جورڈن پیٹرسن : فیمنزم کے ستائے ہوئے مردوں کا مسیحا —- وحید مراد

0

(کیتھی ینگ Cathy Young کے مطابق فیمنزم کا ڈسکورس مردوں کو خواتین کی معمولی سی حکم عدولی پر بھی جھاڑ پلانے تک سے گریز نہیں کرتا اور فیمنزم ڈسکورس میں عام طور پر “مرد” اور “مرادنگی” کے الفاظ کو “زہر Toxic” کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ مرد کو مساوی شراکت دار ماننے کی بجائے ماضی کا مجرم تصور کیا جاتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ تمہارا دور ختم ہو چکا، اب فرمانبردار بن کر رہو۔ پھر بھی تمہیں شک کی نظر سے ہی دیکھا جائے گا کیونکہ تمہارا کوئی بھروسہ نہیں کہ کب تمہاری سوئی ہوئی غیر ت جاگ اٹھے اور تمہارا پرانا روپ واپس آجائے۔ یہی وجہ ہےکہ یورپ اور امریکہ میں، فیمنزم کی دلدادہ خواتین کے ظلم و ستم سے تنگ آکر لاکھوں سفید فام مردوں نے جورڈن پیٹرسن کو اپنا مسیحا سمجھ کر اسکے ویڈیو لیکچرز سننا شرع کر دئیے ہیں۔

پیٹرسن کے اس جملے “مرد اور عورت نہ کبھی ایک جیسے تھے اور نہ کبھی ایک جیسے ہو سکتے ہیں” پر فیمنسٹ حلقوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ پیڑسن کو مدلل جواب دینے کی بجائے فیمنسٹ الزام تراشیوں پر اتر آئے ہیں اور ٹورانٹو یونیورسٹی کے کلینیکل سائیکالوجی کے ایک سائنسدان (پیٹرسن) کو دائیں بازو کا ایکٹوسٹ اور اسکے خیالات کو سرمایہ دارنہ نظام کے خلاف سازش قرار دیا جا رہا ہے)۔


انگریزی بولنے والی دنیا میں، آج کے دور کے سب سے زیادہ مقبول، بااثر اور متنازعہ عوامی دانشور، ٹورانٹو یونیورسٹی کے پروفیسر، جورڈن پیٹرسن Jordan Peterson ہیں۔ پیٹرسن، کلینیکل سائیکالوجی کے محقق اور استاد ہونے کے ساتھ ساتھ یو ٹیوب کے اسٹار، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور پسند کئے جانے والے مصنف ہیں۔ حال ہی میں انکی شائع ہونے والی کتاب “زندگی کے 12 قواعد 12 Rules for Life” کی دس لاکھ سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ پیٹرسن انتہائی سادہ لباس پہنتے ہیں اور ایک انوکھی شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ زیادہ تر نفسیات اور باطنی علوم پر لکھتے رہے ہیں لیکن کچھ عرصہ سے انکا مرکزی پیغام جدید لبرل ثقافت کی کامل تنقید پر مبنی ہے۔ انہوں نے اپنے وسیع نظریات کو مختصر مگر معنی خیز جملوں میں ڈھال لیا ہے اور جب وہ بولتے ہیں تو سننے والوں پر ایک سحر سا طاری ہو جاتا ہے۔ مثلاً آج کے دور کی صنفی مساوات سے پیدا ہونی والی بے چینی کے حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ “آج کے دور میں مردانگی ایک بحران کا شکار ہے“، اس طرح مذہبی حکایتوں پر مشتمل حقائق کو وہ قدیم حکمت سے تعبیر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ “دنیا کو اچھی ترتیب دینے کیلئے اگر کسی ماضی کےماڈل کو آزمانا پڑے تو ہمیں، اس میں کوئی شرم محسوس نہیں ہونی چاہیے“۔ انکے کچھ نقادوں کا خیال ہے کہ پیٹرسن لبرل کلچر کو مردانہ روح پر حملہ تصور کرتے ہیں اور پیٹرسن کی دنیا میں آرڈر صرف مردانہ ہے اور افراتفری صرف نسائی ہے جیسا کہ وہ اپنی کتاب “افراتفری کا عنصر An Antidote to Chaos” میں اسکی تفصیل بیان کرتے ہوئے اسکا علاج بھی بتاتے ہیں۔ کچھ لوگوں نے فیمنزم سے پریشان نوجوانوں کیلئے امید کے پیامبر کے طور پر بھی انکا خیر مقدم کیا ہے۔ کچھ لوگ انہیں صوفیانہ باپ یا ایک رہنما کے طور پر مانتے ہیں۔ کچھ لوگ انکے لیکچرز کو فاشزم کی مذمت کرنے کیلئے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بہت بصیرت انگیز باتیں کرتے ہیں لیکن انکی باتیں بہت سی چیزوں کا مجموعہ یا مرقع ہیں جن کی کئی تعبیریں کی جاسکتی ہیں اور انہیں کئی مقاصد کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اپنے پیروکاروں کیلئے پیٹرسن مردانگی کا پیامبر ہے وہ ایک طرح سے انکے لئے روحانی پیشوا بن گیا ہے جو اس بات پر رنجیدہ اور غمزدہ ہیں کہ انہیں مرد ہونے کی وجہ سے شرمندہ کیا جاتا ہے اور انہیں معافی کا خواستگار ہونا پڑتا ہے۔ وہ الزامات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ پیٹرسن کا لیکچر سننے کیلئے لوگ 44 ڈالر سے لیکر 200 ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں نے پیٹرسن کو “انٹیلکچول ڈارک ویب Intellectual Dark Web” کا رہنما قرار دے دیا ہے۔ جب پیٹرسن سے پوچھا گیا کہ آپ کی باتیں سننے کیلئے لوگ اتنا پیسہ خرچ کر رہے ہیں تو وہ کس چیز کے بھوکے ہیں؟ اسکے جواب میں اس نے کہا کہ وہ ذمہ دارانہ تعلقات اور ان پر بامعنی اور پرمغز گفتگو کے بھوکے ہیں اور ہمارے کلچر میں پچھلے پچاس سال سے ایسی گفتگو ہوئی ہی نہیں ہے، ہم نے صرف حقوق، مراعات، آزادی اور فوری خوشی پر توجہ مرکوز کئے رکھی ہے، یہ سب چیزیں بھی اپنی جگہ پر کارآمد ہیں لیکن سطحیت لئے ہوئے ہیں اور جب لوگ سطحیت پر اتر آتے ہیں تو تباہی کا آغاز ہو جاتا ہے۔ لوگوں کو سطحیت سے باہر نکالتے ہوئے بالغ اور ذمہ دار بنانے کی ضرورت ہے۔

