ارطغرل مسلم تھا یا بت پرست؟ —– محمد قرطبی

0

کافی عجیب ہے نا یہ … جو کل تک مولویوں کو اس بات کا طعنہ دیتے تھے کہ انھوں نے لوگوں کو کافر قرار دینے کے علاوہ اور کچھ کیا ہی کیا ہے، گذشتہ کچھ دنوں سے یہ فریضہ خود سرانجام دے رہے ہیں۔
یعنی ارطغرل نامی تاریخی کردار کو زور و شور سے غیر مسلم قرار دینے میں مصروف ہیں۔

اگر چہ اس بارے میں کافی ساری باتیں پہلے سن رکھی تھیں لیکن کچھ دن پہلے ایک پروفیسر صاحب کا مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا جنہوں نے یہ ثابت کرنے کی سعی فرمائی کہ ارطغرل مسلم نہیں بلکہ بت پرست تھا۔

اس سلسلے میں انھوں نے پہلا حوالہ Cambridge History Of Turkey سے دیا جس کے مصنف کا یہ کہنا ہے کہ ہم ارطغرل کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، ہمیں تاریخ میں ان کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔

جبکہ دوسرا حوالہ ڈاکٹر محمد عزیر کی تصنیف دولت عثمانیہ سے دیا، اس کتاب میں ڈاکٹر محمد عزیر لکھتے ہیں:

1916 میں H.Adams Gibbns نے اپنی مستند تالیف اساس سلطنت عثمانیہ (The Foundation Of The Othman Empire By H.Adams Gibbons) کو شائع کر کے یہ تازہ تحقیق پیش کی کہ سوغوت میں بودوباش اختیار کرنے کے وقت عثمان اور اس کے قبیلہ کے لوگ بت پرست تھے۔

اگرچہ اس کتاب اور تحقیق کا مفصل جواب بہت سے لوگ دے چکے ہیں جن میں نمایاں ترین مشہور ترک مؤرخ Mehmat Fuat Koprulu کی کتاب The Origins Of The Ottman Empire ہے جس کے دنیا بھر کی مختلف زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔

میں یہاں زیادہ تفصیل میں جائے بغیر اختصار کے ساتھ صرف ان نقاط کا جواب دینے کی کوشش کروں گا جو مندرجہ بالا مضمون یا ڈاکٹر محمد عزیر کی کتاب میں ذکر کئے گئے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ڈاکٹر محمد عزیر خودیہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ ارطغرل اور اس کے قبیلہ کے لوگ تمام مؤرخین کے نزدیک مسلمان تھے لکھتے ہیں کہ:

’’کچھ عرصہ قبل تک یہ امر مؤرخین کے نزدیک مسلم تھا کہ ارطغرل اور اس کے ساتھی ایشیائے کوچک میں داخل ہونے سے قبل ہی مسلمان تھے‘‘۔

Gibbons کے دلائل ڈاکٹر محمد عزیر اپنی کتاب میں ذکر کرتے ہیں:

’’تیرھویں صدی عیسوی کے ابتدا ء میں خراسان اور ماورا ء النہر کے دوسرے علاقوں سے جو قومیں ایشیاء کوچک کی سرحدوں پر نمودار ہوئیں ان کے اسلام لانے کا کوئی صریحی ذکر کسی تاریخ میں نہیں ملتا، ان سے پہلے کے ترک حملہ آور جب اس ملک میں داخل ہوئے تو وہ کئی پشتوں سے عربی اسلام کے زیر اثر رہتے آئے تھے، چنانچہ آل سلجوق بھی مسلمان ہی تھے لیکن بعد کے آنے والے ترک جن میں عثمان پیدا ہوا کچھ بہت زیادہ اسلام کے زیر اثر نہیں رہے، خود عثمانیوں کے مؤرخ نشری کے بیان سے بھی صاف اشارہ ملتا ہے کہ عثمان کا مؤرث اعلیٰ سلیمان شاہ اور اس کے ساتھی جو اپنے وطن سے نکل کھڑے ہوئے تھے اور پچاس ہزار گھرانوں پر مشتمل تھے غیر مسلم تھے، وہ کہتا ہے کہ ان میں سے کچھ شامی ترکمانوں کے آبا ء واجداد تھے اور بقیہ ان تمام خانہ بدوش قوموں کے جو روم میں ادھر ادھر پھرا کرتی تھیں‘‘۔

واضح رہے کہ نشری نے اپنی کتاب ’’جہان نما ‘‘ میں کہیں بھی ارطغرل کو غیر مسلم نہیں کہا بلکہ Gibbons نے اس کے بیانات سے یہ اخذ کیا ہے کہ چونکہ اناطولیہ میں بعد میں آنے والے ترک غیر مسلم تھے اور ان میں ارطغرل بھی شامل تھا تو یقینا وہ بھی غیر مسلم ہو گا۔ اور Gibbons کے مطابق ارطغرل ایک دیہاتی سردار کی حیثیت سے سوغوت میں پرامن زندگی بسر کرتے تھے ان کے تمام حوصلے اپنے چھوٹے سے گاؤں تک محدود تھے ان کی اس زمانہ میں کسی جنگ یا فتح کا ذکر تاریخ میں موجود نہیں ہے۔

یعنی ایک اشکال تو یہ کہ ارطغرل غیر مسلم تھا، دوسرا یہ کہ اس کی تمام تر زندگی پرامن اور اپنے گاؤں تک محدود تھی۔

تاریخی مطالعہ کیلئے یہ عام سا بنیادی اصول ہے کہ جس عہد کی بات ہو رہی ہو اس کے ہم عصر مؤرخ کی بات کو ترجیح دی جائے گی سوائے اس صورت میں کہ واضح دلائل سے اس ہم عصر مؤرخ کی بات غلط ثابت ہو رہی ہو۔

تمام عثمانی تواریخ مثلا،تواریخ آل عثمان از عاشق پاشا زادہ (متوفی ۱۴۸۴)، ہشت بہشت از ادریس بدلیسی (متوفی ۱۵۲۰) اور دیگر تمام تر نے ارطغرل کے جہاد سلطان علا ء الدین کے ساتھ اس کے تعلق، تاتاریوں اور بازنطینیوں کے خلاف جنگوں، اور دین سے محبت کا تذکرہ کیا ہے۔ اور چونکہ وہ دور انتہائی اضطراب، جنگوں اور خوں ریزی کا دور تھا جس میں ایک جانب بازنطینی سلطنت مسلمانوں کی دشمن تھی اور دوسری جانب تاتاریوں کا خطرہ سر پر منڈلا رہا تھا تو ایک سرحدی علاقے کا جاگیر دار ہونے کی حیثیت نے تمام مؤرخین نے ان کے متحرک کردار کا ذکر کیا ہے۔

اس بات میں تو مؤرخین کا اختلاف موجود ہے کہ ارطغرل کے والد کا نام سلیمان شاہ تھا یا کوندوز الپ، احمد جودت پاشا اور بہت سے دیگر مؤرخین کی رائے میں ارطغرل کے والد کا نام سلیمان شاہ تھا۔ جبکہ کچھ کے نزدیک کوندوز الپ اور بہت سی اہم عثمانی تواریخ اسی رائے کی تائید کرتی ہیں جیسا کہ دستورنامہ از انور، تاریخ محمد توفیق پاشا وغیرہ۔

بہرحال ارطغرل کے والد کے نام پر اختلاف ضرور موجود ہے لیکن ارطغرل کے مسلمان ہونے کے بارے میں ابتدائی مؤرخین میں کسی کے ہاں بھی کوئی اختلاف نہیں ملتا، ہم یہاں چند ایک کتب سے اقتباسات نقل کرتے ہیں:

تواریخ آل عثمان کا مصنف لطفی پاشا لکھتاہے (متوفی ۱۵۶۳): کہ ’’ارطغرل اپنے باپ سلیمان شاہ کی موت کے بعد بھائیوں سے الگ ہو کر سلطان علاؤالدین کے پاس چلا آیا، سلطان علاؤالدین نے ارطغرل کا اچھا استقبال کیا، اس وقت قرہ جہ حصار اور بیلہ جک کا حاکم سلطان علاء الدین کے تابع تھے اور انھیں خراج ادا کرتے تھے، سلطان نے ارطغرل کو قرہ جہ حصار اور بیلہ جک کے درمیان واقع علاقہ چراگاہ کے طور پر اور سکوتجک (سکود، سوغوت) موسم سرما گزارنے کیلئے عطاء کیا۔ ارطغرل اپنے افراد اور حامیوں کے ہمراہ وہاں پہنچا اور اس جگہ کو اپنا وطن بنا لیا۔ اور کئی سال تک سوغوت میں سکونت پذیر رہا، اللہ نے ارطغرل کو تین بیٹے عطاء کئے جن میں سے ایک کا نام عثمان دوسرے کا گوندوز اور تیسرا صاوجی تھا، ان میں سب سے طاقتور عثمان تھا لوگ اس سے محبت رکھتے اور اس کا اکرام کرتے، سلاطین سلاجقہ میں سے ہر حاکم ان کے ساتھ محبت اور نرم دلی سے پیش آتا، یہ دین داری، اور فضل وکرم میں مشہور تھے شجاعت سے مالامال اس لئے سلاجقہ انھیں اپنے پڑوس میں آباد کرنے پر کبھی بھی پشیمان نہ ہوئے۔

تاج التواریخ از خواجہ سعد الدین (وفات 1599) میں مذکور ہے کہ تاتاریوں نے جب علا ء الدین کے علاقوں پر قبضہ کیا اور علاء الدین مملکت کی کمزوری کی وجہ دفاع کی طاقت نہیں رکھتا تھا، ارطغرل نے اپنی قوم کے ہمراہ اس کی مدد کی، اور ان پر غلبہ پا لیا۔ جس کے نتیجے میں اسے انگوریہ کا نواحی علاقہ دیا اور وہاں کا حاکم مقرر کر دیا جہاں انھوں نے بقیہ عمر کفار سے جنگ کرتے ہوئے گزار دی اور ۹۰ سال کی عمر میں فوت ہوئے۔

حاجی خلیفہ مشہور ترک مؤرخ (متوفی ۱۶۵۷) اپنی کتاب میں ارطغرل کے والد سلیمان شاہ کے بارے میں لکھتے ہیں: کہ تاتاری فتنہ کے بعد جب وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر نکلے اور ارزنجان پہنچے تو کفار کے خلاف قتال کیا اور بہت سا مال غنیمت حاصل کیا، پھر البستان کی جانب سے حلب کا رخ کیا، اور جابر قلعہ کے سامنے دریائے فرات پر پہنچے، انھیں گزرگاہ کا اندازہ نہ تھا، دریا عبور کرنے کے دوران ان پر پانی غالب آ گیا اور سلیمان شاہ ڈوب گئے۔

پھر آگے چل کر ارطغرل کے بارے میں لکھتے ہیں کہ جب ’’یاسین اواسی‘‘ نامی جگہ پر پہنچے تو سنگورتکین اور گون طوغدی ان سے الگ ہو گئے اور عثمان اپنے تینوں بیٹوں کے ساتھ لوٹے اور اس جگہ پر رہ کر کفار کے خلاف جہاد کرتے رہے، پھر اپنے بیٹے صاروبتی کو سلطان علاء الدین سلجوقی کے پاس بھیجا اور ان کے علاقے میں رہنے کی اجازت طلب کی تو انھوں نے اسے طومانیچ پہاڑ اور ارمنک کا علاقہ عطاء کیا۔ ارطغرل اپنی قوم کے ۴۰۰ افرادکے ہمراہ آیا اور قرہ جہ طاغ میں مقیم ہوا۔

جب علاء الدین نے کفار کے خلاف جنگ کا ارادہ کیا تو ارطغرل اس کی مدد کیلئے پہنچا اس طرح سلطان کے ہاں اس کا مرتبہ اور بڑھ گیا۔

سلطان علاء الدین جب قلعہ کوتاہیہ پر حملہ آور ہوئے جو کہ اس وقت کفار کے قبضے میں تھا، اور قلعہ فتح ہونے کے قریب تھا کہ خبر پہنچی تاتاری اس کے کچھ علاقوں پر حملہ آور ہیں، علاء الدین نے قلعہ کے خلاف حملہ کی کمان ارطغرل کے سپرد کی اور خود تاتاریوں کے خلاف جنگ کیلئے نکل روانہ ہو گیا، ارطغرل نے اس قلعہ کو کچھ ہی عرصہ میں فتح کر لیا اور بہت سا مال غنیمت حاصل کیا، اور اپنی وفات تک اسی طرح جہاد کرتا رہا۔

اسی طرح مشہور ترک مؤرخ ’’یلماز اوزتونا‘‘ جنہوں نے ۴ جلدوں پر مشتمل سلطنت عثمانیہ کی تاریخ لکھی انھوں نے ارطغرل کے جہاد کا بطور خاص ذکر کیا، اور سلاجقہ روم کی تاریخ کی مشہور جنگ یاصی جمن میں سلطان علا ء الدین کے ہمراہ شرکت کا ذکر کیا۔ اسی طرح لکھتے ہیں کہ ارطغرل نے بازنطینیوں کے خلاف ’’غازی‘‘ لقب مسلسل جہاد کی وجہ سے حاصل کیا، اور اپنی وفات کے بعد ارطغرل نے لگ بھگ ۴۸۰۰ مربع کلو میٹر کا علاقہ ترکے میں چھوڑا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ Gibbons کا تمام تر مؤقف محض قیاس آرائی پر مبنی ہے اور اس قیاس آرائی کیلئے اس کے پاس کوئی واضح تاریخی حوالہ نہیں جس میں ارطغرل کے غیرمسلم ہونے کا ذکر ہو، چلیں اگر یہ تسلیم کر لیں کہ ارطغرل غیر مسلم تھا اور اس کے بعد اس کے بیٹے عثمان نے اسلام قبول کیا، تو اس قبول اسلام کے واقعہ کا، کن کے ہاتھوں اسلام قبول کیا، ان کی قوم نے کیسے اسلام قبول کیا، کوئی تذکر ہ ہی نہیں ملتا، حالانکہ اگر ایسا ہوتا تو یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایک عظیم ترین واقعہ ہوتا اور اسے عثمان کی اولاد بھی اپنے لئے باعث افتخار سمجھتی کہ عثمان خان وہ شخص تھا جو انھیں بت پرستی سے ہٹا کر اسلام کی راہ پر لے کر آیا۔

ماخذ:
تواریخ آل عثمان از لطفی پاشا
تاریخ ملوک عثمان از حاجی خلیفہ
سلطنت عثمانیہ کی عسکری، سیاسی و تہذیبی تاریخ از یلماز اوزتونا
The Origins Of The Ottman Empire
دولت عثمانیہ از ڈاکٹر محمد عزیر

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20