مستقبل کی یادیں (Deja Vu) —– صبیح الحسن

0

انسان اللہ تعالیٰ کی صناعی اور کاریگری کا شاہکار ہے۔ اللہ کریم بلاشبہ خالق ارض وسما ہے اور اس میں موجود ہر شے اسی کی ایک ”کن” کی مرہونِ منت ہے۔ لیکن وہ کون سی باتیں ہیں جو انسان کو اشرف المخلوقات بناتی ہیں؟ یہ جاننے کے لیے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اللہ کریم نے دنیا کے ہر جاندار کو کوئی نہ کوئی انفرادیت بخشی ہے۔ کسی کے حصے بے پناہ طاقت آئی تو کوئی بے مثال رفتار کا حقدار ٹھہرا۔ اور جب بات آئی اشرف المخلوقات یعنی حضرتِ انسان کی تو ہر شے میں کمال کا توازن رکھتے ہوئے اللہ کریم نے انسان کے ذہن کو اوجِ کمال عطا کیا۔ انسانی ذہن ایک ایسی گتھی ہے جس سلجھانے کی کوشش عشروں سے جاری ہے۔ لیکن ہر کھلنے والی گرہ آپ کے سامنے لاکھوں نئی گرہیں پیش کر دیتی ہے۔ آج کئی برس کی تحقیق کے بعد بھی لاتعداد عوامل ہیں جن کی کوئی بھی توجیہہ پیش کرنے سے انسانی عقل قاصر ہے۔ انہی عوامل میں سے ایک ”ڈی جا وو” ہے۔

ڈی جا وو، جسے ستم ظریف لوگو ں نے مستقبل کی یادوں کا بھی نام دیا، معاشرے میں جتنا عام ہے اتنا ہی ہم اس کے بارے میں کم جانتے ہیں۔ ڈی جا وو فرانسیسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ”دیکھا ہوا”۔ یہ اصطلاح اس عمل کے لئے سب سے پہلے ایک فرانسسی پیراسائیکولوجسٹ ایمل بائیریک نے اپنی کتاب “The Future of Psychic Sciences” میں استعمال کی جس کے بعد سے یہی نام زبان زد عام ہو گیا۔ ڈی جا وو اتنا عام ہے کہ ایک تحقیق کے مطابق تمام آبادی کا کم از کم ایک تہائی حصہ زندگی میں کبھی نہ کبھی اس کا سامنا ضرور کرتا ہے۔

لیکن ڈی جا وو ہے کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ اگر ڈی جا وو کی تعریف چند الفاظ میں کی جائے تو اس کا مطلب ہے ”لا شعوری شناسائی (famalirity without awareness)”۔ لیکن مکمل طور پر اسے سمجھنے کے لئے چند مثالوں پر غور کیجیے۔ فرض کریں آپ شام کو کسی دوست کے ساتھ لان میں بیٹھے چائے پی رہے ہیں۔ آپ کا دوست ہنستے ہوئے کچھ کہتا ہے اور اسی لمحے آپ کا دماغ سگنل دیتا ہے کہ یہی الفاظ، یہی لہجہ، یہی ماحول یہی بات آپ پہلے اسی دوست سے سن چکے ہیں۔ حالانکہ یہ ممکن نہیں کیونکہ وہ پہلی بار آپ کے گھر آیا ہے۔ آپ حیران ہوتے ہوئے دماغ کے سبھی گوشے کھنگال ڈالتے ہیں لیکن آپ کو یاد نہیں آتا کہ ایسا پہلے کب ہوا تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ کا دماغ مسلسل یقین دلا رہا ہے کہ یہ سب پہلے بھی کبھی ہو چکا ہے۔ لیکن کب کہاں کیسے ان سب سوالوں کے جواب دینے سے قاصر ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے آپ پہلی بار کسی دوسرے شہر جائیں اور کوئی منظر یا کوئی عمارت دیکھ کر آپ کو بہت ہی شدت سے احساس ہو کہ یہ تو آپ پہلے بھی دیکھ چکے ہیں لیکن کہاں، یہ یاد نہ آئے تو جان لیجیے آپ ڈی جاوو کا شکار بن چکے ہیں۔

سائنس ڈیلی میگزین کے 19نومبر 2008 کے شمارے میں شائع شدہ ایک مضمون “The psychology of Deja Vu” میں ڈی جاوو پر ہونے والی ریسرچ کی تفصیل بیان کی گئی اور اس سلسلے میں ہونے والے کچھ تجربات بتائے گئے۔ جن میں سے ایک تجربہ کچھ یوں تھا کہ ایک سو سے زائد والنٹئرز اکٹھے کئے گئے اور انہیں چند مشہور شخصیات کے ناموں کی ایک فہرست دی گئی۔ اور بعد میں تصاویر کی ایک البم دی گئی جس میں بہت سی تصاویر کے علاوہ ان لوگوں کی تصاویر بھی شامل تھیں جن کے ناموں کی فہرست پہلے ہی دی جا چکی تھی۔ نتائج میں حیران کن بات یہ تھی کہ اگرچہ والنٹئرز فہرست میں شامل بہت سے افراد کو تصاویر سے نہیں پہچان پائے لیکن فہرست میں شامل اکثر شخصیات کی تصاویر دیکھ سب کو ایک عجیب سی شناسائی کا احساس ضرور ہوا جسے وہ کوئی نام نہیں دے پائے۔ ایک اور تجربے میں جب شخصیات کی تصاویر کی جگہ مشہور مقامات کی تصاویر استعمال کی گئیں تب بھی یہ نتائج یونہی برقرار رہے۔

لیکن گبھرائیے مت۔ ڈی جاوو کوئی بیماری نہیں بس ہمارے کرشماتی دماغ کا ایک شعبدہ ہے اور اس کا جسم پر یا دماغ پر کوئی بھی مضر اثر نہیں ہوتا۔ ڈی جا وو کسی اجنبی مقام، کسی بات، کسی واقعہ سے آپ کی ایسی شناسائی ہے جسے آپ خود کوئی معنی نہ پہنا سکیں۔

لیکن یہ ہوتا کیوں ہے۔۔۔؟ اس کی وجہ کیا ہے۔۔۔۔؟ ڈی جا وو پر تحقیق برسوں سے جاری ہے لیکن یہ عمل اتنا پیچیدہ اور گنجلک ہے کہ آج بھی ہمارے پاس اس کی وضاحت کے لیے چند غیر مصدقہ تھیوریز کے سوا کچھ نہیں۔ اور یہ تھیوریز کیا کہتی ہیں آئیے دیکھتے ہیں۔

ایک نظریہ یاداشت سے متعلق ہے جو کہتا ہے کہ انسان جب بھی کچھ سنتا ہے یا دیکھتا ہے یا کسی بھی اور حس سے محسوس کرتا ہے تو اس کے سگنلز دماغ کے دو حصوں کو جاتے ہیں۔ ایک ہوتا ہے پہچان کا سنٹر۔ جہاں آنے والی اطلاعات کو پرکھ کر بتایا جاتا ہے کہ یہ سگنلز کیا کہتے ہیں۔ دوسرا حصہ ہوتا ہے یاداشت کا سینٹر، جو انسان کی یاداشت ترتیب دیتا ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آنے والے سگنلز پہچان کے سنٹر کی بجائے یاداشت کے سینٹر میں پہلے پہنچ جاتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے جب پہچان کا سنٹر ان سگنلز کو پرکھ کر یاداشت کو کھنگالتا ہے تو یہ وہاں پہلے ہی موجود ہوتے ہیں۔ اور دماغ یہ سمجھتا ہے کہ یہ سب ہو بہو ایسے ہی، انہی حالات میں پہلے رونما ہو چکا ہے۔ حالانکہ ایسا حقیقت میں نہیں ہوتا۔