Jordan Peterson Top Quotes and Useful Words | Belles citations ...جورڈن پیٹرسن نے تنخواہوں اور معاوضوں میں صنفی فرق کو ختم کرنے اور لاشعوری تعصب سے نمٹنے کی کوششوں پر کڑی تنقید کی ہے۔ ایڈم مک کلوچ Adam McCulloch لکھتے ہیں کہ جورڈن پیٹرسن کے آن لائن سامعین کے وسیع حلقے کو دیکھتے ہوئے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ پیٹرسن کی تنقید قابل غور ہے اور اس موضوع پر دفاع کیلئےمزید تحقیق اور دلائل کی ضرورت ہے۔ ٹورانٹو یونیورسٹی کے نفسیات کے اس پروفیسر کے خیالات کو نظر انداز کرنا ایک بہت بڑی غلطی ہوگی کیونکہ وہ اپنے خیالات کے حق میں ایک ماہر وکیل کی طرح دلائل دیتا ہے اور ہر معاملے میں اپنی تحقیق کو ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہے لیکن ان کے خیالات پر توجہ دینے کی بجائے ان پر انتہائی سطحی انداز سے تبصرے کئے جا رہے ہیں۔ مثلاً یہ کہ “سی ای اوز کو آنکھیں کھلی رکھنی چاہیں کہ ان کی آرگنائزیشنز کے اندر سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ایک پانچواں کالم تشکیل پا رہا ہے”۔ لندن میں کوئین میری یونیورسٹی میں تنظیمی نفسیا ت کے پروفیسر روب برنر Rob Briner کے مطابق، پیٹرسن، عصر حاضر کی ہیومن ریسورس پالیسیوں پر جو تنقید کر رہا ہے اسکے لئے اسے ژنگ Jung، دوستو فسکی Dostovevsky اور نٹشے Nietzsche جیسے مفکرین نے فلسفیانہ بنیاد فراہم کی ہے۔ بہت سے لوگوں کو شاید ایسا لگ رہا ہو کہ اسکی تنقید غیر منصفانہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس نے ابھی ہیومن ریسورس شعبے کے اسلحہ خانے کی طرف صرف انگلی اٹھائی ہے، اصل حقائق ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔

پیٹرسن، اپنے آپ کو ایک “کلاسیکل برطانوی لبرل” کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن انکے کچھ نقادوں نے انہیں “دائیں بازو کا ایک دانشور” کے طور پر پیش کیا ہے جو درست بات نہیں ہے کیونکہ پیٹرسن ویسٹرن سوسائٹی کے اندر پائی جانے والی مایوسی سے پردہ اٹھا رہے ہیں۔ 1960 کی دہائی میں جدید حقوق نسواں کا انقلاب شروع ہونے کے نصف صدی سے بھی زائد عرصہ گزر جانے کے بعد، آج بھی مغرب، عورتوں اور مردوں کے مابین شراکت کیلئے کوئی متوازن اصول اور قوانین وضع کرنے سے قاصر ہے۔ جب پیٹرسن، شاونسٹک کرینک Chauvinistic Crank کی طرح یہ کہتا ہے کہ کام کی جگہ اور دفاتر میں جب خواتین میک اپ کرکے آتی ہیں تو وہ خود مردوں کے جنسی جذبات کو ہوا دیتی ہیں اور انہیں اس بات پر اکساتی ہیں کہ وہ انہیں جنسی طور پر ہراساں کریں تو ان باتوں کو اگر کوئی شخص تنقید کرتے ہوئے یہ کہنا چاہے کہ یہ بے تکی باتیں ہیں تو شاید وہ ایسا کہہ سکتا ہے لیکن درحقیقت یہ سنجیدہ باتیں ہیں جو اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ مغرب کی ترقی یافتہ دنیا میں سماجی اور معاشرتی اصول ابھی تک ترقی پذیر ہیں۔ اور یہ بہت سے مسائل کو ایڈریس نہیں کر پارہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں خواتین، کام کے ماحول کو جنسی نوعیت کا بنانے میں ایک کردار ادا کر رہی ہیں۔

اگر آپ غور کریں تو ہم ان روائتی اصولوں کو کب کا بھلا چکے ہیں جنکی رو سے خواتین کے سامنے روکھی زبان میں گفتگو کرنے کو معیوب تصور کیا جاتا تھا لیکن ان اصولوں پر عمل نہ کرنے کے باوجود آج بھی کسی مرد کو کسی خاتون کے سامنے ایسا بیہودہ لطیفہ سنانے پر نوکری سے برخواست کیا جا سکتا ہے جو اس خاتون کی دل آزاری کا باعث بن سکتا ہو۔ مرد کی طرف سے خاتون کو “صنف نازک” کہنے پر تو شاید صرف برا بھلا ہی کہا جاتا ہے لیکن کسی جنسی عمل کی طرف پیش قدمی کی صورت میں سارے عمل کا ذمہ دار مرد کو ہی تصور کیا جاتا ہے۔ کام کی جگہوں پر رومانس وغیرہ تو بہت کثرت سے چل رہے ہوتے ہیں لیکن ہراساں کرنے کا عمل، معمولی چھیڑ چھاڑ سے زیادہ سنگین تصور ہوتا ہے۔ ایسے پریشان کن ماحول میں، پیٹرسن ذاتی ذمہ داری اور خود ضابطگی کا ایک لائحہ عمل پیش کرتا ہے۔ اگرچہ اسکا پیغام دونوں اصناف سے متعلق ہے لیکن اسکی اصل توجہ مردوں پر ہے۔ دراصل اسکا مرکزی خیال یہ ہے کہ جدید مغرب میں مرد ایک بڑے بحران کا شکار ہیں اور مردوں پر نسائی حملے کو وہ ایک جرم کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ پیٹرسن کے خیالات کی بہت سادہ تعبیر و تشریح Simplistic explanation ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ فیمنزم کی موجودہ شکل یقینی طور پر اس مشکل سے باہر آنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کررہی ہے۔ لہذا یہ تشریح کسی طور پر غلط نہیں ہے۔ فیمنزم کی یہ باتیں صرف ہوائی باتیں ہیں کہ فیمنزم مردوں کو بھی پدرسری نظام کے ظلم و ستم سے آزاد کرانے کی تحریک ہے حقیقت تو یہ ہے کہ فیمنزم کا ڈسکورس مردوں کو خواتین کی معمولی حکم عدولی پر بھی جھاڑ پلانے سے گریز نہیں کرتا اور عام طور پر “مرد” اور “مرادنگی ” کے الفاظ کو “زہر Toxic” کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تمام الفاظ جن کے ساتھ مرد کے سابقے اور لاحقے لگے ہوئے تھے مثلاً چئیرمین وغیرہ کو تبدیل کرکے چئیرپرسن کر دیا گیا ہے کیونکہ مرد کا لفظ ایک برے انسان کے طور پر مشہور کر دیا گیا ہے۔ برطانوی صحافی ہیلن لیوس Helen Lewis نے پیٹرسن کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک سنجیدہ دانشور کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ وہ سفید فام غمزدہ مردوں کے لئے لکھتے ہیں اور ظاہر ہے انکے مسائل اس وقت اصل مسائل ہیں۔ یقینی طور پر پیٹرسن کا ہر حل اور مشورہ ضروری نہیں کہ بہت معقول ہو کیونکہ اسکے مشوروں میں کچھ روائتی باتیں ہوتی ہیں جیسے وہ عورتوں کی آزادی کے خلاف نہیں ہیں لیکن کہتے ہیں کہ دونوں جنسوں کو لازمی طور پر ایک ایسی نئی دنیا کے مطابق ڈھلنا چاہیے جس میں خواتین کو آزادی و خود مختاری ہو لیکن وہ جس طرح کی عورت کی منظر کشی کرتے ہیں وہ صرف ہائوس وائف ہی ہو سکتی ہے۔  اس سے کچھ کنفیوژن پیدا ہو جاتی ہیں کہ اصل میں وہ کیا کہنا چاہتے ہیں لیکن اس کے مخالفین تو اسکی بات سننے تک کے روادار نہیں ہیں۔ اسکی صاف وجہ یہ ہے کہ آج کے دور کا فیمنزم تو مرد کو مساوی شراکت دار ماننے کو تیار ہی نہیں ہے بلکہ وہ تو مرد سے یہ کہتا ہے کہ تم ماضی کے مجرم ہو، تم نے بہت بدتمیزیاں کی ہیں، اب تمہارا دور ختم ہو چکا ہے، مزید بدتمیزیاں بند کرو اور عورتوں کے فرمانبردار اور حلیف بن کر رہو لیکن ایسا کرنے پر بھی تمہیں شک کی نظر سے ہی دیکھا جائے گا۔ تمہارے اوپر یقین نہیں کیا جاسکتا کیونکہ تمہارا کوئی بھروسہ نہیں کب تم دوبارہ سے پرانا روپ اپنا لو۔ ایسی صورتحال میں ظاہر ہے پیٹرسن کو مظلوم لوگوں کی اکثریت کی حمایت ملے گی اگر یہ بات فیمنزم کو بری لگتی ہے تو انہیں چاہیے کہ اپنا قبلہ درست کریں۔

پیٹرسن کا تعلق کینیڈا کے ایک چھوٹے سے شہر فئیر ویو سےہے جو شمالی البرٹا میں واقع ہے۔ پیٹرسن کی عمر اس وقت پچپن سال ہے اور اسے یہ شہرت نسبتاً دیر سے ملی۔ وہ انیس سو نوے کی دہائی میں کچھ سالوں کیلئے ہارورڈ یونیورسٹی میں نفسیات کی تعلیم دے چکے ہیں۔ 1999 میں جب انکی کتاب “Maps of Meaning” شائع ہوئی تو وہ واپس کنیڈا آ گئے اور جب سے یونیورسٹی آ ف ٹورانٹو میں کلینیکل سائیکالوجی پڑھا رہے ہیں۔ ان کو اصل شہرت اس وقت ملی جب 2016 میں جب انہوں نے کنیڈا کے ایک سی 16 بل پر مباحثے میں حصہ لیا۔ اس بل میں صنفی شناخت اور صنفی اظہار کو ان بنیادی انسانی حقوق کے قانون میں توسیع کے طور پر شامل کیا جانا تھا جن پر امتیازی سلوک ممنوع ہے۔ پیٹرسن نے اپنے ایک لیکچر میں اس قانون پر یہ استدلال کیا کہ اس طرح کا قانون آزادانہ تقریر کی سنگین خلاف ورزی ہو سکتا ہے۔ پیٹرسن کا اصل مدعا “ضمائر کے استعمال کا مسئلہ تھا” کیونکہ بہت سے ٹرانس جینڈر اور دیگر اصناف کے لوگ وہ ضمائر استعمال نہیں کر رہے تھے جو انہوں نے اپنے بچپن میں سیکھے تھے۔ ہیومن رائٹس کمیشن نے محسوس کیا کہ کسی کام کی جگہ یا اسکول وغیرہ میں کسی ٹرانس جینڈر شخص کو انکے منتخب کردہ نام اور ذاتی ضمیر جو انکی صنفی شناخت سے مماثل ہے کا حوالہ دینے سے انکار کرنا شاید امتیازی سلوک سمجھا جائے گا۔ پیٹرسن نے ایک مباحثے میں اس بل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے استدلال کیا کہ اس بل کے ذریعے ٹرانس جینڈرز کیلئے کچھ مخصوص قسم کے ضمائر استعمال کرنے پر لوگوں کو مجبور کیا جائے گا اور اسے سیاسی شناخت اور مقاصد کیلئے استعمال کیا جائے گا جس سے لوگوں کا آزادی اظہار رائے کا حق متاثر ہوگا۔ اگر ضابطہ فوجداری میں ترمیم کی جاتی ہے تو اگر وہ فرد کے “ترجیحی ضمیر” کے ذریعہ ٹرانس جینڈر طالب علم یا فیکلٹی ممبر کو فون کرنے سے انکار کرتا ہے تو اسکے بعد اس کے خلاف انسانی حقوق کے صوبائی قانون کےتحت مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ اس لئے وہ ذاتی طور پر اس بل کے حق میں بالکل نہیں ہے اور مزید کہا کہ وہ ایسے الفاظ کبھی استعمال نہیں کرے گا جنکے استعمال کیلئے اسے مجبور کیا جائے۔ اس نے مزید استدلال کیا کہ اس طرح آجروں اور تنظیموں کو اس ضابطہ کے تحت سزا دئے جانے کا امکان بھی پیدا ہو جائے گا۔یعنی اگر کوئی ساتھی، جان بوجھ کر، یا غیر ارادی طور پر کوئی ایسا جملہ استعمال کرے گا جو “جارحانہ کے زمرے” میں آتا ہو تو اسے اس بنیاد پر عدالتوں کے چکر لگانا پڑیں گے۔

پیٹرسن کی یہ ویڈیو لاکھوں افراد نے دیکھی اور کچھ ٹرانس جینڈر افراد نے اسے اپنے خلاف تصور کرتے ہوئے انکے خلاف احتجاج بھی کیا، اس پر انکی یونیورسٹی کی طرف سے انہیں اظہار وجوہ کا نوٹس بھی دیا گیا اور پھر اس بات کا پابند بھی کیا گیا کہ وہ ایسے ضمائر کو استعمال نہیں کریں گے جن سے صنفی امتیاز کا مسئلہ پیدا ہو۔ ٹرانس جنڈر کی شناخت کے حوالے سے پیٹرسن کا کہنا ہے کہ شناخت کا فلسفہ یہ خیال کرتا ہے کہ گروپ کی شناخت زیادہ اہم ہے۔ یہی وہ بنیادی فلسفہ ہے جس نے سویت یونین اور مائو کے چین کو آگے بڑھنے سے روکا اور یہ عموماً بائیں بازو کے کارکنوں کا مرغوب فلسفہ ہے۔ یہ شناخت کی سیاست ہے۔ انکےہاں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ فرد کی حیثیت سے کون ہیں بلکہ اس سے فرق پڑتا ہے کہ آپ اپنے گروپ کی شناخت کے لحاظ سے کون ہیں۔

اسکے بعد پیٹرسن برطانیہ کے چینل 4 پر سامنے آئے اور 2018 میں، چینل4 نیوز کی کیتھی نیومین Cathy Newman کے ساتھ صنفی تنخواہوں کے فرق پر تبادلہ خیالات کیا۔ اس انٹرویو میں پیٹرسن کا استدلال ہے کہ صنفی تنخواہوں میں فرق مردوں اور عورتوں کے مابین پائے جانے والے فطری فرق کا عکاس ہے۔ اس انٹرویو کو آن لائن سات لاکھ سے زائد افراد نے ایک سے زائد مرتبہ دیکھا۔ انٹرویو کے آغاز میں نیومین، پیٹرسن کو چھیڑتے ہوئے سوال کرتی ہے کہ کیا آپ کو اس بات سے پریشانی نہیں ہوتی کہ آپ کے زیادہ تر سامعین مرد ہیں، کیا یہ بات تھوڑی سی تفرقہ انگیزی والی نہیں لگتی؟ آخر آپکی طرف سے پیش کئے گئےخیالات میں خواتین کے مطلب کی کیا چیز ہے؟ اسکے جواب میں پیٹرسن کہتا ہے کہ نہیں یہ بات اس سے زیادہ تفرقہ انگیزی والی نہیں کہ یوٹیوب پر سب مرد ہیں اور ٹمبلر پر سب عورتیں ہیں۔ بہت سی خواتین بھی میرے لیکچرز سنتی ہیں اور کتابیں پڑھتی ہیں بس صرف اتنی سی بات ہے کہ مردوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے۔ جہاں تک خواتین کے مطلب کی بات کا تعلق ہے تو سوال یہ ہے کہ خواتین کس قسم کا پارٹنر چاہتی ہیں؟ ایسا جو بچگانہ قسم کے خیالات کا مالک ہو اور ہر وقت ان سے جھگڑتا رہے یا ایسا جو انکی مدد کرے۔ خواتین دل سے ایک قابل اور طاقتور مرد کو پسند کرتی ہیں۔ طاقت سے میرا مطلب یہ نہیں کہ جو دوسروں پر ظلم کرے اور بدعنوان ہو، طاقت سے مراد قابلیت ہے۔ لیکن آج کل جو مسئلہ پیدا کر دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ آپ قابل شراکت دار نہیں چاہتے، کیوں؟ کیونکہ آپ صرف اپنا تسلط چاہتے ہیں اور ایک قابل شخص پر آپ غلبہ حاصل نہیں کر سکتے اور جن خواتین کو اپنا تسلط قائم کرنے کے تجربے میں ناکامی ہوتی ہے اور وہ مرد سے اپنے تعلقات خراب کر لیتی ہیں تو پھر وہ قابل مردوں سے خوفزدہ رہتی ہیں اور ایک کمزور ساتھی کی تلاش میں رہتی ہیں کیونکہ کمزور ساتھی پر غلبہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یقیناً سب خواتین ایسا نہیں کرتیں لیکن خواتین کی ایک اقلیت ہے جو اس تجربے سے گزرتی ہے اور یہ انکے لئے بہت برا تجربہ ہوتا ہے اور انکے پارٹنرز کیلئے بھی بہت برا تجربہ ہوتا ہے۔ مختصر لمحات کیلئے تو پارٹنر پر تسلط پا کر تسکین حاصل ہوتی ہے اس لئے لوگ ایسا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن طویل مدتی، کامیاب تعلقات کے حوالے سے یہ کوئی درست فارمولا نہیں ہے۔

