قاضی فائز عیسی کیس ۔۔ حکومت کو کیا ملا؟ —- آصف محمود

0

قاضی فائز عیسی صاحب کے خلاف ریفرنس کے اخراج سے حکومت نے اپنی خود شکستگی کا ایک اور مرحلہ شوق طے کر لیا ہے۔اب تاویلات کے سہارے ہیں اور عذر گناہ کے دیوان، حقیقت مگر یہی ہے کہ حکومت اپنا مقدمہ صرف قانون کی عدالت ہی میں نہیں ہاری، وہ اسے اخلاقی طور پر بھی ہار چکی ہے۔مقدمہ جب عدالت میں پہنچ جائے تو اس کا بنیادی حوالہ قانون ہی ہوتا ہے لیکن اس کے سماجی اور سیاسی اثرات بھی ہوتے ہیں۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے حکومت نے قانونی ہی نہیں، سیاسی اور اخلاقی محاذ پر بھی یہ مقدمہ ہار دیا ہے۔

سب سے بڑاسوال حکومت کے اخلاقی وجود پر اٹھا ہے اور طرز حکومت اور گڈ گورننس کا سارا طلسم بھی اس فیصلے میں بہہ گیا ہے۔ جب بار بار یہ سوال اٹھتا رہا کہ صدر محترم نے اپنا ”مائنڈ ایپلائی کیا“ یا نہیں کیا تو ان الفاظ میں جہان معنی پوشیدہ ہے۔ یہ بتا رہا ہے کہ حکومت کا طریق کار کیا ہے۔ اس کے ہاں فیصلہ سازی اور اس سے جڑے معاملات میں کتنی مہارت، کتنی معاملہ فہمی اور کتنی دانش پائی جاتی ہے۔یہ معمولی بات نہیں۔یہ سنجیدہ معاملہ ہے اور اس کے اپنے منطقی نتائج ہوں گے جو بہت جلد سامنے آئیں گے۔

احتساب کی ساری مشق بھی کٹہرے میں کھڑی ہے اور اس پر بہت سے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ تفصیلی فیصلہ آئے گا تو معاملات زیادہ واضح ہوں گے لیکن فی الوقت اثاثہ ریکوری یونٹ کا طریقہ کار ہی نہیں اس کی قانونی حیثیت بھی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔

احتساب کے عمل کی شفافیت بھی سوالات کی زد میں ہے۔ احتساب اور انتقام میں ایک معمولی سی لائن ہوتی ہے۔ شدت جذبات میں جس طرح کے بیانات ہمارے وزراء نے اور خود وزیر اعظم نے دیے ان سے یہ سوال اٹھتا رہا کہ کیا اس لائن کی حرمت برقرار ہے یا افتاد طبع میں اسے پامال کر دیا گیا ہے۔ اب اگر سپریم کورٹ کے ایک معزز جج کے ساتھ اس طرح کا معاملہ روا رکھا جا سکتا ہے تو حزب اختلاف کیا یہ سوال نہیں اٹھائے گی کہ اسے احتساب کے نام پر کہیں انتقام کا نشانہ تو نہیں بنایا جا رہا۔اگر سپریم کورٹ کے ایک جج کے اہل خانہ کا اس حکومت پر اعتماد کا یہ عالم ہے کہ انہیں اکاؤنٹ نمبر بتا دیا تو وہ کہیں اس میں پیسے ڈال کر مقدمہ نہ بنا دیں تو اپوزیشن کا اس احتساب کی شفافیت پر یقین کا عالم کیا ہو گا؟ حزب اختلاف کو تو چھوڑ دیجیے، ایک عام آدمی کے اعتماد کے بارے میں اسی سوال کا جواب تلاش کر لیجیے۔ایک عام آدمی بھی تو سوچ سکتا ہے کہ جس طرح قاضی فائز عیسی صاحب کا مقدمہ چلایا گیا کیا باقی مقدمات بھی اسی طرح چلائے جا رہے ہیں؟کہیں احتساب کے عمل کا سارا Locus Standi تو آپ نے مجروح نے کر دیا؟

حکومت جانے کیوں اس قدر پر اعتماد ہے کہ اپنی ہی صفوں کو روند ڈالنے میں بھی اسے کوئی تامل نہیں۔ انور منصور خان اٹارنی جنرل تھے، انہوں نے یہ مقدمہ لڑنے سے انکار کر دیا تو حکومت کو سمجھ جانا چاہیے تھا کہ یہ پالیسیوں پر نظر ثانی کی گھڑی ہے۔ وہ نیا اٹارنی جنرل لائی اور اس نے بھی اس مقدمے میں پیش ہونے سے انکار کر دیا۔ پھر وزیر قانون کو خود ہی استعفی دے کر اس مقدمے میں وکالت کرنا پڑی۔فہم و تدبر کی جگہ بھی حکومت کے ہاں ان دیکھا اعتماد نہ ہوتا تو حکومت ان اشاروں کو سمجھتی۔ اس کے ہاں مگر اعتماد ہی اتنا تھا کہ لوہے کو بھی ہاتھ لگائیں گے تو موم ہو جائے گا۔ یہ اعتماد اب کرچی کر چی شاہراہ دستور پر بکھرا پڑا ہے۔

