بدلتی زندگی اور سماج سے بدلہ —- سحرش عثمان

0

اماں اپنے کسی عزیز کی بات سنایا کرتی ہیں۔ جب بظاہر ماڈرن والدین کی بیٹی کو کزنز کے جم غفیر میں بلند آہنگ آہو سسکیوں سے روتے غل غپاڑہ مچاتے پایا گیا تو اس زمانے کی مقدور بھر برگر اماں تشریف لائیں اور منہ سونگھا۔۔۔ یعنی غل غپاڑہ کی وجہ دریافت فرمائی تو بچی نے سوال نما جواب داغا کہ “باء جیاں ویندے کیوں نیں”
یعنی ابا جی دیکھتے/ گھورتے کیوں ہیں؟

ان کے تو باءجیاں کو اللہ جانے کیسے سمجھایا گیا۔
لیکن اس بات کو کئی نسلوں تک ابھی بھی منتقل کیا جاتا ہے تاکہ کوئی بھی ماڈرن بننے کے چکر میں اپنا آپ نہ بھول جائے۔
لیکن کل جب آپ نے کہا زندگی پر لکھیں تو جانے کیوں جی چاہا ویسے ہی سسکیوں سے ہچکیوں سے رونا شروع کردوں۔ اور جب ماں یا ماں سے ستر گنا زیادہ چاہنے والا خدا قریب آکر پوچھے کہ روتی کیوں ہو؟ تو ویسے ہی ہچکیوں میں پوچھوں زندگی گھورتی کیوں ہے؟

کیا لکھوں زندگی پر؟ زندگی اب وہ محبوبہ نہیں لگتی جس کی محبت میں گرفتار ہو کر کوئی شہزادہ دنیا و آخرت بھول جاتا ہے۔ اور ظالم دیو سے بھڑ جاتا ہے۔
نہ ہی زندگی وہ ظالم دیو لگتی ہے جو شاہ زادیوں کو قیدی بنا کر لطف لیتا ہو۔
زندگی شہزادے اور دیو کے بیچ کہیں کوہ قاف میں بھٹکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
زندگی شاہ زادیوں کے الجھے بالوں کی طرح کئی راز کہتی ہے۔ اور کئی راز چھپا لیتی ہے۔
مجھے کوئی اور کہتا زندگی پر لکھیں تو کہانی شائد کچھ اور ہوتی۔ پر یہ آپ نے کہا۔ اور میں اس لمحے میں اس لہجے کی اسیر ہوکر رہ گئی۔
لہجے کی وحشت میں ڈھلتی ہوئی اداسی نے مجھے تب سے اداس کر رکھا ہے۔
مجھے پتا ہے زندگی کوئی اچھے طریقے سے پیش نہیں آرہی۔ اور افسوس یہ کہ ہم کچھ کر بھی نہیں پاتے۔
دکھ زندگی کے برے طریقوں کا نہیں دکھ تو اپنی بے اختیاری کا ہوتا ہے۔
لیکن یہ صرف ہماری آپ کی بے اختیاری نہیں یہ صرف ہماری آپکی بے بسی نہیں ہے۔ جس کو دیکھیں اپنی اپنی جنت کے کچھ خواب لیے۔
اپنے اپنے دوزخ میں سب جیتے ہیں۔
یہاں سب بے اختیاری کی ہی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جس کو ذرا جو اختیار ملتا ہے تو وہ اپنے اختیار کا فرعون بن جاتا ہے۔ ہم کم ظرفوں کا وہ ہجوم ہیں جو اختیار والوں کی ہجو اس لیے کرتے ہیں کہ اس کو حاصل اختیار ہمیں میسر نہیں۔ کاش ہمیں اختیار ملے تو ہم ایسے “کم ظرفوں” پر زندگی تنک کردیں۔
آپ ہی کہیئے اس سوچ کے ساتھ ہم کیا خاک بدلاؤ لائیں گے؟

زندگی کی کس کس بدصورتی پر لکھا جائے۔ زندگی کی روا رکھی جانے والی زیادتیوں پر یا نا انصافیوں پر لکھا جائے؟ اور کیسے لکھا جائے۔ جب میں دیکھتی ہوں بہت سی شاہ زادیاں دیو کی قید میں زنداں کو زندگی سمجھ بیٹھی ہیں۔ جب میں دیکھتی ہوں بہت سی شہر زادیں اپنے محور کے چاند کی چاندنی کو لٹتا دیکھ کر بھی چپ رہنے پر مجبور ہیں۔ جب اپنے محور میں گھومتے کسی ستارے کو اچانک کسی آوارہ سیارے کا سامنا ہو اور ستارے کو ٹوٹنا پڑے یا جگہ چھوڑنا پڑے اور دنیا ایسی زیادتی کو گھر بسانا کہہ دے تو بتائیے ایسی زندگی پر میں کیا لکھوں؟
میں کیوں نہ حرف لپیٹ کر اس محفل سے چلی جاؤں؟ یا پھر خاموش ہوجاؤں؟
بتائیے میں زندگی پر لکھوں تو اپنے اندر کے باغی کو چپ کیسے کراؤں؟