پیٹرسن نے انسانی شخصیت کے خدو خال کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ شخصیات کی خصوصیات میں عموماً پانچ قسم کے فرق پائے جاتے ہیں جن میں تجربہ کرنے کیلئے کشادگی، دیانتداری، ظاہر پرستی، تبادلے کیلئے رضامندی، اور اعصابی خلل شامل ہیں۔ پیٹرسن کے مطابق صنفی تنخواہوں کے فرق کے متنازعہ تجزیے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ “تعصب” تنخواہوں کے فرق میں صرف ایک چھوٹا سا عنصر ہے جو فیمنسٹ ایکسپرٹس کے دعوے سے بہت کم ہے۔ دیگر اہم عوامل جن کی وجہ سے تنخواہوں میں فرق پایا جاتا ہے ان میں خواتین کا اعصابی طور پر کمزور ہونا اور جلدی افسردہ ہو کر تنائو کا شکار ہوجانا، جلدی دبائو میں آجانا، غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت کا فقدان، ہمدردی کے باعث جلدی تعاون اور رضامندی پر تیار ہوجانا وغیرہ شامل ہیں۔ جلدی تعاون اور اتفاق کرلینا، شخصیت کی ایک ایسی خصوصیت ہے کہ جن لوگوں میں یہ پائی جاتی ہے وہ بہت ہمدرد اور شائستہ ہوتے ہیں مگر معاوضوں کے وقت انہیں معاوضہ اس لئے کم ملتا ہے کہ وہ کم معاوضے پر قانع ہو جاتے ہیں اور یہ صفت مردوں کی نسبت عورتوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ مگر یہ بھی معاوضے طے کرنے میں شامل ایک نکتہ ہے واحد نکتہ نہیں ہے۔ میرے پاس کلینیکل سائیکالوجی کی مشاورتی مشق میں بہت ساری ایسی قابل اور غیر معمولی صلاحیتوں کی خواتین بھی آتی ہیں جو تھوڑی سی مشق کے بعد اس قابل ہو جاتی ہیں کہ اپنی اجرت میں پہلے سے تین گنا زیادہ اضافہ کروا لیتی ہیں۔

تنخواہوں کے صنفی فرق کو ختم کرنا خواتین کے حقیقی مفادات کے خلاف بھی جا سکتا ہے کیونکہ اس طرح خواتین کی حقیقی دلچسپی کے امور معاوضوں کے نیچے دب جائیں گے اور یہ ایک طرح سے انکے رجحانات کے مطابق انکے ترجیحی انتخاب میں مداخلت ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرد تو ہفتے میں ستر، اسی گھنٹے کام کر سکتا ہے لیکن کیا خواتین کو انکا جسم اتنے طویل دورانیے کیلئے کام کرنے کی اجازت دے سکتا ہے؟ ظاہر ہے نہیں تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرد اور خواتین بالکل ایک جیسے نہ ہیں اور نہ کبھی ہو سکیں گے لیکن اسکا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ خواتین کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جانا چاہیے۔ میرے خیال میں آگے بڑھنے کیلئےسب کو یکساں مواقع ملنے چاہیں میرا مطلب ہے مغربی کلچر میں پہلے ہی سے لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہے لیکن ہم اس میں مزید بہتری لانے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ آپ برابری کی پیمائش کس معیار پر کر رہے ہیں، جیسے مرد ڈاکٹروں کے مقابلے میں خواتین ڈاکٹروں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بھی کچھ شعبے ہیں جہاں خواتین کی تعداد زیادہ ہے اور شاید ہونی بھی چاہیے کہ وہ ان کی فطری دلچسپی کے امور ہیں اب اس حوالے سے مصنوعی طور پر برابری کو قائم رکھتے ہوئے زبردستی ان شعبوں میں مردوں کی تعداد کو بڑھانا کسی طور پر بھی درست عمل نہیں ہوگا۔ہر صورت مساوی نتائج مطلوب نہیں ہونے چاہیں کیونکہ یہ کوئی اچھا معاشرتی مقصد نہیں ہے میرا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ با صلاحیت خواتین کو کسی شعبے میں اعلیٰ عہدوں سے محروم رکھا جانا چاہیے۔

زندگی میں بہت اعلیٰ کیرئر بنانے والے مرد بھی صرف ایک خاص تعداد میں ہی ہوتے ہیں جو اپنی زندگی کو اسکے لئے قربان کرنے کیلئے تیار ہوتے ہیں، جو بہت ذہین ہوتے ہیں، باخبر ہوتے ہیں، بہت توانائی رکھتے ہیں، اچھی صحت رکھتے ہیں، ان تھک کام کرتے ہیں اور ہفتے میں ستر، اسی گھنٹے کام کرتے ہیں اور کسی چیز میں مہارت حاصل کرنے کیلئے اپنا قیمتی وقت لگانے کیلئے ہر وقت تیار ہوتے ہیں۔ کچھ خواتین بھی غیر معمولی صلاحیتوں کی مالک ہوتی ہیں لیکن میرا کہنا یہ ہے کہ انکے اوپر آنے کے راستے میں بہت سے مسائل ہوتے ہیں، مرد سے مسابقت ان میں سے صرف ایک مسئلہ ہے اور ظاہر ہے یہ بھی کوئی چھوٹا مسئلہ نہیں۔ جب کسی اوپر کی منزل پر پہنچنے کیلئے آپ کی کسی کے ساتھ مسابقت ہو تو دونوں فریقین کو بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ خواتین مردوں کا مقابلہ کر نے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتیں۔ میرا کہنا یہ ہے کہ جب خواتین مردوں سے مقابلے کیلئے نکلیں گی تو یقینی طور پر انہیں مردانہ قسم کی خصوصیات اپنانا پڑیں گی۔ میرے پاس اکثر ایسی خواتین مشورے کیلئے آتی ہیں جو اپنے کیرئیر میں آگے بڑھنا چاہتی ہیں اور انہیں یہی سکھانا پڑتا ہے کہ مذاکرات کیسے کریں اور نہ کہنے کے قابل کیسے بنیں۔ لیکن اس طرح خاتون کو اپنی فطری نفسیات کے خلاف کام کرنا ہوتا ہے اور اسے اپنی شخصیت میں ایک توازن برقرار رکھنے میں مشکل آتی ہے کیونکہ فطری صلاحیت اور مصنوعی طور پر مشق کرکے حاصل کی گئی صلاحیت میں فرق ہوتا ہے۔

