جو ش ملیح آبادی : جو ہر دور میں متنازعہ رہے یا بنائے گئے — افضل رضوی

0

لیلائے سخن کو آنکھ بھر کر دیکھو
قاموس و لگات سے گزر کر دیکھو
الفاظ کے سر پر نہیں اڑتے معنی
الفاظ کے سینے میں اتر کر دیکھو

بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں جو معروف شاعر منظر عام پر آئے، اُن میں ایک نام جوش ملیح آبادی کا ہے۔ وہ اپنے خالص اسلوب کے باعث اپنے ہم عصروں میں ممتاز رہے۔ جوش کی جوانی کا زمانہ برصغیر پاک وہند کی سیاسی ابتری کا زمانہ تھا اس زمانے میں مسلمانوں پر ظلم وستم کا بازار گرم تھا۔ ایک طرف تو وعدے وعید کیے جارہے تھے تو دوسری طرف انہیں کچلنے کی سازشیں بھی جاری تھیں۔ شاعر چونکہ معاشرے سے متاثر ہوتا ہے لہٰذا معاشرے کے تغیر وتبدل کا بلا واسطہ یا بالواسطہ اثر قبول کرتا ہے اور پھر اسی خاصیت کے سبب معاشرے کا عکاس بھی بن جاتا ہے۔ اسی تناظر میں اگر دیکھا جائے تو گزشتہ صدی میں شاعری بھی ایک نئے انداز میں ہمارے سامنے آئی اس کا سبب وہ حالات و واقعات ہیں جن سے اس کا سامنا ہوا۔ ان حالات میں شاعر جب اپنے خیالات کا اظہار کرتے تو انہیں تنگ دامانی کا احساس ہو تا؛چنانچہ انہوں نے اپنے جذبات واحساسات کے اظہار کے لیے غزل کے مقابلے میں نظم کے دامن کو وسیع پاتے ہوئے اس میں طبع آزمائی کی۔

جوش ملیح آبادی کا شمار میں بھی ان شعراء میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی شاعری کا آغاز غزل سے کیا اور بعد میں نظم کی طرف مائل ہو ئے۔ نظم کی طرف مائل ہوناان کی طبعی مناسبت کا تقاضا تھا۔ ان کی شاعری جدید میلانات و رجحانات سے معمور ہے اور عصری تقاضوں کی عکاس بھی۔ بغاوت اور انقلاب ان کے مضامین ہیں۔ ان کی نظمیں دورشباب کی لغزشوں کی حکایات سناتی ہیں۔ شاعر شباب، شاعر انقلاب، شاعر رومان اور مصور فطرت شبیر حسین خان جوش ملیح آبادی 5 دسمبر 1898ء میں قصبہ کنول ہار ضلع ملیح آباد میں پید اہوئے۔

جوش ؔ کوشاعری ورثے میں ملی تھی ان کے پردادانواب فقیر محمد استاد ناسخ کے شاگرد تھے۔ جوش کے اساتذہ میں مرزا محمد ہادی رسوابھی شامل ہیں۔ سینئر کیمبرج تک تعلیم حاصل کی، باقی علمی استعداد مطالعے سے حاصل کی۔ جوش کے والد بشیر احمد خاں بشیر بھی شاعر تھے اور داد انواب احمد خاں کا بھی شاعری سے تعلق تھا۔ اس کے علاوہ ان کے پر دادا نواب فقیر محمد خاں صاحب ِ دیوان شاعر تھے۔ ان کے خاندان میں خواتین شاعرات بھی موجو د تھیں۔ جوش کی دادی بیگم نواب محمد احمد خاں، مرزا غالب کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ اس طرح جوش کو شاعری ورثے میں ملی تھی؛ لیکن جوش صرف شاعر نہیں تھے ایک ہشت پہلو شخصیت تھے۔ ان کی شخصیت کا ہشت پہلو ہونا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں شعر اور نچر دونوں پرکامل عبور تھا۔ شاعری کی تو اوجِ کمال تک پہنچے اور نثر لکھی تو ادبی حلقوں میں ہنگامہ برپا کردیا۔ جہاں تک ان کی شعری استعداد کا تعلق ہے تو یہ چونکہ وراثت میں ملا تھا اس لیے بچپن میں ہی شعر موزوں ہونے لگے تھے اور انہوں نے 9سال کی عمر میں پہلا شعر کہا:

