نظریہ پاکستان کا مستقبل: خوش گمانیاں، بدگمانیاں۔ خالد ولی اللہ بلغاری

1

حضرت افتخار عارف کا ایک شعر ہے:

حامی بھی نہ تھے منکرِ غالب بھی نہیں تھے
ہم اہلِ تذبذب کسی جانب بھی نہیں تھے

پروفیسر رچرڈ فینمین کوانٹم فزکس کے حوالے سے ایک نہایت معتبر نام ہے۔ انہوں نے ایک جگہ لکھا ہے کہ کوانