تبدیلی کی “حقیقت” اور سیاستدان —- غزالہ خالد

0

بحیثیت ایک مڈل ایج پاکستانی میں نے پاکستانی سیاست کے بہت اتار چڑھاؤ دیکھے لیکن ووٹ کبھی نہیں دیا تھا کراچی میں رہنے کے سبب کچھ سال پہلے کے “بھائی والے کراچی” میں ہمارا ووٹ خود ہی ڈل جاتا تھا۔ ہمیں جانے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی نہ ہی دل چاہتا تھا کہ کسی کو ووٹ دیں۔ ہمارا الیکشن سے تعلق بس اتنا تھا کہ جماعت اسلامی کے لوگ جیتیں تو خو شی ہوتی تھی اور دس پندرہ سال پہلے نواز شریف کے آنے پر بھی کچھ سکون کا سانس لے لیتے تھے البتہ عمران خان کے سیاست میں آنے کے بعد ہم بھی گھر سے نکلے اور نیۓ پاکستان کی امید میں خوشی خوشی ووٹ ڈال کر آۓ اور اب بھی “امید بہار” لیے شجر سے پیوستہ رہ کر بیٹھے دعا کر رہے ہیں کہ اللہ ہماری امیدیں پوری کرے آمین۔

میری اس تمہید کا مقصد یہ تھا کہ میں نے جب باریک بینی سے مشاہدہ کیا تو مجھ پر ادراک ہوا کہ “تبدیلی” کے خواہش مندوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ دراصل یہ سارا کھیل ہی “تبدیلی” کا ہے یعنی ان سب سیاستدانوں میں جو تبدیلی آئی تھی وہ اگر نہ آئی ہوتی تو شاید آج ہمارے ملک کے حالات مختلف ہوتے۔ دوسرے لفظوں میں “جس کا کام اسی کو ساجھے” والی مثال بھی دی جاسکتی ہے۔

بھٹو صاحب کی کچھ پالیسیاں ہمیں پسند نہ ہوں تب بھی وہ یقیناَ اچھے سیاست دان ہونگے جب ہی اب تک زندہ ہیں اور آج تک پی پی پی کے بچوں کو ان کے نام کی ضرورت ہے کیونکہ بھٹو کے بغیر وہ کچھ بھی نہیں ہیں۔

جہاں تک اس تبدیلی کی بات ہے جو نہ آئی ہوتی تو اس میں بہت سے لوگوں کے نام شامل ہیں۔ ایک عام تاثر جو ہمارے ملک میں پایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ لوگ جو کام کر رہے ہوتے ہیں وہ اس کے لئے مس فٹ ہوتے ہیں یعنی انہیں کرنا کچھ اور چاہیے لیکن وہ کر کچھ اور رہے ہوتے ہیں، چاہے وہ تعلیمی میدان ہو یا ملازمتیں جیسا کہ بچوں کا رجحان نہیں ہے لیکن اماں ابا کو شوق ہے اس لیے وہ ڈاکٹر یا انجینئر بن جاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح ہمارے ملک میں کچھ ایسے لوگ سیاستدان بن گئے جو اگر کسی اور میدان میں ہوتے تو بہترین کارکردگی دکھا کر ملک کی تعمیر وترقی میں مثبت کردار ادا کرسکتے تھے۔

سب سے پہلے ہم اپنے وزیر اعظم عمران خان صاحب کی بات ہی کر لیتے ہیں ایک زبردست کرکٹر، بہترین کپتان جنہیں دنیا بھر میں ایسی شہرت اور عزت نصیب ہوئی جو کسی کسی کے حصے میں آتی ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد جب شوکت خانم ہسپتال بنایا اور اس کی فنڈ ریزنگ کے لئے نکلے تو لوگوں کا ان پر ایسا اعتبار تھا کہ ہماری آنکھوں نے ایسے مناظر بھی دیکھے کہ مرد اپنی جمع پونجی تک خوشی سے دینے پر راضی تھے۔ خواتین اپنا زیور اتار اتار کر انہیں دے رہی تھیں اور کم عمر بچے اپنی جمع شدہ پاکٹ منی لیکر قطار میں کھڑے نظر آتے تھے۔ لوگوں کی محبت کا یہ عالم تھا کہ اپنی جان نچھاور کرنے کو تیار تھے لیکن کپتان کے سر میں تبدیلی کا سودا ایسا سمایا کہ وہ سیاست میں آگئے۔ شاید انہیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ کتنا مشکل کام ہے آج جو حال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ مجھے کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ اگر عمران خان سوشل ویلفیئر کے کاموں میں ہی آگے بڑھتے تو اپنے ملک کے لوگوں کی بہت خدمت کرسکتے تھےاور مزید عزت و محبت سمیٹتے۔

دوسرے جناب نواز شریف صاحب جو بظاہر ایک شریف اور سیدھے آدمی تھے۔ انہوں نے کاروبار کیا محنت کی اور اپنے کاروبار کو فروغ دیا، اس زمانے میں بہت عزت کمائی ان کی معصوم سی شکل دیکھ کر اب بھی یہی لگتا ہے کہ یہ شخص کسی کو گالی بھی نہیں دے سکتا لیکن اچھا بھلا بزنس کرتے کرتے سیاست میں آگئے اور اس عاشقی میں عزتِ سادات بھی گئی۔ آج نجانے کون کون سی اصلی یا نقلی بیماریوں کا شکار ہو کر ملک سے دور بیٹھے کافی پی رہے ہیں۔  اس سے پہلے بھی دس برس کی جلا وطنی کاٹ چکے ہیں۔ اگر صرف بزنس کرتے رہتے تو اپنے ملک کی بہترین طریقے سے خدمت کرسکتے تھے اور ملک کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر سکتے تھے۔

بے نظیر، بھٹو کی بیٹی تھیں انہیں سیاست میں آنا ہی تھا۔ لوگ ان سے اسی لئے بے انتہا محبت کرتے تھے کہ وہ بھٹو کی بیٹی ہیں سیاست بھی جانتی تھیں لیکن افسوسناک موت کا شکار ہوئیں۔ اب انکا بیٹا بےچارہ بچہ “بلاول” زبردستی بھٹو کا نام ساتھ لگاۓ سیاسی میدان میں غوطے لگا رہا ہے۔ بلکہ لگتا کچھ یوں ہے کہ اس سے زبردستی غوطے لگواۓ جا رہے ہیں۔ سچ پوچھیں تو کبھی کبھی مجھے اس پر بڑا ترس آتا ہے کہ یہ بچہ بچارا کہاں پھنس گیا ہے۔ وہ سیاسی میدان کا کھلاڑی ہی نہیں ہے وہ تو ایک پیارا معصوم سا بچہ ہے جسے ابھی تک ٹھیک سے بولنا بھی نہیں آتا۔ ذرا ذرا سی بات پر جب وہ خوش ہوتا ہے اور اس کی آنکھیں چمکتی ہیں تو مجھے اس کی ماں یاد آجاتی ہے جو اپنے بیٹے کو اس گندی سیاست سے دور رکھ کر پالنا چاہتی تھی۔ بلاول پڑھتا، کھیلتا، دنیا گھومتا اور کسی آرٹ یا کھیل سے وابستہ ہوجاتا کتنا اچھا رہتا۔ اللہ اس بچے کی حفاظت فرمائے اور اسے اس کے قریبی دشمنوں سے محفوظ رکھے جو اسے بے نظیر کے نام کا مہرہ بنا کر خود فائدے اٹھا رہے ہیں۔

ایک زمانے تک ہزاروں میل دور بیٹھ کر کراچی پر حکمرانی کرنے والے “الطاف بھائی” بھی جنہوں نے شاید نیک نیتی سے مہاجروں کے لیے کچھ اچھا کرنے کی کوشش شروع کی لیکن پھر نہ جانے کس کے جال میں پھنسے کہ اس دلدل میں دھنستے ہی چلے گئے۔ لیڈر بننا آسان لیکن لیڈر بن کر وعدے نبھانا اور پارٹی کو سنبھالنا بہت مشکل کام ہے۔ مہاجروں کو حقوق تو کیا ملتے مزید رسوائیاں ہی ملیں۔ اب وہ بھی “دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو” کی تفسیر بن چکے ہیں۔ کاش وہ ان دیکھے جال میں نہ پھنستے تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔ کاش وہ ٹیچر بن جاتے تو ہزاروں نوجوانوں کو اپنے اشاروں پر چلا کر عزت کما سکتے تھے، ان کے شاگرد ان کے ایک اشارے پر سر جھکایا کرتے لیکن افسوس ایسا نہ ہوسکا۔

آصف علی زرداری تقریباً صاحب فراموش ہیں لیکن کب ان کی واپسی ہوجاۓ کچھ پتہ نہیں۔ ان کے لئے تو میرے ذہن میں ہمیشہ یہی آیا کہ اگر وہ اداکاری کی دنیا میں آجاتے تو بہترین کارکردگی دکھاتے۔ آسکر ایوارڈ تو ضرور انہی کو ملتا بلکہ شاید دو تین بار مل جاتا۔ کچھ دہائیوں پہلے زبان کاٹنے والی ایکٹنگ اور کمر درد کی ایکٹنگ لاجواب کر چکے ہیں۔ ایکٹنگ ایسی لاجواب کہ اب تو پتہ ہی نہیں چلتا کہ اصل ہے یا نقل۔ اسکے ساتھ ساتھ پیسہ کمانے کے ڈھنگ بھی خوب جانتے ہیں کسی یونیورسٹی میں دو اور دو بائیس اور ایک اور ایک دو ہزار بھی کچھ پرسنٹیج لیکر اچھا سکھا سکتے تھے لیکن حالات نے انہیں بھی سیاست کے میدان کا کھلاڑی بنادیا۔

اسی طرح نیک اور شریف لوگوں کی واحد پارٹی “جماعت اسلامی” بھی اسلام تک رہتی تو ہمارے ملک کے مسلمانوں کے لئے زیادہ فائیدہ مند رہتا۔ میرے ذاتی خیال میں سیاست کے بغیر وہ ملک اور اسلام کی بہتر خدمت کر سکتے تھے۔

تبدیلیوں کی مثالیں تو بہت ہیں لیکن میرا خیال ہے اتنا ہی کافی ہے کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرے کچھ قارئین ناراض ہوکر تا بڑ توڑ حملے نہ شروع کردیں اسلیے اگر کچھ برا لگا ہو تو معاف کردیجیے گا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20