شاعری کیوں نہ راس آئے مجھے
یہ میرا فن خاندانی۔ ۔ ۔ ۔ ہے

جوش ؔعنفوانِ شباب میں فارغ البال تھے لیکن 1916ء میں والد کے انتقال کے بعد فارغ البالی ختم ہوگئی اور ذمہ داریوں کا بوجھ کاندھوں پر آپڑا۔ یہی وجہ ہے کہ 1916ء سے 1920ء کی شاعری میں تلخی، زندگی سے اکتاہٹ، دنیا کی بے ثباتی اور صوفیانہ خیالات ملتے ہیں۔ انہی مجامیں اور خیالات پر مشتمل ان کا پہلا مجموعہئ کلام ”روحِ ادب“ 1920ء میں شائع ہوا۔ اس مجموعے کے بعد 1936ء تک آتے آتے ان کی شاعری میں عشقیہ مضامین کے ساتھ ساتھ بغاوت کے عنصر نے بھی جگہ بنالی نیز ہمعصروں کا اثر بھی ان کی شاعری میں نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ چنانچہ اس دورانیے میں انہوں نے جو کلام جمع کیا وہ ”شعلہ وشبنم“ کے نام سے 1936ء میں منصہ شہود پر آیا جبکہ تیسرا مجموعہئ کلام ”نقش و نگار“ 1944ء میں زیور طباعت سے آراستہ ہوا؛تاہم جوشؔ کی زندگی کی بہترین شاعری پر مشتمل ان کا ضخیم شعری مجموعہ ”محراب ومضراب“ ان کے انتقال کے گیارہ سال بعد 1993ء میں قارئین تک پہنچ سکا۔ مجموعے کی تاخیر پر تبصرہ کرتے ہوئے جوش ؔ کی پوتی تبسم اخلاق لکھتی ہیں، ”حضرت جوش ہر دور میں متنازعہ شخصیت بنے رہے یا بنائے جاتے رہے۔ جب ان کا انتقال ہوا تو وہ مارشل لاء کا زمانہ تھا۔ اس دور میں لوگ ان کا نام زبان پر لاتے ہوئے ڈرتے تھے کہ مبادا ان کو بھی نوکری سے برطرف ہونا پڑے“۔ تبسم اخلاق کے بیان سے اتفاق کر نا پڑتا ہے کیونکہ ان کے انتقال سے دس گیارہ سال پہلے ان کی خود نوشت ”یادوں کی بارات“ 1972 ء میں کراچی سے شائع ہوئی تھی اور ان کا انتقال 22 فروری 1982 ء کو ہوا۔ یوں ایک طرح سے وہ دس برسوں تک تنازعات میں گھرے رہے اور اس کے باعث انہیں بے حد دشواریوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ حکومت کے عتاب کاشکاربھی ہوئے؛لیکن اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ جوش جہاں ایک عظیم شاعر تھے وہیں وہ صاحب طرز نثر نگاربھی تھے۔ شاعری میں جوش ایک ایسے شاعر ہیں جن کے بے شمار مجموعہ ہائے کلام منصہ شہود پر آئے۔ ان میں؛روح ادب، آوازہ حق، شاعر کی راتیں، جوش کے سو شعر، نقش و نگار، شعلہ و شبنم، پیغمبر اسلام، فکر و نشاط، جنوں و حکمت، حرف و حکایت، حسین اور انقلاب، آیات و نغمات، عرش و فرش، رامش و رنگ، سنبل و سلاسل، سیف و سبو، سرور و خروش، سموم و سبا، طلوع فکر، موجد و مفکر، قطرہ قلزم، نوادر جوش، الہام و افکار، نجوم و جواہر، جوش کے مرثیے، عروس ادب (حصہ اول و دوم)، عرفانیات جوش، محراب و مضراب، دیوان جوش وغیرہ۔

علاوہ ازیں نثر میں بھی ان کے کمالِ فن کے نمونے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان کے نثری مجموعوں میں؛مقالات جوش، اوراق زریں، جذبات فطرت، اشارات، مقالات جوش، مکالمات جوش اوریادوں کی بارات (خود نوشت سوانح) شامل ہیں۔