دوسرا مشہور نظریہ نظر کے متعلق ہے۔ جو یہ کہتا ہے کہ انسان جب کوئی چیز دو آنکھوں سے دیکھتا ہے تو دونوں آنکھوں کے سگنلز کی دماغ تک پہنچنے کی رفتار میں فرق آ جاتا ہے۔ اگرچہ یہ فرق ایک سیکنڈ کے انتہائی چھوٹے حصے جتنا ہوتا ہے لیکن یہ ڈی جاوو کی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔ اس صورت میں ایک آنکھ سے آنے والے سگنلز پہلے ہی یاداشت میں رقم ہو چکے ہوتے ہیں تو جب کم رفتار والی آنکھ کے سگنلز پہنچتے ہیں تو دماغ یہی سمجھتا ہے کہ یہ سب دوسری بار وقوع پذیر ہو رہا ہے۔

یہ نظریہ زیادہ مقبولیت حاصل نہیں کر پایا کیونکہ یہ ڈی جاوو کو صرف ایک حس تک محدود کر دیتا ہے۔ جبکہ ڈی جاوو میں نظر، سماعت اور قوت شامہ سمیت تما م حسیں شامل ہوتی ہیں۔

ایسا ہی ایک مشہور نظریہ ڈی جاوو کو خوابوں سے جوڑتا ہے۔ لیکن خوابوں کے متعلق جاننے سے قبل ہمیں نیند کا تھوڑا سا تعارف جاننے کی ضرورت ہے ۔ انسانی نیند دو حصوں پر مشتمل ہوتی ہے۔
Rapid Eye Movement Sleep/ REM Sleep
اور
Non Rapid Eye Movement Sleep/NREM Sleep

نیند کی یہ دونوں اشکال ہمار ی رات کی نیند کو تشکیل دیتی ہیں۔ ریم سلیپ کا دورانیہ تقریباً نوے منٹ کا ہوتا ہے اور اس کے بعد تیس منٹ نان ریم سلیپ کے ہوتے ہیں جس کے بعد پھر سے ریم سلیپ شروع ہو جاتی ہے۔ یہی چکر تمام رات جاری رہتا ہے۔ ڈی جاوو کا اس سے تعلق کچھ اس طرح بنتا ہے کہ انسان کو عام طور پر وہی خواب یاد رہتے ہیں جو نان ریم سلیپ کے تیس منٹ کے دوران دیکھے جائیں۔ ریم سلیپ میں بھی خواب ہوتے ہیں لیکن ریم سلیپ کے دوران شارٹ ٹرم میموری کو لانگ ٹرم میموری میں تبدیل کرنے والا نظام کام نہیں کر رہا ہوتا۔ اس لیے عموماً ریم سلیپ کے دورانیے میں دیکھے جانے والے خواب شعوری یاداشت کا حصہ نہیں بنتے لیکن لاشعور میں ان کا احساس موجود رہتا ہے۔ اس لیے جیسے ہی ہمارے سامنے کسی خواب سے ملتا جلتا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو خواب تو ہمیں یاد نہیں آتا لیکن اس منظر کو پہلے دیکھا ہوا ہونے کا احساس موجود رہتا ہے۔

ان نظریات سے بڑھ کر سائنس کا علم بھی ڈی جاوو کے بارے میں ہمیں کچھ بتانے سے قاصر ہے۔ اگرچہ اللہ کریم نے زمین و آسمان کی ہر شے انسان کے لیے تسخیر کر دی لیکن تسخیر کے اس سفر میں ڈی جا وو جیسی لا تعداد رکاوٹیں ابھی موجود ہیں۔ اور انسانی عقل اپنی تمام تر ترقی کے باوجود ڈی جا وو جیسی لاتعدادگتھیوں کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔ مستقبل میں شاید ایک وقت ایسا آئے کہ ہم اسے مکمل طور پر سمجھ پائیں لیکن موجودہ حالات میں ڈی جا وو ایک راز ہے اور کب تک ایک راز ہی رہے گا۔ ۔ ۔ اس کے بارے میں کچھ بھی کہنا ناممکن ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20