گہری اخلاقیات: صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے کی طویل المیعاد جستجو — Simon Beard

0

Deep ethics: The long-term quest to decide right from wrong: By Simon Beard

مصنف Simon Beard فلسفہ اخلاق میں پی ایچ ڈی ہیں، کیمبرج یونیورسٹی کے شعبہ Study of Existential Risk کے Postdoctoral محقق ہیں، انکی تحقیق، نئی ٹیکنالوجی کی ترقی سے وابستہ خطرات کا اندازہ لگانے میں اخلاقی چیلنجوں کی جانچ کرتی ہے۔ ترجمہ و تلخیص: وحید مراد


(کیا دنیا کبھی مشترکہ اخلاقی اصولوں پر اتفاق کرلے گی؟ لوگ صدیوں سے بحثیں کر رہے ہیں مگر ابھی تک کسی نتیجے پر پہنچتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے)

برطانیہ کے ایک ٹی وی سیریز The Good Place میں متروک فلسفے کا ایک Chidi نامی پروفیسر، کسی دوسری دنیا کے غیر مہذب لوگوں کو اچھا انسان بننے میں مدد کرنے کیلئے، کچھ ایسے “مسئلے” دیتا ہے جن کو حل کرنے کیلئے فلسفی پریشان ہوتے ہیں۔ اس مسائل نامے میں کلاسیکل فلسفہ اخلاق کا ایک مسئلہ شامل ہوتا ہے جسے فلسفی “ٹریکٹر ٹرالی پرابلم” کا نام دیتے ہیں۔ یہ مسئلہ کچھ اسطرح کا ہے کہ “آپ تصور کریں کہ آپ ایک ٹریکٹر ٹرالی چلا رہے ہیں اور اسکے بریک فیل ہو جاتے ہیں اور اچانک آپ کی نظر ان پانچ مزدورں پر پڑتی ہے جو اسکے بالکل سامنے، اسکی زد میں آنے والے ہوتے ہیں، آپ فوراً اسٹیرنگ گھما کر ٹرالی کو دوسرے راستے پر ڈالنے کی کوشش کرتےہیں لیکن اسی اثنا میں آپ کو اس دوسرےراستے پر بھی ایک آدمی نظر آتا ہے جس کا اب کچلا جانا یقینی ہوتا ہے، اب اس صورتحال میں آپ بتائیں آپ کیا کریں گے؟” بدقسمتی سے اس ٹرالی چلانے والے آدمی کیلئے جسکی بریکیں فیل ہو چکی ہوتی ہیں اور وہ ایک آدمی کو کچلنے والا ہوتا ہے، اور اسکی سمجھ میں نہیں آرہا ہوتا ہے کہ کیا کرے، اسکے لئے Chidi کی ساری کوششیں خاصی کمزور ثابت ہوتی ہیں۔ اس ٹی وی شو نے اس بات کی نشاندہی کی ہےکہ جو لوگ اخلاقیات کا مطالعہ کرتے ہیں وہ Chidi کی طرح زیادہ تر فرضی صورتحال کے بارے میں ہی سوچتے ہیں اور اسکا حل نکالتے ہیں لیکن عملی طور پر اس بات کیلئے تیار نہیں ہوتے کہ مذکورہ ٹریکٹر ٹرالی یا اس سے ملتی جلتی صورتحال میں کیا فیصلہ کریں جو اخلاقی طور پر درست بھی ہو؟ اسی ٹی وی سیزیز کا ایک دوسرا کردار “مائیکل” اس پر یہ کہتا ہے کہ “یہی تو بات ہے جس کی وجہ سے ہر کوئی فلسفہ اخلاق کے پروفیسروں سے نفرت کرتا ہے۔ ۔ ۔ کیونکہ انکا فلسفہ تو بس خالی خولی نظریہ ہوتا ہے اور بس۔ ۔ ۔ اور اس بات سے یہ لوگ خود بھی واقف ہیں”۔ ۔ ۔ ۔ لیکن پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر لوگ اخلاقیات کا مطالعہ کیوں کرتے ہیں؟ یا اسکے درس کیوں دیتے ہیں؟ شاید اخلاقیات کے شوقین لوگوں کیلئے یہ جواب خوش کن ہو کہ “وہ بہتر لوگ بننا چاہتے ہیں” لیکن اس جواب سے بات بنتی نہیں ہے، کیونکہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اخلاقیات کا کورس مکمل کرکے یا اخلاقیات کے کچھ دروس لیکر آپ اچھے انسان بن جائیں گے تو شاید یہ آپ کی بھول ہے۔

لیکن اس کے باوجود ہمارا، اس بات پر یقین ہے کہ اخلاقی اصولوں کی دریافت کی سعی بہت قابل قدر چیز ہے خواہ لوگ اسکو صرف نظریاتی طور پر ہی قبول کرتے ہوں۔ یہ سعی صرف اس لئے قابل قدر نہیں ہے کہ یہ اخلاقی اصول یہ واضح کرتے ہیں کہ ہمیں کس طرح عمل کرنا چاہیے بلکہ اسکی اصل وجہ یہ ہے کہ ان اصولوں کے مطالعہ سے ہمیں اپنے آپ کو اور اپنے معاشروں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہ یہ اصول ہمیں اکیسویں صدی کے اہم مسائل مثلاً موسمیاتی تبدیلیوں سے لیکر مصنوعی ذہانت Artificial Intelligence تک اور کئی دیگر مسائل سے نبٹنے کیلئے تیار کر سکیں۔

اخلاقی اصولوں کو یکجا کرنے کی جستجو ایک ایسی چیز ہے جس کے حصول کی کوشش صدیوں سے ہو رہی ہے اور بے شمار فلسفی اس پر کام کرتے رہے ہیں۔ یہ جاننے کیلئے کہ اخلاقیات ہمارے مستقبل کی تشکیل کس طرح کرتی ہے؟ ہمیں معاشروں میں قانون کے ظہور سے لیکر گزشتہ دس ہزار سال تک کی انسانی تاریخ کے دائرہ کار کو دیکھنا پڑے گا۔ ہمارا صحیح اور غلط کا تصور اور اسکا احساس ایک طویل سفر طے کرکے یہاں تک پہنچا ہے لہذا یہ ہمیں خوش اخلاقی اور اخلاقیات کے فرق کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ خوش اخلاقی ایک شخص کا انفرادی جذبہ، احساس یا بدیہی میلا ن ہوتا ہے جس کے تحت وہ دوسروں کے ساتھ مختلف معاملات میں پیش آتا ہے۔ یہ جذبہ اور احساس، سینکڑوں اور ہزاروں سالوں سے موجود ہے اور شاید انسان کے علاوہ دوسری مخلوقات میں بھی پایا جاتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف اخلاقیات، کچھ اصولوں کے باضابطہ مجموعے کا نام ہے جو اس سچائی کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں کہ لوگوں کو مختلف معاملات میں کیسے پیش آنا چاہیے۔ جیسے تقریباً ہر شخص میں یہ شدید اخلاقی احساس پایا جاتا ہے کہ کسی انسان کا قتل کیا جانا غلط ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ فلاسفہ اخلاقیات نے طویل عرصے سے یہ سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ قتل کیوں غلط ہے؟ اور کن حالات میں (جنگ، سزائے موت وغیرہ) یہ جائز عمل ہے۔ اگر انسانوں کا ایک گروہ، قبیلے یا مختصر جماعت کی شکل میں اس طرح زندگی گزار رہا ہوکہ دنیا کے دیگر قبائل یا گروہوں کے ساتھ اس قبیلے کے افراد کا براہ راست کوئی تعلق نہ ہو، تو یہ قدرتی اخلاقی احساس (کہ انسان کا قتل کر دیا جانا ایک غلط عمل ہے) انکو اس گروہ کے اندر ایک دوسرے سے جوڑے رکھنے کیلئے کافی ہے۔ تاہم ہماری تاریخ میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ انسانی معاشرے اتنے بڑے اور پیچیدہ ہو گئے کہ تنظیم کے نئے اصولوں کی ضرورت پیش آئی۔ بنیادی طورپر، تنظیم کے یہ اصول، ممکنہ طور پر ہمارے پہلے سے موجود جذبات اور وجدان کی حفاظت اور پشتہ بندی کرتے ہیں۔ کسی مافوق الفطرت ہستی سے رجوع اور تعلق، ایک بڑےقبیلے یا گروہ کے مختلف ذیلی گروہوں یا خاندانوں کو آپس میں جوڑ کر رکھتا ہے اور ایک مشترکہ دشمن کی موجودگی کا احساس اور شناخت، ان خاندانوں کے نوجوانوں کو آپس میں گتھم گتھا ہونے سے بچاتی ہے۔ تاہم فطری دبائو کے تحت بننے والے اخلاقی اصول اس وقت غیر مستحکم ثابت ہوگئے جب مستحکم ریاستوں کے قیام کے بعد مزید پائیدار اخلاقی اصولوں کی تائید کرنے والی کوششوں کا آغاز ہوا۔ محکمہ آثار قدیمہ کو ملنے والے ابتدائی تحریری نمونوں سے ہم اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس زمانے میں کونسے اخلاقی اصول و ضوابط کو قابل اعتنا ء سمجھا جاتا تھا۔ مثال کے طور پر اٹھارویں صدی قبل مسیح میں، بابل میں لکھے جانے والے حمورابی قوانین و ضوابط جو اس حوالے سے اپنے مصنف کی نیت اور ارادے کا واضح اظہار ہیں : ” ملک میں راستبازی کی حکمرانی لانا، شریروں اور بدکاروں کو ختم کرنا میرا فرض ہے تاکہ کوئی طاقتور کسی کمزور کو نقصان نہ پہنچا سکے اور تاکہ میں بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کیلئے اس سرزمیں کو مزید روشن کر سکوں”

اگرچہ مذکورہ قانون و ضوابط، مصنف کے جس ارادے کو ظاہر کرتے ہیں وہ قابل ستائش ہے، اور ہمارے فطری احساس عدل کااظہار ہے۔ لیکن اس طرح کے قوائد و ضوابط کی بنیاد، اخلاقی ترقی کا وہ ارتقائی عمل ہے جسکے تحت وہ صحیح اور غلط کے فیصلوں پر اعتراض کرتے ہیں اوران فیصلوں کو صرف ذاتی رائے تک محدود نہیں رہنے دیتے اسی لئے اس طرح کے قانون و ضوابط کے تحت قائم ہونے والی حکمرانی نے نہ صرف شہریوں کو بادشاہ کی فرمانبرداری کا پابند بنایا بلکہ بادشاہوں کو بھی پابند کیا کہ وہ اپنے بنائے ہوئے قوائد و ضوابط پر عمل کریں اوران قوانین کامستقل اور شفاف طریقے سے نفاذ کریں۔ حمورابی کے قوانین ، دنیا میں قبول کئے جانے والےسب سے پہلے، آفاقی اخلاقی اصول تناسب، کی بنیاد بھی فراہم کرتے ہیں ، خاص طور پر جب وہ یہ حکم صادر کرتے ہیں کہ “جب کسی شخص کی آنکھ نکالی جائے گی تو قانون اسکے بدلے میں اسے اس بات کی اجازت دے گا کہ وہ دوسرے شخص کی آنکھ نکالے، اور جب ایک شخص کی ہڈی توڑی جائے گی تو قانون اسکے بدلے میں اسکو اجازت دے گا کہ وہ دوسرے شخص کی ہڈی توڑ سکتا ہے” تاہم عام طور پر یہ اخلاقی اصولوں کی بجائے محض قوانین کی ہی ایک فہرست ہے جو اسکے عالمگیر ارادوں کی بجائے محض عدم مساوات اور فیصلوں کی موضوعیت کا احساس دلاتی ہے۔ جیسے مثال کے طور پر مذکورہ بالا قوانین صرف ان حضرات تک پہنچائے گئے جو جائیداد کے مالک تھے، اور یہ قوانین ان چند دیگر غیر انسانی قوانین کے ساتھ جاری رہے جو عورتوں کے بھی انسان ہونے کی حیثیت کے ہی خلاف ہیں۔ مثلاً اگر کوئی مرد، کسی دوسرے شخص کی بیوی کی ہلاکت کا سبب بن جائے تو اسکے بدلے میں موت کی سزا، مذکورہ شخص کی بیٹی کو دی جائے وغیرہ۔

قیاس ہے کہ پہلے اخلاقی نظریات کو ابھرنے میں قبل مسیح میں ایک ہزار سال کا وقت لگا اور اس دور کو محوری دور Axial Age کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس دور میں یونان، اسرائیل، ہندوستان، اور چین میں فلسفیانہ اور مذہبی تحریکیں اٹھیں جنہوں نے بعد میں دنیا میں عروج اور غلبہ صل کیا۔ ان تحریکوں میں جہاں بہت سے نکات میں مشابہت پائی جاتی ہے وہاں بہت سے امور میں اختلافات بھی ہیں۔ اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ ان مختلف تہذیبوں کے ایک دوسرے کے ساتھ نہ صرف تجارتی روابط تھے بلکہ انہوں نے باہم مل جل کر ان مسائل کو بھی حل کرنے کی کوشش کی جو سب کے ہاں یکساں تھے جیسے کوئی معاشرہ، عالمگیر اور آفاقی طور پر قابل قبول، اخلاقیات اورتنظیم کے اصول کس طرح تشکیل دیتا ہے۔ ان تمام تحریکیوں میں ایک نکتہ مشرک “اخلاق کا سنہرا اصول Golden Rule” ہے۔ جسے برابری کے متبادل اصول Principle of reciprocity کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ اصول یہ ہے کہ “وہ کام کرنے سے گریز کریں جو آپ دوسروں کو کرنے کا الزام لگاتے ہیں”۔ Thales of Miletus بھی یہی کہتےہیں کہ “جو چیز آپ کیلئے ناگوار ہے اسے اپنے دوست کیلئے بھی گوارا مت کرو” یعنی اپنے دوست یا بھائی کیلئے بھی وہی پسند کرو جو آپ اپنے لئے پسند کرتے ہو۔ اسی طرح کا بیان تورات اور تالمود میں بھی وضاحت کے ساتھ آیا ہے۔ یہی اصول ذرا سے مختلف الفاظ کے ساتھ اس زمانے کی ہندوستانی اورچینی تہذیب میں بھی ملتا ہے۔ اس سنہری اصول کو تمام مختلف تہذیبوں میں پائی جانی والی فلسفیانہ تحریکوں نے اس قدر بنیادی اہمیت کے ساتھ برقرار رکھا کہ اس اصول کی سادگی اور سچائی اور اہمیت اسکے بنیادی ثبوت کی عکاسی کرتے ہیں۔ اوراس سے واضح ہوتا ہے کہ اس اصول میں واضح طور پر ایسی بات کہی گئ ہےجو یہ بتاتی ہے کہ ہمیں کس طرح زندہ رہنا چاہے۔ بدقسمتی سے انسانی زندگی کے بہت سے دوسرے پہلو بھی ہیں جنکے بارے میں یہ سنہری اصول کچھ نہیں کہتا اور جو کچھ یہ کہتا ہے اس کا بھی معروضی طور پراطلاق بہت مشکل ہے کیونکہ یہ صرف یہ بتاتا ہے کہ ہمیں دوسروں کے ساتھ اپنے احساسات کی نسبت سے کیسا برتائو کرنا چاہیے کہ وہ بھی ہمارے ساتھ اسی قسم کا برتائو کریں۔ اور فرض کریں ہم اس بات پر غور کر رہےہیں کہ مجرموں کے ساتھ کیسا برتائو ہونا چاہیے؟اب اگر ہم نے خود کبھی جرم کا ارتکا ب نہ کیا ہو تو ہم یہ کیسے تصور اور توقع کر سکتے ہیں کہ مجرم کے ساتھ کیسا برتائو ہونا چاہے تاکہ بعد میں ہمارے ساتھ بھی جرم کرنے کی صورت میں بالکل ویسا ہی برتائو کیا جاسکے؟ اسکا مطلب یہ ہے کہ ہم اس قسم کی باتیں سوچنے اور یقین کرنے کیلئے آزاد ہوتے ہیں کہ اگر میں مجرم ہوتا تو مجھے سخت سزا دی جانے کی توقع کی جا سکتی تھی اور یہی وجہ ہے کہ ہم مجرموں کو اپنے جیسا انسان سمجھنے یا انکے ساتھ انسانی سلوک روا رکھنے میں تساہل سے کام لیتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے اس قسم کے استدلال کی وجہ سے سنہرا اصول ، دولت مند طبقے اور اشرافیہ کیلئے، غریبوں، ناداروں، معمولی قسم کے مجرموں، فوجی مجرموں اور کمزور اصناف جیسے عورتوں، بچوں وغیرہ کے خلاف انسانیت سوز سلوک روا رکھے جانے کیلئے ایک جواز اور ڈھال کا کام کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محور ی دور Axial Ageکے فلاسفہ نے، اخلاقیات کے ایک جامع ضابطہ اخلاق کے ساتھ مذکورہ سنہری اصول کی تکمیل کی اور اسے مختلف طریقوں سے بڑھاوا دیا۔ ان فلاسفہ میں سے کچھ کے نظریات، خاص طور پر یورپ میں ، اخلاقی جج (حکمران، دیوتا یا عقلمند انسان) کے اختیارات پر زور دیتے ہیں، دوسرے نظریات مثلاٍ کنفیوشس ازم میں معاشرتی نظم و ضبط کے استحکام اور مختلف لوگوں میں تعلقات کی ہم آہنگی پر زور دیتےہیں، کچھ دوسرے نظریات انسانی فطرت کی بات کرتے ہیں اور انکا استدلال یہ ہے کہ انسان اس کائنات میں ایک خاص کردار ادا کرتا ہے اور اس لئے ہمیں اس بات پر زور دینا چاہیےکہ یہ کردار صحیح طریقے سے نبھایا جائے۔ یہ نظریات ہمارے روزمرہ کے اخلاقی کردار اور رویوں کیلئے جواز فراہم کرتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے یہ اصول بھی اکثر، غیر معمولی معاشرتی درجہ بندی، غلامی، بد انتظامی اور تشدد کو برقرار رکھنے کے خلاف کوئی اہم کردار ادا نہیں کر سکے اور اس سلسلے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ مزید یہ کہ ان تمام نظریات اور انکے تناظر میں کی جانے والی اپیلوں میں ہر جگہ ایک ہی مسئلہ درپیش ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اعلیٰ اخلاقی اصولوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کسی اعلیٰ اتھارٹی، ضابطے یا آئیڈیل کو اپیل کرتا ہے تواس سے ایک مخمصہ پیدا ہو جاتا ہے جس میں ایک طرف تو یہ کہا جارہا ہوتا ہے کہ کہ یہ اتھارٹی، آرڈر یا آئیڈیل فطری طور پر انصاف پسند ہے اور اس طرح اس سےجو اصول بھی وجود میں آتےہیں وہ درست ہی ہونے چاہیں اور اگر ہم اس بات پر یقین رکھتےہیں تو پھر ان اتھارٹیز کے بنائے گئے اصول تو بنیادی طور پر صوابدیدی نوعیت کے ہوتے ہیں اور ہمیں ان میں سے ہر ایک کی پیروی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے خواہ وہ جیسےبھی ہوں اور اسکے جواب میں یہ دلیل لانا ضروری ہے کہ جس اختیار، حکم یا آئیڈیل کو ہم اپیل کررہے ہوتے ہیں اسے کچھ اور بنیادوں پر بھی قابل جواز ہونا چاہیے جیسے انسانیت کی فلاح کی طرف اسکا جھکائو اور اگر یہ دوسری بات درست مان لی جائے تو پھر جس اتھارٹی کو ہم اپیل کر رہے ہوتے ہیں وہ اخلاقیات کا حتمی منبع اور ذریعہ نہیں بن سکتی۔ یہ مخمصہ اخلاقیات کو ایک حقیقی چیلنج کے طور پر درپیش ہے اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی ایسے اخلاقی اصول ہیں جو سنہری اصول کی طرح، بذات خود واضح قدر کے حامل ہوں، لیکن اسکے ساتھ ساتھ ان سے ایک جامع نظریہ بھی پیدا ہو سکتا ہو کہ، کسی شخص کو، کسی اعلیٰ اتھارٹی یا آئیڈیل کو اپیل کئے بغیر، زندگی کیسے گزارنی چاہیے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں پر جدید نظریہ اخلاق کی کمزوریاں سامنے آجاتی ہیں۔

پچھلے ڈھائی سو سالوں میں اخلاقیات کے بارے میں نئی سوچ سامنے آئی اور اس حوالے سے ایک دلیل یہ ہے کہ اخلاقی اصولوں کو فرائض (ڈیوٹی) Categorical Imperative ہونا چاہیے جنہیں ہر شخص بغیر کسی استثناء یا تضاد کے، عالمگیر اخلاقی اصول کی طرح مانے اور عمل کرے۔ اس سلسلے میں فلسفی امانوئیل کانٹ نے تجویز پیش کی کہ اس اصول کو سمجھنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اگر ہم اسے ڈیوٹی تصور نہ کریں، اپنے لئے یا کسی کے لئے استثنیٰ کی بات کریں تو پھر یہ عالمگیر اصول باہم متضاد اور متناقض نظر آئے گا۔ مثال کے طور پر، اگر میں اپنی مطلوبہ چیز کے حصول کیلئے جھوٹ بولنا چاہتا ہوں تو مجھے اس بات کا قائل ہو نا پڑے گاکہ ہر شخص اپنی خواہش کے حصول کیلئے جھوٹ بول سکتا ہے۔ لیکن اس صورت میں ہر کسی کا میرے اوپر سے اعتماد اٹھ جائے گا اور کوئی مجھ پر یقین نہیں کرے گا لہذا پتہ چلا کہ جھوٹ کو عالمگیر اصول نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی اسے عالمگیر اصول بنانے سے کوئی کام چل سکتا ہے یعنی اس طرح ہم کوئی مقصد حاصل نہیں کر سکتے۔ چنانچہ Categorical Imperative کے مطابق جھوٹ بولنا حرام ہے۔ کیونکہ جھوٹ بولنے کا واحد راستہ اپنے لئے استثنیٰ کا حصول ہےاور جب یہ اصول بن گیا کہ ہم اپنے لئے استثنیٰ حاصل نہیں کرسکتے تو پھر ظاہر ہے ہم جھوٹ کیونکر بول سکتے ہیں۔

ایک دوسرا نقطہ نظر، جسے افادیت پسندی کہا جاتا ہے، یہ استدلال کرتا ہے کہ کچھ آفاقی اقدار ہیں، جیسے فلاح (بھلائی) وغیرہ جس کے ہم سب خواہشمند ہیں اور جو ہم میں ایک قدر مشترک ہے اس لئے اسےایک آفاقی قدر کے طور پر لیا جانا چاہیے۔ ہمیں اخلاقی اصولوں کو اس طرح ڈیزائین کرنا چاہیے کہ وہ ان اقدار کو فروغ دے سکیں اوراس طرح یہ وہ اصول کہلائیں گے جن پر ہم سب کا اتفاق ہوگا۔ دونوں نقطہ نظر، مربوط اخلاقی رہنمائی اور مسلمہ، عیاں بالذات تصریح پیش کرتےہیں جو سابقہ اخلاقی نظریات سے بالاتر ہے۔ مزید برآں “صحیح” اور “غلط” کے معاملات میں، اپنے آپ کو براہ راست بنیاد بنا کر، یہ اصول کسی اعلیٰ اتھارٹی سے اپیل کرنے کی ضرورت جیسے چیلنجوں سے بچ جاتے ہیں۔ لیکن ان اصولوں کے ساتھ بھی ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے جو شاید اتنا چھوٹا بھی نہیں ہے اورشاید ہم اسے واحد مسئلہ بھی نہ کہہ سکیں۔ ان میں سےپہلا مسئلہ یہ ہےکہ یہ دونوں نقطہ نظر نہ صرف اخلاقی نظریہ کی اساس کے بارے میں ہی متفق نہیں ہیں بلکہ اس پر بھی اتفاق نہیں کہ لوگوں کو کیا کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے ہم اس مثال کو دوبارہ دیکھ سکتے ہیں جو اس مضمون کے آغاز میں “ٹریکٹر ٹرالی مسئلے”کی شکل میں بیان کی گئی ہے اور جسے Philippa Foot نے ایجاد کیا۔ فلاح و بہبود کو وسعت دینے کے مقصد کے پیش نظر، افادی نظریات نے اس نتیجے کی توثیق کی ہے کہ ہمیں ٹرالی کو ری ڈاریکٹ کرنا چاہیے، پانچ کی بجائے ایک شخص کا ہلاک کرنا چاہیے۔ اگرچہ، ایک کو ہلاک کرنا یا پانچ کو ہلاک کرنا دونوں بری باتیں ہیں لیکن پانچ کو ہلاک کرنا، ایک کےمقابلے میں پانچ گنا زیادہ بری بات ہے۔ دوسری طرف کانٹئین روایت ان ترجیحات کی قدرکا اندازہ اس بات سے لگاتی ہےکہ انہیں کتنا بہتر طور پر عالمگیر اصول میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

مذکورہ مثال میں جہاں افادیت پسندوں کا یہ کہنا ہے کہ ٹرالی کا رخ پانچ افراد کی جانب سے موڑ کر ایک فرد کی جانب کر دیا جائے تاکہ ایک فرد کی ہلاکت سے پانچ افراد کی جانیں بچائی جا سکیں۔ اسکی کانٹئین کے نزدیک، قانون کے طور پر یہ وضاحت کی جا سکتی ہے کہ “میں ایک شخص کی قربانی دے دوں گا اگر یہ قربانی زیادہ سے زیادہ لوگوں کی جانیں بچانے کا باعث بن سکتی ہو”

فلاسفہ کی ایک مضبوط روایت، ایک متفقہ نظریہ اخلاقیات تیار کرنے کیلئے مذکورہ اختلافات پر قابو پانےکی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم بیشتر فلسفیوں کا خیال ہے کہ اس طرح کے متفقہ نظریہ اخلاقیات کا حصول ابھی مستقبل بعید کی بات نظر آتی ہے اور ٹرالی جیسے مخمصے پر ہونے والی شدید بحثیں بھی اسی طرح کی امکان کو ظاہر کرتی ہیں۔

ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ افادی نقطہ نظر اور کانٹئین نقطر نظر، دونوں کے اندر تخفیف پسندانہ ثقافتی اقدار گہرائی تک سرائیت کئے ہوئے ہیں جن کے تحت دنیا کو مختلف انفرادی اجزاء پر مشتمل چیزتصور کیا جاتا ہے، حقیقت کو ثنویت کی آنکھ سے دیکھا جاتا ہے اور انفرادیت پسندی کے تحت اخلاقیات کا ہدف اس بات کو ٹھہرایا جاتا ہے کہ افراد کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ درست اعمال سرانجام دیں۔ مزید یہ کہ اس صورتحال کو دشوار اور پریشان کن تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس طرح کی اقدار اور اصول مغرب میں ایک تعلیم یافتہ، ترقی یافتہ، امیر، جمہوری اور نسبتاً محدود سوسائٹی تک محدود ہیں اور یہ انسانیت کی بڑی اکثریت کی نمائندگی اور عکاسی نہیں کرتے اس لئے ان اقدار اور اصولوں کو بڑی اکثریت پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔

تاہم اس پر ایک اور زیادہ گہرا اعتراض یہ بھی ہے کہ حقیقی دنیا میں فیصلہ سازی کی، اخلاقی رہنمائی کرناسرے سے نامناسب ہے۔ مذکورہ “ٹرالی مسئلے” میں ایک فرد (ڈرائیور)کے دو فیصلوں میں سے ایک کا انتخاب(ٹرالی کا رخ موڑے یا نہیں) شامل ہے جس کے نتائج یقینی طور پر یا تو پانچ افراد کی ہلاکت کی صورت میں نکلیں گے یا ایک فرد کی ہلاکت کی صورت میں۔ یہ مثال، مذکورہ نظریات کو جانچنے کیلئے ایک فریم ورک کے طور پر بنائی گئی۔ لیکن بدقسمتی سے حقیقی دنیا کے اخلاقی مسائل اتنے دو ٹوک اور واضح نہیں ہوتے، وہ ہمیشہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار، پیچیدہ انتخاب پر مشتمل ہوتے ہیں اور انکا سامنا ایسے گروپس اور سسٹم کو ہوتا ہے جہاں سب لوگ بہترین فیصلہ ساز نہیں ہوتے۔ اگرچہ محققین کی ایک مختصر تعداد، “پیچیدہ صورتحال کی اخلاقیات” اور “غیر یقینی صورتحال کے حقائق” پر تحقیق میں مصروف ہے لیکن انکا کام استثنیٰ میں شمار ہوتا ہے۔

جب ہم اخلاقیات کی طرف مائل لوگوں کیلئے اخلاقی اصولوں پر مبنی لائحہ عمل تیار کرنے پر غور کرتے ہوئے ان اخلاقی اصولوں کے اطلاق کی طرف آگے بڑھتے ہیں تومسئلہ کافی پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ آج کل مصنوعی ذہانت Artificial Intelligence کے ماہرین، خود مختار گاڑیوں کی رہنمائی کیلئے، ٹرالی مسئلے کی بنیاد پر مبنی استدلال کو استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم ان گاڑیوں کو، تمام ڈرائیورز کی طرح، ٹرالی مسئلے کے بالکل برعکس، پیچیدہ اور غیر یقینی ماحول میں صحیح فیصلے کرنے چاہیں۔ مزید برآں، وہ ڈرائیورز ہر کسی کے سامنے اپنے عمل کے سلسلے میں جوابدہ ہونگے اور محض ماہرین کی اقدار اور اعتقادات کی عکاسی نہیں کر رہے ہونگے۔ ان سب کو دیکھتےہوئے اخلاقیات کا سبق کیا ہو سکتا ہے؟ لوگ ہزاروں سال سے اخلاقی اصولوں کے مربوط نظام پیدا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ انسانی تاریخ کے کسی بھی سابقہ دور کی نسبت، آج ہم زیادہ تیزی سےاس مقصد طرف کی طرف آگےبڑھ رہےہیں لیکن وثوق سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ہم ماضی کی طرح غلطیوں کو نہیں دہرائیں گے۔ ایک وقت وہ بھی تھا کہ جب اخلاقیات کو غلامی اور تشدد کے اداروں کی تائید اور جواز کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ غلط کام تھا اور اسکو کرنے والے بھی غلط تھے تاہم وہی مسائل جو اس زمانے میں اخلاقی اصولوں کو پامال کرتے تھے آج بھی پامال کر رہے ہیں۔ آج ایک طرف فلسفی عدل و انصاف کے ایسے اصولوںکو تلاش کر رہے ہیں جو انسانیت کے مفادات کی خدمت اور تحفظ کر سکیں اور دوسری طرف ایسا دکھائی دے رہا ہے جیسے محدود اخلاقی پیشرفت کے امکان کو برقرار رکھتے ہوئے مراعات یافتہ طبقہ اور طاقتور افرادکے مفادات کو تحفظ اور فروغ دیا جا رہا ہو۔ اس منظر نامے میں نہ صرف ایک مربو ط اخلاقی نظریہ تیار کرنے کا منصوبہ ناکام ہو جاتا ہے بلکہ فلسفیانہ اخلاقیات کی پوری عمارت ہی منہدم ہو جاتی ہے۔ شاید لوگ ہماری نظریاتی سوچ بچار سے تنگ آچکے ہوں، یا ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں ہم ایک سے زیادہ اعداد و شمار پر چلنے والے ایک ایسے معاشرے میں تبدیل ہو جائیں جو اخلاقیات کے نظریات کی خود مختار اورانسان دوست اقدار کے وجود پر ہمارے اعتماد کو مجروح کرتا ہو، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں ہم کامن سینس پر مبنی اخلاقیات کے بدیہی اصولوں کی طرف لوٹ جائیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم باہمی تعاملات interactions سے بچنے کیلئے، جن کے لئے اخلاقی اصولوں کی ضرورت پیش آتی ہے، کوئی ایسا راستہ تلاش کر لیں جہاں لوگ اس طرح الگ تھلگ رہنے لگ جائیں کہ انکے درمیان باہمی تعاملات نہ ہونے کے برابر ہوں اور اخلاقی اصولوں کی ضرورت ہی ختم ہو جائے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس وقت دونوں طرح کے مستبقل کے بارے میں کسی امکان کا اندازہ کیسے لگایا جا سکتا ہے لیکن یہ اندازہ ضرور ہے کہ اس طرح کا مستقبل ہمارے لئے یقیناً ناپسندیدہ ہوگا کیونکہ انسانیت کی موروثی صلاحیتیں جوباہمی تعاون کیلئے پیدا کی گئی ہیں اور جن کے ذریعے ہم معاشی و سیاسی تعاون کے ادارے تشکیل کرتے ہیں، ہم تجارت، نظریات اور کلچر کی منتقلی کا کام لیتے ہیں، اور ان صلاحیتوں سے ہم اپنی پر تشدد جبلتوں کو نظم و نسق کے ذریعے لگام ڈالتےہیں، اسی طرح یہ صلاحیتیں جوہری ہتھیاروں کے پھیلائو، خطرناک امراض و وبائوں کے پھیلائو اورموسمیاتی تبدیلیوں جیسے عالمی مسائل سے نبٹنے کیلئے ضروری ہیں۔ تاہم یہ ایک چیلنج ہے جو دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے کیونکہ عالمی معاشرے متحد ہوتے جا رہے ہیں اور مقامی معاشرے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، تکنیکی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی رفتار تیز تر ہوتی جا رہی ہے، ہمیں جن بین الاقوامی چیلنجز کا سامنا ہے انکو حل کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ اخلاقیات ایک بار پھر “سماج کےخاتمے کے مسئلے کی بازگشت” کے جواب کے طور پر ابھر کر سامنے آرہی ہے اور بنیادی مسئلہ ابھی تک جوں کا توں ہے اور اسکے نتائج بھی، یقیناً پہلے کے مقابلے میں زیادہ وسعت کے ساتھ سامنے آئیں گے۔ اس مسئلےکے سہل ہونے کی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی۔ مستقبل کے متعدد چکروں میں سے انسانیت ایک ایسے مستقبل کا انتخاب کر سکتی ہے جہاں بدیہی، وجدانی اور جذباتی عمل کے ذریعے تشدد کے عمل کے خاتمہ ہو اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنے کے عمل کو استحکام نصیب ہو۔ ان میں Post human future بھی شامل ہے، جہاں ہم، تعصب اور اس طرح کی دیگر انسانی کمزوریوں کی عکاسی کرنے والی صلاحیتوں سے رضاکارانہ طور پر دستبرداری کا سوچ سکتے ہیں۔ ہمیں قوی امید ہے کہ ہم آفاقی اصولوں کی طرف، وراثت میں حاصل ہونے والی اخلاقی روش کی بنیاد پر، ایک تیسرا مستقبل تشکیل دے سکتےہیں جو انسانی رویے کی رہنمائی کر سکتا ہے اور جن مشکلات کا ہمیں سامنا ہے انکا مقابلہ کر سکتا ہے۔ اس طرح کا نظریہ، قدیم حکمت کی کشش اور عصری فلسفے کی طاقت رکھتا ہے اور ہمارے ساتھ پیش آنے والی پیچیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے ساتھ نبردآزما ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ بات صرف خیالی لگتی ہے لیکن میں یہ عرض کروں گا کہ اخلاقیات کو درپیش چیلنجز کچھ حوالوں سے مشکل تر ہوتے جا رہے ہیں لیکن اسکے ساتھ ساتھ ان مسائل کا حل تلاش کرنے والے ہمارے آلات، دنیاوی معاملات طے کرنے اور ہماری نفسیاتی و اخلاقی ترغیبات کو سمجھنے کی

ہماری صلاحیت وغیرہ ترقی کر رہے ہیں۔ متعدد فلاسفہ کا کہنا ہے کہ کیا ہمیں عالمی خطرہ اور غیر یقینی صورتحال کے اپنے موجودہ دور کو ایسے ہی آگے بڑھانے کے انتظامات کرنے چاہیں تاکہ انسانیت ان معاملات پر گہری غور و فکر اور سوچ بچار کیلئے وافر مقدار میں وقت لے سکے اور وہ طریقہ یہ ہے کہ ہم سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تکنیکی ترقی کے سلسلے کی رفتار کو آہستہ کر دیں تاکہ ہم اپنا زیادہ وقت، اقدار کو بہتر طور پر سمجھنے پر صرف کر سکیں اور اور انکا زیادہ بہتر فہم حاصل کر سکیں تاکہ ہمیں یہ فیصلے کرنے میں آسانی ہو کہ مستقبل میں ہمیں کیا کرنا ہے اور ہمارے کیا عزائم ہیں اور لازمی طور پر اس چیز کاحصول ہماری مشکلات میں خاتمے یا کم ازکم، کمی کا باعث ضرور بنے گا۔

یہ بھی ملاحظہ کریں: دانشِ عصر: احمد جاوید --------(فلم، سوشل میڈیا، ٹکنالوجی اور گلوبل ولیج) 
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20