”محراب و مضراب“ کی شاعری 1955ء سے 1971ء تک کے زمانے پر محیط ہے۔ اس کے کل آٹھ ابواب بنائے گئے ہیں جن میں مختلف مضامین بیان ہوئے ہیں۔ ان میں سے چیدہ چیدہ؛پیغام ِ بے داری، زندگی کی بے ثباتی، اپنی ناقدری کا شکوہ، وحدتِ انسانی، انانیت، بغاوت، حمد ونعت اور ہیئت کے تجربات وغیرہ ہیں۔

”محراب ومضراب“ کے باب اول کی نظم ”پیچ وتاب“میں جوش نے اپنے اس مجموعہ کلام کا عنوان خود تجویز کر دیا ہے، کہتے ہیں:

سرِ گردوں، ”فتوحِ“انبیا کے نصب ہیں خیمے
سرِ گیتی، شکستِ منبر ومحراب ہے، ساقی
اٹھاتا ہوں نظر، تو دشت ودریا جھنجھناتے
یہ میری لرزشِ مژگاں نہیں مضراب ہے ساقی

جوش ؔ مسلمانان برصغیر کی کاہلی اور سستی پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہتے ہیں:

اُدھر تلاطم یورپ سے دل ہے زیر وزبر
اِدھر غنودگی ئایشیا پہ، عقل ہے دنگ

کلامِ جوش میں جا بجا زندگی کی بے ثباتی کا تذکرہ ملتا ہے۔ ”روحِ ادب“ کے متضاد ”محراب ومضراب“ مین وہ ھیات کے اور خواہاں نہیں بلکہ ”شعلہ وشبنم“ کے مضامین کی طرح دنیا سے بے زاری کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کی یہ رباعی اس بات کا واضح ثبوت ہے۔

دل نقدِ حیات کھو رہا ہے اے جوش
بیڑا اپنا ڈبو رہا ہے اے جوش
ہونے ہی پہ ہے پاک، حسابِ مہ وسال
کھاتا، اب بندہو رہا ہے، اے جوش

جوش ؔکے ہاں زندگی کی بے ثباتی کا پہلو یک لخت پیدا نہیں ہوا۔ جوش ؔزندگی کو جس رنگ ڈھنگ سے دیکھتے تھے، جب اسے اسطرح گزار نی سکے تو ان کے اندر ایک ایسی ضد پیدا ہوگئی جو انہیں لحظہ لحظہ وادی ئ موت کی طرف لے گئی اور پھر وہ اس وادی میں یوں اتر گئے جیسے سورج سرِ شام دور سمندروں میں اتر جاتا ہے۔ جو شؔ تقسیم کے بعد بھارت سے ترکِ سکونت کرکے 1956ء میں جب پاکستان آئے تو اپنے ساتھ یادوں کی ایک بیاض لائے اور پھر وہ سلسلہ چل نکلا کہ جس کا انجام قید وبند کی صعوبتیں اور حکام کی طعن و تشنیع نکلا۔ یارِ زنداں فیض احمد فیضؔ کی طرح جو ش ملیح آبادی کو بھی کئی بار اپنے خاندان کی جدائی سہنا پڑی۔ وہ جس سرزمین کے لیے مہاجر ہوئے، اس سرزمین کی بستیاں اس پر تنگ کر دی گیئں۔ ردِ عمل کے طو رپر ایک ایسا جوش ہمارے سامنے آیا کہ جس کے ساتھ بغاوت کا نام لازم وملزوم ہو گیا۔ ان کے احساسات کسی بغاوت کا لبادہ اوڑھ کر یوں گویا ہوتے ہیں۔

اس دورِ قیل و قال میں لایا گیا ہوں میں
وہموں کی ناگنوں سے ڈسایا گیا ہوں

ممنوع ہے درآمد فکر و نظر جہاں
اس ملک ناکساں میں بسایا گیا ہوں میں

اس جرم میں کہ داعی تطہیر عقل ہوں
تشنیع کا نشانہ بنایا گیا ہوں میں

ایوانِ آگہی میں جلاتا ہوں کیوں چراغ
صرف اس بنا پہ جوش بجھایا گیا ہوں میں

جوشؔ ملیح آبادی کی شاعری میں بغاوت کے ساتھ ساتھ ِ انقلاب کا عنصر بھی نمایا ں ہے۔ دیکھئے درج ذیل شعر میں اس کا کس اعلان کرتے ہیں۔

