فیمنزم : نظریہ، تحریک، اہداف اور کردار —- وحید مراد

0

(فیمنزم کیا ہے؟ یہ اصطلاح کب اور کیسے تخلیق ہوئی؟ اسکا بنیادی مفروضہ اور اغراض و مقاصد کیا ہیں؟ اس تحریک کے کتنے ادوار ہیں اور ان میں کیا فرق ہے؟ اسکے نظریے اور تھیوری کا تحریک سے کیا تعلق ہے؟ فیمنزم کی کتنی اقسام ہیں، ان میں کیا فرق ہے اورآپس میں کیا اختلافات ہیں؟ فیمنزم کی کونسی اقسام فری سیکس، پورنوگرافی، جسم فروشی اور سیکس انڈسٹری کے حق میں ہیں اور کونسی اقسام اسکی مخالف ہیں؟ کیا فیمنزم کے اندر بھی دھڑے بندیاں، مباحثے، مناظرے اور جنگیں ہوتی ہیں؟ کیا فیمنسٹ تحریک اپنے دوسرے دور کے اختتام پر یورپ اور امریکہ میں وہ تمام مقاصد حاصل کر چکی ہے جنکے حصول کیلئے اس تحریک کا آغاز کیا گیا تھا؟ کیا آج کے دور کی فیمنسٹ تحریک اپنے اصل مقاصد سے ہٹ کر سطحیت کا شکار ہو چکی ہے اور اس نے ایک عالمگیر قبیلے کی شکل اختیار کرلی ہے اب اسکے ممبران صرف اپنے ذاتی مقاصدکے حصول کیلئے خواتین کے حقوق کا نام استعمال کر رہے ہیں؟ فیمنزم کے بارے میں، اس تحریک کے اندر سے اور باہر سے یورپ اور امریکہ کے سفید فام نقاد کیا کہتے ہیں اور مختلف حلقوں میں کیا رد عمل پایا جاتا ہے؟ آج کل فیمنزم کو تحریک یا تھیوری کی بجائے ایک برانڈکے طور پر کیوں پیش کیا جا رہا ہے؟ اور اس برانڈ اور کموڈٹی کمپین کیلئے جو “نظریہ رٹ یا گردان” پیش کیا جار ہا ہے اسے پذیرائی ملنے کی بجائے نظر انداز کیوں کیا جا رہا ہے؟
اس مضمون میں ان سوالات کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے)۔


ترقی یافتہ قوموں میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، ایکسپرٹس اور قوم کی رائے، بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے کیونکہ تمام سیاسی، معاشی اور سماجی امور سے متعلق اہم فیصلے افراد کی رائے کی روشنی میں کئے جاتے ہیں۔ کسی بھی مسئلے کے بارے میں رائے بنانے سے قبل یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کے بارے میں مکمل معلومات اور آگہی ہو ورنہ جذبات، اندھی تقلید، جانبداری، تعصب سے نمو پانے والی رائے بدلنے میں بھی دیر نہیں لگا کرتی۔ اس لئے حکومتوں کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اہم امور پر عوام تک درست اور نیوٹرل معلومات پہنچانے کا بندوبست کریں۔ عموماً اسکے لئے میڈیا، پریس وغیرہ کو استعمال کیا جاتا ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ایکسپرٹس اپنے تجزیوں، مقالوں، ریسرچ پیپرز اور کتابوں کے ذریعے بھی معلومات عوام تک پہنچاتے ہیں تاکہ میڈیا اور پریس پر موجود حکومتی چھاپ کو دور کیا جا سکے۔ چنانچہ درست، نیوٹرل اور غیر جانبدارانہ معلومات کی روشنی میں عوام کی جو رائے بنتی ہے وہ مضبوط اور دیرپا ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں کتابیں، ریسرچ پیپر، مقالہ جات وغیرہ پڑھنے کا رجحان بہت ہی کم ہے، لوگ عموماً صرف میڈیا اور پریس پر تکیہ کرتے ہیں اور ہمارا میڈیا کسی نہ کسی نقطہ نظر کی طرف واضح جھکائو رکھتے ہوئے، ہر اہم موضوع پر، درست، تفصیلی اور نیوٹرل معلومات بہم پہنچانے کی بجائے غیر تصدیق شدہ سنسنی خیز معلومات، افواہیں، جذباتیت، تعصب، بدگمانی، طرفداری، اور تنگ نظری پھیلاتا ہےاور سوشل میڈیا تو اس سلسلے میں روائتی میڈیا سے دو ہاتھ آگے ہے اوریہ عوام کو لالچ دینے، لبھانے اور فریب دینے کے معاملے میں حد سے گذر چکا ہے۔ جب میڈیا مجموعی طور پر آپ کے اندر ہیجان پیدا کرتا ہے، جذبات کو برانگیختہ کرتا ہے یا بیجا خوشی اور بے قراری کو بڑھاتا ہے تو آپ مزید تعصب اور طرفداری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور کسی بھی اہم مسئلے خواہ اسکا تعلق قومی سلامتی سے ہو، دین اور مذہب سے ہو، تاریخ و جغرافیہ سے ہو، سماج اورسیاست سے ہو، درست معلومات نہ رکھنے کے نتیجے میں پڑھے لکھے لوگ بھی گمراہی کا شکار ہو کر جانبداری اور تعصب کا اظہار کرنے لگتے ہیں اور ہر معاملے پر ایک نزاع کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے اور باہمی کشاکش اور نزاع گویا ہمارا قومی شعار بن چکا ہے، اختلاف رائے جو دیانت اور اخلاص کے ساتھ ہو وہ کبھی نزاع کی صورت اختیار نہیں کرتا، نزاع و جدال وہیں ہوتا ہے جہاں اختلاف رائے کے ساتھ اپنی بات منوانے اور دوسرے کی بات نہ ماننے کا جذبہ کام کر رہا ہو۔

حقوق نسواں اور فیمنزم بھی ایک ایسا ہی موضوع یا مسئلہ ہے جس پر ہمارے ہاں عام طور پر درست معلومات رکھے بغیر، اسکی تاریخ، تھیوری، فلاسفی، اغراض و مقاصد، اہداف اور کردارکو جانے بغیر رائے زنی کی جاتی ہے اور یہ اتفاق رائے یا اختلاف رائے بعض اوقات بہت سنگین نوعیت بھی اختیار کرجاتا ہے حالانکہ اس موضوع یا اس طرح کے دیگر موضوعات پر اتفاق رائے یا اختلاف رائے سے قبل ضروری ہے کہ ان موضوعات کے بارے میں صحیح حقائق معلوم کئے جائیں، تنقیدی لٹریچر کا مطالعہ کیا جائے اور اسکے بعد انکے حق میں یا انکے خلاف ایک رائے بنائی جائے۔ یہ مضمون اسی ضمن میں فیمنزم کے بارے میں حقائق جاننے کی ایک کوشش ہے۔ اس مضمون میں فیمنزم کے حوالے سے پیش کئے گئے حقائق، اسکے حق میں یا اسکے خلاف پیش کئے گئےدلائل نہ ہم نے خود گھڑے ہیں اور نہ ہی یہ مسلم ورلڈ یا مشرقی اقوام کے کسی اسکالر کے ذہن یا سوچ کی اختراع ہیں بلکہ یہ یورپ اور امریکہ سے تعلق رکھنے والے سفید فام اسکالرز کے پیش کردہ دلائل ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق فیمنزم تحریک سے رہا ہے یا یہ تعلق اب بھی کسی نہ کسی شکل میں قائم ہے۔ ان معلومات، حقائق اور دلائل کو پیش کرنے کا مقصد قارئیں پر کسی خاص قسم کی رائے کو مسلط کرنا بھی نہیں ہے بلکہ انہیں کسی تعصب اور جانبداری کے بغیر مرتب کیا گیا ہے تاکہ صحیح معلومات کی روشنی میں ہمارے پڑھے لکھے نوجوانوں کو اس حوالے سے رائے قائم کرنے میں آسانی ہو۔ فیمنزم، اسکے ذیلی موضوعات اور مباحث کو ایک مضمون میں سمیٹنا ممکن نہیں اس لئے اسے ایک سے زائد اقساط میں پیش کیا جائے گا۔ یہ اس سلسلے کا پہلا مضمون ہے جس میں فیمنزم کا مطالعہ صرف عالمی تناظر میں کیا جارہا ہے، اسکی اگلی قسط میں پاکستان کے اندر فیمنزم کی تحریک کا مطالعہ کیا جائے گا۔ ان موضوعات کا مطالعہ ہم سوال و جواب کی شکل میں کریں گے یعنی ہر ذیلی موضوع پر مختلف سوالات اٹھائے جائیں گے اور پھر انکے جوابات تلاش کئے جائیں گے۔

فیمنزم کیا ہے اسکا بنیادی مفروضہ اور اغراض و مقاصد کیا ہیں؟ فیمنزم، سماجی، سیاسی تحاریک اور نظریات پر مشتمل ہے ایک ایسا سلسلہ ہے جس کا مقصد تمام اصناف (مرد، زن و دیگر) کے مساوی، ذاتی، شخصی، سماجی، معاشی اور سیاسی حقوق کو ثابت کرنا، انکا حصول اور تحفظ ہے۔ فیمنزم کا بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ انسانی معاشروں میں مردانہ نقطہ نظر کو ترجیح دی جاتی ہے اور خواتین کے ساتھ غیر مساوی، غیر منصفانہ، امتیازی سلوک برتا جاتا ہے۔ اس لئے فیمنزم ایک ایسی سیاسی جدوجہد کا بھی نام ہے جس میں صنفی دقیانوسی تصورات سے لڑنا اور خواتین کیلئے مردوں کے برابرتعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع کے حصول کی کوششیں بھی شامل ہیں۔ فیمنسٹ موومنٹ، خواتین کے حقوق کیلئے مسلسل ایک مہم جاری رکھے ہوئے ہے، ان حقوق میں ووٹ ڈالنے کا حق، عوامی عہدے پر فائز ہونا، کام کرنا، مناسب اجرت، مساوی تنخواہ اور اجرت کی صنف کے فرق کو ختم کرنا، جائداد کی ملکیت حاصل کرنا، تعلیم حاصل کرنا، معاہدے کرنا، شادی کے دوران برابری کے حقوق، اور زچگی کی چھٹی، قانونی اسقاط حمل اور معاشرتی انضمام تک رسائی کو یقینی بنانااور خواتین اور لڑکیوں کو عصمت دری، جنسی ہراسانی اور گھریلو تشدد سے محفوظ رکھنا، من پسند لباس زیبب تن کرنا اور مناسب اور قابل قبول جسمانی سرگرمیوں کے مواقع وغیرہ شامل ہیں۔ کچھ سوشل اسکالرز کا خیال ہے کہ خاص طور پر مغرب میں بڑی تاریخی، معاشرتی تبدیلیوں کے پیچھے، فیمنسٹ موومنٹ، ایک اہم قوت کے طور پر شامل ہے اور اس تحریک نے خواتین کو بے شمار حقوق دلائے ہیں۔ اگرچہ فیمنزم کی وکالت بنیادی طور پر خواتین کے حقوق پر مرکوز ہے، لیکن کچھ سوشل اسکالر فیمنزم کے مقاصد میں مردوں کی آزادی کو بھی شامل کرنے پر استدلال کرتے ہیں، کیونکہ ان کا خیال ہے کہ روایتی صنفی کرداروں سے مردوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ فیمنزم کی تھیوری، فیمنزم موومنٹ کی ہی پیداوار ہے اور اس نظریے کا مقصد خواتین کے معاشرتی کردار اور زندگی کے تجربات کی جانچ کر کے، صنفی عدم مساوات کی نوعیت کو سمجھنا ہے۔

