عسکری اور سلیم احمد : یگانگت سے بیگانگی تک — فتح محمد ملک

0

یہ ہماری تہذیبی اور ادبی تاریخ کا ایک المناک سانحہ ہے کہ محمد حسن عسکری نے سلیم احمد کے ساتھ ایک طویل اور بھرپور یگانگت کے بعد بیگانگی کا چلن اپنا لیا تھا۔ وہ اپنی زندگی کے اس آخری دور میں سلیم احمد کو دیکھنے کے بھی روادار نہ تھے۔ اس کے برعکس سلیم احمد اپنی آخری سانس تک اُن پر اپنی عقیدت اور محبت کے پھول نچھاور کرنے میں مصروف رہے تھے۔ اپنی طویل نظم ’’مشرق‘‘ کے پیش لفظ میں وہ عسکری صاحب سے اپنے ذاتی تعلق کو اپنی زندگی کے مقدس ترین رشتوں میں سے ایک قرار دیتے ہیں۔ اسی نظم کے درج ذیل اشعار میں وہ اپنی شخصیت کی ادبی تشکیل و تعبیر میں عسکری صاحبان کے فیضانِ تربیت کا یوں اعتراف کرتے ہیں:

بڑے فیض پہنچے مجھے زندگی سے
یہیں میں ملا تھا حسن عسکری سے

یہ صاحب وہ ہیں جن کی ضرب کاری
قلم کے ہزاروں حریفوں پہ بھاری

غلامی میں ان کی کٹی عمر ساری
وہ میرے صنم ہیں میں ان کا پجاری

وہ گر مو قلم ہیں تو تصویر ہوں میں
انہیں کی لکھی ایک تحریر ہوں میں

شروعِ جوانی کا وہ اِک زمانہ
کہ جو بَن گیا ہے پُرانا فسانہ

دیا تھا سرِ راہ میں جل رہا تھا
کہ میرا شعور آنکھ ابھی مل رہا تھا

مجھے راہ سے عسکری نے اٹھایا
چراغِ تہِ دامنِ دل بنایا

میں پتھر تھا اور خاک میں رُل رہا تھا
پہ نادیدہ میزان میں تُل رہا تھا

مرے جوہری نے مجھے دیکھا بھالا
تراشا، سنوارا، نِکھارا، اُجالا۱

عسکری صاحب سے یہ والہانہ محبت اور پُرجوش عقیدت برحق مگر حقیقت یہ ہے کہ ۱۹۴۵ء میں عسکری صاحب سے متعارف ہونے سے پیشتر وہ علامہ مشرقی کی خاکسار تحریک کے نظریہ و عمل کو اپنا چکے تھے۔ اپنے لڑکپن میں خاکساروں کے مصنوعی جنگ کے ایک مظاہرے کی یاد تازہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ:

’’شام کا وقت تھا خاکسار اپنی وردیوں میں بیلچے لگائے چپ راست کرتے ہوئے جنگی مظاہرہ کر رہے تھے کہ تیز بارش شروع ہو گئی مگر تماشائیوں کے جوش و اشتیاق کا یہ عالم تھا کہ کوئی آدمی اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوا۔ مجھے یہ سارا منظر اب تک یاد ہے۔ میںاس میں ڈوب سا گیا۔ مظاہرہ کرنے والوں میں ایک بارہ برس کا بچہ بھی شامل تھا۔ سرخ و سفید سرحدی بچہ اپنی خوبصورت وردی میں ننھا سا بیلچہ لگائے مجھے اتنا اچھا لگا کہ میں دُعا مانگنے لگا کہ کاش اس کی طرح میں بھی خاکسار تحریک کے مجاہدوں میں شامل ہو جاؤں۔۔۔۔۔اس واقعے نے خاکساروں سے میری دلچسپی اور ہمدردی کو عشق تک پہنچا دیا۔ ‘‘۲

سلیم احمد جب لکھنو سے میرٹھ آئے تو پروفیسر کرار حسین کے زیرِ اثر خاکسار تحریک میں شامل ہو گئے۔ اسی زمانے میں محمد حسن عسکری بھی میرٹھ آ براجے۔ وہ ادبی محاذپر بڑے جوش و خروش کے ساتھ مسلم لیگ کی تحریکِ پاکستان کی حمایت میں سرگرم تھے۔ عسکری صاحب کے ادبی مرتبہ و مقام کے احترام کے باوجود وہ اُن کی بجائے پروفیسر کرار حسین کے سیاسی مسلک کو زیادہ پرکشش سمجھتے تھے۔ ایسے میں جب مولانا شبیر احمد عثمانی نے میرٹھ پہنچ کر مسلم لیگ کی الیکشن مہم کا آغاز کیا تو ہوا یوں کہ:

’’مولانا عثمانی نے جب اپنے پہلے جلسے کی تقریر کی تو پورا میرٹھ اُمنڈ پڑا اور ایک تقریر نے ہوا کا رُخ بدل دیا۔ اگلی صبح سارا شہر عثمانی کے گُن گا رہا تھا۔ یہ تقریر میری زندگی میں ایک بنیادی تبدیلی کا سبب ثابت ہوئی۔ مسلم لیگ اور پاکستان کے بارے میں عسکری صاحب نے میرے خیالات کو پہلے ہی متاثر کر دیا تھا۔ مولانا عثمانی کی تقریر نے مجھے بالکل بدل کر رکھ دیا۔ اگلی صبح میں کچھ طالب علموں کے ساتھ مولانا عثمانی سے ملنے گیا۔ مولانا عثمانی نے میری بات سُن کر صرف ایک بات کہی، ’’تم خلافتِ اسلامیہ چاہتے ہو۔ یہ بتاؤ کہ اس کا امکان وہاں زیادہ ہے جہاں ہندو اکثریت میں ہوں یا وہاں زیادہ ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہو؟‘‘ بس یہ بات سُن کر مجھے محسوس ہوا کہ میرے ذہن کی قلبِ ماہیت ہوگئی ہے۔ مجھے میرے سوال کا جواب مل گیا۔ میں ان کے پاس سے لوٹا تو پورا مسلم لیگی بن چکا تھا اور پاکستان میرے نصب العین کا حصہ ہو گیا تھا۔‘‘۳

نتیجہ یہ کہ سلیم احمد خاکسار تحریک کے مقاصد کے حصول کی خاطر مسلم لیگ کی تحریکِ پاکستان میں سرگرمِ عمل ہوگئے۔ اب عسکری صاحب اور سلیم احمد کا سیاسی مسلک بھی ایک ہوگیا۔ اس ادبی اور سیاسی یگانگت نے سلیم احمد اور محمد حسن عسکری کے مابین ایک ایسا تعلق قائم کر دیا جسے سلیم احمد اپنی آخری سانس تک اپنے ’’مقدس ترین رشتوں میں سے ایک‘‘ قرار دیتے رہے۔ اس کے باوجود ۱۹۷۱ء میں دونوں کی سیاسی راہیں جدا ہو کر رہ گئیں۔ پاکستان میں عام انتخابات کے اعلان کے ساتھ عسکری صاحب نے پاکستان پیپلز پارٹی کی کامیابی کی دعائیں مانگنا شروع کر دیں اور سلیم احمد نے الطاف حسن قریشی کی فرمائش پر جماعت اسلامی کے روزنامہ ’’جسارت‘‘ میں کالم نگاری شروع کر دی۔ عسکری صاحب نے یا تو یہ کالم سرے سے پڑھے ہی نہیں یا ان کی حقیقی روح تک رسائی میں ناکام رہے۔ سلیم احمد اپنی ان تحریروں میں جس اسلامی نظام کی تلاش و جستجو میں منہمک رہے وہ جماعت اسلامی کی بجائے خاکسار تحریک کی تفسیر و تعبیرِ اسلام سے مقتسب ہے۔ انھیں پڑھتے وقت مجھے علامہ مشرقی کی کتابیں۔۔۔ ’’تذکرہ‘‘ اور ’’مولوی کا غلط مذہب‘‘ رہ رہ کر یاد آتی رہیں۔ ان کالموں کے درج ذیل اقتباسات میں سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ’’مسئلہ ملکیت زمین‘‘ میں پیش کیے گئے استدلال کی سراسر نفی قابلِ غور ہے:

۱۔ ’’کچھ لوگ اسلام کو موجودہ نظام میں فٹ کرنے کی کوشش ہی کو اسلامی نظام کے نفاذ کا عمل سمجھ رہے ہیں۔ یہ وہ تمام لوگ ہیں جو ملک کے موجودہ طبقات کو اپنی جگہ قائم رکھنا چاہتے ہیں، لیکن جس شخص کو تاریخ کا تھوڑا بہت بھی علم ہے وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اسلام کو ان طبقات کے مفاد کا آلۂ کار بنا کر ہم نہ اسلام کے ساتھ انصاف کر سکیں گے نہ تاریخ کے تقاضوں کے ساتھ۔ آج اسلامی نظام کے نفاذ کا دعویٰ کرنے والوں کس سب سے پہلے اس سوال کا جواب دینا ہے کہ آیا وہ ان طبقات کو قائم رکھنے کے حق میں ہیں یا اُنھیں بدلنا چاہتے ہیں۔ ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ اسلامی نظام میں جاگیرداری قائم رہے گی یا نہیں۔ سرمایہ داری کا سکہ چلے گا یا نہیں؟‘‘۴

۲۔ ’’ہمارے معاشرے میں جاگیرداری کے پرانے نظام اور سرمایہ داری کے نئے نظام سے اسلام کا براہِ تصادم ہے اور ان نظاموں کے موجود ہوتے ہوئے ہم پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی نظریاتی ریاست نہیں بنا سکتے۔‘‘۵

۳۔ اسلامی نظام کے موجودہ مرحلے پر ہماری ذمہ داری دوہری ہے۔ ہمیں ایک طرف جاگیرداری اور سرمایہ داری کے اس پورے نظام کو سمجھنا ہے جو ہماری مرضی کے خلاف ہمارے دین سے الگ ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے اور دوسری طرف اسلام کے سیاسی، معاشی نظام کے بنیادی اصولوں کو ابہام کے بغیر سمجھ کر اُن کا پورا خاکہ تیار کرنا ہے۔…… شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، جنہوں نے مارکس سے ۹۰ سال پہلے کئی ایسے خیالات کا اظہار کیا جو اسلامی انقلاب کی بنیاد بن سکتے ہیں اس کے بعد عہدِ جدید میں اقبال اور مولانا مودودی سے استفادہ کر کے بہت سی چیزیں سیکھی جا سکتی ہیں۔ ‘‘۶

قیام پاکستان کے فوراً بعد جب قائداعظم نے زرعی اصلاحات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تو جاگیرداروں نے اس استحصالی نظام کی بقا کی خاطر علمائے دین کی حمایت حاصل کرنے کی کامیاب مہم چلائی۔ ایسے میں جماعت اسلامی کے سربراہ نے بھی جاگیرداری نظام کو مشرف بہ اسلام کرنے کی خاطر ’’مسئلہ ملکیت زمین‘‘ لکھ ڈالی۔ یہ کتاب مودودی صاحب کی سیاسی حکمتِ عملی کا شاخسانہ تھی۔ چنانچہ انھوں نے پاکستان میں جاگیرداری نظام کی بقا اور استحکام کا شرعی جواز ڈھونڈ نکالا تھا۔ جب کہ سلیم جاگیرداری اور سرمایہ داری نظام سے نجات کو اسلامی نظام کے قیام کی جانب اولیں قدم قرار دیتے ہیں۔ سلیم احمد کے یہ مطالبات جماعتِ اسلامی کی بجائے پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور کے بنیادی اجزاء سے عبارت تھے۔ عسکری صاحب اُس زمانے میں پیپلز پارٹی کے پرجوش مبلغ تھے۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عسکری صاحب نے سلیم احمد کی یہ تحریریں پڑھی ہی نہ تھیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: محمد حسن عسکری کی خاکہ نگاری --------- سلیم احمد

جمال پانی پتی نے اپنے مقالہ بعنوان ’’سلیم احمد کا تشخص عسکری کے عکس میں‘‘ عسکری سے سلیم احمد کی والہانہ محبت اور گہری عقیدت کے باوجود فکر و نظر کے اختلاف کو نمایاں کر رکھا ہے۔ ۷۔ حقیقت یہ ہے کہ سلیم احمد تقلید کی بجائے تخلیقی اکتساب کے خوگر تھے اور عسکری کے برعکس اپنے خیالات دوسروں پر مسلط کرنے کے قائل نہیں تھے۔ کاش سید ابوالاعلیٰ مودوی، مولانا امین احسن اصلاحی کے سے رفقائے کار کے استدلال پر غور کرتے اور عملی سیاست کی جنگاہ میں اُترنے کی بجائے اپنی وہ علمی اور تحقیقی سرگرمیاں جاری رکھتے جن کا آغاز انھوں نے علامہ اقبال سے ملاقات کے بعد پٹھان کوٹ میں شروع کیا تھا اور جن کا پہلا ثمر ’’تجدید و احیائے دین‘‘ کے سے شاہکار کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ عملی سیاست بدنما حقائق کی دنیا میں ممکنات کی کارگاہ ہے۔ چنانچہ جماعت اسلامی کا سیاسی مسلک بھی ہنگامی وقتی اور گزشتنی معاملات و مسائل سے نمو پانے لگا۔ ہمارے ہاں اقتدار کے ایوانوں تک رسائی کی تمنا میں جاگیرداروں کے سے بالادست طبقات کی حمایت لازم قرار پائی ہے۔ چنانچہ مودودی صاحب بھی جاگیرداری کے شرعی جواز ڈھونڈ لائے۔ اس کے برعکس سلیم احمد جاگیرداری اور سرمایہ داری سے مکمل نجات کو اسلامی نظام کے قیام کی جانب پہلا قدم قرار دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ وہ بالآخر جماعت اسلامی کی سیاست سے دلبرداشتہ ہو کر اپنی باقی زندگی ’’نام نہاد اسلام پسندوں‘‘ سے جنگ کے لیے وقف کر دینے کا اعلان کر دیتے ہیں۔ 8

جب پاکستانی عوام نے اپنی اجتماعی رائے سے مودودی صاحب کے ’’سوشلسٹوں کی زبانیں گُدی سے کھینچ لینے‘‘ کے عزائم خاک میں ملا دیے تب انھوں نے جماعت اسلامی کی سیاست کو مرحلہ وار اپنے رفقاء کے سپرد کر کے پھر سے تجدید و احیائے دین کا فریضہ سرانجام دینے کی راہ لی اور یوں وہ فکرِ اقبال کے تسلسل میں قلبی جہاد میں منہمک ہو گئے۔ اس تفسیر و تعبیرِ اسلام کا نکتہ عروج ان کی عہد آفریں تصنیف ’’خلافت و ملوکیت‘‘ ہے۔

علامہ اقبال نے اپنے خطبۂ الہ آباد میں یہ بشارت دی تھی کہ برصغیر میں مجوزہ جداگانہ مسلمان ریاست کے قیام سے اسلام کو یہ فائدہ پہنچے گا کہ اس پر سے عرب ملوکیت کی چھاپ اکھڑ سکے گی اور یوں اسلام کی حقیقی روح عصر ہم آہنگ ہو کر ایک جہانِ نو کی تعمیر و استحکام کے امکانات روشن تر کر دے گی۔ اقبال کے اسی نظریاتی اور فکری تسلسل میں سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ملوکیت اور ملائیت کے اسلام دشمن کردار کو تمامتر جزئیات سمیت بے نقاب کر کے اظہر من الشمس کر دیا ہے۔ یوں تجدید و احیائے دین کی وہ تحریک جو حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی سے شروع ہو کر اقبال سے ہوتی ہوئی مودودی کے ہاں برگ و بار لائی تھی سلیم احمد اُس کی تحسین میں مصروف تھے اور عسکری صاحب تردید میں منہمک۔