کام ہے میرا تغیر، نام ہے میرا شباب
میرا نعرہ انقلاب و انقلاب و انقلاب

جوشؔ کا یہ لب و لہجہ وقت کے ساتھ ساتھ تیزاور تیکھا ہوتا چلا گیا۔ پہلے وہ بغاوت کی آگ میں خود جلتے تھے بعد میں انہوں نے اپنے ہم مسلکوں کو بھی اس راہ پر خار پر چلنے کی تلقین کی۔ وہ ان لوگوں سے مخاطب ہوتے ہیں جو آزادی کے لیے آواز بلند تو کرتے ہیں مگر سامنے نہیں آتے، وہ ایسے لوگوں کو پیغام دیتے ہیں:

جو سورما ہو تو چنگیز خاں سے ٹکر لو
فقط مذمتِ چنگیز خاں سے کیا ہو گا

سنو، سنو کہ یہ گردوں سے آرہی ہے صدا
کہ ذولفقار سے بولو۔ ۔ ۔ زباں سے کیا ہو گا

اور پھر ان لوگوں کو جو انہیں نشانہ طنز بناتے ہیں، مخاطب کرکے کہتے ہیں:

باآسانی بچا سکتا ہوں خود کو طنزِ یاراں سے
مگر میں کیا کروں، مجھ سے ریاکاری نہیں ہوتی

نہ چھیڑ اے جوش ؔ سازِ حق کہ دلالان باطل کو
وہ شے اچھی نہیں لگتی، جو بازاری نہیں ہوتی

اور نظم ”چند سوال“میں کہتے ہیں:

ہرایک سانس پہ بیٹھے ہیں کیوں یہ سویرے
ہر ایک سمت پہ سدِ سکندری کیا ہے

اسی طرح نظم”شش وپنج“ میں باغیانہ انداز ملاحظہ کیجیے۔

رباب چھیڑ، مگر یہ بھی سوچ لے مطرب
رباب میں بھی جوگونجی فغاں تو کیا ہو گا

”محراب ومضراب“ میں جہاں باغیانہ مضامین ملتے ہیں وہاں ساتھ ہی ساتھ جو ش اپنی ناقدری کا شکوہ کیے بغیر بھی نہیں رہ سکتے۔ نظم”آفات ِ گونا گوں“ میں کہتے ہیں۔

میرے انداز فن کو داد تو دی
مگر افکار کو مہمل بتایا

اور ”نالہئ مہاجرت“ میں کہتے ہیں۔

وہ دن بھی تھے کہ میر کارواں تھا
یہ دن بھی ہیں کہ گردِ کارواں ہوں

ایک اور رباعی میں اپنی ناقدری کی شکایت یوں کرتے ہیں۔

یہ اہلِ جہاں، قدر نہیں جا نیں گے
اربابِ ہنر کو، نہ کبھی مانیں گے

یہ مردہ ہیں، زندہ سے انہیں کیا سروکار
جب مردہ بنو گے۔ ۔ ۔ تو یہ پہچانیں گے

کسی زمانے میں مرزافرحت اللہ بیگ نے ”مردہ بدستِ زندہ“ کے عنوان سے ایک فکاہیہ مضمون تحریر کیا تھا؛جس میں انسانوں کے ہاتھوں گھر سے لے کر لحدمیں اتارنے تک مردے کی جو درگت بنتی ہے اس کی تصویر کشی کی تھی۔ میرا خیال ہے کہ مرزا کا یہ مضمون یقینا جوشؔ کی نگاہوں سے گزرا ہو گا یا ہو سکتا ہے کہ محض اتفاق ہو کہ جس بات کو مرزا نے ایک قصے کی صورت پیش کیا جوشؔ نے اسے چار مصرعوں میں بیان کر دیا۔ رباعی ملاحظہ کریں۔

