ارشد جاویدکی “ذرا سی دھوپ” — قاسم یعقوب

1

ارشد جاویدکی “ذرا سی دھوپ”
(عصری آشوب و انتشار کی رومانوی نوحہ گری)

لائل پور (فیصل آباد) کی دھرتی آرٹ خصوصاً ادب اور موسیقی کے حوالے سے اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ بڑے بڑے نامور خاندان اس دھرتی پر اپنی فنی زندگی کا آغاز کرتے ہوئے دنیا کے بڑے اسٹیج پر جلوہ گر ہوئے۔ نصرت فتح علی خان خاندان جس کی ایک مثال ہے۔ اسی طرح ساحر لدھیانوی، امروز، پرتھوی راج اور سریندر پرکاش کو کون نہیں جانتا جو اسی دھرتی سے ایک فنکار بن کر دنیائے فن کا قیمتی اثاثہ بنے۔ ادب کے اندر تو ایک لمبی فہرست ہے جو پچھلی پانچ، چھ دہائیوں سے اس دھرتی کی کوکھ سے جنم لیتی اور دنیائے شعر و فن میں مقام بناتی آرہی ہے۔ حزیں لدھیانوی، بری نظامی سے لے کر افضل احسن رندھاوا تک کتنے ہی بڑے فنکار ہیں جو جمال و آرائشِ ادب میں شریکِ کار رہے۔ اس محفل سے ارشاد احمد، اشفاق بخاری،احسن زیدی،سلیم بیتاب، محمود ثنا،ماسٹر اقبال، فضل حسین راہی اور خاور زیدی جیسے ادیب، شاعر بہت جلد رخصت ہو گئے۔ لائل پور کے موجودہ شعری منظر نامے میں سینئر ادیبوں میں ریاض مجید، ارشد جاوید، افسر ساجد، انور محمود خالد، قیوم ناصر اورنادر جاجوری نمایاں نام رہ گئے ہیں جن سے شہر بھر کی ادبی رونق کا دارومدار ہے گو کہ ان اصحاب کے بعد بھی ایک توانا نسل انجم سلیمی، مقصود وفا، نعیم ثاقب، ثنااللہ ظہیر، شاہد اشرف اور اشرف یوسفی موجود ہے مگروہ کہتے ہیں نا کہ ’’چراغِ آخرِ شب‘‘ کی اُفتادگی صبحِ نور کا اجالا بن کراپنے ظہورکا اعلان کرتی ہے۔ ان سینئر ناموں میں ارشد جاوید کا نام دو حوالوں سے بہت اہم ہے۔
ایک: انھوں نے ادب و فن کی آبیاری میں تقریباً پانچ دہائیوں سے اپنی شمولیت سے حصہ لیا اور ہر ادبی سرگرمی کا محرکِ اول بن کر سامنے رہے۔ ارشد جاوید صاحب حلقہ اربابِ ذوق فیصل آباد کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔
دوم: اُن کا مختصر کلام بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اُن کے شعری مجموعے ’’ذرا سی دھوپ‘‘ اس حوالے سے بہت اہم ہے کہ اس میں سماجی وسیاسی مزاحمتی رنگ غالب ہے۔ بہت کم شاعر اپنے مافی الضمیر کی اشاعت میں اتنی سنجیدگی و بہادری کا مظاہرے کرتے ہیں۔

ارشد جاوید کا پہلا اور واحد مجموعہ ’’ذرا سی دھوپ‘‘ 2010میں شائع ہوا۔ ’’ذرا سی دھوپ‘‘ پر ریاض مجید نے لکھتے ہوئے کہا ہے کہ

’’ارشد جاوید کی شاعری سماجی حقائق سے جڑی ہوئی شاعری ہے۔ انھوں نے محبت و رومان پر نہ ہونے کے برابر لکھا ہے کہ ان کا مزاج اور ان کے مسائل اسی زمانے اور نسل سے تعلق رکھتے ہیں جن میں سیاسی انتشار اور معاشرتی تبدیلیوں نے حساس ذہنوں کو پگھلا کے رکھ دیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ یہ نسل مسائل اور حساسیت کے سبب بچپن سے ایک دم بزرگی کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے اور ان پر شباب کے موضوعات اس طرح وارد نہیں ہوئے جس طرح ان سے پہلے نسل پر وارد ہوئے۔ان کی شاعری کا محوری استعارہ ہمارے خطے کے آج کے اس فرد کا دکھ ہے جو بندھے پاؤں اور کٹے بازؤں کے ساتھ اپنی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہے۔‘‘

ریاض مجید کی رائے دو طرح کے سوال اُٹھاتی ہے کہ آیا ارشد جاوید رومانوی نہیں اور کیا مسائل کی تلخی کا بیان اور رومانوی طرزِ اظہار ایک دوسرے کی ضد ہیں؟‘‘ میرے خیال میں ان دونوں سوالوں کے پیچھے رومانوی نفسیات کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہر شاعر اپنی تخلیقی فضا کا اسیر ہوتا ہے۔ شاعر اپنے معروض میں ایک جنت کا خواب دیکھتا ہے اور جس کو محبت اور رومان پرور جمالیات کی جادوگری سے بھرنا چاہتا ہے۔ ظاہری بات ہے کہ وہ اس خواب کی تکمیل میں رکاوٹ بننے والی ہر سماجی و سیاسی قوتوں اور بیانیوں کا رد کرے گا۔ اصل میں سیاسی و سماجی طرزِ اظہار بھی ایک طرح کا رومانوی اظہار ہی ہوتا ہے جو اپنے خوابوں کی گزرگاہ کو خون آلود شاموں کی بجائے گل افروز صبحوں سے غسل دینا چاہتاہے۔ ارشد جاوید نے بہت پیار بھرا رومانوی جہان بنایا ہے۔ وہ ماں کو یاد کرتے ہیں وہ گلیوں بازروں میں شانتی کا نعرہ لگاتے ہیں۔ وہ اپنے معروض کی سیاسی کج فکروں کو روند کر انھیں محبت کا سادہ درس دینا چاہتے ہیں۔ وہ عام آدمی کے لیے عام اور بنیادی ضروریات سے مزین زندگی مانگتے ہیں:

ہم کبھی یوں تو خسارے پہ چلے جاتے ہیں
نصف کو چھوڑ کر سارے پہ چلے جاتے ہیں

شکل کچھ یوں ہے مری تیزی رفاقت کے بغیر
جیسے اک ہاتھ ہو انگشت شہادت کے بغیر

ہزار آنکھ نے جیبوں کی سمت دیکھا ہے
سفر کا حال تو بس میری ماں نے پوچھا ہے

پکارتے تو بہت ہیں صدا نہیں چلتی
ہمارے شہر میں اکثر ہوا نہیں چلتی

جو بھی قربت ہے،وہ شکلوں کی اکائی تک ہے
فاصلہ ورنہ بہت بھائی سے بھائی تک ہے

تمھیں جوہم نے حقِ حکمرانی دے دیا ہے
زمیں تو تھور تھی پر ہم نے پانی دے دیا ہے

اداس رکھتا ہے اپنی زمیں کا حال مجھے
تو ان خلاؤں کی تسخیر پر نہ ٹال مجھے

ارشد جاوید کے ہاں شعری منظر نامہ کسی محر ک کا ردِ عمل بنتاہے۔ وہ معروض کی جمالیات کا تابع رہنا پسند کرتا ہے۔ گو اُس کا جذباتی الاؤ اُسے اندروں بیں حسیت فراہم کرتا ہے مگر وہ باہر کے تلخ اور پُرآشوب تجربے کی پردہ پوشی نہیں کر پاتا۔ارشد جاوید کی غزلوں کا یہ حوالہ بنیادی نوعیت کا ہے۔ ارشد کے ہاں صرف بغاوت کا لاوابہتا نظر نہیں آتاہے بلکہ وہ ردِ تشکیل کے دوران تعمیر کی خاکہ سازی بھی سامنے رکھتا ہے۔ عموماً سماج کے سیاسی مدوجزرکا شکارہونے والے شاعر جزوقتی اظہار ہی کرپاتے ہیں۔ کھوکلے نعرے اوربیکار طرز کی جذباتیت اُن کا طرزِ اظہار بن جاتی ہے مگر ارشد جاوید کے ہاں اس انتشار کے اندر سے خوبصورت رومانی بیانیہ وقوع پذیر ہوتا ہے۔ ارشد جاوید کے ہاں غزل کی صنف کا کلاسیکی معیار غالب نہیں،وہ غزل کو اپنے جدید اظہار کا ایک تختہ مشق سمجھتا ہے اسی لیے وہ بعض جگہوں پر بہت سادہ اظہار کر جاتا ہے۔ کچھ اشعار میں توشعر کا بیانیہ غیر شعری جمالیات میں ڈھل گیا ہے جس پر کچھ احباب انھیں شاعری ہی نہیں مانتے۔ شاعر کچھ جگہوں پر اپنے بیان کی تشریح کے لیے خوداس میدان میں اترتا ہے تاکہ وہ اپنے نکتہ نظر کو مکمل خام حالت میں پیش کر سکے ایسا اظہار عموماً مضبوط نقطہ نظر رکھنے والوں کے ہی ہاں ملتا ہے۔ ارشد جاوید ایک مضبوط نکتہ نظر رکھنے والا شاعر ہے جو شاعری کو کسی جمال پسندجذبے کی تسکین کا شکار نہیں ہونے دیتا۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا اُس کا محرک معروض کی خواب بھری تشکیل ہے اسی لیے وہ ردِ تعمیر کے دوران اُس کی تعمیر کا بھی ساتھ سوچتا ہے۔

ارشد جاوید نے بہت کم لکھا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے آرٹ کی فنی تازگی کا ادراک نہیں کر سکے۔ ’’ذرا سی دھوپ‘‘ کا کلام جو بہت تھوڑا اور تقریباً چار دہائیوں پر مشتمل ہے۔ اس دوران غزل کے مروجہ سانچوں میں بے پناہ تبدیلیاں آچکی ہیں۔ کہنے کا انداز بھی بدل گیا۔ یہ اور بات کہ نسلِ نو کے مسائل جوں کے توں وہی ہیں جو کبھی ستر یا اسی کی نسل کو درپیش تھے۔ارشد جاوید کی نظم کا انداز پرانا ہونے کے باوجود نئی نظم کے بہت قریب ہے۔ اُن کی نظم کی تخلیقی بنت غزل سے زیادہ مضبوط ہے اور بیانیہ اپنی روانی میں کلاسیکی تاروپود کا محتاج نظر نہیں آتا۔ نظم کے اندر بھی کونٹینٹ حاوی ہے مگر اس کونٹینٹ کو نظم نے بہت نکھار کر پیش کیا ہے۔ ارشد جاوید چوں کہ کرافٹ کا شاعر نہیں اس لیے وہ اپنے کونٹینٹ کو نظم میں زیادہ سہولت سے پیش کرتے ہیں۔ موضوع کا بیانیہ بھی اپنے فنی بہاؤ میں نظم کے اندر زیادہ آسانی محسوس کرتا ہے۔شانتی نگر، چلڈرن وارڈ، آؤ واپس چلیں،سنو اے مشرقِ وسطیٰ،ہرے بھرے مرید، پیکس رومانہ سے پتایا بیچ تک،دوسرا پتھر،کالم نگار کے لیے نظم ٗٗ،ایسی نظمیں ہیں جو ارشد جاوید کے فنی و سیاسی موقف کا مکمل ابلاغ کرتی ہیں۔ ان نظموں کے کئی جملے فیصل آباد کے شاعروں کے لیے ضربِ المثل بن چکے ہیں۔ ’’دوست کے نام خط‘‘ اور ’’ایک عدالتی فیصلہ آنے پر‘‘ دو ایسی نظمیں ہیں جو ارشد جاوید کو اپنے معروض کے سیاسی حالات کا نباض دکھاتی ہیں۔ ارشد جاوید ان نظموں میں سماج اور اُس کے مروجہ قوانین کی بے بسی اور کمزوری پر طعنہ زن ہے۔’’چلڈرن وارڈ‘‘ اور’’ دوسرا پتھر‘‘ جیسی نظموں کا موضوع تانیثی (Feminist) ہے۔ ارشد جاوید ان نظموں میں سماج کے سب سے رومانوی منظر نامے کی تعمیر کا خواب بُنتے ہیں۔ عورت کی زبوں حالی اور اُس پر دُشنام طرازی کے سلسلہ ہائے بے جا پر وہ سیخ پا نظر آتے ہیں۔ یہ کتنی مختلف نظمیں ہیں جو عورت کے سماجی کردار پر سراپا احتجاج ہیں۔ عورت پر پتھر پھینکنے والے ہاتھ ارشد جاوید کی پھولوں بھری سیج کے سامنے شرمندہ ہیں:

’’سنو! اے مشرقِ وسطیٰ‘‘ کی چند لائنیں دیکھیں جو مسلمان معاشرے کی لاچارگی کادرماں بنی ہوئی ہیں:

رسولوں کی زمیں بے کار لوگوں کے لیے سونا اُگلتی ہے
تمھارے دست و بازو اس لیے حرکت نہیں کرتے
انھیں یورپ کی ٹھنڈی عورتوں نے باندھ رکھا ہے
تمھیں یہ زعم تھا زیتون کی گرمی سے ان کی برف پگھلے گی
تو تم کو راستہ دے گی
مگر ایسا نہیں ہوتا
یہ بچے باپ کے خانوں میں ماں کا نام لکھتے ہیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20