میرے پاس اکثر ایسی خواتین مشورے کیلئے آتی ہیں جو اپنے کیرئیر میں آگے بڑھنا چاہتی ہیں اور انہیں یہی سکھانا پڑتا ہے کہ مذاکرات کیسے کریں اور نہ کہنے کے قابل کیسے بنیں۔ لیکن اس طرح خاتون کو اپنی فطری نفسیات کے خلاف کام کرنا ہوتا ہے اور اسے اپنی شخصیت میں ایک توازن برقرار رکھنے میں مشکل آتی ہے کیونکہ فطری صلاحیت اور مصنوعی طور پر مشق کرکے حاصل کی گئی صلاحیت میں فرق ہوتا ہے۔

مرد و زن کی مساوات ناقابل تسخیر ہونے کی دوسری وجوہات بھی ہیں۔ پیٹرسن کے خیال میں 28 سے 32 سال کی عمر کی بہت سی خواتین اپنے کئیریر کے دوران خاندانی بحران کا شکار ہو جاتی ہیں جس سے انہیں نمٹنا ہوتا ہے۔ اسکی ایک جزوی وجہ تو یہ ہے کہ خواتین کو اس محدود وقت پر نظر رکھنی ہوتی ہے جس کے دوران ہی انہیں رشتے وغیرہ آسکتے ہیں یا انہیں گھر بسانا ہوتا ہے۔ یعنی مرد اس معاملے اتنا دباو محسوس نہیں کرتے کہ اب وہ بڑے ہو رہے ہیں لیکن عورتیں دبائوں محسوس کرتی ہیں کہ مبادا انکے لئے بہت سے آپشنز ختم ہو جائیں گے، اور دوسری بات یہ کہ مردوں کی نسبت خواتین کو، زندگی کے بہت سے معاملات کو بہت تیزی کے ساتھ سمیٹنا پڑتا ہے۔ مثلاً انہوں نے اپنے تجربے سے ایک مثال دی کہ کینیڈا میں بہت سی لاء فرموں میں انہوں نے خواتین ایسوسی ایٹس کو بھی دیکھا ہے جو پندرہ سال سے کام کر رہی تھیں لیکن ان میں سے بہت کم خواتین ہونگی جنہیں لاء فرمیں اپنا ایسوسی ایٹ بنائیں گی۔ کیونکہ یہ بات سب جانتے ہیں کہ کام اور خاندان کے معاملات میں خواتین توازن برقرار نہیں رکھ سکتیں اور مارکیٹ ایک بہت بے رحم جگہ ہے جہاں کسی سے ہمدردی نہیں کی جاتی بلکہ ہر چیز کو پیسے اور پروٖڈکشن کے معیار پر تولا جاتا ہے۔ اس لئے مردوں اور خواتین کے کام کے نتائج کو برابری کی سطح پر دیکھنے کی خواہش ناپسندیدہ ہے۔

میرا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین کم ذہین ہوتی ہیں یا ان میں صلاحیتوں کی کمی ہوتی ہے یا انکا اوسط آئی کیو لیول مردوں سے کم ہوتا ہے۔ نہیں ایسا نہیں ہے عورتیں نسبتاً زیادہ محنتی، منظم اور دیانتدار ہوتی ہیں، میرا کہنا تو صرف یہ ہے کہ کاروبار زندگی میں کچھ خاص کامیابیوں کیلئے جس قسم کی خصویات درکار ہوتی ہیں وہ فطری طور مردوں میں زیادہ پائی جاتی ہیں۔ تجربات سے ہمیں اسی بات کے ثبوت ملتے ہیں اور خواتین کو اپنے اندر وہ صلاحیتیں مصنوعی طور پر پیدا کرنے کیلئے ایک مشکل یہ پیش آتی ہے کہ وہ ان کے حصول کے بعد زندگے کے دوسرے معاملات میں توازن برقرار نہیں رکھ سکتیں۔

اگر مردوں اور خواتین کو اس بات کا کھلا اختیار دے دیا جائے کہ وہ جس شعبے کا مرضی ہے انتخاب کریں تو کئی طرح کے مسائل سامنے آتے ہیں۔ مثلاً اسکینڈے نیوین ممالک میں 20 مرد نرسوں کے مقابلے میں ایک خاتون نرس ہے اور تقریباً یہی حال انجنئیرنگ کے شعبے میں ہے اور یہ سب کچھ صنفی مساوات کو قانون کے ذریعے اور مرد و زن کے آزادانہ انتخاب کے ذریعے حاصل کرنے کا نتیجہ ہے۔ یہ سب ناقابل تلافی اختلافات ہیں اور انہیں صرف معاشرتی دبائو کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ مرد اور خواتین کو اپنی پسند کا انتخاب کرنے کیلئے آزاد چھوڑ دیتے ہیں تو آپ کو برابری کے نتائج نہیں مل پائیں گے۔

صنفی تنخواہ کے سروے کے بارے میں پیٹرسن کا خیال ہے کہ یہ سروے اکثر پہلے سے طے شدہ نتیجہ پیش کرتے ہیں کیونکہ مساوات میں جس طرح کے co-variates آپ شامل کرتے ہیں اسی طرح کے نتائج برآمد ہوتے ہیں گویا شماریات کی Regressive equation انکے پہلے سے طے شدہ مفروضات کو ہی ثابت کرتی ہے۔ اگر آپ سوشل سائنٹسٹ ہیں تو آپ Univariate analysis نہیں کرتے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ خواتین کو مجموعی طور پر مردوں سے کم اجرت دی جاتی ہے تو پھر آپکو اپنے تجزیے کو مزید اجزاء میں تقسیم کرنا چاہیے۔ مثلاً عمر کے لحاظ سے، شعبہ ملازمت کے لحاظ سے، سود اور ٹیکس کی ادائیگی کے لحاظ سے وغیرہ وغیرہ۔ میرا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ خواتین اور مردوں کو غیر منصفانہ انداز سے معاوضے دینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا یا خواتین کیلئے زندگی کے مختلف شعبوں میں اونچے مقام پر فائز ہونا ضروری نہیں۔ نہیں میرا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے۔ میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ دعویٰ غلط ہے کہ مرد اور خواتین کے درمیان اجرت کا فرق صرف جنسی تفاوت کی وجہ سے ہے۔ میرے خیال میں یہ سوچ غلط ہے۔

