حادثہِ وقت —- سید ریحان احمد

0

فرید جاوید نے نے کہا تھا:

زندگی کو بہت عزیز ہوں میں
ڈھونڈ لیتے ہیں حادثات مجھے

ایک دور وہ تھا جب صاحبِ علم کو اُس کے علم اور صاحبِ جہل کو اُس کے جہل سے پہچانا جاتا تھا ملت، مذہب، مسلک، عقیدہ ثانوی حیثیت رکھتے تھے اور ایک دور یہ ہے کہ بڑے سے بڑا شاعر، مفکر، دانشور، عالم ملت، مذہب، مسلک، عقیدہ کی بھینٹ چڑھادیا جاتا ہے۔

شوکت ہمارے ساتھ بڑا حادثہ ہُوا
ہم رہ گئے ہمارا زمانہ چلاگیا

واقعہ کچھ یوں ہے کہ گزشتہ روز ہمارے دل سے ایک آہ نکلی جس کا سبب دو حادثات تھے پہلے حادثہ پر ایک شعر سُن لیجئے

جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
اس حادثہ وقت کو کیا نام دیا جائے

ہُوا کچھ یوں کہ ہمارے ایک ادبی دوست نے فیس بُک پر ایک پوسٹ لگائی جس پر جون ایلیا کی تصویر نے ہمیں مقناطیس کی طرح اپنی جانب کھینچ لیا مگر زیرِ تصویر درج سطور پڑھ کر ہمیں حیرت ہوئی کہ یہ ہمارے صاحب ِ کتاب ادبی دوست اتنے غیر ادبی کیسے ہوگئے ذرا پوسٹ کی سطور ملاحظہ ہوں:

ملحدوں کا روحانی پیشوا: جون ایلیاء
یہ شخص زندگی کے وجود کے مقصد کی نفی کرنے والا تھا، یہ کہتا تھا کہ ک خدا کا وجود نہیں کیونکہ کائنات بے ڈھنگ ہے ایسی کیوں نہیں ویسی کیوں نہیں، یہ شخص ملحد تھا ہمیشہ کے لئے لعنت اس کا مقدر ٹھہری، یہ ایسی شخصیت ہے جس کو لادین اور اسلام مخالف سوشل میڈیا پر خوب پروموٹ کرتے ہیں اور تو اور ہمارے دینی بھائی بھی انجانے میں اس کی شاعری سے متاثر ہوکر پسند کرتے ہیں اس پوسٹ کو جتنا ہوسکے شیئر کریں۔

بس جناب اسے پڑھنا تھا ہمارا وراثتی نقاد چیخ مار کر بیدار ہوگیا ہم نے موصوف سے پوچھا:

بھائی اب شاعر اور شاعری کا فیصلہ شاعر کے مذہب، نظریئے یا عقیدے کی بنیاد پر ہوگا؟ کیا شاعری کو پرکھنے کا معیار اب یہ ہے؟ جو سمندر کو کوزے میں بند کردے اور پوری کتاب کے حاصل کو دو مصرعوں میں بیان کردے وہ ہنر ہے شاعری اے میر شعر کہنا کیا ہے کمالِ انساں، بھائی شاعر کو شاعر رہنے دیں وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی، موحد ہو یا ملحد دونوں صورتوں میں وہ شاعر ہے جون ایلیا شاعر تھا اور کمال کا شاعر تھا اُسے شاعر ہی رہنے دیں اگر آپ کا مقرر کردہ معیارِ شاعری ہی خدانخواستہ معیار ٹہرے تو نناوے فیصد شعرا کو آپ ملحد قرار دے دیں گے:

میر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو اُن نے تو
قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا

دیکھیو غالب سے اگر اُلجھا کوئی
ہے ولی پوشیدہ اور کافر کُھلا

عمر تو ساری کٹی عشقِ بُتاں میں مومن
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

کبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہے
بات کہنے کی نہیں تُو بھی تو ہرجائی ہے

ایک فرصتِ گناہ ملی وہ بھی چار دن
دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کہ

دیکھ اے دستِ عطا تیری غلط بخشی کو
یہ الگ بات کے چپ ہیں مگر جانتے ہیں

کیا خیال ہے دوست درج بالا اشعار میر، غالب، مومن، اقبال، فیض، سلیم احمد کے ہیں یہ بھی سب۔۔۔۔؟

اب جواب ملاحظہ ہو:
سر شاعری تو چھوڑی جاسکتی ہے نا۔۔۔ مذہب اور دین کے بغیر جنت میں کیسے جائیں گے؟ جو شخص اکثر ایسی باتیں کر جاتا ہو جن کے بارے میں ایسا حکم ہو کہ ایسی باتیں جہاں ہورہی ہوں وہاں سے اُٹھ جاوٗ، اُس کو آئیڈیل بنانا کیسا ہے۔۔؟ معذرت کے ساتھ

اب ہمارا جواب ملاحظہ ہو:

جنت کے بارے میں غالب کہہ گئے ہیں:
ایسی جنت کا کیا کرے کوئی
جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں

بھائی وہ جنت میں جانا ہی نہیں چاہتا آپ خوامخواہ اُسے جنت میں لے جانے کے درپے کیوں ہورہے ہیں۔۔؟ شعر پڑھئیے شعر سُنئے جو بات ناگوار گُزرے اُس پر لاحول پڑھئے ہمارا تو یہ طریق ہے لیجئے آخر میں ملحد جون ایلیا کے دو مصرعے آپ کے ذوق شاعری کی نذر:

آدم ابلیس اور خدا کوئی نہیں یکسو مُجھ میں
میں تو ایک جہنم ہوں تُو کیوں رہتا ہے مُجھ میں

ابھی ہم اس حادثہ سے نبرد آزما ہوئے نہیں تھے کے سیل فون پر ایک اور ادبی دوست کا فون آگیا اور اس فون کا محرک ہماری ایک سطرتھی جو ہم نے جناب علامہ طالب جوہری کی رحلت کی خبر سُن کر اُن کی تصویر کے اوپر درج کرکے فیس بُک پر پوسٹ کردی تھی سطر یہ تھی:
علم و معرفت کا ایک اور باب بند ہُوا

اُن کا سوال تھا :
اگر طالب جوہری علم و معرفت رکھتے تھے تو اُن کا عقیدہ اور مذہب صحیح تھا پھر۔۔۔؟

ہم نے سر پیٹا اور اُن سے بھی عرض کیا:
علم و معرفت کا تعلق خالی عقیدے، مسلک یا مذہب سے نہیں ہوتا علمیت سے ہوتا ہے، آگاہی سے ہوتا ہے، ارسطو نے کہا تھا کہ جس نے تمھیں ایک لفظ سیکھایا وہ تمھارا اُستاد ہے میرا تعلق خالص سنی گھرانے سے ہے میں گزشتہ تیس برس سے صرف ایک مجلس سُنتا آیا ہوں اور وہ مجلس ہوتی تھی علامہ طالب جوہری کی دین اسلام، مذہب، منطق، فلسفہ پر ایسے ایسے دلائل چند سطروں میں بیان کرجاتے کہ دل سے بے دھڑک صدا بلند ہوتی واہ علامہ واہ سبحان اللہ۔۔۔

ہماری عرضی سُن کر موصوف کا کہنا تھا شیطان بھی ملائکہ میں عالم تھا اور عربوں میں ابو جہل بھی، ہم نے کہا شیطان کے عارف باللہ ہونے میں اورپھر گمراہ ہونے میں کوئی شک نہیں اسی طرح ابوجہل کے علم و فراست رکھنے اور پھر علم کی معراج کو دیکھتے، جانتے ہوئے حق کا انکار کردینے کی پاداش میں ابوجہل قرار دینے میں بھی ہمیں کوئی شائبہ نہیں لیکن ہم پھر کہیں گے علم و معرفت خالی مذہبی نہیں ہوتی شیطان اور ابوجہل دونوں کے انکار کا سبب اُن کی علم و معرفت کی کجی نہیں تکبر تھا۔ دونوں اچھی طرح حق کو جانتے بھی تھے اور پہچانتے بھی تھے۔ ۔ پھر ہم نے موصوف سے پوچھا حضرت خدیجہ (ارضی اللہ تعالیٰ عنہ) پہلی وحی آنے کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی کیفیت کو دیکھتے ہوئے اُنھیں اپنے چچا کے پاس لے گئیں تھیں جو کہ عیسائی عالم تھے کیا کہا تھا انھوں نے رسول اللہ کو دیکھ کر اور اُس راہب کے بارے میں کیا خیال ہے جو برسوں سے صحرا میں موجود اپنی عبادت گاہ میںمحو عبادت تھا مگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی آمد کی خبر اُسے ہوگئی تھی حالانکہ اُس وقت آپ صرف سات آٹھ برس کے تھے اُسی نے آپ کے چچا کو منع کیا تھا کہ اس بچے کو شام مت لے جائیے گا یہودی اسے پہچان گئے تو قتل کردیں گے۔ بھائی یہ ہے علم و معرفت یہ خدا کی دین ہے وہ جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور علامہ طالب جوہری تو کلمہ گو تھے۔۔۔ مگر جناب ہمارے دوست کو نہیں ماننا تھا وہ نہیں مانے اور نہ جانے کیا کچھ کہتے گئے جنھیں ضبط تحریر میں لانا یہاں ممکن نہیں۔

ان دونوں حادثات اور مباحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری طبیعت مزید مضطرب ہوگئی اور ہم یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہوئے جارہے تھے کہ ہم اپنے معاشرے کو کس نہج پر لے آئے ہیں؟ برداشت، مذہبی ہم آہنگی، اقدار، روایات جو ہمارے معاشرے کا حُسن تھیں وہ کہاں دفن ہوگئیں۔ اب ہم شاعری، ادب اور علم و معرفت کا موازنہ بھی مذہب، مسلک اور عقیدے کی بنیاد پر کرنے لگے ہیں۔ ہمارا معیار حق ہے اور جو ہمارے معیار اور عقیدے پر نہیں وہ باطل، ملحد، کافر۔۔ تاریخ کے اوراق پر نظر دوڑایئے، اہل بغداد نے جلال الدین خوارزم شاہ کا ساتھ صرف اس لیئے نہیں دیا تھا کہ وہ شیعہ تھا مگر بغداد میں ہلاکو خان نے گردنیں اُڑاتے ہوئے نہ شیعہ دیکھا نہ سُنی سب برابر کردئیے انھیں سوچوں میں غرق ہم مضمحل ہوئے تو سلیم احمد نے کان میں سرگوشی کی:

سچ تو کہہ دوں مگر اس دور کے انسانوں کو
بات جو دل سے نکلتی ہے بُری لگتی ہے

بس جناب یہ سُننا تھا کہ ذہن کے دریچے پر علامہ طالب جوہری نے کچھ یوں دستک دی:

راہب اپنی ذات میں شہر آباد کریں
دیر کے باہر پہرہ ہے ویرانے کا
بات کہی اور کہہ کر خود ہی کاٹ بھی دی
یہ بھی اک پیرایہ تھا سمجھانے کا

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20