طالب جوہری: ایک ملاقات، ایک نعت —- عدنان کریمی

0

علامہ طالب جوہری سے ایک مختصر اور یادگار ملاقات کا احوال

سوال کیا کہ آپ کس سے متاثر ہیں؟ جواب ملا میں آج تک کسی سے متاثر نہیں ہوا بلکہ اپنے اساتذہ کے سامنے کئی مرتبہ امام خمینی سے بھی زبردست علمی اختلاف کیا۔

سوال ہوا کہ آپ ایک تشیع عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین ادیب بھی ہیں، اس تناظر میں مولانا آزاد کی طرزِ تحریر کو کس طرح پاتے ہیں؟ جواب آیا کہ مولانا آزاد اپنی تحریروں میں نہایت تکلف برتتے تھے، کانٹ چھانٹ کر، ڈھونڈ ڈھانڈ کر جملے تراشتے تھے۔ بے نیازی، احساس برتری اور تجاہلِ عارفانہ میں وہ اپنی مثال آپ تھے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی تفسیر کا انتساب بھی ایک ایسے نامعلوم افغانی شخص کے نام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا جو ان سے چند ایک مقاماتِ قرآنیہ سمجھنے کا خواہشمند تھا، نام یاد نہ ہونے کی وجہ سے انتساب کھٹائی میں پڑ گیا اور مولانا آزاد انتساب کی جھنجھٹ سے بچ گئے۔

ہم نے چائے کی چسکی لی اور علامہ صاحب نے سگریٹ کا کش لگایا تو ایک اور سوال کلبلانے لگا، سوال داغا کہ آپ ایک منجھے ہوئے صاحبِ مطالعہ فلسفی بھی ہیں، فلسفہ پر “عقلیتِ معاصر” جیسی لاجواب کتاب بھی آپ ہی کا کارنامہ ہے، ان سب کے باوجود کیا کبھی خدا کی ذات کے بارے میں تشکیک میں مبتلا ہوئے؟ ایسا زوردار قہقہہ لگایا ہم سمجھے کہ سگریٹ کے دھوئیں کے مرغولہ میں ہمارا سوال بھی تحلیل ہوگیا، لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ کچھ دیر توقف کے بعد بولے کہ یہ فلسفہ بھی ایک فتنہ ہے، جتنی گہرائی اتنی شیطانی۔ جب بھی کسی انسان نے بغیر کسی نظریہ و عقیدہ کے فلسفہ کا مطالعہ کیا وہ گمراہی کے دلدل میں دھنستا چلا گیا۔ فلسفی پر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ اپنی ذات کا بھی منکر ہوجاتا ہے بلکہ اگر اُسے “امام المنکرین” کہا جائے تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔ میں خدا سے ڈرتے ڈرتے فلسفہ پڑھتا ہوں، عقل کو قابو میں رکھتا ہوں اور تشکیک و گمراہی کو بھی خدا ہی سے ڈراتا ہوں، کیونکہ خدا ہی ہر شے کا خالق اور ہر چیز اسی کی مخلوق ہے۔

لفظ و معنی کیا ہیں، حرف و صوت کی دنیا ہے کیا
دل نے سمجھایا تھا کیا، اور عقل نے سمجھا ہے کیا

سامنے میز پہ دھری علامہ کی کتاب “حرفِ نمو” دیکھ کر یاد آیا کہ آپ تو ایک نعت گو شاعر اور مرثیہ خواں بھی ہیں۔ ہم نے نعت سنانے کی فرمائش کی تو کہا کہ اس کتاب میں سے چند اشعار منتخب کر کے آپ میں سے کوئی دوست ہمیں بھی سنائے۔ ہمارے دوست نے ان کی ایک نعت سنائی، ذیل میں اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔

پھونک کر دشتِ عرب کی کوکھ میں رُوحِ اِرم
اِک گھنیری چھاؤں پھیلا دی سرِ فرقِ امم

وہ قدیم انسان تخلیقِ جہاں سے بھی قدیم
جس کے احساسات کی تجسیم ہیں لوح و قلم

وہ بقا پرور کہ با معنی ہے مفہومِ وجود
وہ فنا دشمن کہ اب اِک لفظ مہمل ہے عدم

وہ ازل آثارِ تعلیمِ ملائک جس کی بھیک
وہ ابد کردارِ جنّت جس کے دروازے پہ خم

جس کے بل پر ناز کرتا ہے امانت کا مزاج
جس کے دم سے سانس لیتا ہے دیانت کا بھرم

اُس سے باتیں کر کے پا لے ہم کلامی کا شرف
تھم، خدا کے واسطے، اے نارسا ادراک تھم

اے قضا آگاہِ مرسل اے قدر پیما نبی
اے عمودِ خیمۂ جاں اے وجودِ کیف و کم

تُو دیارِ آگہی میں رب کے ہونے کا نشاں
تُو فصیلِ فہم پر توحیدِ خالق کا علم

عقل کی خاکِ تیمّم ہے ترے قدموں کی دھُول
فکر کا آبِ وضو ہے تیری پیشانی کا نَم

مرحلہ وار دو مختلف قسم کی چائے کے تواضع کے بعد اچانک ذہن میں ایک سوال بجلی کی طرح کوندا، پوچھے بنا چارہ نہ تھا اور جواب سُنے بنا گویا محفل ادھوری تھی۔ ہمت مجتمع کر کے ہم نے استفسار کیا کہ شیعہ سُنّی اختلافات کی اصل وجہ کیا ہے؟ کیا بین المسالک تنازعات کا خاتمہ ممکن ہے؟ علامہ کی انگلیاں تسبیح کے دانوں پر جم گئیں، بیٹھنے کی ہیئت تبدیل کرتے ہوئے گویا ہوئے،

معافی چاہتا ہوں مجھے نہیں معلوم کہ آپ کا تعلق کس مسلک اور فرقہ سے ہے لیکن مجھے اتنا ضرور علم ہے کہ آپ مسلمان ہیں، قطع نظر مسالک اور فرقوں کے، مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم علماء ہی اس فساد اور تنازعہ کا اصل سبب ہیں، میری مجلس اور میرا نوحہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں فساد فی الارض ٹائپ کی بات کر کے داد نہ سمیٹوں اور ہمارے دوسری طرف والے احباب اُن کی بھی کوئی محفل اور بیٹھک اس وقت تک تمام نہیں ہوتی جب تک وہ بھی کوئی متنازعہ اور مار دھاڑ کی بات کر کے سامعین سے “سبحان اللہ” نہ کہلوائیں۔ مسئلہ صرف پیٹ، حُبّ جاہ اور واہ واہ کا ہے جو ہمیں کسی طور بھی سکھ سے بیٹھنے نہیں دیتا۔ آگ ہی آگ اور خون ہی خون ہے اس دشت میں ہم سب قابیل بنے پھر رہے ہیں۔

افسردگی کے ماحول میں پورے کمرے میں سنّاٹا طاری تھا ایسے میں علامہ صاحب کی آواز گونجی۔ “عباس! ایک چائے اور لائیے!” ہم نے گھڑی کی طرف دیکھا تو رات کے ٹھیک گیارہ اور ہمارے ساتھی کے چہرے پر پورے بارہ بج رہے تھے، اجازت چاہی تو علامہ صاحب کھڑے ہوگئے، بغل گیر کیا اور بڑے چاؤ سے کہنے لگے، آتے رہا کیجیے مل بیٹھ کر گپ شپ کیا کریں گے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20