حیران وپریشان وتپاں ہوں، اے جوش
اک عمر سے، ہر سو، نگراں ہوں، اے جوش

یہ۔ ۔ ۔ ”مردہ بدست زندہ“، ۔ ۔ ۔ کی بات نہیں
میں۔ ۔ ۔ ”زندہ بدست مرد گاں“ہوں، ۔ ۔ ۔ اے جوش

پھر ایک اور جگہ اپنی ناقدری کا گلہ کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

یہ نصیب شاعری ہے زہے شانِ کبریائی
کہ ملے نہ زندگی بھر مجھے دادِ خوش نوائی

جوشؔ، جوشِ خطابت کے ساتھ ساتھ ندرتِ ادا کے بھی مالک تھے۔ انہوں نے ساری زندگی انانیت کے ساتھ بسر کی۔ ”محراب ومضراب“ میں کئی جگہ ان کی انا پرستی کے مضامین مل جاتے ہیں۔

در خلق پر نہ جھکا ہے، نہ جھکے گا تا قیامت
سر جوش میں بھرا ہے وہ غرور کبریائی

”محراب ومضراب“ کے مطالعے کے دوران جس بات نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ جوش ؔ کا جذبہ احترام آدمیت ہے۔ وہ انسان کو بھائی چارے اور اخوت کا درس دیتے ہوئے کہتے ہیں۔

اعداد کے فتنوں کو۔ ۔ ۔ اکائی میں جکڑ کر
نقشوں کی، سیہ کار، لکیروں کو مٹائیں

ہر اسم۔ ۔ ۔ ، بس اک حرف ہے، ہر جسم۔ ۔ بس اک حجم
اس اسم کی، اس حجم کی دیوار گرائیں

محدود تھے کل، دوست تک، آدابِ محبت
دشمن کو بھی، اب آؤ، کلیجے سے لگائیں

سب اپنے ہی خرمن ہیں، سب اپنے ہی نشیمن
اے لیلیئ توحید، کدھر آگ لگائیں

”محراب ومضراب“ کے تفصیلی مطالعے سے قبل راقم الحروف نے ”یادوں کی بارات“ کا بھی باریک بینی سے مطالعہ کیا اور جوش کے خود نوشت حالات ِ زندگی سے آگاہی ہوئی؛لیکن رئیس احمد جعفری کی ”دید وشنید“ پڑھ کر حیرانی ہوئی کہ موصوف نے جوشؔ کے بارے اس قدر سخت بات کیسے کردی؟ رئیس جعفری کو اہلِ ادب بڑا ادیب مانتے ہیں لیکن بنا تحقیق کسی پر اس طرح کا الزام دھر دینا کسی طور ادب نہیں بلکہ ذاتی نفرت اور اختلافِ ذہن کا عکاس ہے۔ زیادہ نہیں لکھتامبادا میرا قلم بھی احتیاط کی حد پار کر جائے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ میرا قلم بغیر دلیل اور حوالے کے نہیں چلتا۔ پہلے موصوف کا الزام ملاحظہ کیجیے پھر رد بھی دیکھیے گا۔ لکھتے ہیں:

ایک زاہد اور متقی شخص جس طرح شیطان سے بدکتا ہے۔ یہ]جوش[ اسی طرح خدا سے بدکتے ہیں۔ ہٹلر کو جتنی نفرت یہودیوں سے تھی۔ انہیں اتنی ہی نفرت مذہب سے ہے؛لیکن مذہب اور خدا سے بے زاری کے باوجود، امام حسینؑ کے قائل ہیں۔ انہوں ]جوش[ نے حمد اور نعت میں کوئی شعر نہیں کہا ہے۔ لیکن سوز، سلام اور مرثیہ پر طبع آزمائی کر لیتے ہیں۔

اب راقم الحروف آپ کے سامنے جوشؔ کی ”محراب ومضراب“ سے وہ اشعار پیش کر تاہے جن میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی گئی ہے۔ ”ترانہ ئ حمد“ میں کہتے ہیں۔

صبح ازل سے یہ روشِ روز گار ہے
برسوں اگر خزاں ہے تو پل بھر بہار ہے

اللہ، اس احاطہئ دارالمحن میں جوش
کتنا ہجوم رحمتِ پرور دگار ہے

حمد باری تعالیٰ کے ساتھ ساتھ جوشؔ کے دل میں پیغمبرِ اسلام ﷺ کی محبت بھی موجزن تھی۔ وہ اپنی نظم ”پیام“ میں صبا کے ہاتھ نبی ﷺ کے حضور یوں ہدیہ عقیدت پیش کرتے ہیں۔