محمد حسن عسکری فرانسیسی مستشرق رینے گینوں ۹کی تقلید میں قدامت پرستی کے مسلک پر قائم تھے اور یوں وہ مودودی صاحب کے خلاف تھے۔ سلیم احمد جماعت اسلامی کی ہنگامی اور وقتی سیاسی قلابازیوں کی بجائے ابوالاعلیٰ مودودی کی دینی حکمت و دانش سے اکتسابِ فیض میں مصروف رہے اور بالآخر اسی حکمت و دانش کے زیرِ اثر جماعتِ اسلامی کے سیاسی مسلک کی تردید میں سرگرمِ عمل ہو گئے تھے۔ ایک جماعت اسلامی پر کیا موقوف حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں عرب ملوکیت کی ثناخوانی میں مصروف چلی آرہی ہیں۔ بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں عملی سیاست کے خارزار میں سفر کے احوال و مقامات کچھ اور ہیں اور مثالی سیاسی نظام کی جستجو و آرزو کے درد و داغ کچھ اور۔ سلیم احمد خاکسار تحریک کے منشور کو عملی جامہ پہنانے کی تمنا میں مسلم لیگ میں شامل ہوئے تھے لیکن قیامِ پاکستان کے بعد جب سیاست کی قلمرو میں ترمیم پسندی اور آدرش فراموشی کا چلن عام ہوا تو انھوں نے اسلامی نظام کے قیام کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے جماعت کے پلیٹ فارم پر اسلامی نظام کے حقیقی خدوخال نمایاں کرنے کی مساعی عمل میں لائی تو نتیجہ صفر ہی پایا۔ ایسے میں انھوں نے اسلام پسندوں سے دوری اختیار کر لی مگر عسکری صاحب کا غیض و غضب برقرار رہا۔ وجہ یہ کہ وہ تو شاہ ولی اللہ سے لے کر علامہ اقبال اور مولانا مودودی تک اسلام کی ابدی آفاقی روح کے جدید عصری تناظر کی تلاش و تجسس میں منہمک ہر دینی دانشور کو مغربی گمراہیوں میں مبتلا پاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بالآخر مولانا اشرف علی تھانوی کے مکتبِ فکر کے حلقہ بگوش ہوگئے تھے۔ یاد رہے کہ یہ وہ مکتبہِ فکر ہے جس سے وابستہ سید سلیمان ندوی نے تمنا کی تھی کہ کاش علامہ اقبال اپنی عہد آفریں کتاب بعنوان “The Reconstruction of Religious Thought in Islam” نہ لکھتے۔ کچھ ایسی ہی تمنا کا اظہار ڈاکٹر محمدخالد مسعود نے مولانا اشرف علی تھانوی کی کتاب کے انگریزی میں ترجمہ کی اشاعت پر کیا تھا۔ اس کتاب میں پیش کیے گئے فرسودہ اور ازکار راستہ استدلال کو رد کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے سوال اُٹھایا تھا کہ

’’مولانا اشرف علی تھانوی کی کتاب الانتہابات المفیدہ عن الاشتباہات الجدیدہ کے انگریزی ترجمے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ کیا آج بھی وہ شبہات باقی ہیں جن کے ازالہ کے لیے یہ کتاب ستّر سال پہلے لکھی گئی تھی؟ میرے خیال میں کتاب کے مخاطب وہ لوگ تھے جو بنیادی طور پر قدامت پسند تھے لیکن شبہات کی وجہ سے اضطراب کا شکار تھے اور ایسے دلائل کے منتظر تھے جو ان شبہات کو دور کر کے اُن کے بنیادی موقف کو مضبوط بنائیں۔‘‘۱۰

اختلافِ فکر و نظر کے باوجود سلیم احمد اپنے دمِ واپسیں تک محمد حسن عسکری کو اپنا پیر و مرشد اور اپنا سب سے بڑا سرچشمۂ فیضان قرار دیتے رہے۔ اس کے برعکس اپنی زندگی کے برعکس آخری لمحات تک عسکری صاحب کو سلیم احمد کا نام تک سُننا گوارا نہ تھا۔

حواشی

۱۔ مشرق از سلیم احمد، ۱۹۸۹ء،کراچی، ص۷۰
۲۔ ایضاً۔
۳۔ ایضاً۔
۴۔اسلامی نظام، مسائل اور تجزیے، کراچی،۱۹۸۴ء،ص ۳۹۔
۵۔ ایضاً، ص۴۶۔
۶۔ ایضاً، صفحات۱۰۵۔۱۰۶
۷۔ مجموعہ جمال پانی پتی، اکادمی بازیافت، کراچی،صفحات ۹۱۲۔۹۲۳۔
8. Saleem Ahmad’s self analysis, Zeno, Dawn, August 17, 1984.
۹۔ رینے گینوں ایک فرانسیسی مستشرق تھے جو ۱۹۳۷ء میں قبول اسلام کے بعد مصر میں مقیم ہو گئے تھے اور ۱۹۵۷ء میں یہیں سپرد خاک ہوئے تھے۔ یہ جدیدیت کو ابلیسیت تصور کرتے تھے۔
۱۰۔ فکر و نظر، بابت دسمبر۷۶، جنوری ۷۷، اسلام آباد۔

یہ بھی ملاحظہ کریں:

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20