ہرمینوٹکس – نصوص: پس منظر، تعبیرات میں مقامی، سماجی و کاسمولوجیکل اثرات — طیب عثمانی

0

ہرمینوٹکس، نصوص کے پس منظر اور تعبیرات و توضیحات میں مقامی سماجی و کاسمولوجیکل اثرات: علمی تراث کا تسلسل یا انحراف


اس تحریر کے دو اہم مقدمات ہیں:

مقدمہ اول
ہرمیونیٹیکل فریم کی تین بنیادیں ہیں۔
1- وہ سیاق وپس منظر جس میں آیت نازل ہوئی۔
2- لغت وقواعد یعنی جو کہا جارہا ہے وہ کیسے کہا جارہا ہے۔ 3- متن قرآن کا ورلڈ ویو یعنی تصور جہاں۔

مقدمہ دوم :
ڈاکٹر فضل الرحمان سمیت دیگر متجدیدین کا نظریہ کس حد تک درست ہے کہ قرآنی آیات تاریخ کے خاص دور کے اعتبار سے نازل ہوئی ہیں، اسی لیے اس دور کے اعتبار سے کچھ تعبیرات اختیار کر لی گئیں، لیکن ان آیات میں چھپا پیغام اور روح ان تعبیرات کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ دوسرے ماحول کا رہنے والا آیت کے اصل مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے ماحول اور حالات کے اعتبار سے آیت کی تشریح کر سکتا ہے”۔

ان دو مقدمات کی روشنی میں چند گذارشات ہیں….

پہلو نمبر1:
نصوص اسلامیہ سے مراد قرآن و حدیث کے متون ہیں اور احادیث میں نصوص قطعیہ و ظنیہ کا فرق بھی سامنے رہے. کیا نصوص کا پس منظر جاننے کے لیے علمی دنیا میں پہلی کوشش ہے تو میرا جواب یہ ہے کہ نہیں بلکہ ایسی کاوشیں علم اسباب النزول قرآن مجید کے پس منظر کے مطالعاتی تنوع کے لیے اور علم ورود الحديث حدیثی مطالعات کی صورت میں ہوتی رہی ہیں.

پہلو نمبر 2:
نصوص کی داخلی تقسیم کے مطابق ہمارے سامنے درج ذیل اہم موضوعات سامنے آتے ہیں:
1. عقائد اور عقائد کے طبیعاتی و مابعد الطبیعاتی قرآنی پہلو اور ان کے اہم تفسیری رجحانات.. ارسطاطالیسی، نیکسن، کیپلر، گلیلین، نیوٹونین اور اسٹیفن ا ثرات یہ ہمیشہ متنوع رہیں گے…. آیات: یتفکرون فی خلق السماوات اور سنریہم آیاتنا فی الآفاق وفی انفسھم وغیرہ

2. عباداتی نصوص ….
نماز : اس کے اصول پہلے نہیں بدلے لیکن آفاقی تناظر میں قطبیین و غیرہ کے چند اصولی و فروعی مسائل
زکوۃ: جدید نظام مالیات کی روشنی میں انفلیشن، نصابِ زکوۃ بالخصوص چاندی، زکوۃ ٹیکسیشن کی اصولی ابحاث
روزہ و حج کے چند فروعی مسائل

3. معاملاتی نصوص….
معاملات کے ڈھانچے سیاسیات سے سماجی رہن سہن… آفاقی دین کے نصوص کے مطالعات میں ہمیشہ دو طرح کے رجحانات سامنے رہے……
1. نصوص کی توضيحات کے شخصی احقاق و ابطال پر مبنی تشریحات در تشریحات کی تقلید اور جدلیاتی ادب کی تشکیل پر مبنی ذہن

2. سماجی و کاسمولوجیکل تبدیلی میں سوچنے اور فریم ورک کے سابقہ تنوع کے تسلسل کے قائلین کہ جیسے تراثی ماحول میں فکری توضیحاتی میں مسلسل غورو فکر…
نیا سماج ضروریات کی روشنی میں
نئے سیاسی نظم کی تبدیلی
نئے کاسمولوجیکل فریم ورک

استفسار :
کیا نصوص کے حوالے سے جنہیں ہم متجدیدین کہتے ہیں ان کا تقاضا کیا ہے، اس کے کئی ممکنہ پہلو ہو سکتے ہیں؛
1. نصوص کی ہی تبدیلی
2. من جملہ نصوص کی تعبیراتی تبدیلی کے امکانات ِ نو
3. مخصوص نصوص کی تعبیراتی تبدیلی کے امکانات ِ نو

مذہبی طبقات کے توحشات :
دراصل دینی طبقات کے سامنے کاسمولوجیکل تبدیلی کا اتنا بڑا منظر نامہ زرعی زمانے میں کبھی مسلم متکلمین و فقہاء کے سامنے نہ تھا… اب اچانک فریم ورک یکسر مختلف ہوا تو اب کوئی ایسا پیرا میٹر مسلم فکر میں نہ تھا کہ اسے کا موازنہ قدیم فریم ورک کے تناظر میں کیا جا سکتا… اسی لیے اب بھی دو رجحان سامنے آئے:

1. جدید فریم ورک کو تسلیم کرکے از سرنو مطالعاتی رجحان اور متبادل مسلم تھیالوجی اور معاملات کی تیاری اور ممکنہ متبادل بیانیہ (Proposed Alternative Narrative )
2. کام کرنے والوں پر بغیر نقدِ اصلاح کے تنقیدات اور سابقہ فریم ورک (جو موجودہ دنیا میں شاذ و نادرہو چکا) پر متشددانہ اصرار اور مخالفین کی لیے ادب الاختلاف سے عاری میلان

نوٹ : علمی روایت کو دیکھا جائے تفسیری، حدیثی اور فقہی رجحانات میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی پہلے رجحان کی تائید کرتی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ تعبیرات میں تنوع یہ اہم علم کا شیوہ رہا ہے… اور جمود مسلم اہل فکر و علم کے ہاں قابلِ مذمت۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20