تحریک انصاف کا سب سے بڑا اثاثہ اس کا اخلاقی وجود تھا۔ اگر اس نے ایک معزز جج کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر ہی لیا تھا تو س کا وکیل ایسا تو ہوتا جس کے اخلاقی وجود پر سوال نہ اٹھ سکتے۔فروغ نسیم صاحب بڑے قابل وکیل ہوں گے لیکن ان کے بارے میں خود قانونی حلقوں میں بڑے تحفظات ہیں۔جو آدمی الطاف حسین کو نیلسن منڈیلا کے بعد دنیا کا سب سے بڑا رہنما قرار دے چکا ہو، وہ آدمی قاضی فائز عیسی کو اسلامی تاریخ کے حوالے دے کر کٹہرے میں کھڑا کیے ہو،یہ ایسا منظر نہیں تھا جس کی تحسین کی جا سکتی۔اس منظر نامے کے ساتھ سوال ایسے ہی چپکے ہیں ویرانے کے ساتھ جیسے کوئی آسیب لپٹ جائے۔

ریفرنس میں پائے جانے نقائص بھی خاصے اہم اور توجہ طلب ہیں۔ یہ نقائص بتا رہے ہیں کہ حکومت کو اس سارے معاملے میں اچھی قانونی مشاورت حاصل نہیں رہی۔جب محنت اور جد و جہد کے ایام میں آپ کا پرچم حامد خان اور جسٹس وجیہہ الدین جیسوں کے ہاتھ میں ہو اور اقتدار کے ایام میں پرچم بردار کوئی اور بنا لیا جائے تو پھر ایسا ہی بحران دستک دیتا ہے۔یہ بحران افسوسناک تو ہے لیکن حیرت انگیز نہیں۔ اب اداس پھرتے ہو ”گرمیوں“ کی شاموں میں، اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔ریفرنس کے اس فیصلے کے ساتھ ہمراہ گویا ایک سوال بھی ہے: الیس منکم رجل رشید؟کیا تمہاری صف میں کوئی رجل رشید بھی ہے؟

قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس کے خارج ہونے پر دوست احباب سوال پوچھ رہے ہیں کہ اس کے قانونی نتائج کیا ہوں گے؟ کیا قاضی صاحب یہ مقدمہ جیت چکے ہیں یا ابھی مقدمہ باقی ہے اور ایف بی آر کے ذریعے بات ایک بار پھر سپریم جوڈیشل کونسل تک پہنچے گی۔قانونی نتائج واضح ہیں۔ ریفرنس خارج ہو چکا۔ قاضی صاحب کو جاری ہونے والا نوٹس واپس لے لیا گیا ہے اور ان کی درخواست منظور کر لی گئی ہے۔فتح اور کیا ہوتی ہے؟

ہاں معاملہ ایف بی آر کو ضرور بھیجا گیا ہے اور یہ منطقی بات ہے کیونکہ سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں تھی کہ اس باب میں کوئی فیصلہ دیتی۔ اس نے کمزور اور ناقص ریفرنس خارج کر دیا اور معاملے کو اپنے متعلقہ فورم پر بھیج دیا۔ صدر مملکت کو بھی معاملہ یہیں بھیجنا چاہیے تھا۔ سپریم کورٹ یہ نہیں کہہ سکتی تھی کہ خبردار ہمارے جج کے خلاف قانون کے مطابق کوئی کارروائی نہ کرے۔اس نے ایسا کہا بھی نہیں۔ قاضی صاحب کی اہلیہ سے اب ایف بی آر معمول کے مطابق سوال جواب کر سکے گی اور اس میں بھی کسی”ہنر کاری“ کی گنجائش نہیں ہو گی کیونکہ معاملہ سپریم کورٹ کے علم میں بھی لانا ہو گا۔ کیس میں کوئی جان ہو گی تو مزید کارروائی ہو گی اور ہونی چاہیے۔لیکن ذرا ایف بی آر کو ثابت تو کرنے دیجیے۔ یہی کام حکومت پہلے کر لیتی تو یہ سبکی ہی نہ ہوتی۔معاملہ کسی شخص سے نفرت یا عقیدت کا نہیں قانون کا ہے۔ معاملہ نفرت اور محبت کا ہونا بھی نہیں چاہیے، قانون ہی کو فوقیت ہونی چاہیے۔

کیس کا معاملہ اب واضح ہے کہ اس میں کچھ نہیں ہے۔زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ چند روز خفت مٹانے کے لیے سوشل میڈیا پر اپنے وابستگان سے کہا جائے ہم اس کیس کو اب ایف بی آر کے ذریعے منطقی انجام تک پہنچائیں گے اور وہاں سب کچھ ثابت کر کے پھر ریفرنس لے آئیں گے۔ یہ تب تک کہا جاتا رہے جب تک کوئی نیا بحران حکومت کے دامن سے نہ لپٹ جائے اور لوگوں کی توجہ کسی نئے طوفان کی جانب نہ مبذول ہو جائے۔لبتہ میری رائے یہ ہے کہ اصل سوال اب قانونی نہیں۔ اصل سوال اب اخلاقی اور سیاسی ہے۔حکومت کے پاس اگر وقت ہو تو اسے بیٹھ کر سوچنا چاہیے اس کوہ کنی سے اسے کیا ملا؟ اور ایسے فرہادوں کے ساتھ اس نے کوہ کنی کے مزید کتنے معرکے سر کرنے ہیں؟یا محبت کہہ کر آپ کتنے بار گراں گھر لے جائیں گے؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20