فیمنزم کی اصطلاح کب اور کیسے تخلیق ہوئی؟ فیمنزم کی اصطلاح کا خالق، فرانس کا ایک سوشلسٹ فلسفی چارلس فورئیر Charles Fourierہے جس نے 1837 میں یہ لفظ تخلیق کیا۔ 1872 تک یہ لفظ صرف فرانس اور نیدر لینڈ میں ہی استعمال ہوا، اسکے بعد 1890 میں برطانیہ اور 1910 میں امریکہ میں استعمال ہوا۔ آکسفورڈ انگلش کشنری نے 1852 کو “فیمنسٹ” کے آغاز کا سال اور 1895 کو “فیمنزم” کے آغاز کا سال قرار دیا۔ دنیا بھر کی مختلف اقوام، ممالک، اور ثقافتوں میں خواتین کے حقوق کی کی تحاریک قدرے مختلف انداز، مقاصد اوراہداف کے ساتھ موجود ہیں۔ مغرب کے اکثر فیمنسٹ مورخین کا دعویٰ ہے کہ دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والی تمام تحاریک کو، خواہ وہ اپنے لئے فیمنزم کے نام کو استعمال کرتی ہوں یا نہ کرتی ہوں، فیمنزم کا ہی ایک حصہ تصور کیا جانا چاہیے۔ لیکن کچھ اسکالرز اس خیال سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس اصطلاح کو صرف جدید فیمنسٹ موومنٹ اور اسکے مختلف حصوں تک ہی محدود رہنا چاہیے اور یہ اسکالرز، خواتین کے حقوق کی دیگر تحاریک اور پہلے کے دور میں پائی جانے والی تحاریک کیلئے پروٹو فیمنٹسٹ کی اصطلاح کا استعمال کرتے ہیں۔

فیمنزم تحریک کی تاریخ کیا ہے؟ اسکے مختلف ادوار(waves) کیا ہیں اور ان میں کیا فرق ہے؟ فیمنزم کی جدید مغربی تحریک کے چار بڑے ادوار (waves) ہیں۔ پہلا دور انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے اوائل کا دور ہے جس میں خواتین نے حق رائے دہی کے حصول کیلئے جدوجہد کی۔ برطانیہ اور امریکہ میں خواتین کے لئے مساوی معاہدات، شادی کے حقوق، والدین اور جائداد کے حقوق وغیرہ کے فروغ پر توجہ دی گئی۔ نئی قانون سازی میں برطانیہ میں بچوں کی تحویل کا ایکٹ شامل کیا گیا اور خواتین کو پہلی بار اپنے بچوں کی تحویل کا حق دیا، برطانوی تحویل کے دیگر علاقوں اور کالونیوں میں بھی ایسی ہی قانون سازی کی گئی۔ 19 ویں صدی کے اختتام پر اس تحریک کی توجہ زیادہ ترسیاسی سرگرمیوں، سیاسی حقوق، سیاسی طاقت، خواتین کے رائے دہی کے حق، خواتین کے جنسی، تولیدی اور معاشی حقوق کے حصول پر مرکوز رہی۔ 1918 میں عوامی نمائندگی کا قانون منظور کیا گیا جس کے تحت 30 سال سے زیادہ عمر کی خواتین جو جائیداد کی مالک تھیں انہیں ووٹ دینے کا حق دیا گیا۔ 1928 میں عمر کی حد21 سال سے زیادہ کر دی گئی۔

امریکہ میں، اس تحریک کے قابل ذکر رہنماؤں میں لوسٹرییا موٹ، الزبتھ کیڈی اسٹینٹن، اور سوسن بی انتھونی شامل تھے، جنہوں نے خواتین کے حق رائے دہی سے قبل غلامی کے خاتمے کی مہم چلائی تھی۔ 1919 میں امریکہ کی تمام ریاستوں میں خواتین کو رائے دہی کا حق آئین میں انیسویں ترمیم کے ساتھ دیا گیا۔ فرانس میں 1944 میں فرانسیسی جمہوریہ کی عارضی حکومت نے خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا جسے بعد میں آئین میں ایک ترمیم کے ساتھ مستقل حق کے طور پر تسلیم کر لیا گیا۔ لیکن فرانس میں شادی شدہ خواتین کو اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کام کرنے کا حق 1965 تک نہیں تھا۔ اس دور میں حقوق نسواں کی تحریک نے خاندانی قوانین میں اصلاحات کیلئے بھی مہم جاری رکھی اور عصمت در ی کے قوانین میں “ازدواجی استثنیٰ” کو ختم کرنے کیلئے بھی کام کیا جس کے تحت شوہروں پر بیویوں کے ساتھ زبردستی کرنے یا عصمت دری کرنے کی صورت میں مقدمہ چلائے جانے کا معاملہ بھی شامل تھا، یہ مقصد فوری طور پر تو حاصل نہیں کیا جس سکا لیکن بعد میں یورپ کے اکثر ممالک میں یہ مقصد حاصل کر لیا گیا لیکن دنیا کے دیگر بہت سے ممالک میں یہ مقصد ابھی تک حاصل نہیں کیا جا سکا گیا ہے۔

چین میں کمیونسٹ انقلاب کے بعد کمیونسٹ پارٹی نے خواتین کو چین کی افرادی قوت میں شامل کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ کمیونسٹ انقلاب کی کامیابی نے خواتین کو بھی آزادی کے ساتھ ہمکنار کیا ہے۔ 1905 میں ایرانی آئینی انقلاب نے ایرانی خواتین کی تحریک کو متحرک کیا جس کا مقصد تعلیم، شادی، کیرئیر اور قانونی حقوق کی مساوات کو حاصل کرنا تھا تاہم 1979 کے ایرانی انقلاب کے دوران، خواتین کو حاصل بہت سے حقوق ختم کر دئے گئے۔

فیمنزم کا دوسرا دور خواتین کی آزادی کی تحریک کا دور ہے جسکا آغاز 1960 کی دہائی میں ہوا اور خواتین کے قانونی حقوق، صنفی امتیاز کا خاتمہ اور معاشرتی مساوات کیلئے مہم چلائی گئی۔ مشہور فیمنسٹ ایکٹوسٹ اور مصنف کیرول ہنیشCarol Hanisch کے نعرہ “ذاتی (حقوق) ہی سیاسی (حقوق) ہیں The Personal is Political” کے ساتھ ہی فیمنزم کا دوسرا دور شروع ہو گیا تھا۔ دوسرے دور کے فیمنسٹ اسکالر، خواتین کے سیاسی، سماجی، ثقافتی حقوق، صنفی پاور اسٹرکچر اور صنفی مساوات کو یکجا کرکے دیکھتے ہیں اور خواتین کو اس بات کی ترغیب دیتے ہیں کہ وہ اپنی ذاتی اور انفرادی زندگی کے مختلف پہلوئوں کو بھی اسی سیاسی تناظر میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ 1963 میں بٹی فریڈن Betty Friedan کی کتاب فیمنائن میسٹک Feminine Mystique نے امریکہ میں خواتین کے اندر پائی جانی والی بے چینی اور عدم اطمینان کو ایک آواز دی اور اس کتاب کو امریکہ میں بڑے پیمانے پر پذیرائی ملی اور اس نے امریکہ میں فیمنزم کے دوسرے دور کو ایک جلا بخشی۔ اور اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ ترقی یافتہ ممالک میں دس سال کے اندر ہی خواتین نے افرادی قوت کا نصف سے زیادہ حصہ سمیٹ لیا۔

1956 میں مصر میں جمال عبد الناصر نے “ریاستی حقوق نسواں” کا آغاز کیا، جس نے صنف کی بنیاد پر امتیازی سلوک کو غیر قانونی قرار دیا لیکن اسکے ساتھ ہی اس نے فیمنسٹ لیڈرز کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی تھی، پھر سادات کی صدارت کے دوران، اسکی بیگم جہاں سادات نےعوامی طور پر خواتین کے حقوق کی وکالت کی لیکن اسی دور میں اسلامی تحریک کے نمودار ہونے پر اور عوام میں اسکی بھرپور پذیرائی کے نتیجے میں فیمنسٹ سرگرمیاں دب گئیں۔ تاہم اسلامی سرگرمیوں کے حق میں عوامی رائے کو دیکھتے ہوئے کچھ فیمنسٹ لیڈروں نے مصر میں “اسلامی فیمنزم” کی اصطلاح کو بھی استعمال کیا اور اسلامی فریم ورک میں خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کی بات کی۔ اسی دور میں لاطینی امریکہ میں خاص طور پر نکوراگوا کے انقلاب نے وہاں کی خواتین کے معیار زندگی کو بڑھاوا دیا لیکن اس انقلاب سے سماجی اور نظریاتی تبدیلی کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔

تیسرا دور 1990 کی دہائی کا دور ہے جس میں انفرادیت اور تنوع پر زور دیا گیا۔ اس دور کا آغاز اولمپیا، واشنگٹن میں، فسادات کے بنیاد پر “نسائی پنک ذیلی ثقافت Feminist Punk Subculture” کے ظہور میں آنے سے ہوتا ہے۔ اور 1991 میں، سفید فام مردوں کی “سینٹ جوڈیشری کمیٹی” کے سامنے انیتا ہل Anita Hill کا بیان کہ جس میں وہ الزام لگاتی ہے کہ”امریکی سپریم کورٹ کے کیلئے نامزد ہونے والے کلرنس تھامس Clarence Thomas نے اسے جنسی طور پر ہراساں کیا تھا” تیسرے دور کو متعارف کرانے کا سہرا ریبیکا واکر Rebecca Walker کو بھی جاتا ہے جس نے کلرنس تھامس کے حوالے سے اپنے ایک مضمون میں خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ” کسی خاتون کے ساتھ پیش آنے والے تلخ تجربے کو سن کر جب آپ کو غصہ آتا ہے تو اپنے غصے کو سیاسی اتحاد، یکجہتی اور طاقت میں بدل دیں، ان مردوں کو اس وقت تک ووٹ نہ دو، ان کی جنسی خواہشات کو پورا مت کرو، انکے ساتھ روٹیاں مت توڑو، انکی خدمت گزاری مت کرو جب تک وہ ہمارے حقوق کیلئے کام نہیں کرتے، ہماری آزادی کو اہمیت نہیں دیتے۔ میں صرف پوسٹ فیمنسٹ نہں ہوں بلکہ میں اس تحریک کی ایک تیسری لہر ہوں”

تیسرے دور کے فیمنزم نے، دوسرے دور کی بہت سی اصطلاحات اور بنیادی تصورات میں تبدیلی کی اور زیادہ تر اعلیٰ متوسط طبقے کی سفید فام خواتین کی نمائندگی اور تجربات پر زور دیا اور مائیکرو سیاست پر زیادہ توجہ دی، اور پوسٹ اسٹرکچرلسٹ Post-Structuralist صنفی توجیہات Interpretation of gender and sexuality کو استعمال کیا۔ تیسرے دور کے بہت سے غیر سفید فام فیمنسٹ لیڈرز نے اس تحریک کے اندر، مختلف نسل پرستانہ کیفیات اور اختلافات کو سمجھنے پر زور دیا اور اس دور کی تحریک کے اندر اس بات پر بھی مباحثہ جاری رہا کہ اصناف کے مابین فطری نفسیاتی اختلافات پائے جاتے ہیں یا نہیں اور جو لوگ سمجھتے ہیں کہ اصناف کے درمیان کوئی فطری نفسیاتی اختلافات نہیں پائے جاتے انکا دعویٰ ہےکہ مختلف صنفی کردار کے پیچھے صرف معاشرتی اور سماجی محرکات اور عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ اسی طرح اس دور کے کچھ فیمنسٹ Standpoint theoryکے قائل ہیں اور انکا موقف ہے کہ کسی انسان کی سماجی حیثیت اور مرتبہ اسکے علم کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی استدلال کیا ہے کہ فیمنسٹ موومنٹ کوعالمی مسائل مثلاً عصمت دری، عصمت فروشی، افریقہ اور عرب کے کچھ معاشروں میں پائے جانے والے عورتوں کے بارے میں کچھ مخصوص ثقافتی امور جیسے عورتوں کا ختنہ وغیرہ کا بھی جائزہ لینا چاہیے تاکہ پتہ چل سکے کہ صنفی عدم مساوات کا نسل پرستی، ہوموفوبیا، استعماریت اور طبقاتی تقسیم وغیرہ سے کیا تعلق ہے۔

فیمنزم کا چوتھا دور 2010 کی دہائی میں شروع ہوا جس میں عورتوں کے خلاف جنسی ہراسانی، تشدد، عصمت دری وغیرہ کےکلچر سے نبٹنے کیلئے سوشل میڈیا کا استعمال کیا گیا ہے اور یہ دور “می ٹو” تحریک کے نام سے مشہور ہوا۔ فیمنسٹ اسکالر کیرا کوچران Kira Cochrane کے مطابق میمنزم کا چوتھا دور “ٹیکنالوجی کا دور ” ہے اور اس میں خاص طور پر ٹویٹر، فیس بک، انسٹاگرام، یو ٹیوب، ٹمبلر اور بلاگ وغیرہ کو “خواتین کے خلاف نفرت اور عدم مساوات” کو چیلنج کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس دور میں خواتین کے جن امور پر اس تحریک کی خاص توجہ ہے ان میں گلیوں، بازاروں اور کام کی جگہوں پر خواتین کو ہراسان کرنا، کیمپس کے اندر جنسی زیادتی، عصمت دری، خواتین کے ساتھ بدسلوکی، اور انکے قتل سے متعلق جرائم وغیرہ شامل ہیں۔ مثال کے طور پر 2012 میں دہلی میں ہونے والی اجتماعی عصمت دری، جمی سیویل الزامات Jimmy Savile allegations، 2014 کے اسلا وسٹا قتل Isla Vista Killings، 2016 کے جیان گھومشی Gian Ghomeshi کے مقدمے کا ٹرائیل، ہاروے وائنسٹائن Harvey Weinstein کے الزامات اور 2017 کے ویسٹ منسٹر جنسی اسکینڈل شامل ہیں۔ اس دور میں اس تحریک کی مہمات میں Everyday Sexism Project، No more Page 3، Stop Bild Sexism، Mattress Performance، #Yes All Women، Free the Nipple، One Billion Rising، Women’s March اور #MeToo وغیرہ شامل ہیں۔

فیمنزم کا نظریہ یا تھیوری کیا ہے؟ فیمنزم کا نظریہ یا تھیوری، فیمنزم تحریک کی ہی توسیع ہے۔ اس تھیوری میں متعدد شعبوں بشریات، معاشیات، عمرانیات، خواتین کی تعلیم، ادبی تنقید، آرٹ کی تاریخ، نفسیاتی تجزیہ اور فلسفہ وغیرہ کا کام شامل ہے۔ اس نظریے کا مقصد صنفی عدم مساوات، صنفی سیاست، طاقت کے تعلقات اور جنسی پرستی کو سمجھنا ہے اور اس کی توجہ، سماجی اور سیاسی تعلقات پر تنقید کرتے ہوئے، خواتین کے حقوق اور مفادات کے فروغ پر بھی مرکوز ہے۔ اس نظریہ میں پائے جانے والے موضوعات میں امتیازی سلوک، دقیانوسی تصورات، اعتراض (خاص طور پر جنسی طور پر اعتراض)، ظلم اور پدر سری نظام پر تنقید شامل ہیں۔ ادبی تنقید کے میدان میں، ایلائن شوالٹر Elaine Showalterنے فیمنزم کے نظریہ کی ترقی کو تین مراحل کی حیثیت سے بیان کیا ہے۔ پہلا مرحلہ “فیمنسٹ تنقید” جس میں نسوانی قارئین ادبی مظاہر کے پیچھے نظریات کی جانچ کرتی ہیں۔ دوسرا مرحلہ “جینو کرٹیسزم Gynocriticism “، جس میں عورت ادبی متن کو تخلیق کرتی ہے اور اسکا آخری مرحلہ “صنفی نظریہ Gender theory”، جس میں صنفی نظام اور ادب کے ایک دوسرے پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

دنیا میں فیمزم کی کون کونسی مختلف اقسام پائی جاتی ہیں اور انکے آپس میں کیا اختلافات ہیں؟ گزشتہ دو، تین دہائیوں میں، فیمنزم تحریک کے متعد شیڈز، اقسام اور نظریات سامنے آئے ہیں جو مختلف نقطہ نظر اور مقاصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مثلاً لبرل فیمنزم، خواتین کے لبرل حقوق اور جنسی مساوات کا مطالبہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صنفی امتیاز کو عوامی اور معاشرتی شعبوں مثلاً تعلیم، مارکیٹ، کام کی جگہوں، آفسز، تنخواہ، ، معاوضے، ووٹنگ، سیاست وغیرہ میں ختم کیا جانا چاہیے اور یہ مقصد وہ موجودہ سیاسی اوار قانونی اصلاحات کے ذریعے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کسی انقلاب یا معاشرتی نظام میں فوری تبدیلی کے خواہاں نہیں بلکہ معاشرے کو سب لوگوں اور اصناف کیلئے قابل قبول اور بہتر جگہ بنانے پر زور دیتے ہیں۔ ریڈیکل (بنیاد پرست) فیمنزم کے مطابق خواتین پر ہونے والے ظلم و ستم کا ذمہ دار پدرسری نظام ہے جس میں مرد کو عورت پر برتری حاصل ہے۔ اور وہ عورت کو اس غیر عادلانہ نظام سے آزادی دلانے کیلئے پورے معاشرتی نظام، اسکے اداروں اورمعاشرتی اصولوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں انکے خیال میں جب تک اس نظام، اداروں اور اصولوں کی سرپرستی ختم نہیں ہوگی، مرد، عورت پر ظلم کرتا رہے گا۔ اس لئے انکی جدوجہد میں خواتین کے جنسی استحصال کی مخالفت، عصمت دری اور تشدد جیسے امور کے بارے میں عوامی شعور کا اجاگر کرنا، اور صنفی کرداروں کے تصور کو چیلنج کرنا شامل ہے۔ شمیتھ فائر سٹون Shulamith Firestone فیمنسٹ انقلاب کے مقدمہ میں لکھتی ہیں کہ “فیمنسٹ انقلاب کا حتمی مقصد سابقہ فیمنسٹ تحریک کے برعکس یہ ہے کہ صرف مردوں کی مراعات اور استحقاق کو ختم نہیں کیا جائے بلکہ جنسی امتیاز کو ہی سرے سے ختم کر دیا جائے تاکہ اس امتیاز کی بنیاد میں معاشرے میں کسی ایک صنف کو دوسری صنف پر کوئی برتری حاصل نہ ہو سکے” ریڈیکل فیمنسٹ عام طور پر لٹریچر وغیرہ کے ذریعے اپنے نظریات پھیلانے کی بجائے براہ راست کاروائی پر زیادہ یقین رکھتے ہیں اور اپنے احتجاج کے دوران انتہائی قسم کے اقدامات اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتے، جیسے احتجاج کے دوران” چولیا جلانے bra burning ” برہنہ احتجاج کرنا free the nipple، اوار دیگر مہمات وغیرہ۔

ریڈیکل فیمنزم کی طرح ہی ایک اورانتہا پسند گروہ ہے جوعلیحدگی پسند فیمنسٹ کہلاتے ہیں اس نظریہ کے مطابق عورتوں کی مردوں سے بالکل علیحدگی کے ذریعےہی پدرسری نظام کو شکست دی جا سکتی ہے۔ چونکہ اس نظریہ سازی کا زیادہ تر حصہ ہم جنس پرست خواتین Lesbian پر مشتمل ہے اس لئےعلیحدگی پسند فیمنزم سے صاف ظاہر ہوتا ہے یہ Lesbian علیحدگی پسند ہی ہیں۔ فیمنزم کی تحریک کو کئی حوالوں سے اس Lesbian علیحدگی پسندی سے کافی متاثر ہے اور اس سے استفادہ بھی کرتی ہے۔ ایک مصنف مارلن فرائی Marilyn Frye علیحدگی پسند فیمنزم کی تعریف اس طرح کرتا ہے کہ یہ علیحدگی ان تمام اداروں، تعلقات، سرگرمیوں اور کرداروں سے علیحدگی ہے جو مردوں کی بیان کردہ ہیں، مردانہ طرز عمل کی عکاسی کرتی ہیں، اور صرف مردو ں کے مفاد کیلئے ہیں، اس علیحدگی کا آغاز خواتین کے ذریعہ، انکی اپنی مرضی سے شروع کیا گیا ہے اور وہی اسے برقرار رکھیں گی۔ ان علیحدگی پسندوں کا ماننا ہے کہ مرد اور عوررت میں اس قدر فرق ہے کہ انکی ایک دوسرے کے ساتھ صلح نہیں ہو سکتی، یہ ان مردوں سے بھی تعلقات رکھنا درست نہیں سمجھتے جو فیمنزم کے حمایتی ہیں کیونکہ انکے خیال میں مرد جتنا بھی خواتین کے حقوق کا حامی ہو وہ آخر علامتی طور پر ہی سہی ہوتا تو مرد ہی ہے۔ پدرسری نظام کو مسترد کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اسکی ہر علامت کو مسترد کیا جائے۔

فیمنزم کی ایک قسم ٹرانس فیمنزم Transfeminism ہے جسکی تعریف ایک ایکٹوسٹ اسکالر Emi Koyama اسطرح کرتی ہیں کہ یہ “بنیادی طور پر ہم جنس پرست عورتوں کی طرف سے، ہم جنس پرست عورتوں کی آزادی اور حقوق کیلئے جدوجہد ہے اور یہ عوتوں کے عام آزادی کے تصور سے آگے کا ایک تصور ہے لیکن اس کے دروازے ان لوگوں کیلئے بھی کھلے ہیں جو خواہ مرد ہوں، عورتیں ہوں، ہم جنس پرست مرد ہوں مگر اپنی آزادی کی خاطر ان ہم جنس پرست عورتوں سے ہمدردی رکھتے ہوں اوران سے اتحاد ضروری سمجھتے ہوں۔ Emi Koyama اس تحریک کے دو بنیادی اصول بیان کرتی ہیں پہلا یہ کہ تمام انسانوں بشمول ہم جنس پرستوں کے سب کو یہ آزادی ہونی چاہیے کہ وہ اپنے لئے کس قسم کی زندگی کا انتخاب کرتے ہیں اور اسے کیسےگزارنا چاہتے ہیں، وہ جس قسم کی شناخت اپنے لئے پسند کریں اس اپنا سکتے ہیں معاشرے کو اس سلسلے میں کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے اور انکی خواہشات کا احترام کرنا چاہیے تاکہ وہ کسی انتقامی خوف کے بغیر اپنی صنفی انفرادیت کا اظہار کر سکیں۔ دوسرا اصول وہ یہ بیان کرتی ہیں کہ “ہر شخص کو اپنے جسم پر مکمل کنٹرول اور اختیار حاصل کرنے کا حق ہونا چاہیے اور اس سلسلے میں کسی سیاسی، طبی، مذہبی یا کسی دیگر اتھارٹی کو کوئی اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اس شخص کے کسی فیصلے کو جس کا تعلق اسکے جسم، صحت وغیرہ سے ہو کالعدم قرار دے سکے۔

بنیاد پرست فیمنزم کے مقابلے میں سوشلسٹ فیمنزم نسبتاًایک وسیع تصور ہے۔ مارکسسٹ فیمنزم کا یہ استدلال ہے کہ عورتوں پر ہونے والے ظلم کی اصل بنیاد سرمایہ دارانہ نظام میں مضمر ہے اور گھریلو زندگی میں اور کام کی جگہوں پر بھی عورت پر ہونے والاظلم بھی سرمایہ دارانہ تصورات کے پھیلائوکی وجہ سے ہے۔ سوشلسٹ فیمنزم اپنےآپ کو مارکسسٹ فیمنزم سے الگ طور پر پیش کرتے ہیں اور انکا استدلال ہے کہ خواتین کی آزادی صرف جبر کے معاشی اور ثقافتی ذرائع کو ختم کرنے کیلئے جدوجہد کرکے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔

فیمنزم کی ایک قسم پوسٹ ماڈرن فیمنزم ہے جو پوسٹ ماڈرن، پوسٹ اسٹکرچرل ازم اور فرانسیسی فیمنزم کا مرکب ہے۔ اس کا مقصد معاشرے میں پائے جانے والے پدر سری نظام اور اصولوں کو غیر مستحکم کرنا ہے جو عدم مساوات کا باعث بنتے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کیلئے یہ ان عالمگیر سچائیوں، فلسفہ اور لوازمیت کو مسترد کرتے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تمام خواتین ایک جیسی ہوتیں ہیں۔ انکے خیال میں اگر عالمگیر سچائی کا اطلاق معاشرے کی تمام عورتوں پر کیا جائے تو یہ انفرادی تجربات کو محدود کر دیتا ہے اس سلسلے میں وہ عورتوں کو آگاہی دیتے ہیں کہ وہ ہوشیار رہیں کہ معاشرے میں انکے خلاف پائے جانے والے تمام تصورات مردوں کے ذہن اور نظریات کی پیداوار ہیں۔ وہ صنفی مساوات کے حصول کیلئے مباحثوں، تنقیدی لٹریچر، مختلف قسم کے ڈسکورسز کی تخلیق، پوسٹ ماڈرنسٹ لٹریچر اورموضوعیت کی تائید اور فروغ پر کام کرتے ہیں۔

فیمنزم کی ایک قسم ثقافتی فیمنزم ہے جو خواتین کے ثقافتی حقوق پر زور دیتی ہے۔ انکے نزدیک عورت کا وجود ایک تخلیقی قوت ہے اور مردوں کو اسکا احسان مند ہونا چاہیے، انکے نزدیک یہ نسائی قوت ہی ہے جو مستحکم انسانی وجود کی بنیاد ہے اور اس زمین میں انسان کے وجود کو طول بخش سکتی ہے اور یہی نسائی قوت ہی جنگوں اور تشدد کو ختم کر سکتی ہے کیونکہ عورتیں مردوں کی نسبت زیادہ محبت کرنے والیاں اور پر امن ہوتی ہیں اس وجہ سے وہ ثقافتی اور معاشرتی طور پر ناگزیر اور قابل اعتماد ہیں۔ فیمزم کی ایک اور قسم لپ اسٹک فیمنزم بھی ہے جو نسوانیت کے روائیتی تصور کو اپنانا چاہتی ہے جس مین نسائی تصورات کے ساتھ ساتھ عورت کی جنسی طاقت بھی شامل ہے۔ انکے خیال میں خواتین کو حقوق کی جدوجہد کے دوران اپنی نسائی اور جنسی طاقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ زورا نیل ہورسٹین Zora Neale Hurston اور یما گولڈمینEmma Golman کا استدلال ہے کہ فلسفہ جمالیات اور نسائی نظریات کے استعمال سے یہ ممکن ہے کہ روزمرہ زندگی میں صنفی کردار کا تجزیہ کیا جا سکے اور اسے مزید تقویت دی جا سکے۔ انکے خیال میں عورت کو اپنے نسائی اور جنسی جذبات کے تحت کردار ادا کرنے کا حق حاصل ہے۔

اسی طرح فیمنزم کی ایک اور قسم ایکو فیمنزم Ecofeminism بھی ہے جو عورت، ماحول اور زمین کے مابین تعلق کو اپنے تجزیے اور عمل کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ یہ اصطلاح ایک فرانسیسی مصنف فرانسواڈے ایبون Francoise d Eaubonneنے متعارف کرائی۔ اس تھیوری کا دعویٰ ہے کہ ماحولیات کا نسائی تناظر خواتین کو طاقت کے غالب مقام پر نہیں رکھتا لیکن ایک ایسے معاشرے کا مطالبہ کرتا ہے جہاں ہر باہمی تعاون برابری کی سطح پر ہو اور جس میں کوئ غالب گروہ موجود نہ ہو۔ اس فکر کی ترجمانی میں ماحولیاتی فن، سیاسی فلسفہ، معاشرتی انصاف، اور شاعری وغیرہ سب شامل ہے اور اس میں ماحول اور فطرت پر ہونے والے جبر، ظلم اور عورت پر ہونے والے ظلم کے مابین ایک مماثلت تلاش کی جاتی ہے۔ اس فکر کے مطابق عورت اور فطرت دونوں کا احترام ضروری ہے۔

فیمنزم کی ایک قسم سیاہ(بلیک) فیمنزم بھی ہے جو سیاہ فام خواتین پر مشتمل ہے اورجسے پوسٹ کالونیل فیمزم بھی کہا جاتا ہے یہ مغرب میں پائے جانے والے فیمنزم کے کچھ تصورات کو چیلنج بھی کرتے ہیں۔ فیمنزم کے تاریخ کے بیشتر ادوار میں ا س تحریک کی عملی اور نظریاتی قیادت خاص طور پرمغربی یورپ اور شمالی امریکہ سے تعلق رکھنے والی سفید فام خواتین کے ہاتھوں میں رہی ہے تاہم 1960 کی دہائی میں امریکہ میں شہری حقوق کی تحریک، افریقہ، کریبین، لاطینی امریکہ کے کچھ حصوں، اور جنوب مشرقی ایشیا ء میں استعمار کے خاتمے کے ساتھ ہی سابق کالونیوں کی خواتین جو مختلف رنگ یا نسل اور غریب طبقات سے تعلق رکھتی ہیں، نے متبادل اوراضافی فیمنزم کی تجاویز پیش کیں۔ یوں اس تحریک میں سے ایک نئی چیز برآمد ہوئی جسے وومن ازم بھی کہا جاتا ہے۔ انکا استدلال ہے کہ صنفی امتیاز کے پس منظر میں نسلی امتیاز اور تفریق بھی واضح طور پر موجود ہے اور انکا پہلا مقصد اس نسل پرستی کو ختم کرنے کی کوشش ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ امتیازی سلوک کی دیگر تمام شکلوں کا نقطہ آغاز ہے۔

جنس Sex، پورنو گرافی، اور جسم فروشی کے بارے میں فیمنزم کے کیا خیالات ہیں؟ جنس (سیکس) کی نوعیت کے بارے میں فیمنزم کی مختلف اقسام کے مختلف خیالات ہیں۔ ریڈیکل فیمنسٹ (بنیاد پرست) میڈیا اور معاشرے میں جنسی استحصال کو تنقید کا نشانہ بنااتے ہیں اور وہ جنسی صنعت (جسم فروشی، فحاشی کے اڈوں، پورنو گرافی وغیرہ)کے مخالف ہیں ان میں اندریا ڈوورکن Andrea Dworkin اور کیتھرائن میک Catharine MacKinnon مشہور ہیں یہ فحاشی پر پابندی لگانے والے قوانین کے حمایتی ہیں کیونکہ انکے خیال میں جنسی عمل، جسم فروشی اور فحاشی میں مرد کا تسلط اور اسکی جنسی طاقت کا اظہار، عورت پر ہونے والے ظلم اور استحصال کی بنیاد بنتا ہے۔ جو مرد طوائفوں کو استعمال کرتے ہیں وہ انکے ساتھ بدسلوکی بھی کرتے ہیں اور اس سے خواتین کے بارے میں دقیانوسی نظریا ت کو تقویت ملتی ہیے اور عورت کے بارے میں یہ مشہور ہوتا ہے کہ یہ کوئی استعمال کرنے کی چیز Commodity ہے۔ جبکہ کئی دوسرے فینسٹ اپنے آپ کو جنس کے حق میں مثبت خیالات رکھنے والے بتاتے ہیں انکے خیال میں جبری جسم فروشی کو پسند کی جسم فروشی سے الگ کرنا ضروری ہے اور فیمنسٹ تحریک کو چاہیے کہ ان ہر دو قسم کی خواتین یعنی سیکس ورکرز اور شوقیہ جنسی عمل سرانجام دینے والی خواتین کے حقوق کیلئے آواز بلند کرنی چاہیے۔ انکے خیال میں جب خواتین آزادانہ طور پر جنسی سرگرمیوں کو اپناتی ہیں تو یہ انکے اظہار میں استحکام کا باعث بنتے ہوئے انہیں زیادہ با اختیار بناتا ہے۔ اس لئے انکے خیال میں جنسی فروغ عورت کیلئے تسکین اور خوشی کا باعث بنتا ہے۔ اس طرح خیالات رکھنے والوں میں گیل روبن Gayle Rubin، پیٹرک کیلیفیاPatrick Califia، ایلن ولیس Ellen Willis، کیتھی ایکر Kathy Acker، سوسی برائٹ، کیرول کوئین، اور بےشمار دیگر اسکالر شامل ہیں۔ آج کل یہی لوگ زیادہ مشہور ہیں اور انہی کا زیادہ زور چلتا ہے۔ بہت سے فیمنسٹ خود بھی فحش نگاری (پورنو گرافی) کا کام کرتے ہیں اور انکے اس کام میں فیمنسٹ مرد و خواتین ہی شامل ہوتے ہیں اور یہ فحش نگاری کی صنعت کا ایک چھوٹا مگر بڑھتا ہوا طبقہ ہے ان میں نینا ہارٹلی، اویڈی، میڈیسن ینگ، ساشا گرے جیسے فیمنسٹ پورن اسٹارز زیادہ سرگرم عمل ہیں۔

