قنوطیت یا رجائیت: ایک نیا انداز نظر ——— منور رشید

0

سادہ الفاظ میں ناامیدی یا پرامیدی انسانی نفسیات کے دو ایسے پہلو ہیں جن پر انسان شعوری یا لاشعوری طور پر عمل کی محدود استعداد رکھتا ہے۔ انسانی نفسیات اور تجربات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کی ایپلیکیشن سے حاصل ہونے والے نتائج آپ کے احساسات کی تسکین کے حوالے سے تو تقریباﹰ یکساں ہوتے ہیں لیکن ان سے حاصل ہونے والے عملی نتائج کی نوعیت کافی حد تک ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتی ہے۔ اب انسان ان دونوں میں سے کس کا انتخاب کب، کیوں اور کیسے کرتا ہے اس کا دارومدار مکمل طور پر حالات اور واقعات پر ہوتا ہے۔ لیکن قنوطیت اور رجائیت کے تقابل میں اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت سب سے زیادہ ہے کہ اس کھیل کے پیچھے کونسی طاقت کارفرما ہے جو انسان کو ان کے انتخاب میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ کیا یہ رویے محض نفسیاتی احساس کی تسکین کا موجب ہیں یا ان کی بنیاد پر واقعی انسان اَپنے تشکیل کردہ مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے؟

میرے نزدیک نفسیاتی طمانیت کا احساس یا تسکین دونوں رویوں کا ایک جزوِ لاینفک ہے جو کہ اسکے اطلاق کے ہوتے ہی حاصل ہو جاتا ہے۔ اصل میں مقصد کے حصول کی خواہش ہی طاقت کا وہ منبع ہے جو پس پردہ ان کے انتخاب میں ایک تحریک کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہ مقصد اپنی ذات میں مثبت اور منفی دونوں نوعیت کا ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر انسان اگر پرامیدی میں ایک قدم آگے بڑھتا ہے اور ناامیدی میں دو قدم پیچھے تو یہ محض ایک عمل نہیں ہوتا بلکہ ان دونوں اقدامات کے پیچھے ایک خاص مقصد کا حصول کارفرما ہوتا ہے۔ اور بات جہاں حصول مقصد کی ہو وہاں امید یا نا امیدی کی حیثیت اپنی ذات میں ثانوی ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر بطور ایک ملک کے حکمران پرامید ہیں کہ آپ کسی ملک پر حملہ کرکے فتحیاب ہو سکتے ہیں تو آپ حملہ کر سکتے ہیں اور شاید کامیابی سے بھی ہمکنار ہو جائیں۔ لیکن آپ کی رجائیت یا پرامیدی آپ کے لیے ہمیشہ فتح کا باعث ہی بنے اسکی ضمانت آپکو کوئی نہیں دے سکتا۔ آپ خود بھی نہیں۔ آپ اپنی تمام تر رجائیت کے باوجود بھی شکست سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ اسکے برعکس اگر آپکی قنوطیت آپ کو اس حملے سے دور رکھنے میں کامیاب ہوتی ہے تو اسے آپ کی ناکامی تصور کرنا بھی سراسر غلط ہوگا کیونکہ دونوں صورتوں میں محرک ایک مقصد کا حصول تھا۔ جہاں آپکی رجائیت نے آپکو حملے کے بعد فتح کی امید دی وہیں قنوطیت سے بھی ایک واضع مقصد کی تکمیل ہوئی ہے۔ وہ مقصد اس حملے سے شکست کی صورت میں ممکنہ نقصانات سے بچاؤ کا ہو سکتا ہے۔ بلکہ ہوسکتا ہے یہاں قنوطیت زیادہ فائدے کا باعث بنے کیونکہ رجائیت آپکو اقدام کرنے کے لیے آمادہ تو کرسکتی ہے لیکن نتائج کی کوئی بھی ضمانت دینے سے قاصر ہوتی ہے جبکہ اسکے برعکس قنوطیت ایک محتاط حکمت عملی کے طور پر نتائج کی ضمانت کافی حد تک دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس مثال میں جو غور طلب بات ہے وہ امید یا نا امیدی کا احساس نہیں بلکہ دونوں کی بنیاد پر کیے گئے فیصلوں سے حاصل ہونے والے نتائج ہیں۔ جو کہ آپ کو دونوں میں سے کسی ایک کے بھی انتخاب سے یکساں طور پر حاصل ہو جاتے ہیں۔ جس طرح فتحیابی سے جڑے فوائد باعث مسرت ہوتے ہیں اور اہمیت کے حامل ہوتے ہیں شکست سے جڑے نقصانات باعث رنج وغم ہوتے ہیں اور زیادہ اہمیت اور توجہ کے متقاضی ہوتے ہیں۔. پس اگر فتح کی امید میں آگے بڑھنا ایک مثبت قدم ہے تو شکست کے خطرے سے بچنے کے لیےآگے نہ بڑھنا بلکہ دو قدم پیچھے ہٹنا بھی ایک انتہائی مثبت قدم ہو سکتا ہے۔
جدید طب کی دنیا میں جب آپ کا معالج آپ کے لیے کوئی دوا تجویز کرتا ہے تو اس کے سائیڈ ایفیکٹس کو یہ دلیل دے کر نظرانداز کرنے کے لیے کہتا ہے کہ دوا سے حاصل ہونے والے فوائد اس سے ہونے والے نقصانات سے کہیں ذیادہ ہیں لہذاٰ آپ کو دوا کھانی ہوگی لیکن جہاں دوا سے ہونے والے نقصانات بھی فوائد کے ساتھ ساتھ نمودار ہونا شروع کردیں اور بیمار کو مزید بیمار کردیں تو ان مزید نقصانات سے نمٹنے کے لیے مزید دوائیں تشخیص کر دی جاتی ہیں اور امید دی جاتی ہے کہ سب خیر ہوگی۔ اور اگر کوئی تجربہ کار معالج ہو تو وہ دوائی بدل دیتا ہے یا مکمل طور پر بند کر کے پرہیز کا مشورہ دے دیتا ہے۔ اب ایسے حالات میں انسان رجائیت اور قنوطیت کے مخمصوں میں پھنس جاتا ہے۔. اور اسکے لیے ایک بہترین فیصلے تک رہنمائی صرف اس دوا کے استعمال سے ہونے والے فوائد اور نقصانات کی ناپ تول ہوتی ہے اور یہ ہی اسکا اولین مقصد بن جاتا ہے۔ رجائیت اگر آپ کو زہر کھانے پر آمادہ کر دے تو یقیناﹰ نقصان دہ ہے اور قنوطیت پرہیز پر آمادہ کردے تو فائدے کا باعث بن جاتی ہے۔
انسانی رویے اپنے مقاصد کے محتاج ہوتے ہیں اور ہر مقصد ایک نئے رویے کا متقاضی ہوتا ہے۔ گویا امید یا ناامیدی مطلقا درست یا نادرست رویے نہیں بلکہ انکی افادیت اور نقصان کا انحصار صورتِ حالات پر ہے۔ وہ انگریزی میں کیا کہتے ہیں “ون سائز ڈز ناٹ فٹ آل” ۔۔۔۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: