہارے لیے اگلے سفر کے لیے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20