جب پیٹرسن سے پوچھا گیا کہ آپ کہتے ہیں کہ There is Masculine order and Feminine Chaos تو اس سے آپ کا کیا مطلب ہے؟ اسکے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرا مطلب ہے کہ یہ دو چیزوں کا علامتی اظہار ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آرڈر لازمی طور پر مردانہ کیوں ہے؟ کیونکہ ہماری معاشرتی درجہ بندی کی بنیاد مردانہ ہے لیکن اسے پدرسری کہنا یا مرد کی حاکمیت کہنا درست نہیں۔ ماڈرن ازم، پدرسری نظام کو ظالمانہ کہتا ہے لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ معاشرتی معاملات میں جس کا کردار زیادہ ہوگا ہر طرف اسی کا عمل دخل نظر آئے گا۔ اس سے یہ بات کہاں ثابت ہوتی ہے کہ یہ عمل دخل ظالمانہ ہے۔ دنیا کے بڑےدولت مند افراد اگر مرد ہیں تو ظاہر ہے انہوں نے پیسے کمانے پر اپنی زندگی اور محنت صرف کی ہے۔ عورتوں کا سماجی کردار محدود رہا ہے عورتیں زیادہ تر گھریلو کام کاج سنبھالتی رہی ہیں تو ظاہر ہے انکے پاس اتنی وسیع دولت کیسے جمع ہو سکتی ہے؟ بات صرف دولت کی نہیں آپ کو روڈ پر بھی سب سے زیادہ مرد ہی نظر آئیں گے، جیلوں میں بھی سب سے زیادہ مرد ہی نظر آئیں گے، تشدد اور جرائم کا شکار بھی مرد ہی نظر آئیں گے، خودکشی کرنے والے بھی زیادہ مرد ہی ہوتے ہیں، جنگوں میں مارے جانے والے، قیدی بن جانے والے بھی زیادہ مرد ہی ہونگے، اسکولوں سے نکالے جانے والے امتحانوں میں فیل ہوجانے والے بھی زیادہ مرد ہی نظر آئیں گے کیونکہ معاشرتی اور سماجی عمل میں مرد کا کردار عورت سے زیادہ ہے۔ اکثریت کا مطلب لازمی طور پر غلبہ یا راج نہیں ہوتا غلبہ اور راج تو عموماً ایک بااثر اقلیت کا ہوتا ہے۔ آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ بیمار ہونےوالے، خود کشی کرنے والے، قیدی بن جانے والے، مارے جانے والے، فیل ہو جانے والے، نکالے جانے والے مردوں کا غلبہ یا راج ہے۔ اسکے جواب میں شاید یہ کہا جائے گا کہ زیادتی کا شکار ہونے والوں میں سے اکثریت تو عورتوں کی ہوتی ہے، مردوں کی نہیں ہوتی۔ عورتیں تو مردوں پر درست درازی نہیں کرتیں۔ ہاں یہ بات درست ہے اور یہ ایک المیہ ہے لیکن یہ اس بات کا ثبوت یا دلیل نہیں ہے کہ مغربی کلچر میں پدرسری نظام رائج ہے۔ مغربی ثقافت میں پدرسری نظام کی کوئی حقیقت کہیں نظر نہیں آتی لیکن اگر فرض کر لیا جائے کہ کہیں اسکا وجود ہے تو اسکی بنیاد میرٹ، صلاحیت اور قابلیت ہے اسکی بنیاد دھونس، ظلم یا جبر نہیں۔ فرض کریں آپ کو ایک پلمبر کی ضرورت ہے اور آپ اسے کہیں سے بلاتے ہیں اور وہ مرد ہوتا ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ ایک مرد، پلمبر کے طور پر آپ پر مسلط کیا جا رہا ہے بلکہ اسکا مطلب یہ ہے کہ یہ کام عورتوں کیلئے عام طور پر موزوں نہیں سمجھا جاتا اس لئے اس میں زیادہ تر مرد ہی نظر آئیں گے۔ کسی فیلڈ میں بہترین خدمت سرانجام دینے کا مطلب لازمی طور پر غلبہ اور حکومت نہیں ہوتا۔ اگر آپ کامیاب انسان بننا چاہتے ہیں تو آپ کو پہلے اپنے آپ کو اسکا اہل بنانا پڑتا ہے اور یہ عمل آپ کو کامیاب لوگوں کی درجہ بندی میں ایک اہم مقام عطا کرتا ہے۔ انسانی معاشرہ فطری طور ایک درجہ بندی ہی کا نام ہے۔ ہر انسان کے وجود کے اندر ایک فطری کیلکولیٹر ہوتا ہے جو اسکو اس کے مقام کے بارے میں ہر لمحے آگاہ کرتا رہتا ہے۔ اگر آپ نمبر 1 کیٹیگری کے مرد ہیں تو لازمی طور پر انتہائی مطلوبہ قسم کی خواتین آپ کی توجہ حاصل کرنے کیلئے لائن میں لگیں گی۔ تو درجہ بندی میں کامیابی دراصل طاقت اور صلاحیت کے استعمال کا فطری نتیجہ ہے۔ یعنی اگر آپ کامیاب انسان بننا چاہتے تو آپ کو اہل ہونا چاہیے اور یہ اہلیت آپ کو درجہ بندی میں آگے بڑھا دے گی اور پرکشش بھی بنائے گی۔ حیاتیات میں درجہ بندی ایک تہائی بلین سال سےبھی زیادہ قدیم ہے۔ آپ اس درجہ بندی پر مشرق، مغرب، مرد، عورت، سرمایہ داری، جاگیر داری، پدرسری یا مادر سری وغیرہ کا الزام نہیں دے سکتے۔ ہم کتنے گئے گزرے لوگ ہیں کہ اس درجہ بندی کا صحیح تصور کرنے سے بھی قاصر ہیں۔

