فاٹا میں انٹرنیٹ کی عدم موجودگی اور طلبہ — جاوید آفریدی

0

سابقہ فاٹا کا نقشہ

فاٹا موجودہ خیبر پختوں خواہ کا حصہ ہے جو 2017 میں ضم کیا گیا، اس سے پہلے یہ علاقہ ایک ریاستی کالونی کی شکل میں پاکستان کے وفاق سے کنٹرول ہوتا رہا، فاٹا کی سرحدیں افغانستان اور پاکستانی صوبہ خیبر پختونخواہ سے ملتی ہیں، لوگوں کا زیادہ رجحان افغانستان کی طرف ہے جہاں وہ ایک تہذیب و تمدن سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے کاروبار، تعلقات اور رشتے استوار کرتے ہیں، فاٹا آج بھی ایک غیر آباد علاقہ ہے جہاں زندگی کے بنیادی ضروریات ندارد ہیں، طرز زندگی بیسویں صدی کے لوگوں کی طرح بہت سادہ اور بغیر سہولیات اور رنگ ڈھنگ کے گزر رہی ہے۔

قبائلی علاقوں پر مبنی یہ خطہ مسلسل محرومیوں اور زیادتیوں کا شکار رہا ہے، یہاں کے نوجوانوں میں قدرتی طور پر ہمت و بہادری، مہارت اور قابلیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے مگر نوجوانوں کے اس فطری استعداد کو عرصہ دراز سے ارادتاً ناصرف ضائع کیا جارہا ہے بلکہ منفی افعال کا حصہ بننے کا موقع بھی دیا جارہا ہے جس میں انتہا پسندی اور دہشتگردی صف اول میں آتے ہیں۔

فاٹا کے ضلع کرم کا خوبصورت منظر

یہ علاقہ عرصہ دراز سے تمام مسائل کی آماجگاہ ہے جسے فاٹا کی بجائے مسائلستان کہا جائے تو ہرگز غلط نہ ہوگا مگر یہاں پر بنیادی نکتہ جس کو سب سے اہم اور وقت کی ضرورت سمجھنا ضروری ہے وہ بلاتعطل انٹرنیٹ کی فراہمی ہے، حالیہ وبائی صورتحال میں انٹرنیٹ کی بڑھتی ہوئی اہمیت سے تو یوں لگ رہا ہے جیسے “روٹی کپڑا مکان” کے بعد چوتھی بنیادی ضرورت انٹرنیٹ بن چکی ہے۔

ایک طرف اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں نوجوانوں کی کافی تعداد ہے جس سے بہتر مستقبل کی توقع کی جاتی ہے، اسی اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے فاٹا میں بھی نوجوانوں کی تعداد بہت بڑے لیول پر اطمینان بخش ہے اور سابقہ دہشت ناک صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ امر بہت ضروری ہو گیا ہے کہ فاٹا کے موجودہ اور مستقبل کے نوجوانوں کے ذہن کا زاویہ متعیر کیا جائے وگرنہ پرانے خیالات اور مذہبی انتہا پسندی میں مبتلا ذہنیت پر مبنی معاشرہ نوجوان نسل کو پھر سے اس آگ میں جھونکنے پر مجبور کر دے گا۔ اسلئے اگر باقی تمام عوامل کو نظر انداز بھی کئے جائیں تو کم از کم اس سنگین مسئلے کو ہی نظر میں رکھ کر فاٹا میں وہ تمام سہولیات و معاشرتی سیٹ اپ کو اپ گریڈ کرنے میں سنجیدگی دکھائی جانی چاہئے جس میں انٹرنیٹ کی مستقل فراہمی سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔

دائیں جانب طالب علم کلاس لینے کیلئے دیوار پر بیٹھا ہے جبکہ بائیں جانب طالبہ پہاڑی پر آن لائن کلاس میں شامل ہونے کی کوشش کر رہی ہے

حالیہ وبائی صورتحال کے پیش نظر پوری دنیا میں آن لائن تعلیم کا رجحان زور پکڑ رہا ہے خصوصاً ہائیر ایجوکیشن سکیٹر میں پچھلے کئی سال سے اس پر باقاعدہ عمل ہو رہا ہے جبکہ دوسری طرف فاٹا کے طلباء جو پہلے سے درجنوں مسائل میں گھرے ہوئے ہیں، آن لائن پڑھائی کی عدم موجودگی نے ان کے حوصلے مزید پست کرنا شروع کر دئیے۔ خیبر تحصیل باڑہ سے تعلق رکھنے والے شعبہ سیاسیات کا طالب علم شفیع اللہ کا کہنا ہے کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ آف لائن سگنل کیلئے بھی گھر کے چھت پر چڑھ کر بار بار کال کرنی پڑتی ہے تو یہ بات خوب واضح ہے کہ انٹرنیٹ کی فراہمی ندارد ہے۔

جرگہ پاکستان کے کنوینر عابد آفریدی کا فاٹا کے طلباء کی مدد کیلئے انوکھا انداز

اس اہم مسئلے کے حل کے لیے مقامی سیاسی و سماجی حلقے سنجیدہ دکھائی دے رہے ہیں اور وقفے وقفے سے اپنے پلیٹ فارمز اور میڈیائی بیانات میں اس کے حل پر زور دے رہے ہیں مگر تا حال کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ قبائلی اضلاع میں سرگرم تنظیم پشتون تحفظ مومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے اپنے ٹویٹر اور فیس بک پیغامات میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست ہمارے نوجوان نسل کو جبری طور پر جاہل اور غیر تعلیم یافتہ رکھنا چاہتی ہے۔