میں زندگی پر لکھ کر آپ کو ہرٹ نہیں کرنا چاہتی۔ ۔ لیکن سچ یہ ہی ہے میرے پاس حرفوں کے کوئی موتی نہیں ہیں جن کو پرو کر میں زندگی آپ کو پرکشش مالا بنا کر دکھاؤں۔
میرے پاس گلابوں کی کوئی باڑ نہیں ہے کہ میں خوشبو خوشبو زندگی دکھاؤں آپ کو۔
میرے پاس بے اختیار قہقہے نہیں ہیں بچوں کی آنکھوں کی روشنی نہیں ہے۔ حیران دل نہیں ہے اور میرے پاس خوشی کی انتہا پر ٹپکا کوئی آنسو نہیں ہے کہ میں زندگی کی راہ گزر پر بکھیر کر آپ کے لیے آسانیاں کرسکوں میرے لیے سوائے حرف دعا کے کوئی آسرا نہیں جو آپ کو دے سکوں۔ زندگی کے ساتھ اپنے آپ کے سب کے تعلق کو بیان کرنے کے لیے شعر یاد آرہا ہے

ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

زندگی میں زندہ رہنے کی خواہش میں چلتے چلتے ہم سب مر جائیں گے اور یوں زندگی کا یہ سوکھا ہوا تالاب نوحہ خوانوں کے آنسوؤں سے بھر جائے گا۔

سوچا تھا یہاں تحریر ختم کردیں لیکن نہیں کرسکی کیوں آپ نے سنا ہوگا “کڑی تے وسدی اے شریک وسن نہیں دیندے”
تو آنسہ کو بھی شریک ایسے دکھی نوٹ پر تحریر ختم نہیں کرنے دے رہے۔ اگر ایسے ہی مایوس کن تحریر لکھ دی تو آنسہ کے “شریک” تو خوشی کے شادیانے بجائیں گے کہ دیکھا ہم نہ کہتے تھے زندگی سب کس بل نکال دے گی۔ تو ایسا ہے کہ زندگی کی____

یہ شریک بغاوت کا نام لے لے کہ چھیڑیں گے ہمیں۔ پرانی روایتوں کے حوالے دے دے کر ناک میں دم کردیں گے۔ تو ان کی تشفی کے لیے کہ ایک باغی ہے اندر جو ابھی بھی تہہ تیغ کرنے پر تل جاتا ہے۔ جب میں کہتی ہوں نا میں تو وہ کپت ڈالوں کے دنیا دیکھے۔ تو یقین کریں میں کر گزروں۔ میرے اندر ایک باغی سکھ رہتا ہے جو جب کچھ کرنے پر تل جاتا ہے تو پھر کر گزرتا ہے۔ انجام سے بے پرواہ ہو کر۔ لیکن اب اکثر اس کو سلائے رکھتی ہوں کہ انجام کی پروا کرنے لگی ہوں۔ لوگ باگ کہتے ہیں سمجھدار ہوگئی ہوں مجھ سے پوچھیں تو یہ سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ یہ جو میں مچھیروں کی بستی میں مچھیرا بنتی جارہی ہوں نا یہ بڑی بے وقوفی ہے۔

لیکن آپ کو معلوم ہے یہ میں کیوں گوارا کررہی ہوں؟
تاکہ میں اپنے جیسے کچھ اور باغی دے جاؤں اس سماج کو۔
میں چھوٹی سی اریحہ کو دیکھتی ہوں تو ہنستی ہوں دنیا کی بے وقوفی پر بھلا کوئی مجھ سے یہ اختیار چھین سکتا ہے؟ کوئی مجھ روک سکتا ہے اس میں بغاوت انڈیلنے سے؟

اکثر اس باغی کی بغاوت کے مشورے کو ہوا میں اڑا دیتی ہوں یہ سوچ کر کے پہلے کچھ ہمنوا بنالوں۔ کیا کروں بغاوت سیکھی ہے تو سیاست بھی تو پڑھی ہے نا۔ اب دین و دنیا ساتھ لے کر چلنے کی کوششوں میں رہتی ہوں۔

تو میرے آپ جیسی ساری ماؤں کے نام ہے یہ تحریر کے ہم ایسے بے اختیار بھی نہیں ایک نسل ہمارے ہاتھوں میں ہے اچھا برا سیکھنے کے لیے یہ ہی وقت ہے سماج بدلنے کا یقین کریں اس سے اہم یہ موقع ہماری زندگیوں میں کبھی نہیں آیا۔ رب نے اپنی پوری تخلیق ہمارے ہاتھوں میں دے دی ہے اب اس کو سنگ راہ بنانا ہے یا مینار نور، ہم پر منحصر ہے۔ آئیں آج سے “سماج” بدلنے کا عہد کریں۔

یقین کریں زندگی سے، سماج سے اس سے بہتر بدلہ ممکن ہی نہیں کے ہم اس سماج کے باغی پروان چڑھائیں جو اس سماج کے تعصبات کے بت توڑیں، جو رواجوں کے مندر ڈھائیں۔ جو ظالم کو دل میں ہی برا نہ جانیں بلکہ آگے بڑھ کے ظالم کا ہاتھ پکڑ لیں۔ جو ظلمت کو ضیاء ماننے سے صر صر کو صبا کہنے سے یکسر انکاری ہو جائیں۔ جو بندے کو خدا تسلیم کرنے کے خلاف سراپا جنگ ہوجائیں۔ جو حق کے لیے ہر حد تک جانے پر تیار رہتے ہوں۔

یقین کریں اگر ایک بھی “پیس” ایسا دے دیا ہم نے اس سماج کو تو ہماری آپکی بخشش پکی ہے۔ اس دنیا میں تو دوزخ بھگت ہی رہے ہیں آگے تو سکون سے رہیں ہم۔ کیا خیال ہے؟

اور یہ ہی زندگی ہے اپنے اپنے حصے کا چراغ جلانا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20