غامدی صاحب : میری ملاقاتیں اور خط و کتابت —- عبدالمجید گوندل

0

یہ سال ١٩٨٧تھا۔ روزنامہ نوائے وقت کے کالم نگاروں میں ایک غیر مانوس اور اجنبی سا نام جاوید احمد الغامدی سامنے آیا۔ شذرات کے جلی عنوان کے تحت مختلف عنوانات پر جاوید احمد الغامدی کے رشحات قلم زیر مطالعہ رہنے لگے۔ جوں جوں ان کا مطالعہ آگے بڑھا توں توں دلچسپی بڑھتی گئ۔ اور پھران کے شذرات کا انتظار رہنے لگا۔ یہاں تک کہ ان سے باالمشافہ ملاقات کی خواہش نے بھی دل میں کروٹ لی۔

١٩٨٧ کی دہائی کوئی ایک ڈیڑھ ماہ بعد ختم ہونے کو تھی کہ اضطراب شوق نے قلم برداشتہ اذن ملاقات کے لیے ایک خط لکھا اور ان کی خدمت میں ارسال کر دیا۔ اس خط میں انکے انداز بیان، مواد، اور اسلوب میں تازگی اور حسن کے اعتراف کے ساتھ ان سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔ اسکا جواب غامدی صاحب نے اپنی ہینڈ رائٹنگ میں دیا نیز میری خواہش کی پذیرائی اور حوصلہ افزائی محبت بھرے الفاظ میں کی اور جواب میں لکھا کہ

“آپ اگلے جمعہ (٢٩ نومبر ١٩٨٧ء) کو تشریف لے آئیں۔ میرے محلے میں جمعہ کی نماز سوا بجے ہوتی ہے۔ اس وقت سے پہلے ٩‘ ١٠ بجے آپ جب چاہیں آسکتے ہیں۔ دوپہر کا کھانا اگر ممکن ہو تو میرے ساتھ غریب خانے پر کھایے۔ اس پروگرام میں کوئی تبدیلی مقصود ہو تو از راہ کرم مطلع فرمائیں”۔

میں حسب پروگرام شوق ملاقات کے ہم رکاب اور رہنمائی میں جناب الغامدی صاحب کی رہائشگاہ پہنچ گیا۔ موصوف محبت سے ملے۔ جناب الغامدی صاحب سے میرا یہ پہلا آمنا سامنا تھا۔ انہیں میں نے بڑے شوق و ذوق سے دیکھا۔ با وقار شخصیت۔ خد و خال پہلی نظر میں ہی خوش نما۔ سر گھنے بالوں سے بھرا ہوا۔ پیشانی مرصع غزل کا مطلع، خوبصورت متجسس آنکھیں۔ ناک ستواں۔ کتابی چہرہ۔ ابو الکامی داڑھی۔ رنگ نکھرا نکھرا۔ بوٹا سا قد۔ سمارٹ بدن۔ جامہ زیبی‘ خوش ذوقی کا کنایہ۔ یہ تھے جناب جاوید الغامدی صاحب۔ ہم جہاں بیٹھے یہ ماہنامہ اشراق کا دفتر تھا۔ گفتگو کے دوران ان کی الماری میں موجود کتابوں پر نگاہ ڈالنے کا موقع بھی ملتا رہا۔ اس ملاقات کے دوران میں نے ان سے کچھ سوالات کئے جنکا تعلق انکی زبان دانی، مولانا مودودی سے انکا تعلق، انکی رہائش، ذرائع آمدن اور ان کی الماری میں موجود کتب وغیرہ سے تھا۔ میں نے کہا کہ آمدن کے بارہ میں آپ کے جواب سے دل مطمئن نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ زمیندارہ بھی ہے۔ اسکے بعد محلے کی مسجد میں نماز جمعہ ادا کی۔ واپسی پر دفتر کی جنوبی دیوار کی دوسری طرف واقع کمرے میں فرشی نشست ہوئ۔ وہیں جناب الغامدی صاحب ان کے بھانجے اور میں نے اکٹھے مل کر کھانا تناول کیا۔ واپسی سے پہلے انہوں نے مجھے اشراق کے چند شمارے عنایت کیے۔ پہلی بار مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک رسالہ بھی جاری کیے ہوئے ہیں۔ جناب الغامدی صاحب سے یہ میری پہلی ملاقات تھی۔ مجھے ان سے مل کر خوشی ملی تھی۔ ہر لحاظ سے یہ خوشگوار ملاقات مجھے آج تک یاد ہے اور ہمیشہ یاد رہے گی۔

روزنامہ نوائے وقت (٢٧-٤-١٩٨٨) میں جناب الغامدی صاحب کا ایک مضمون “وہ کبھی مغلوب نہیں ہوتے“ کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔

اس کے حوالے سے ایک خط میں نے نوائے وقت کو بھیجا تھا جو ٢٥-٦-١٩٨٨ کو “کیا رسول شہید نہیں کیے گئے؟“ کے زیر عنوان چھپا۔ اس کا مکمل متن نیچے درج کر رہا ہوں:

“مکرمی! محترم جناب جاوید احمد الغامدی صاحب اپنے مضمون ‘وہ کبھی مغلوب نہیں ہوتے‘ (نوائےوقت ٢٧۔ ٤۔ ٨٨) میں قرآن اور تورات سے انبیاء اور رسولوں کے بارے میں ایک امتیازی سنت الله بیان کرتے ہیں کہ انبیاء کو ان کی قومیں قتل کر سکتی ہیں جب کہ رسولوں کے معاملہ میں الله کا قانون مختلف ہے۔ یعنی رسول کو اس ظلم و تعدی سے صاف بچا لیا جاتا ہے۔ مگر سورہ آل عمران کی آیت نمبر ١٤٤ترجمہ ‘محمد ص اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں ان سے پہلے اور رسول بھی گزر چکے ہیں پھر کیا اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے۔“ میں ‘قتل کر دیے جائیں‘ الفاظ اس مبینہ اصول کی اصولی حیثیت کو مشتبہ کر رہے ہیں۔ قرآن نے یہاں ‘وہ مر جائیں‘ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ بالصراحت ‘یا قتل کر دیے جائیں‘ کو اس سے متصلا اور الگ سے ذکر کیا ہے۔ جس سے واضح ہے کہ رسول کا جس طرح فوت ہو جانا خلاف واقعہ نہیں اس طرح ان کا قتل ہونا بھی ان ہونی نہیں۔ علاوہ ازیں کسی بھی معتبر مفسر نے یہاں لفظ قتل کی تاویل و تعبیر نہیں کی بلکہ اس کے معنی قتل یا مارے جانے کے ہی لیے ہیں۔ انبیا کے مقابلے میں رسولوں کے باب میں اگر مستقل سنت الله وہی ہے جو جناب الغامدی صاحب نے بیان فرمائی ہے تو پھر آیت زیر نظر میں ‘وہ مر جائیں‘ اور ‘یا قتل کر دیے جائیں‘ کے ہر دو ممکنات کو رسول کی نسبت سے علیحدہ علیحدہ یکجا اور ایک ہی جیسے اسلوب میں بیان کرنے کا کیا مقصد ہے؟ اس آیت کی تفسیر میں محترم جناب امین احسن اصلاحی صاحب رقم طراز ہیں۔“ ان کے رسول ہونے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ یہ وفات نہیں پائیں گے یا قتل نہیں ہو سکتے۔“ امید ہے جناب الغامدی صاحب اس تعارض کو رفع فرمائیں گے؟
عبدالمجید گوندل پروپرائیٹر میاں فضل دین سنز چونیاں ضلع قصور“

ان دنوں میرا جب بھی لاہور جانا ہوا جناب الغامدی صاحب سے ملاقات کے لیے ان کی خدمت میں ضرور حاضر ہوتا۔ ایسا ہی ایک موقع ١٦-٩-١٩٨٨ کو میسر آ گیا۔ اس ملاقات کے دوران علامہ اقبال رحمتہ الله علیہ سے خواب میں ملاقات والے اپنے دو خواب ان کو سنائے۔ اس کے بعد ان کے مضمون ‘وہ کبھی مغلوب نہیں ہوتے‘ کے حوالے سے اپنے خط کا ذکر کیا جو نوائے وقت میں شائع ہو چکا تھا۔

جناب الغامدی صاحب نے فرمایا کہ تمہارا وہ خط نظر سے گزر چکا ہے۔ لیکن نوائے میں لکھنا بند کر دیا ہے۔ نوائے وقت کے ساتھ یہ طے ہوا تھا کہ وہ میرے مضامین ویسے ہی شائع کریں گے جیسے میں بھیجوں گا۔ میں ایک نظریاتی آدمی ہوں‘ میری بات پوری صحت کے ساتھ قلم لگائے بغیر شائع کی جائے گی۔ لیکن گذشتہ دو تین مواقع پر نوائے وقت نے اس معاہدہ کی خلاف ورزی‘ توجہ دلانے کے باوجود‘ جاری رکھی تو میں نے نوائے وقت سے سلسلہ منقطع کر دیا تھا۔ تمہارے خط کا جواب بھی اس وجہ سے مؤخر ہوا ہے۔ اب یہ جواب اشراق میں شائع ہو گا۔

ماہنامہ اشراق شمارہ اکتوبر ١٩٨٨ میں میرے خط کا درج ذیل جواب شائع ہوا :

“نوائے وقت کے ایک قاری نے رسولوں کے قتل سے متعلق میرے نقطہ نظر پر جو اعتراض کیا ہے‘ وہ غالبا صرف اس وجہ سے پیدا ہوا ہ مدعا اس باب میں ان پر پوری طرح واضح نہیں ہوسکا۔ رسولوں کے معاملے میں قتل کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ ان کی قوم دعوت اور اتمام حجت کے مرحلے ہی میں ان پر غلبہ پا کر انہیں قتل کرنے میں کامیابب ہو جائے۔ دوسری یہ کہ اپنی قوم پر حجت تمام کر دینے اور ہجرت و برات کے مراحل سے گزر جانے کے بعد جب رسول کا مشن پورا ہو جائے اور وہ زمین میں تمکن حاصل کر لے تو میدان جنگ میں یا کسی اور جگہ‘ مثال کے طور پر سیدنا عمر فاروق کی طرح مصلے پر نماز پڑھاتے ہوے وہ کسی شخص کے ہاتھ سے قتل ہو جائے۔ جہاں تک پہلی صورت کا تعلق ہے‘ تو قرآن مجید اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ کسی رسول کو اس طرح قتل نہیں کیا جا سکتا۔ اس باب میں الله کی یہ قطعی سنت ہے کہ اس کےرسول بہر حال اپنی قوم پر غالب رہتے ہیں۔ رہی دوسری صورت تو اس میں رسول کا قتل مغلوبانہ نہیں ہوتا۔ یہ در حقیقت موت کےاسباب میں سے ایک سبب ہے‘ اور قتل جس طرح دوسرے انسانوں کے لیے موت کا سبب بن سکتا ہے‘ اسی طرح رسولوں کے لیے بھی بن سکتا ہے۔ ہمارے معترض نے قرآن مجید کی جن آیات کا حوالہ دیا ہے‘ وہ دراصل اسی دوسری صورت سے متعلق ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اس وضاحت کے بعد وہ قرآن کی آیات اور میرے بیان میں انشاء الله کوئ تعارض محسوس نہ کریں گے۔“

حقیقت یہ ہے کہ جناب الغامدی صاحب کے اس جواب سے میں با لکل مطمئن نہ ہو سکا تھا۔ جو شخص بھی میرے مندرجہ بالا خط اور جناب الغامدی صاحب کے جواب کا تقابلی مطالعہ کرے گا۔ وہ یقینا میرے احساس کی حمایت کرے گا۔ میرا دعوی‘ نص قرآنی جو اپنے معنی و منشا میں سورج کی طرح روشن ہے‘ پر قائم ہے۔ (سورہ آل عمران آیت نمبر ١٤٤) لیکن جناب الغامدی صاحب اپنے مؤقف کی تائید میں مفروضوں پر مبنی طبعزاد کہانی پیش کرتے ہیں۔

اس آیت میں جناب رسالتمآب حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کو الله تعالی نے رسول فرمایا ہے۔ اس کے بعد الله تعالی رسولوں کے باب میں یہاں اپنا ایک قانون ایسے اسلوب میں بیان فرما رہا ہے جو ان کے حال اور ماضی دونوں زمانوں پر محیط ہے۔ فرمایا جیسے آپ رسول ہیں ایسے ہی آپ سے پہلے اور رسول بھی گزر چکے ہیں۔ ان کے ساتھ بھی ایسا ہو چکا ہے۔ ان میں سے طبعی وفات پانے والے بھی تھے اور ایسے بھی

تھے جنہیں ان کی قوموں نے قتل کیا۔ اس اصول کو پوری صراحت سے بیان کر دینے کے بعد اب مسلمانوں کو مزید کھول کر متنبہ کر دیا کہ اگر وہ (حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم) مر جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟ جناب الغامدی صاحب کے موقف کو غلط ثابت کرنے کے لیے قرآن مجید کی ایک یہی آیت برہان قاطع ہے۔

( امید ہے یہاں لفظ رسول کی تاویل لفظ نبی سے کرنے کا حوصلہ شاید جناب الغامدی صاحب بھی نہ کرسکیں)

جناب الغامدی صاحب کے زیر نظر مضمون کا عنوان ہے ‘وہ کبھی مغلوب نہیں ہوتے‘۔

قرآن مجید میں حضرت نوح علیہ السلام اپنے پروردگار کے حضور فریاد کر رہے ہیں : فدعا ربہ‘ انی مغلوب فانتصر ( سورہ القمر آیت نمبر ١٠) ترجمہ : ‘پس اس نے اپنے رب کو پکارا کہ میں مغلوب ہو گیا پس تو ان سے انتقام لے۔

اتفاق سے اسی مہینے میں اس موضوع پر ‘کیا کوئی رسول کبھی قتل نہیں ہوا؟‘ کے عنوان سے ترجمان القرآن میں بھی ایک مضمون شائع ہوا تھا۔ مصنف نے جناب الغامدی صاحب کی رائے کو قرآن کی روشنی میں نہ صرف غلط قراردیا تھا بلکہ وہ آیات بھی پیش کیں جن میں رسولوں کے قتل کیے جانے کا ذکر صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ جناب الغامدی صاحب کی رائے جاننے کے لیے میں نے ایک خط میں ان کی توجہ اس مضمون کی طرف دلائی تھی۔ مگر انہوں نے کوئی جواب دینا مناسب نہ سمجھا تھا۔ اس سے قبل میرا خیال تھا کہ جناب الغامدی صاحب کے جواب سے جو مزید نئے سوالات پیدا ہوے تھے ان میں رہنمائی کے لیے انہیں خط لکھوں گا۔ لیکن ایسا کرنے میں میرا یہ احساس مضمحل سا ہونے لگا جب میں نے دیکھا کہ انہوں نے ترجمان القرآن میں شائع ہونے والے مضمون کو درخور اعتناء نہیں سمجھا۔ در آنحالیکہ ان دنوں اپنے اوپر ہونے والی تنقید یا اختلاف رائے پر وہ بڑی مستعدی سے دفاعی پوزیشن سنبھال لیتے تھے۔ ان سے قوی توقع تھی کہ زیر حوالہ مضمون پر اشراق میں ضرور تبصرہ فرمائیں گے۔ لیکن جب ایسا کچھ بھی نہ ہوا تو ان کے خط میں دی گئ وضاحتوں پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کرنے کا جو میں ارادہ باندھ رہا تھا‘ اسے ترک کر دیا۔

مولانا محمد اسحق فیصل آبادی رحمتہ الله علیہ نے ایک وڈیو میں بتایا تھا کہ انہوں نے جناب الغامدی صاحب کی اس طرف توجہ دلائ تھی اور موصوف نے اپنی رائے پر نظر ثانی کا عندیہ ظاہر کیا تھا۔ اس بات پر بھی اب کئ سال بیت چکے ہیں۔ قرائن بتاتے ہیں کہ جناب الغامدی صاحب ابھی تک اپنی رائے ‘رسول شہید نہیں کیے گئے‘ پر قائم ہیں۔

دس فروری ١٩٨٩کو صبح چار بجے کی بس میں لاہور کے لیے روانہ ہوا۔ اب کے لاہور جانے کا واحد مقصد محترم مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کو دیکھنے کی آرزو تھی۔ اس کی تقریب یوں میسر آئی کہ ان دنوں مولانا فاضلیہ کالونی میں درس قرآن دے رہے تھے۔ آٹھ بجے کے قریب ماڈل ٹاؤن محترم الغامدی صاحب کے ہاں پہنچ گیا تھا۔ یہاں دو اجنبی حضرات بھی موجود تھے۔ دونوں سے نام کی حد تک تعارف ہوا۔ خالد ظہیر اور نجمی۔ پروگرام یہ بنا کہ خالد ظہیر صاحب مجھے اپنی کار میں مولانا اصلاحی صاحب کے درس میں پہنچا دیں گے۔

خالد ظہیر صاحب نے گاڑی میں اپنی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور میں ان کے برابر والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ راستے میں گفتگو کے دوران خالد ظہیر صاحب نے بغیر کسی تمہید اور پس منظر بیان کئے فرمایا کہ جماعت اسلامی نے اپنا اصل کام دعوت دین چھوڑ کر سیاست میں حصہ لینے کی سخت غلطی کی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جماعت اسلامی فکر مودودی کی فالور ہے جو ہر پہلو سے غلط ہے۔ اس کے بجائے استاذ الغامدی جو موقف پیش کرتے ہیں وہ ہر لحاظ سے صحیح ہے۔ استاذ جناب الغامدی صاحب کہتے ہیں کہ دینی جماعتوں کو سیاست سے دور رہنا چاہیے۔ سلف کے آئمہ دین کا یہی طریقہ تھا۔ وہ کبھی شریک اقتدار ہوے نہ ہی انہوں نے اقتدار حاصل کر نے کے لیے کبھی تگ و دو کی۔ اس دور میں پہلی دفعہ مولانا مودودی نے فریضہ اقامت دین کے عنوان سے سیاست میں حصہ لینے کی یہ ایک نئی طرح ڈالی ہے۔

اتنی دیر میں ہم اپنی منزل کے قرب و جوار میں پہنچ چکے تھے۔ خالد ظہیر صاحب نے ایک جگہ گاڑی کھڑی کی اور ہم پیدل چلنے لگے۔ اس دوران میں انہوں نے مجھے انگریزی میں ٹائپ شدہ دو عدد اوراق مطالعہ کے لیے دیے۔ خالد ظہیر صاحب چلتے چلتے رکے۔ میں بھی رک گیا۔ وہ میرے با لمقابل کھژے ہوے اور کہا کہ “ہم مولانا مودودی کو خادم دین سمجھے تھے وہ تو ہادم دین نکلے“۔

خالد ظہیر صاحب نے ابھی تک جماعت اسلامی کی سیاسی پالیسی کے حوالے سے اپنے استاذ الغامدی کے خیالات بیان کیے تھے اور اب آخر میں بطور اتمام حجت خود مولانا سید ابوالاعلی مودودی کے بارے میں ان کے استاد گرامی القدر کیا رائے رکھتے تھے وہ بھی خالد ظہیر صاحب نے لفظ بلفظ بیان کر دی۔

انیس سو اٹھاون میں پہلی بار محترم مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کا نام اس وقت سنا تھا جب وہ ہمارے شہر میں تشریف لائے تھے۔ اس کے کوئ دو ایک سال بعد اتنا یاد پڑتا ہے کہ ایک دوکتابوں پر بحیثیت مصنف ان کا نام دیکھنے میں آیا۔ اس تکرار سے بس اتنا ہی ہوا کہ یہ نام ذہن میں محفوظ ہو گیا تھا۔ سترویں دھائی کے پہلےنصف کے دوران میں کسی وقت ان کی کتاب ‘مبادیئ تدبر قرآن‘ پڑھنے کا موقع ملا تھا۔ یہ موضوع میری دلچسپی کا تھا۔ مجھے یہ کتاب پسند آئی چونکہ قرآن فہمی کے لیے غور و تدبر کے نئے زاویے پہلی دفعہ اس کتاب نے متعارف کرائے۔ اس کے بعد ان کی دوسری کتاب ‘مبادیئ تدبر حدیث‘ بھی ان کی قابل قدر کاوش لگی۔ ان دو کتابوں کے ذریعے مولانا کے فکر و نظر سے متعارف بھی ہوا اور ان کا گرویدہ بھی۔ پھر یہ بھی معلوم ہوا کہ مولانا محترم ‘تدبر قرآن‘ کے نام سے قرآن مجید کی تفسیر لکھ رہے ہیں۔ سال انیس سو چوہتر میں تدبر قرآن کی پہلی تین جلدیں‘ ایک مبادی تدبر قرآن اور کتاب حقیقت دین میں نے انتیس دسمبر کو خرید لی تھیں۔ ۔ پھر میری یہ خواہش رہی کہ ہر جلد کا پہلا ایڈیشن خرید سکوں۔ ایسا التزام تو ممکن نہ ہوا۔ لیکن الله تعالی کا شکر ہے کہ تدبر قرآن کی نو کی نو جلدیں اپنے پاس دیکھنے کی خوشی عطا فرما دی۔ الله تعالی کی خاص عنایت ہے کہ محترم مولانا کو تدبر قرآن کی ہزاروں صفحات پر پھیلی نو ضخیم جلدوں میں قرآن مجید کی مکمل تفسیر لکھنے کی سعادت اور توفیق ارزانی کی۔ اور میں کس منہ سے الله تعالی کے فضل و کرم کا شکر ادا کروں کہ جس نے مجھ ایسے گناہ گار اور ناکردہ کار تمنائ کے لیے اس سامان شوق کی قراہمی اور اس سے متمتع ہونے کا موقع عطا فرمایا۔

مولانا محترم سے اب تک غائبانہ تعارف رہا تھا۔ تدبر قرآن کے مطالعہ سے ان کی علمی شخصیت سے ایسا تعلق خاطر قائم ہوا جو برابر پختہ سے پختہ تر ہوتا گیا۔ جسے جذبہ محبت سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

اگر اس میں کوئی کمی محسوس ہوتی رہی تو وہ انہیں دیکھنے کی تشنہ کام آرزو تھی۔ اور آج یہ تمنا بھی بر آئی۔

خالد ظہیر صاحب کی بتائی ہوئی کوٹھی میں داخل ہو کر درس قرآن کی مجلس میں شریک ہو گیا۔

درس قرآن جاری تھا۔ محترم مولانا اصلاحی صاحب کرسی پر جلوہ افروز تھے۔ سامعین کی نشست فرشی تھی۔ حاضرین کی تعداد کم و بیش پچیس تیس کے لگ بھگ ہو گی۔

محترم مولانا اصلاحی صاحب کو دیکھنے کا یہ پہلا موقع تھا۔ انہیں‘ اک فرصت نگاہ میں سو بار دیکھنا‘ کے شوق و انہماک سے جی بھر کے دیکھا کیا۔ درس قرآن سنا ضرور لیکن کوئی خاص توجہ سے نہیں۔ مجھے انہیں دیکھنے کا اشتیاق تھا۔ تمام وقت میں اسی کام میں رہا۔ ان کا متشرع چہرہ علم و فضل کا حسین مرقع تھا۔ انہوں نے سفید رنگ کا اجلا اجلا لباس پہنا ہوا تھا۔ ان کی سادہ لباسی جاذب نظر اور پاکیزہ پاکیزہ لگی۔

اس روز انہوں نے سورہ النحل کی چند آیات کا درس دیا تھا۔

درس قرآن کے دوران انہوں نے ایک موقع پر فرمایا کہ وہ ابن تیمیہ (رحمتہ الله علیہ) کے مداح ہیں۔

گزشتہ روز قومی اسمبلی میں ایک شخص سٹک گن کے ساتھ داخل ہوتے وقت گرفتار ہو گیا تھا۔ محترم اصلاحی صاحب نے اس واقعہ کے حوالے سے فرمایا کہ انسان اپنی تمامتر تدابیر کے باوجود بے بس ہے۔

درس قرآن ختم ہوا۔ تھوڑے سے توقف کے بعد محترم اصلاحی صاحب اپنی نشست سے اٹھے تو ہم سب لوگ بھی کھڑے ہو گئے۔ مولانا احباب کے جلو میں‘ ان کے پاس خاطر میں کبھی رکتے کبھی ایک آدھ قدم بڑھا لیتے۔ اتنی دیر میں ہمارے علاقے کے میرے ایک آشنا مولانا سے ہم کلام ہوے۔ کسی صاحب نے محسوس کیا کہ گفتگو طویل ہوتی جا رہی تھی اور محترم اصلاحی صاحب ان صاحب سے کھڑے کھڑے بات کر رہے ہیں تو اس نے بڑی مستعدی اور سعادتمندی سے کرسی لا کر پیش کر دی۔ مولانا اس پر بیٹھ گئے۔ میں بھی ان کے قریب ہی کھڑا ہو گیا۔ معلوم ہوا کہ وہ صاحب محدث مبارکپوری پر مقالہ لکھ رہے ہیں۔ چونکہ محترم اصلاحی صاحب حدیث میں ان کے شاگرد رہے تھے لہذا وہ محدث مبارکپوری کے بارے میں ان سے معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے۔ محترم اصلاحی صاحب فرما رہے تھے کہ انہیں ان کے بارے میں کچھ زیادہ معلوم نہیں۔ مولانا اصلاحی صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ ان کے ساتھ تعلق کی یادیں تو اب بہت کچھ حافظے سے محو ہو گئ ہیں۔ البتہ انہوں نے دو تین واقعات ایسے ضرور بیان فرمائے جن کا تعلق تعلیم و تعلم سے تھا۔ ان کا بحیثیت شاگرد‘ جیسا کہ ان کے انداز گفٹگو سے مجھے اس وقت محسوس ہوا تھا کہ اپنے استاد سے تعلق بہر طور تواضع کے بجائے جیسے وضع دارانہ سا رہا۔ ہو سکتا ہے میرا یہ خیال بالکل غلط اور میری اپنی کم فہمی کا نتیجہ ہو۔ لیکن جیسا میں نے اس وقت محسوس کیا تھا اپنا وہ تاتر یہاں بیان کر دیا ہے۔

یہاں سے فارغ ہو کر میں سیدھا مولانا سید ابو الاعلی مودودی رحمتہ الله علیہ کی کوٹھی دیکھنے‘ جو کہ قریب میں ہی واقع تھی‘ چلا آیا۔ یہاں انکے صاحبزادے سید حیدر فاروق مودودی موجود تھے۔ ان سے یہ میری پہلی ملاقات تھی۔ لیکن انہوں نے اجنبیت کا احساس نہیں ہونے دیا۔ ہم گھنٹہ ڈیڑھ باتیں کرتے رہے۔ انہوں نے محبت اور پیار بھری رفاقت دی۔ بڑی توجہ سے میری باتیں سنتے اور اپنے خیالات اپنائیت سے میرے ساتھ شیئر کرتے رہے۔ ان میں تکلف نام کی کوئ بات نہیں تھیں۔ گفتگو زیادہ تر علمی اور ادبی موضوعات پر رہی۔ ایک موقع پر انہوں نے پوچھا۔ لکھنے لکھانے کا شوق ہے؟ میں نے عرض کیا۔ شوق تو ہے لیکن باقاعدہ نہیں۔ کبھی طبیعت مائل ہوئ تو لمحاتی سوچ یا خیال یا کبھی پسندیدہ موضوع پر قلم برداشتہ کچھ لکھ لیا۔ ایسی بہت سی متفرق اور نا تمام کوششیں اوراق پریشاں کی صورت میرے پاس موجود ہیں۔ اس پر انہوں نے جواہر لعل نہرو کا یہ واقعہ سنایا:

نہرو ایک دفعہ قید ہو گئے۔ جیل سے انہوں نے اپنے گھر والوں کو پیغام بھیجا کہ گھر میں جو دو تین بوریاں جن میں میرے کاغذات ہیں مجھے یہاں جیل میں بجھوا دیں۔ نہرو کہتے ہیں کہ جیل میں میسر فرصت اور بوریوں کے کاغذات کی بدولت دو تین کتابیں مرتب ہو گئیں۔ تم بھی اپنے اوراق پریشاں سے ایک آدھ کتاب تو نکال ہی سکتے ہو۔ ان کے یہ الفاظ میرے لیے ان کی محبت کے مظہر تھے۔ مجھے دلی خوشی ہوئ۔ شستہ زبان کی دلاویزیوں اور محبت سے لبریز ان کی باتوں میں گلوں کی خوشبو تھی۔ اپنائیت سے مہکتی یہ ملاقات‘ ایک خوبصورت یاد کی طرح میرے دل میں ہمیشہ تازہ رہے گی۔

وہ آئے بھی اور گئے بھی کب کے‘ نظر میں اب تک سما رہے ہیں
یہ چل رہے ہیں ‘ وہ پھر رہے ہیں‘ وہ آ رہے ہیں‘ یہ جا رہے ہیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20