صحافت گئی تیل لینے ——- خرم شہزاد

0

کسی بھی ملک اور معاشرے میں خبر پہنچانے اور پھیلانے کے ذمہ داری اکثر چغلیاں لگاتی عورتوں، غیبتیں کرتے مردوں اور صحافیوں کے سر ہوتی ہے اول الذکر دونوں کو یقینا خبر کی سچائی سے کوئی غرض نہیں ہوتی بلکہ سنی سنائی کے ساتھ اپنے سے گھڑ کر لگائی بجھائی ان کا محبوب مشغلہ ہوتا ہے لیکن صحافت ایک باقاعدہ ذمہ دار ادارہ سمجھا جاتاہے جسے اخلاقی اور قانونی طور پر باقاعدہ مستند خبر لوگوں تک پہنچانی ہوتی ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں صحافت اپنا وہ مقام پیدا ہی نہیں کر سکی ہے جو اس کے لیے مخصوص تھا۔ یہاں اپنے وقتی اور ذاتی مفادات، لفافے، عہدے، جانبداریاں، مستقبل کی ترجیحات سمیت درجنوں اور باتوں نے صحافتی ذہن کو جکڑے رکھا ہے جس کی وجہ سے اب تو صحافت کے شعبے میں بھی کوئی اسے مقدس پیشہ کہے تو یار دوست ہنس پڑتے ہیں کیونکہ حمام میں اپنے اور دوسروں کے لیے موجود اہتمام ستر پوشی کا سب کو بخوبی علم ہوتا ہے۔ بہت زیادہ ادھر ادھر کی باتوں کے بجائے آج اگر ہم صرف اور صرف کرونا کی صورت حال پر بات کریں تو زیادہ بہتر رہے گا۔

ہمارے ملک میں پچھلے تین ماہ سے کرونا وائرس کا اثر دیکھائی دینا شروع ہوا تو عام آدمی اپنی ازلی لاپرواہی، جگت بازی کی عادت اور اپنی ذات کی دو کوڑی قیمت سے واقفیت کی وجہ سے اس وبا کے بارے کچھ زیادہ سنجیدہ نہ ہوا۔ مرے کو مارے شاہ مدار والی بات ہوئی اور میڈیا سے وابسطہ لوگوں نے بھی عوامی رجحان کو ہی کیش کروانا زیادہ پسند کیا۔ دو تین مختلف پارٹیوں کے نمائیندوں کو بیٹھا کر پونے گھنٹے کی گرما گرمی کرنے کو معاملے کا اصل چہرہ دیکھانا سمجھ لیا گیا لیکن اس طرح سے معاملے کا اصل چہرہ کیوں اور کیسے سمجھ آتا ہے، مجھے تو سمجھ نہیں آتا لیکن عام آدمی چونکہ اپنے مسائل کے حل بارے کچھ ایسے ہی انداز کی گفتگو کا قائل ہے تو میڈیا چینلز اور اخبارات نے من پسند مصالحے بیچنے کو ہی ترجیح دی۔ حکومت روتی پیٹتی اور چیختی رہی لیکن اس کی کوئی سننے والا ہی نہیں تھا کیونکہ عام آدمی امریکہ چین کی سازشی تھیوریوں کو شیئر کرنے میں لگا تھا اور میڈیا جس نے ذہن سازی کرنی تھی وہ حکومتی برائیوں کے ڈھول پیٹنے میں اور ٹماٹروں کے مہنگے ہونے کے سیاپے میں لگا رہا۔ معذرت لیکن سپریم کورٹ نے بھی اپنی کچھ رولنگ میں عوام کو جگت بازی کے لیے بہت سا مواد فراہم کرتے ہوئے حکومت کو اپنے اقدامات کے ساتھ کئی قدم پیچھے دھکیل دیا۔ اسی ساری صورت حال میں جبکہ پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر صرف ڈیڑھ سو سے دو سو کیس رپورٹ ہوتے تھے، صورت حال خراب سے خراب تر ہوتی چلی گئی۔ لاک ڈاون کا تماشہ بنا دیا گیااور ہر گلی محلے میں غریب اپنے اٹھارہ بچوں کے ساتھ بھوکوں مرنے لگا جس کی ہمدردی میں سارا علاقہ پوسٹیں لگانے کو تیار تھا لیکن کوئی ایک وقت کا سالن ان کے گھر دینے کو تیار نہ تھا کیونکہ ریاست مدینہ میں عام آدمی کا بالکل فرض نہیں کہ وہ اپنے پڑوسی کا حال پوچھے۔ ریاست مدینہ میں صرف اور صرف امیر کا فرض ہے کہ وہ راشن کی بوری اپنی کمر پر لادے گھر گھر راشن بانٹے۔ لوگوں کی طرف سے ماسک پہننے کو بیوقوفی، جسمانی فاصلہ رکھنے کو حماقت اور ہاتھ نہ ملانے والے کو کمزور ایمان بلکہ کافر کا دوست تک قرار دیا جانے لگا۔ لوگ ایک دوسرے کو بس گریبان سے نہیں پکڑتے تھے لیکن حکومتی موقف کی حمایت والوں کو پکڑ پکڑ کر پوچھا جاتا تھا کہ بتاو کہاں ہے کرونا۔۔۔ اور یہ سب اس وقت کی باتیں ہیں جب پورے ملک یعنی بائیس کروڑ لوگوں میں ابھی صرف بائیس ہزار لوگوں میں بھی مثبت علامات کا ظہور نہ ہوا تھا۔ میڈیا اس دوران بھی حکومتی نا اہلی اور کارکردگی میں سقم کے ڈھول بجا رہا تھا جس کی وجہ سے وہ مرد و زن جن میں کرونا وائرس کی علامات موجود تھیں وہ بجائے علاج اور احتیاط کی طرف جاتے، وہ بھی سازشی تھیوریوں سے دوسروں کو چپ کروانے میں لگے رہے اور ایسے اوٹ پٹانگ سوالات کرتے کہ بھلائی سوچنے والا چار حرف بھیجنا بہتر سمجھتا۔ کسی چینل نے یہ کرائم شو نہیں دیکھایا کہ ملک کی فلاں فلاں لیبارٹری میں کرونا ٹسٹ کی سہولت نہیں لیکن پھر بھی وہاں سے چھے ہزار دے کر من پسند رپورٹ کیسے حاصل کی جا رہی ہیں۔ لوگوں نے اپنی مثبت رپورٹیں یوں چھپانی شروع کر دیں جیسے مردوں میں نامردی اور عورتوں میں بانجھ پن کی رپورٹ آ گئی ہو۔

اب جبکہ لاک ڈاون کھل چکا ہے، مسجد سے بازار تک کسی جگہ کوئی پابندی نہیں تو ہسپتالوں میں بھی مریضوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ سینکڑوں افراد روز مر رہے ہیں لیکن ہمارا میڈیا اور صحافت ابھی بھی چورن بیچنے میں مصروف ہے۔ لوگ وڈیوز شیئر کر رہے ہیں کہ میرے فلاں سے پچاس ہزار کے عوض لاش مانگی گئی تھی، میرے فلاں کی طبیعت اتنے بجے تک ٹھیک تھی اور اتنے منٹ میں بندہ کیسے مر گیا؟ لوگ ہسپتالوں میں مرنے والوں کے لیے شکوک کا اظہار کر رہے ہیں، فرنٹ لائن پر مرنے والے ڈاکٹروں کی دن رات ڈیوٹیوں اور قربانیوں پر ہی سوال اٹھائے جا رہے ہیں لیکن اس وقت بھی میڈیا کو چینی بحران کی رپورٹ اور فلاں اداکار کی دوسری شادی پر پہلے بیوی کی فکر پڑی ہوئی ہے۔ کوئی ایک چینل، کوئی ایک اخبار اس بارے میں آگے نہیں آرہا اور لوگوں کے سوالوں، خدشات اور توہمات کو رد نہیں کر رہا کیونکہ سبھی جانتے ہیں کہ حقائق بیان کرنے والے پروگرام کی کوئی ریٹنگ نہیں ہو گی۔ لوگ اپنی باتوں اور شکوک میں ایمان کی حد تک پکے ہیں اس لیے مصالحے بیچنے میں ہی عافیت ہے۔ کہیں نہیں بتایا جا رہا ہے پچاس ہزار فی لاش دینے کے لیے حکومت کے کون سے فنڈ کو استعمال کیا جا رہا ہے اور قبضے میں لی جانے والی لاشیں افریقہ اور امریکہ کے کن قبائلیوں کو کھانے کے لیے فراہم کرنے کا ٹینڈر حکومت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

مجھے کسی سے کوئی ہمدردی نہیں کیونکہ جب کوئی بھی معاشرہ اپنی ہی حکومت کے خلاف ہو جائے تو ملک میں قبروں کی تعداد بڑھ جاتی ہے، قبرستان چھوٹے پڑ جاتے ہیں اور جب صحافت تیل لینے چلی جائے تو انہی قبروں پر چراغ روشن کرنے میں کوئی پریشانی نہیں رہتی۔ ہمارے ملک میں بھی یہی دونوں کام پورے زور و شور سے چل رہے ہیں۔ لوگ خود کو عقل کل سمجھتے ہیں اور حکومت پر بد اعتمادی اپنی آخری حد بھی عبور کر رہی ہے جس کے ساتھ ساتھ صحافت تیل لینے گئی ہوئی ہے۔  چلیں کوئی بات نہیں۔۔۔ اس صورت حال سے جب کوئی بچ جائے گا تو اس سے مستقبل کی بات کریں گے۔ فی الحال آپ سب مصروف ہیں اور ہم آپ کو ڈسٹرب کر کے گالیاں نہیں کھانا چاہتے۔ ہاں روکیں گے بالکل نہیں کیونکہ آپ نے کون سا رک جانا ہے۔ بلکہ یہی کہیں گے کہ لگیں رہیں۔ ابھی تک تو ہم نے ہسپتال بھرے ہیں، قبرستان بھرنا بھی تو ہماری ہی ذمہ داری ہے۔ صحافت کو ریٹنگ مل رہی ہے، بزنس چل رہا ہے، سچ کسی نے سننا نہیں تو پھر پریشانی کیسی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20