پاک فوج کی طرف سے طلباء کو آنلائن کلاسز کی سہولت دینے کی اخباری رپورٹ

فاٹا میں طلباء کا نمائندہ تنظیم ٹرائبل یوتھ آرگنائزیشن اس حوالے سے کافی عرصے سے سرگرم نظر آرہی ہے، کئی علاقوں میں نیٹ ورک کی بحالی کیلئے مظاہرے بھی کر چکی ہے، اس کیساتھ ساتھ قبائلی عوام میں سماجی بہبود اور سیاسی شعور بیدار کرنے والی نو وارد تنظیم جرگہ پاکستان مختلف طریقوں سے اس مسئلے کو اٹھاتی رہی ہے، حالیہ دنوں میں جرگہ پاکستان کے کنوینر عابد آفریدی نے فیس بک پر اعلان کیا کہ وہ قبائلی طلباء کیلئے خیبر پختون خواہ کے مختلف ملحقہ اضلاع میں پارکس کے اندر خیمے گاڑنے کا پروگرام بنا رہا ہے جس میں قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے طلباء کو رہائش، انٹرنیٹ اور ممکنہ کھانے کا بندوبست کیا جائے گا جس کے رد عمل میں فوجی ادارے نے یہ اعلان کیا کہ جرگہ پاکستان کو اس قدم اٹھانے کی جگہ فوج خود قبائلی طلباء کو انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے کا طریقہ کار بنائے گی، اس حوالے سے 500 کے قریب ہائیر ایجوکیشن سکیٹر کے طلباء نے تا حال ڈیٹا جمع کیا ہے جسے مرحلہ وار بنیادوں پر سہولت دی جا رہی ہے۔

انٹرنیٹ کی بندش کی وجوہات کے حوالے سے پاک فوج کا یہ موقف رہا ہے کہ یہاں امن برقرار رکھنے کیلئے نیٹ ورک کو کمزور اور انٹرنیٹ کو مکمل بند کرنا پڑا ہے، فاٹا کے کئی اضلاع میں مختلف نیٹ ورک کمپنیوں کے ٹاورز لگ چکے ہیں مگر اس کو فی الحال چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی البتہ فوجی چیک پوسٹوں اور فورسز کے پڑاؤ میں استثنائی طور پر انٹرنیٹ بحال ہے۔

قبائلی طلباء کا اسلام اباد پریس کلب کے سامنے نیٹ ورک بحالی کیلئے مظاہرہ، قومی اسمبلی کا ممبر محسن داوڑ بھی ہمراہ

سیاسی و سماجی شخصیات اور بالخصوص قبائلی طلباء کا موقف ہے کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں جہاں پوری دنیا ایک گلو بل ولیج بن چکی ہے وہاں فاٹا میں نیٹ ورک کی عدم موجودگی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، ان کا موقف ہے کہ طلباء کو تعلیم جاری رکھنے کیلئے نیٹ ورک کی بحالی واحد قابل عمل آپشن ہے، مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والے طلباء بالخصوص سوشل ایکٹویسٹس اور طلباء تنظیموں کے صدور نے اسلام اباد پریس کلب میں نیٹ ورک کی بحالی کیلئے احتجاجی مظاہرے کئے جس میں اظہار ہمدردی کیلئے شمالی وزیرستان سے ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ نے بھی شرکت کی، دوسری طرف فاٹا کے طلباء کی طرف سے پچھلے دو مہینوں سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیٹ ورک کی بحالی کیلئے کیس دائر کیا گیا ہے جو تا حال جاری ہے البتہ کوئی خاص پیش رفت ممکن نہ ہو سکی۔

حکومت اور ریاستی اداروں کو اس سنگین مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، نیٹ ورک کی عدم موجودگی ایک مستقل مسئلہ ہے، محض کچھ طلباء کو آنلائن کلاسز کی سہولت مہیا کرنے سے نا تو یہ محرومی ختم ہو سکتی ہے اور نا قبائلی عوام کی انٹرنیٹ سے جڑی بنیادی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔ فاٹا جو کئی دہائیوں سے معاشی و معاشرتی مسائل کا آماجگاہ بنا ہوا ہے، اس علاقے سے سینکڑوں دیگر مسائل حل طلب ہیں مگر اس وقت سب سے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ کرونا کے اس وبائی صورتحال میں انٹرنیٹ نا صرف عام عوام کی ضرورت بن چکی ہے بلکہ طلباء کیلئے تعلیم کے حصول کا واحد ذریعہ ہے۔ فاٹا جیسے علاقے میں طالبات کو آنلائن پڑھائی کیلئے گھر سے باہر نکلنا بالکل ناممکن ہے لہذا انٹرنیٹ کی بحالی کا مسئلہ اگر حل نہ ہوا تو عوام کے غم و غصے میں اضافے کیساتھ ساتھ بہت سارے طلباء و طالبات کا تعلیمی سفر ادھورا رہ جائے گا۔


جاوید حسین آفریدی: فری لانس جرنلسٹ ہیں۔ ماس کمیونیکیشن کی ڈگری جامعہ زکریا ملتان سے حاصل کی، ضلع خیبر سے تعلق اور رہائش پشاور میں ہے۔ قبائلی علاقوں میں سماجی اور صحافتی خدمات کے سلسلے میں آنا جانا رہتا ہے۔ ضلع خیبر میں 2015 سے تعلیمی اور سماجی خدمات انجام دینے کیلئے کوشاں ہیں اور وقتاً فوقتاً لوکل میڈیا آوٹ لیٹس کیلئے بطور فری لانس انٹرویو کرتے ہیں۔  daanish.pk کے لئے مستقل لکھتے ہیں، صحافت اور لکھناری پروفیشن کیساتھ ساتھ ایک مشغلہ ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20