صبا جانا ادھر تو دردِ دل کا ماجرا کہنا
بزمی بارگاہ شاہ میں، حالِ گدا کہنا

ادب سے پیش آنا، گفتگو کرنا مروت سے
مگر دل کا جو عالم ہو رہا ہے، ۔ ۔ ۔ برملا کہنا

جوشؔ کی زندگی ان کے تخلص کی مناسبت سے پر جوش گزری۔ ان کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات واضح ہو گئی کہ وہ بھی ایک جوش ہے جو آتا ہے اور پھر اتر جاتا ہے۔ یہ شعر ملاحظہ کیجیے، جس میں وہ نبی ﷺ کی شفاعت کے طلب گار ہوتے ہیں۔

وہ اپنے جو شؔ سے روٹھا ہوا ہے ایک مدت سے
اگر تیری شفاعت کام آجائے تو کیا کہنا

اور پھر ایک اور جگہ کہتے ہیں۔

خوشا کہ جوشؔ ہمیں، حبِ نوع انساں نے
عطا کیا ہے مزاجِ محمدِ عربی

حاضر ہوا ہوں، جوش، دیارِ حبیبؐ میں
لب کو سیے، نفس کو غزل خواں کیے ہوئے

کلام جوشؔ میں اسی طرح حمد ونعت کے کئی شہ پارے دیکھے جاسکتے ہیں بلکہ بعض جگہوں پر اولیا اللہ سے بھی کھل کر محبت کا اظہار کیا گیا ہے؛ لہٰذا رئیس جعفری کا وہ خیال جسے سطوربالا میں پیش کیا گیا، حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہیں کہ انہوں نے جوش کو پڑھے بغیراور چند اشعار کا سہارا لے کر اظہارِ رائے کر دیا۔

کلامِ جوشؔ میں امام حسین ؑ سے بھی والہانہ محبت کا اظہار ملتا ہے۔ مثلاً، اس رباعی میں ان کا مختلف انداز ملاحظہ کریں، یہ وہ رباعی ہے جو خطباء اور مقررین اپنی تقاریر میں زورِ بیان کے لیے لاتے ہیں۔

کیا صرف مُسلمان کے پیارے ہیں حُسین
چرخِ نوعِ بَشَر کے تارے ہیں حُسین

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی، ہمارے ہیں حُسین

علاوہ ازیں 1918 ء میں جوش ؔ نے ”آواز حق“ کے نام سے مرثیہ لکھ کر مرثیے کی دنیا میں ایک نئی اور انقلابی جہت کو متعارف کرایا۔ اس کے بعد 1944ء میں انہوں نے ”حسین اور انقلاب“ کے عنوان سے مرثیہ لکھ کر مرثیے کے روایتی اسلوب کو نئی جدتیں اور جہتیں عطا کیں۔ یہاں ان کے اس مر ثیے کا ایک بندبطور نمونہ درج کیا جارہاہے۔

پھر آفتابِ حق ہے لبِ بام اے حسینؑ
پھر بزمِ آب وگل میں ہے کہرام اے حسینؑ
پھر زندگی ہے سست و سبک گام اے حسینؑ
پھر حریت ہے موردِ الزام اے حسینؑ
ذوقِ فساد و ولولہ شر لئے ہوئے
پھر عصرِ نو کے شمر ہیں خنجر لئے ہوئے

کلامِ جو ش ہیئت کے تجربات بھی جا بجا ملتے ہیں۔ راقم الحروف بخوفِ طوالت یہاں صرف چند نظموں کے عنوانات پر ہی اکتفا کرتا ہے۔ دکھیا سنسار، مہلتِ قلیل، جوانی کی یاد، ہائے جوانی، ابر ناگہاں، نعرہئ بر شگال، گوری اور گاگر، گل بدنی، بربادی ئ حسن اور تباہی کے آثار وغیرہ۔ یہ نظمیں ان کے ہاں ہیئت کے تجربات کی بہترین مثالیں ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20