پیٹرسن کی زیادہ تر تنقید سیاسی درستگی (Political Correctness بیان یا عمل میں ثقافتی اقلیتوں کے جذبات کا لحاظ) کے معاملات، پوسٹ ماڈرن ازم، پوسٹ ماڈرن فیمنزم، سفید فام مراعات یافتہ طبقات، ثقافتی تخصیص اور ماحولیات پر ہے۔انہوں نے “سیاسی اعتقاد اور شخصیت کے مابین تعلقات” کے موضوع پر اپنے کچھ طالب علموں پر ایک اسٹڈی کی ہے جس میں انہوں نے سیاسی درستگی کی دو اقسام بتائی ہیں۔ ایک “عقیدہ مساوات پسندی” اور دوسری “استبداد پسندی” جو جرم کی حساسیت کا مظہر ہے۔ جیسن میک برائڈ کے مطابق پیٹرسن کلاسیکی لبرلز کو پہلی قسم میں رکھتا ہے اور ‘نام نہاد سماجی انصاف کے مجاہدین So-called Social Justice Warriors کو دوسری قسم میں رکھتا ہے اور کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو دونوں کیٹیگریز میں پائے جاتے ہیں۔ پیٹرسن کا دعویٰ ہے کہ سیاسی درستگی کی لہر Wave of Political Correctness کی ذمہ دار زیادہ بڑی جامعات ہیں جو شمالی امریکہ اور یورپ میں پائی جاتی ہیں۔ پیٹرسن کے خیال میں آج کی انسانیت کرپٹ ہو چکی ہے اور اسکا انحصار سائنس پر بہت کم ہے۔ یہ عقلی گفتگو کی بجائے نظریاتی اور گروہی تعصبات و نظریات پر بات کرتے ہیں۔ بحثیت استاد اور پروفیسر انہوں نے اپنا تجربہ بتایا ہے کہ آجکل جو طالب علم جامعات میں آ رہے ہیں وہ اسٹالن ازم اور مائو ازم کے ذریعے انسانیت کے خلاف ہونے والے اجتماعی قتل اور دیگر جرائم سے لاعلم ہیں کیونکہ اس زمانے میں یورپ اور امریکہ میں نازی ازم اور فاشزم کی طرح مائو ازم اور اسٹالن ازم پر اتنی توجہ نہیں دی گئی۔ اسی طرح پیٹرسن بائیں بازو اور دائیں بازو کی سیاست کو یکساں طور پر خطرناک سمجھتے ہیں کیونکہ بایاں بازو مظلومیت کی شناخت کو ابھارتا ہے اور دایاں بازو قوم پرستی اورنسلی تفاخر کی شناخت کو ابھارتا ہے اور دونوں انفرادی شناخت اور انفرادی ذمہ داری کی بات کو نظر انداز کر دیتے ہیں حالانکہ انفرادیت اور انفرادی ذمہ داری بہت اہم ہیں۔

پیٹرسن کا استدلال ہے کہ بایاں بازو بھی موجودہ معاشرتی تنظیمی ڈھانچے کو پدرسری نظام کا جبر قرار دیتا ہے لیکن یہ تسلیم نہیں کرتا کہ موجودہ درجہ بندی کا اندازہ قابلیت اور میرٹ پر لگایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح پیٹرسن نے استدلال کیا ہے کہ “مردانگی کے خلاف جاری بحران” اور “مردانگی کے خلاف رد عمل” موجود ہے جس میں مردانہ جذبات کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ پیٹرسن نے مردوں کی طرف سے ہونے والے تشدد کا ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ اور اس جیسے دیگر دائیں بازو کے یورپی سیاستدانوں کو ٹھہرایا ہے جو مردوں کو فیمنزم کے مقابلے میں مسلسل دبا رہے ہیں اور انہیں Feminize Men بننے کیلئے مجبور کر رہے ہیں۔ اور یہ ایک فطری امر ہے کہ جب آپ نوجوان مردوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کریں گے تو وہ لازمی طور پر فاشسٹ سیاسی نظریات میں دلچسپی لیں گے۔ پیٹرسن کے اس جملے سے، انکے کچھ سطح بین ناقدین نے یہ مطلب کشید کیا کہ پیٹرسن فاشسٹ سیاسی نظریات کے حامی ہیں حالانکہ پیٹرسن کئی بار اسکی وضاحت کر چکے ہیں کہ وہ نہ تو سیاستدان ہیں اور نہ ہی سوشل ایکٹوسٹ ہیں، بلکہ وہ ایک محقق اور ماہر نفسیات ہیں اور وہ نظریات کا تجزیہ علم، تحقیق اور ثبوتوں کی روشنی میں کرتے ہیں اور انہیں اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ سیاسی پارٹیوں اور اداروں کا اس پر کیا رد عمل ہوگا۔

جورڈن پیٹرسن کی کچھ مشہور ویڈیوز کے لنکس درج ذیل ہیں:

Jordan Peterson debate on the gender pay gap campus protests and postmodernism
https://wwwyoutubecom/watch?v=aMcjxSThD54

Jordan Peterson says Iceland’s equal pay laws will fail
https://wwwyoutubecom/watch?v=xQu9-LR4GcE

Jordan Peterson discusses whether men and women can ever be equal
https://wwwyoutubecom/watch?v=Iy4vq8RdPGU

Jordan Peterson on the ‘backlash against masculinity’-BBCNews
https://wwwyoutubecom/watch?v=ShS4uEY2Jw8

JordanPetersononGenderPatriarchyandtheSlideTowardsTyranny
https://wwwyoutubecom/watch?v=7QRQjrsFnR4&t=182s

JordanPeterson:FromtheBarricadesoftheCultureWars
https://wwwyoutubecom/watch?v=v6H2HmKDbZA


نوٹ: “دانش” ایک خالصتاً علمی فورم ہے اسکا کسی سیاسی تحریک، تنظیم یا ادارے سے کوئی تعلق نہیں، یہاں پر شائع ہونے والے مضامین اور ان میں پیش کئے جانے والے خیالات و نظریات سے ادارہ دانش کا متفق ہونا ضروری نہیں، ان خیالات اور نظریات کے رد میں اگر کوئی لکھنا چاہیے تو دانش کے صفحات اسکے لئے بھی حاضر ہیں”۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20