کچھ فیمنسٹ درمیانی سوچ رکھتے ہیں وہ جنسی آزادی کے خلاف تو نہیں لیکن اصلاح پسندی کی حمایت کرتے ہیں انکے خیال میں نابالغ بچوں کی سیکس موویز اور پورنو گرافی وغیرہ درست نہیں ہیں۔ 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں فیمنسٹ اسکالرز اور ایکٹیوسٹ کے درمیان جنسی موضوعات پر طویل مباحثے ہوتے رہے ہیں جنہیں جنسی جنگوں کا نام دیا جاتا ہے اور 1980 کی دہائی کے بعد اس تحریک میں بے شمار دھڑے بندیوں کی بنیادی وجہ یہی مباحثے اور جنگیں ہیں جو فیمنسٹوں کے درمیان ہوتی رہی ہیں۔ 1982 میں فحش نگاری (پورنو گرافی)کے حق میں اور مخالفت میں برنارڈ کانفرس میں ایک نمایاں تصادم ہوا جس کے بعد فحش نگاری کے مخالفین کو ایونٹ پلاننگ کمیٹی سے خارج کر دیا گیا اور انہوں نے اس عمل کے خلاف کانفرنس کے باہر ریلیاں نکالیں۔

فیمنزم تحریک، نظریات، جدوجہداہداف اور کردار کا جائزہ: فیمزم تحریک اور نظریے کے پھیلائو کے ساتھ ساتھ اسکے اندر سے ہی اسکے مخالفین اور تنقید کرنے والے برآمد ہوتے رہے ہیں، فیمنزم کے اندر سے نمودار ہونے والا پہلا گروہ جس نے فیمنزم پر تنقید کا آغاز کیا وہ پوسٹ فیمنسٹ اسکالرز ہیں۔ یہ گروہ باقاعدہ طور پر 1980 کے عشرے میں سامنے آیا۔ پوسٹ فیمنسٹ ماہرین اس تحریک کے وجود کے خلاف نہیں ہیں لیکن انہوں نے اس تحریک کے دوسرے دور کے خلاف سامنے آنے والے ردعمل کے متعدد نقطہ ہائےنظر کا جائزہ لیا ہے۔ انکا خیال ہے کہ فیمنزم کی تحریک نے دوسرے دور کے اختتام پر اپنے مقاصد حاصل کر لئے ہیں اور اب یہ تحریک آج کے دور سے مناسبت نہیں رکھتی۔ مثلاً امیلیا جونز Amelia Jones نے لکھا ہےکہ فیمنسٹ لٹریچر جو 1980 اور 1990 کی دہائی میں لکھا گیا وہ اس تحریک کے صرف دوسرے اور تیسرے دور کی عکاسی کرتا ہے اسکا آج کے دور سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی ڈوروتی چنDorothy Chunn کا کہنا ہے کہ فیمنزم کی تحریک آج کے دور میں صنفی مساوات کا مطالبہ کیوں جاری رکھے ہوئے ہے؟ جبکہ یہ تحریک، پہلے ہی اپنے پچھلے ادوار میں، یورپ اور امریکہ میں آزادی اور صنفی مساوات کے حقوق حاصل کر چکی ہے۔ ان خطوں میں اب صنفی مساوات کوئی ایسا مسئلہ نہیں رہا جو مزید قابل بحث ہواور اسکے بقول کچھ فیمنسٹ لیڈر ز نے اس بات کا بھی اظہار کیا ہے کہ اب “خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کی گفتگو اور نعرے” خود انہیں کے خلاف استعمال ہونے لگے ہیں جس سے یہ صاف طور پر نظر آتا ہے کہ اب فیمنسٹ تحریک بطور ادارہ کئی معاملات میں رجعت پسندی کا شکار ہو چکی ہے۔

کیا ہمارے پاس معاشرتی مساوات کی پیمائش کا کوئی پیمانہ موجود ہے؟ اگرچہ قانونی اور سیاسی مساوات کا واضح طور پر تعین اور پیمائش کی جا سکتی ہے، لیکن معاشرتی مساوات ایک الگ اور پیچیدہ چیزہے۔ آج کے دور کی فیمنسٹ تحریک، غیر منصفانہ قوانین یا جنس پسند اداروں کے خلاف اتنا احتجاج نہیں ہے جتنا یہ لوگوں کی اس لاشعوری پسند اور جذبات کے خلاف احتجاج ہے جو وہ صدیوں کے قدرتی ثقافتی اصولوں اور ورثے کے بارے میں رکھتے ہیں۔ اس تحریک کا خیال ہے کہ اس ثقافتی ورثے سے خواتین کو نقصان پہنچا ہے حالانکہ خواتین کو تو دیگر بے شمار طریقوں سے بھی پریشان کیا گیا ہے اور آج بھی کیا جاتا ہے۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے یہ سب کچھ واضح طور پر ہوتا تھا اور سوسائٹی اس عمل کو قبول بھی کرتی تھی، آج یہ عمل غیر واضح طریقے سے اور لاشعوری طور پر ہوتا ہے۔ یہ ایک بہت مشکل مسئلہ ہے کیونکہ آپ صرف معروضی اداروں کے ساتھ معاملہ نہیں کر رہے بلکہ آپ لوگوں کے خیالات، عقائد، اور ایمانیات سے کھیل رہے ہیں۔ آپ کا مقابلہ اعتقادی نظاموں سے ہے اور آپ لوگوں کو ان چیزوں کو ناپسند کرنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں جنہیں وہ صدیوں سے پسند کرتے ہیں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ معاشرتی میدان میں یہ ماپنا کہ کیا مساوی ہے اور کیا مساوی نہیں، اتنا آسان نہیں کیونکہ اسکے لئے ہمارے پاس کئی ایسا پیمانہ موجود نہیں جیسے ہمارے پاس وزن، لمبائی، چوڑائی وغیرہ ماپنے کے پیمانے ہوتے ہیں۔ اگر میں تین ملازمین کو برطرف کردوں اور ان میں سے دو خواتین ہوں تو کیا یہ مساوات ہے؟ یا یہ سیکس ازم ہے؟ اس معاملے میں آپ اس وقت تک ٹھیک سے کچھ نہیں کہہ سکتے جب تک آپ میرے دماغ کے اندر جا کر میری نیت، اعتقادات اور محرکات کو نہ سمجھیں۔ اسی طرح اس بات کی پیمائش کرنا توآسان ہے کہ آیا لڑکے اور لڑکیاں اسکولوں میں ایک جیسا وظیفہ وصول کررہے ہیں یا نہیں؟ یا مرد اور عورت کو ایک ہی کام کے لئے مناسب معاوضہ دیا جارہا ہے یا نہیں۔ لیکن آپ معاشرتی انصاف کی پیمائش کیسے کر یں گے؟ اگر کچھ لوگ اپنی بہن سے زیادہ بھائی کو پسند کرتے ہیں تو کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عورت ہے؟ یا یہ کہ وہ بہت منہ پھٹ اور بد تمیز ہے؟ اسی طرح اگر کچھ خواتین کو کے۔ ایف۔ سی یا میکڈونلڈ کے باہر لگے مجسمے یا ایسی ہی کسی چیز سے خوف آتا ہوں تو کیا ہم اس خوف کو جائز مان کر یہ مطالبہ کر سکتے ہیں کہ ان جگہوں سے ان مجسموں کو ہٹا دیا جائے کیونکہ کچھ خواتین کیلئے یہ خوف کی علامت ہیں یا اس مطالبے میں ناکامی پر ہم اسے خواتین کے خلاف “جبر” سے موسوم کرسکتے ہیں۔ اسی طرح فمینسٹ فلاسفی اور نظریے کا یہ مفروضہ بھی ٹھیک معلوم نہیں ہوتا کہ ، اصناف اور جنس سے قطع نظر، تمام انسانوں کو یکساں احترام، فضیلت اور حقوق حاصل ہونے چاہیں۔

گندگی کو صاف کرنے کا عزم لیکر اٹھنے والی تحریکیں خود گندگی کا شکار کیوں ہو جاتی ہیں؟ شاید یہ بات کسی حد تک تو درست ہے کہ ہر تہذیب اور معاشرے میں، متمدن انسانی تاریخ میں خواتین پر ظلم ہوا ہے، اور اس ظلم و جبر کا بہت سارا سامان ایسا ہے جو آج کل بھی مختلف شکلوں میں پایا جاتا ہے۔ اور شاید یہ بات بھی صحیح ہے کہ مرد و زن کےحیاتیاتی اختلافات کے باوجود، مرد ایک ایسی غیر صحت مندانہ ثقافت میں پروان چڑھتے ہیں جو نہ صرف خواتین کے لئے غیرصحت مند ہے، بلکہ مردوں کے لئے بھی غیر صحت بخش ہے۔ ان ڈھیلی ڈھالی باتوں کو نسائی فلسفہ کے طور پر تو قبول کیا جا سکتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ فیمنزم ایک فلسفہ یا عقائد سے آگے بڑھ کر ایک گروہ، ایک سیاسی تحریک، سیاسی طاقت، اور ایک سماجی تشخص کے ساتھ ساتھ اداروں کا بھی ایک مجموعہ ہے۔ تمام گروہ، سیاسی جماعتیں اور ادارے شروع میں ایک عمدہ خیال اور فلاسفی پر متفق ہونے والے افراد کے ایک مجموعے سے شروع ہوتے ہیں لیکن جب وہ بہت منظم ہو جاتے ہیں تو معاشرے سے گندگی صاف کرنے کی بجائے خود گندگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور پھر اداروں کی تشکیل کا مقصد صرف سیاسی فائدہ اٹھانے، اقتدار کا حصول، اپنا کیرئیر بنانے اور ذاتی مفادات حاصل کرنے تک محدود ہوجاتا ہے۔ کیونکہ انسان کی نفسیات فطری طور پر قبائلی قسم کی نفسیات ہے۔ جب ہم ایک چھوٹے گروپ، چھوٹے قبیلے کا حصہ بن جاتے ہیں تو پھر ہم ہر طرح کے تعصبات اور ترجیحات کو اپنانا جائز سجھتے ہیں اور ہم صرف اس نظام یقین کی تعمیر کرنے لگ جاتے ہیں جو ہمارے گروپ اور قبیلے کی طاقت اور فوقیت کو جواز فراہم کرتا ہو۔ پھر ہم افراد کو انسان کی حیثیت سے نہیں بلکہ اپنے گروپ کے ورکر کی حیثیت سے دیکھتے ہیں اگر وہ ہمارےگروپ کے مخلص کارکن ہوتے ہیں تو ہم انکی عزت کرتے ہیں اور اگر وہ ہمارے گروپ سے مخلص نہیں ہوتے تو ہم انکو گروپ سے نکال باہر کرنے کی وکالت کرتےہیں۔ ایک بار جب ایک فلسفہ قبائلی اور گروہی ہوجاتا ہے تو پھر اس کے عقائد کسی اخلاقی اصول کی خدمت کے لئے نہیں ہوتے، بلکہ وہ گروپ اور قبیلےکے فروغ کے لئے ہوتے ہیں۔

کیا آج کے دور کی فیمنسٹ تحریک نے ایک قبیلے کی شکل اس لئے اختیار کر لی ہے کہ اسکے ممبران کی روزی، روٹی چلتی رہے؟ کیا خواتین کے حقوق کے حصول کیلئے عملی اقدامات ضروری ہیں یا سوشل میڈیا پر بیانات بازی کافی ہے؟ مارک مینسن Mark Manson امریکہ کے سفید فام سوشل اسکالرر ہیں وہ حقوق نسوان یا فیمنسٹ تحریک کے خلاف نہیں ہیں لیکن موجودہ فیمنسٹ تحریک جس سمت میں چل پڑی ہے اس پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پچھلی چند دہائیوں میں امریکہ اور یورپ میں، جنسی تشدد آدھا ہوگیا، اور گھریلو تشدد حیرت انگیز طور پر دوتہائی سے کم ہوگیا۔ خواتین نے حال ہی میں امریکہ میں ملازمت میں مردوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور بیچلر کی تمام ڈگریوں کا تقریبا ساٹھ فیصد حاصل کیا ہے۔ اورامریکہ میں یہ واویلا کرتے وقت، کہ مردوں کے ایک ڈالر کمانے کی نسبت سے عورتیں صرف 77 سینٹ کماتی ہیں، اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ مردوں کا کام کا دورانیہ عورتوں سے زیادہ ہوتا ہے، وہ زیادہ خطرناک نوکریاں کرتے ہیں، اور ریٹائر بھی دیر سے ہوتے ہیں تو اگر ان سب حقائق کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو مرد و زن کی اجرت کا فرق نہ ہونے کے برابر ہے۔ ساتھ اور ستر کی دہائی کے بعد خواتین کے حقوق کے حوالے سے اس قدر ترقی دیکھی گئی ہے کہ اب کچھ لوگ اس بات سے پریشان ہیں کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو مرد بہت جلد پیچھے رہ جائیں گے۔ پچھلے پچاس سالوں میں خواتین کے حقوق کے حصول کی جدوجہد کو عملی جامہ پہنانے کے عمل میں فیمنزم کی تحریک ایک فلسفے سے ایک ادارے کی شکل اختیار کر گئی اور ہر ادارہ خود کو ہمیشہ کیلئے برقرار رکھنے کیلئے، دنیا کے ساتھ مشغول رہنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں جن خواتین کارکنان نے حقوق کیلئے احتجاج کئے اور مشکلات اٹھائیں، بعد میں اچھا وقت آتے ہی انکو یونیورسٹیوں میں داخلے مل گئے، انہوں نے ڈگریاں حاصل کیں، کتابیں لکھیں، کانفرنسیں کیں، میگزین اور اخبار نکالے، فنڈ ریزنگ کی، محکمے قائم کئے، سیاسی تنظیمیں تشکیل دیں اور یہ سب کچھ اب انکا کیرئیر ہے۔ اب انکی تنخواہوں اور مراعات کا انحصار اس بات پر ہے کہ دنیا میں کہیں نہ کہیں خواتین پر ظلم ہوتا رہے تاکہ وہ اسکے خلاف آوازیں بلند کرتی رہیں اور انہیں ظلم کے خلاف بولنے کی فیس ملتی رہے۔ یعنی گویا اب فیمنسٹ تحریک نے فلسفے اور ادب سے باہر نکل کر ایک عالمگیر قبیلے کی شکل اختیار کر لی ہے اور یہ قبیلہ اپنے ممبران اور کارکنان کے مفادات کے تحفظ کیلئے عقائد کا ایک ایسا نظام پیش کرتا ہے جسکے تحت انہیں دنیا میں ہر طرف صرف پدرسری نظام ہی دکھائی دیتا ہے جہاں مردوں کی حکومت ہے، اور مردوں کی فطرت میں ہی ظلم ہے لہذا وہ مسلسل عورتوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنا رہے ہیں، اور ان عقائد میں مزید یہ بتایا جاتا ہے کہ مرد اور عورت میں حیاتیاتی، فطری اور نفسیاتی طور پر تو کوئی فرق نہیں بس یہ فرق یونہی ثقافتی تخیل کا فرق ہے جسے پدر سری نظام میں مردوں نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر گڑھ لیا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عقائد کا یہ نظام اب خود ایک بادشاہت اور جبر کی ایک شکل بن چکا ہے اور جو ان عقائد کی مخالفت کرتا ہے یا ان پر سوال اٹھاتا ہے اسے قبیلے سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔ فیمنسٹ تحریک کے شروع کے دور کے لوگ عورت کو ووٹ ڈالنے، اسکے کالج اور یونیورسٹی جانے، تعلیم حاصل کرنے، مساوی تنخواہ، کام کی جگہوں پر امتیازی سلوک وغیرہ جیسے حقوق کی خاطر احتجاجاً سرنگوں میں بیٹھ کر مرنے کیلئے تیار ہو جاتے تھے، لیکن اب نئی نسل جو ٹرائیبل فیمنسٹ بن چکی ہے انکے سامنے وہ بڑے مقاصد نہیں رہےوہ توصرف اپنے جذبات، احساسات اور انا کے تحفظ کیلئے سب کچھ کر رہے ہیں تاکہ مظلوم اور پسماندہ محسوس نہ ہوں۔ یعنی فی الواقعی خواتین کیلئے کچھ کرنے کا جذبہ یا آئیڈیل خواتین بننے کا جذبہ ختم ہو چکا ہے اب صرف خواتین کے بارے میں خودساختہ خیالات اورتصورات کو عام کرنے میں دلچسپی ہے۔ ہمارے معاشروں میں خواتین کے بارے میں پائے جانے والے دقیانوسی خیالات اور توہمات کو صرف نئے خیالات اور تصورات سے ختم نہیں کی کیا جا سکتا بلکہ اسکے ضروری ہے کہ اپنے دقیانوسی اور توہماتی رویوں میں تبدیلی لائی جائے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ خواتین سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں زیادہ حصہ لیں تو آپ کو خود آگے بڑھ کی ان فیلڈ میں جانا چاہیے اور ان فیلڈز میں نئی آنے والی خواتین کی مدد کرنی چاہیے، اگر آپ چاہتے ہیں کہ خواتین کاروبار میں حصہ لیں تو آپ کو آگے بڑھ کر کاروبار کا آغاز کرنا چاہیے، کسی کمپنی کا چیف ایگزیکٹو بن کر اہم آسامیوں پر خواتین کو تعینات کرنا چاہیے۔ اسی طرح اگر سیاست میں زیادہ خواتین کو دیکھنا چاہتے ہیں تو تمام سیاسی پارٹیوں میں انکی شمولیت کرائیں اور الیکشن کے وقت انہیں زیادہ سے زیادہ نمائندگی دیں یعنی آپ کو عملی طور پر خواتین کیلئے کچھ کرنا چاہیے بجائے اسکے کہ سارا دن، ٹوئیٹر، فیس بک، انسٹاگرام پر ایک طوفان کھڑا کئے رکھیں۔ سوشل میڈیا پر تبصرے اور جوابی تبصرے کرنا تو بہت آسان ہے لیکن کسی عملی میدان میں بطور خاتون جوہر دکھانا اور دیگر خواتین کیلئے اس میدان میں آنے کیلئے راستہ ہموار کرنا بہت مشکل کام ہے۔ آج کے دور کے فیمنسٹ آسان راستے کا انتخاب کرتے ہیں جبکہ پچھلے دور کے فیمنسٹ مشکل راستہ چنتے تھے۔

کیا غلط ہتھکنڈے استعمال کرنے سے کسی بھی تحریک کا فلسفہ اور نعرے اس کے اپنے ہی گلے پڑ جاتے ہیں؟ فیمنسٹ اسکالرز کا خیال ہے کہ صدیوں سے، مردوں نے عورتوں کو پسماندہ اور غیر اہم رکھااور اس عمل کے دوران مردوں نے عورتوں سے بہت سی دقیانوسی چیزں منسوب کیں اور ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ عورتوں عموماً اس بارے میں بہت حساس ہوتی ہیں کہ لوگ ان کے بارے مین کیا سوچیں گے؟ لیکن یہ وہی فرسودہ رویے ہیں جن کی طرف آج کی ٹرائیبل فیمنسٹ خواتین واپس جا رہی ہیں۔ اسی طرح فیمنسٹ فلسفے اور تھیوری کو ایک سیاسی انتہا پر پہنچا دیا گیا اور اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سے ٹرائیبل فیمنسٹ حلقے آپس میں ہی ان بنیادی امور پر متصادم ہوگئے ہیں جو فیمنسٹ تھیوری کی بنیاد تھی۔ اور اگر ایک بار آپکا فلسفہ آپ پر ہی الٹا ہو جائے تو وہ فاسد ہو جاتا ہے جیسے کمیونسٹ معاشرے جب کامل مساوات کیلئے، انہوں نے یہ سب دھونس، دھمکی اور جبر سے حاصل کرنا چاہا تو الٹا اپنے اوپر ہی ظلم کر بیٹھے اور انکے اندر سے ہی انکی مخالفت اور ضد نکل آئی اور جو کل تک ترقی پسند تھے وہ رجعت پسند قرار دے دیے گئے اور جن رویوں کو وہ شرمناک کہہ کر ان کے خلاف جنگ کر رہے تھے وہی شرمناک رویے انہوں نے خود اپنا لئے۔

آج کل فیمنزم کے “نظریہ رٹ و گردان” کو پزایرائی ملنے کی بجائے نظر انداز کیوں کیا جا رہا ہے؟ کیا کسی نظریے کا سطحیت پر اترنا ہی اسکے زوال کا پیش خیمہ ہوتا ہے؟ جسا کرسپین Jessa Crispin ایک فیمنسٹ نقاد ہیں اور Bookslut کی ایڈیٹر ان چیف اور تین کتابوں کی مصنف ہیں، انکی مشہور کتاب Why I am not a Feminist ہے اسکے علاوہ امریکہ کے تمام بڑے اخباروں میں کالم لکھتی ہیں۔ جسا کرسپن لکھتی ہے کہ عام طور پر، فیمنزم کا مشہور نعرہ کہ “Personal is Politicalعورت کی ذات پر بیتنے والے ظلم و ستم کا بیان سیاسی ہی ہوتا ہے” کی غلط تعبیر و تشریح کی جاتی ہے۔ اس نعرے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی ذاتی خواہشات کی گردان کرتے رہیں، اور اپنی اس رٹ اور رام لیلا کو اور ذاتی فیصلوں کو، بہت پوتر بن کر سیاسی رنگ سے پیش کرتے رہیں اور جب ہماری سیاسی بیان بازی کی حقیقت جاننے کیلئے، اسکے تجزیے اوراحتساب کا وقت آئے تو ہم اسکا سامنا کرنے کی بجائے راہ فرار اختیار کریں۔ ہماری راہ فرار یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہمارے سیاسی بیان میں راستبازی نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی۔ اور یہی وجہ کہ دنیا بھر میں فیمنزم کو پھیلانے اورمقبول عام بنانے کیلئے جس “نظریہ رٹ، گردان” کو استعمال کیا جا رہا ہے اسکو اب پذیرائی ملنے کی بجائے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ ایک چیز کو عالمگیر اور دنیا بھر میں قابل قبول بنانے کی فکر کرنے والے یہ بھول گئے کہ اس چیز کو بے فائدہ، بے وقعت اور فرسودہ اور فضول نہیں ہونا چاہیے اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ ایک نظریہ ہے کوئی برانڈ، کموڈٹی یا قابل فروخت چیز نہیں کہ بس گاہکوں کو لبھانے کیلئے اسے صرف بنا سنوار کر ایک خوبصورت پیکٹ میں پیش کیا جائے خواہ پیکٹ کے اندر کام چیز ہو یا نہ ہو اور ایک بار خرید لینے کے بعد گاہک کی فکر کس کو ہوتی ہے۔ کرسپین نے اپنی کتاب Why I am not a Feminist میں فیمنزم کے نعروں (مستقبل صرف خواتین کا ہے، یا جیسے ہیلری کلنٹن نے الیکشن کے وقت نعرہ لگایا کہ لڑکیاں fun-demental rights چاہتی ہیں( یعنی بنیادی حقوق کی بجائے دل لگی کے حقوق، یا ریڈیکل فیمنزم کا خیال ہے کہ صرف عورتیں ہی انسان ہیں وغیرہ) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی نظریہ اور تھیوری سطحیت پر اتر آتی ہے تو وہ سطحیت ہی اسکے زوال کا پیش خیمہ ہوتی ہے مثلاً آج کے دور کی نوجوان خواتین کوئی عملی جدوجہد کرنے کی بجائے اپنی ٹی شرٹس، ہنڈ بیگز، کیپس، جسم کے مختلف حصوں، ڈرائنگ روم میں سجا کر رکھنے والی مختلف چیزوں پر صرف مذکورہ نعرے لکھوا کر سمجھتی ہیں کہ خواتین کے حقوق کیلئے جدوجہد ہو رہی ہے۔ لیبل اور ٹیگ لگانا، یا کاسمیٹک کمپنیوں کی مصنوعات کے برانڈ کے طور پر کسی سلوگن کو پیش کرنا تو بہت آسان ہوتا ہے لیکن عملی جدوجہد بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ اس طرح اس نظریے کو یوزر فرینڈلی بنا رہے ہیں لیکن ان سے سوال ہے کہ کن صارفیں کیلئے؟ ؟ پھر کرسپین فیمنسٹ سیاست پر بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ فیمنزم میں انحراف در انحراف ہو رہا ہے پہلے حقوق کی جدوجہد کو ریڈیکل سیاست میں تبدیل کیا گیا اب سیاسی طاقت کے حصول کا رخ، ذاتی اغراض و مقاصد کی طرف موڑ دیا گیا ہے حالانکہ اس تحریک کا اصل مقصد تو یہ تھا کہ خواتیں کو حقیقی خوشی کیسے فراہم کی جائے اور وہ مقصد فراموش ہو چکا ہے۔ وہ مقصد تو صرف اس صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جب خواتین کو بہتر جابز مہیا ہوں، انکی شادیاں ہوں، انکا گھر، خاوند اور بچے ہوں، انہیں ازدواجی مسرت حاصل ہو لیکن یہ آج کے دور کے انقلابی فیمنسٹ جو اصل میں بے وقعت، سطحی، سہل پسند اورہلکے لوگ ہیں جس طرف جا رہے ہیں یہ مذکورہ کسی بھی مسرت کا حصول ناممکن بنا دیں گے۔

کیا مرد اور عورت کی جسمانی ساخت، نفسیات اور اخلاقیات میں کوئی فرق نہیں؟ جو خواتین آپریشن کے ذریعے جنس تبدیل کرواتی ہیں انہیں بے چینی کا احساس کیوں ہوتا ہے؟ بہت سے ریڈیکل فیمنسٹ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پدرسری نظام خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے اور دلیل یہ دیتا ہے کہ مردو زن میں حیاتیاتی اور نفسیاتی طور پر فطری اختلاف موجود ہے حالانکہ یہ حیاتیاتی اختلاف محض دونوں کی چھاتی پر چربی کے کم ذخیرے یا زیادہ ذخیرے، زیر ناف معمولی سا جسمانی فرق، کچھ ظاہر ی نقوش اور شکل سے زیادہ کچھ بھی نہیں اور یہ کوئی اتنا بڑا فرق نہیں ہے جو جنسی امتیاز یا امتیازی سلوک کی وجہ قرار دیا جائے اور جسمانی طاقت کے حوالے سے انکی دلیل یہ ہے کہ آجکل مشینوں اور کمپوٹر کا دور ہے ایک بٹن دبانے سے سب کام ہوجاتے ہیں لہذا مرد اور عورت کی جسمانی طاقت کا موازنہ کرنا بے معنی ہے لیکن دوسری طرف انہیں بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کی اس رائے سے کوئ اختلاف نہین کہ مردوں اور عورتوں کیلئے الگ الگ کھیلوں کے مقابلے ہونگے کیونکہ ایک ہی کھیل خواہ وہ مردوں اور عورتوں میں یکساں طور پر مقبول ہو لیکن کھیل میں مردوں اور عورتوں کی کارکردگی میں نمایاں فرق ہوتا ہے اور اس طرح مردوں کے مقابلے میں عورتوں کو ذلت اٹھانے سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ اگر تھوڑی دیر کیلئے یہ فرض کر لیا جائے کہ مردوں اور عورتوں میں جینیاتی، حیاتیاتی طور پر یا نفسیاتی طور پر کوئی فرق نہیں ہوتا تو وہ عورتیں جو آپریشن وغیرہ کروا کر عورت سے مرد بن جاتی ہیں اور بظاہر مرد ہی نظر آتی ہیں لیکن انہیں پھر بھی ایک مرد کے طور پر قبول کیوں نہیں یا جاتا اور انہیں اپنے اندر سے ایک بے چینی کا احساس بھی کیوں ہوتا ہے؟ اسی موضوع پر ایک جرمن فلم میکر Monika Treutنے ایک ڈاکیومینٹری Female Misbehaving بنائی جس میں ایک عورت سرجری کرواکر مرد بن جاتی ہے اور وہ بتاتی ہے کہ سرجری کے دوران اس میں مرد کے جین تو داخل کر دئے گئے جس سے اسکی جنس توتبدیل ہوگئی لیکن اس سے اسکا انرجی لیول بہت بلند ہوگیا، جنسی اشتہا بہت بڑھ گئی، مزاج بالکل تبدیل ہو گیا اوروہ کہتی ہے اس سارے معاملے پر اسکو بے اختیار رونا آتا ہے کیونکہ صحیح مرد بننے کیلئے مرد ہارمونز کا ایک خاص تناسب چاہیے، ہارمونز کےاس تناسب کے بغیر عورت کو بظاہر مرد تو بنایا جا سکتا ہے لیکن حقیقی طور پر وہ مرد کی طرح behave نہیں کر سکتی اور یہی بات اس کا ثبوت ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان حیاتیاتی اور نفسیاتی طور پر ایک امتیاز پایا جاتا ہے۔ مرد، مرد ہارمونز کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور عورت، عورت ہارمونز کے ساتھ پیدا ہوتی ہے، پرورش اور معاشرت کے نتیجے میں یا کسی اور مصنوعی طریقے سے نہ مرد کو حقیقی معنوں میں عورت بنایا جا سکتا ہے اور نہ عورت کو مرد۔ اسی طرح جدید فلموں میں خوبرو اداکارائوں کو کمپیوٹر ایکسپرٹ، شارپ شوٹر، کنگ فو فائٹر اور کلنگ مشین کے طور پر دکھایا جاتا ہے جو اس میدان میں کسی بھی سپر مین سے کہیں بڑھ کر نظر آتی ہیں اسی طرح ٹی وی سیریز میں بھی اداکارائوں کو مضبوط خاتون کا رول دیا جاتا ہے جبکہ انکے مقابلے میں مردوں کے سائڈ رول دے کر انتہائی کمزور اور لاچار دکھایا جاتا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ جدید فلموں اور ٹی وی سیریز کے دیکھنے والوں کی اکثریت فیمنسٹ نوجوانوں اور بوڑھوں کی ہے جو ایکش ہیروز، اور کمانڈوز کی طرح تمام معاشرتی عہدوں پر بھی مردوں کی جگہ خواتین کو سرگرم عمل دیکھنا چاہتے ہیں اور جب تک عملی طور پر ایسا نہ ہو کم ازکم خوابوں میں اسکی تصدیق کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ ملک کا دفاع تو بہادر نوجوان فوجی، ملاح، جہاز اور یارڈ کے مزدور، غوطہ خور، پولیس افسران ہی کر سکتے ہیں وہ فیمنسٹ فلمی ہیروز کا کام تو نہیں ہوتا۔

کچھ فیمنسٹ اسکالر ز کا خیال ہے کہ خواتین اخلاقی طور پر مردوں کی نسبت زیادہ بلند ہوتی ہیں اور وہ اپنے تخلیق کردہ لٹریچر(ناول، کہانیاں، فلمیں وغیرہ) کی بھرمار میں ہر طرف مردوں کو ظالم، متشدد اور غاصب شکاری ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہوتے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ عورتوں کو معصوم اور مظلوم اور شکار ہونے والی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ لیکن اسکے ساتھ ساتھ انکا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اصناف اور اجناس یکساں طور “مساوی اخلاق Moral equality ” کے حامل ہوتے ہیں اور کسی کو حق نہیں کہ وہ اخلاقی برتری کا دعویٰ کرے یا اس سلسلے میں کسی صنف کو کم تر گردانے۔ اب یہ کس قدر کھلی تضاد بیانی ہے کہ ایک ہی سانس میں دو متضاد دعوے کئے جا رہے ہیں اور ظاہر ہے ان میں ایک ہی درست ہو سکتا ہے۔ اگر اخلاقی مساوات کا دعویٰ ہے تو پھر مرد کو ظالم قرار دے کر عورت کو مظلوم نہیں پیش کرنا چاہیے اور اگر ایسا کرنا ہے تو پھر اخلاقی مساوات کا دعویٰ کیسے درست ہو سکتا ہے۔

کیا شادی، عصمت در ی کا قانونی لائسنس ہے؟ کیا نکاح کرنے والی خواتین فیمنزم کی غدار ہوتی ہیں؟ ساٹھ کی دہائی سے فیمنسٹ تحریک مسلسل خاندانی نظام پر حملہ آور ہو رہی ہے، انہوں نے امور خانہ داری میں مصرو ف گھریلو خواتین کو باور کرایا کہ انکی ساری زندگی مردوں کی فرمانبرداری، جنسی غلام، اوربچے پیدا کرنے والی مشین سے زیادہ کچھ نہیں چنانچہ 1968 میں اس سلسلے کی ایک بڑی کمپین میں اٹلانٹک شہر میں “چولی جلانے کا عملBra burning” مشہور ہے۔ امریکی فیمنسٹ بٹی فریڈن Betty Friendan نے خاندانی نظام کو ” آرام دہ حراستی کیمپ” کا نام دیا، شیلا کرونن Sheila Cronanنے دعویٰ کیا کہ “شادی کے خاتمے کے بغیر خواتین کیلئے آزادی حاصل نہیں کی جا سکتی”، آندریا ڈورکن Andrea Swokinنے کہا کہ ” بطور ادارہ شادی، محض عصمت دری کے عمل کی ترقی یافتہ شکل ہے” اور مزید کہا کہ ” شادی، عصمت دری کا قانونی لائسنس ہے”مارلن فرانسیسی Marilyn Frenchنے کہا کہ ” ہر عورت کو ایک سچی فیمنسٹ ہونے کیلئے Lesbian بن جانا چاہیے کیونکہ خاندان تو عورت کیلئے جبر کا ایک مقام ہے جہاں جنسیت کو جبر کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے” اسی طرح فیمنسٹ تحریک میں نکاح کرنے والی خواتین کو فیمنزم کا غدار تصور کیا جاتا ہے اور ان خواتین کو باشعور ہیروئین کے طور پر لیا جاتا ہے جو پدر سری نظام کے بنیادی جابرانہ ادارے یعنی “شادی” کے خلاف بغاوت کا اعلان کرتی ہیں۔ اب ایک طرف تو فیمنسٹ، خاندانی نظام کے اس قدر خلاف ہیں کہ اسکے وجود کے ہی انکاری ہیں لیکن دوسری طرف اس بات پر بھی اصرار کرتے ہیں کہ خواتین اعلیٰ اخلاق کی حامل ہوتی ہیں، اپنے شوہر اور بچوں کا بہت خیال رکھنے والی اور محبت کرنے والی ہوتی ہیں لیکن شوہروں کی طرف سے انہیں اس محبت کا جواب محبت کی بجائے تشدد اور ظلم کی شکل میں ملتا ہے۔

فیمنسٹ تحریک کے اقتدار میں اضافے کا اہم سنگ میل 1973 میں “مفت اسقاط حمل” کا قانون ہے، اس قانون نے نوجوان غیر شادی شدہ لڑکیوں کو کو مکمل کنٹرول دے دیا کہ اگر وہ 12 ہفتے کے حمل کو گرانا چاہتی ہے تو اسے کسی کو بتانے، کسی سے رائے اور مشورہ لینے حتیٰ کہ اپنے باپ کو بھی مطلع کرنے کی ضرورت نہیں۔ جن ممالک میں یہ قانون نافذ ہے مثلاً ڈنمارک، یہاں ہر سال تقریباً پندرہ ہزار اسقاط حمل کئے جاتے ہیں اور یہاں 1973 سے لیکر اب تک تقریباً نصف ملین اسقاط حمل ہو چکے ہیں لیکن دوسری طرف افرادی قوت کا فقدان ہےاور یہ خدمات دوسرے ممالک سے لی جاتی ہیں۔

کیا عورتوں کو لبھانے کا عمل اور جنسی ہراسگی ایک ہی چیز ہے؟ اگر ہاں تو پھر اس طرح اس جرم کے ارتکاب سے کون بچ پائے گا؟ فیمنسٹ تحریک کے شروع کے ادوار کی جدوجہد کے نتیجے میں خواتین کو کئی مراعات حاصل ہو چکی ہیں مثال کے طور پر طلاق کے سلسلے میں، بچوں کی نگہداشت کے سلسلے میں، اور دیگر بہت سے معاملات میں خواتین کو صرف عدالت کے اندر مقدمہ داخل کرنا ہوتا ہے اسکے بعد یقینی طور پر فیصلہ ان کے حق میں ہی آتا ہے۔ شادی شدہ خواتین کے طرف سے جب یہ شکایت آتی ہے کہ انکے خاوندوں نے ان پر زبردستی کی یا انکی جنسی خواہش پوری کرنے کے سلسلہ میں تشدد کیا گیا تو عام طور پر صرف انکا بیان سن کر ہی انکے حق میں فیصلہ دے دیا جاتا ہے۔ اور یہ سلسلہ اب اس قدر انتہاپسندی کی شکل اختیار کر گیا ہے کہ خود خواتین کو سامنے آکر احتجاجاً یہ کہنا پڑا کہ “مردوں کو خواتین کو لبھانے کی تو کم از کم اجازت ہونی چاہیے” 10 جنوری 2018 کو فرانسیسی اداکارہ کیتھرین ڈینیو، کرسٹین بوئیسن، اور پورن سٹار بریگیٹ لاہائی سمیت ایک سو خواتین نے ایک کھلا خط لکھا جس مین انہوں نے اس نئی “پیورٹن ازم” کے بارے میں لکھا جو جنسی ہراس کے اسکینڈلز کے بعد سامنے آئی، انکا کہنا ہے کہ مردوں کو خواہ مخواہ سخت سزائیں دی جا رہی ہیں حالانکہ انہوں نے تو صرف خواتین کے گھٹنوں کو چھوا یا بوسہ لینے کی کوشش کی اور یہ سب کچھ اناڑی پن میں کیا اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے ریپ کیلئے حملہ کیا۔ اناڑی پن میں کسی کو مائل کرنے کی کوشش کو ریپ قرار دینا ظلم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم بطور خواتین اس قسم کے فیمن ازم کو تسلیم نہیں کرتے جس میں اختیارات کا غلط استعمال کرکے مردوں کو نشانہ بنایا جائے یا انکے خلاف نفرت کا اظہار کیا جائے۔ اس کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک امریکی فلم ساز و ہدایت کار ہاروی وینسٹین کے خلاف ریپ کے الزامات کے بعد مذمتوں کی لہر کا آغاز ہوا۔ اس امریکی ہدایت کار نے جبری سیکس کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس نے صرف اس قدر کہا تھا کہ ” میں تم پر جنسی طور پر فدا ہوں”

خواتین مردانہ وجاہت سے کیوں متاثر ہوتی ہیں؟ کیا مصنوعی طور پر عورت کی اس فطرت کو بدلا جا سکتا ہے؟ فیمنسٹ تحریک جتنا بھی زور لگا لے لیکن ہزاروں سال سے خواتین میں پائی جانے والی ایک خاص نفسیات اور فطرت کو نہیں بدلا جا سکتا۔ یعنی ان میں موافقت کی حیاتیاتی جبلت مردوں کی نسبت کہیں زیادہ پائی جاتی ہے۔ اور موافقت کی یہ جبلت جب شدت سے اظہار کرتی ہے تو اسے بے وفائی کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ دنیا بھر کی زبانوں میں ہونے والی شاعری، افسانے، ناول، قصے اور کہانیاں، عورت کی اس نفسیات کے بیان سے بھرے پڑے ہیں۔ اور اس جبلت کے تحت خواتین، زیادہ مردانہ وجاہت رکھنے والے، مضبوط ڈیل ڈول رکھنے والے، پر کشش مردوں سے جلدی متاثر ہوتی ہیں اور اگر خاندانی نظام کا ڈھانچہ کمزور ہو تو اپنے سابقہ خاوند، بوائے فرینڈ وغیرہ کو چھوڑ کر اس مرد کے ساتھ رابطہ استوار کر لیتی ہیں جس سے وہ زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ تاریخ اسکی مثالوں سے بھری پڑی ہے، جنگ عظیم اول اور دوم کے درمیان یورپی خواتین کے جرمن سپاہیوں کے ساتھ تعلقات، جاپانی اورویت نامی عورتوں کے امریکن فوجیوں کے ساتھ تعلقات وغیرہ وغیرہ۔ آج بھی خواتین عام طور پر کم مردانہ وجاہت رکھنے والے ایک شریف اور محنتی آدمی کی نسبت، زیادہ مردانہ وجاہت رکھنے والے ایک متشدد، مجرم، گینگسٹر، ڈرگ ڈیلر، اور نکھٹو مگر جارح مرد میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں کیونکہ زیادہ مردانہ وجاہت سے متاثر ہونا، جلد موافقت پیدا کرتے ہوئے مطیع ہو جانا انکی نفسیات اور جبلت میں شامل ہے۔ یہ کوئی اتفای امر نہیں ہے کہ امریکہ میں بہت ساری خواتین، موت کا انتظار کرنے والے مضبوط جسامت کے قاتلوں سے مل کر اپنی پیاس بجھانا چاہتی ہیں، یہ بھی کوئی اتفافی امر نہیں ہے کہ ہوٹلوں میں پاپ اسٹارز کے کمروں کے باہر ہزاروں لڑکیاں انکی مردانہ وجاہت کا ایک نظارہ دیکھنے کیلئے نعرے لگاتی ہیں اور انہیں چیخ چیخ کر بلاتی ہیں (اس سلسلے میں اور بہت کچھ بیان کیا جا سکتا ہے لیکن شاید اسے بیان کرنے کیلئے شرم و حیا کے دائرے سے باہر جانا پڑے گا جو درست عمل نہیں ہے۔) قصہ مختصر خواتین کو آپ مرد سے نفرت کرنے یا اس سے دوری اختیار کرنے کے سلسلے میں جو مرضی لالچ دیں یا تبلیغ کریں لیکن انکی نفسیات اور جبلت جس چیز سے حظ اور سکون حاصل کرتی ہے وہ صرف مرد ہی کے پاس ہے۔ اس لئے عورت کے ذہن میں مرد کے خلاف مصنوعی طور پر نفرت اور دوری پیدا کرنا، عورت اور مرد کے رشتے میں تفریق پیدا کرنا، انہیں ایک دوسرے کا دشمن بنا کر دکھانا، تمام معاشرتی اداروں اورتمام اخلاقی اصولوں کو مرد کا طرفدار اور عورت کا دشمن بنا کر پیش کرنا ایک غیر فطری عمل ہے اور کوئی بھی غیر فطری عمل کسی بھی معاشرے میں وقتی طور پر تو پنپ سکتا ہے لیکن لمبے عرصے کیلئے باقی نہیں رہ سکتا بالآخر اس غیر فطری عمل کے اندر پائے جائے والے تضادات ہی اسکے خاتمے کا باعث بنتے ہیں۔

 References:

  1.  Brunell, Leura; Burkett, Elinor. “Feminism” Encyclopedia Britannica
  2.  Goldstein, Leslie F. (1982) “Early Feminist Themes in French Utopian Socialism” JSTOR
  3.  Weedon Chris (2002) “Key Issues in postcolonial Feminism: A western Perspective” Gender Forum
  4.  Cott, Nancy F (1987). The Grounding of Modern Feminism, New Haven: Yale University Press
  5.  Witt, Charlotte (2006) “Feminist History of Philosophy” Stanford Encyclopedia of Philosophy
  6.  Tong, Rosemarie (2013). Feminist Thought: A More Comprehensive Introduction
  7.  Manson, Mark, “What is Problem with Feminism?” Retrieved from Mark Manson’s487 official website.
  8.  Tolentino, Jia, A case Against Contemporary Feminism
  9.  Crispin, Jessa, “Why I am not a Feminist: A Feminist manifesto
  10.  Crispin, Jess. “Today’s Feminists are bland, shallow and Lazy” Interview by Rachel Cooke
  11.  Lay, Kathy and Daley, G., James, A Critique of Feminist Theory, researchgate.net/publications
  12.  Pham, Monica, “Women against Feminism: An Analysis of Anti-Feminist
  13.  Arguments against Feminism: dandebat.dk/eng-feminisme.htm
  14.  Wikipedia, the Free Encyclopedia
(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20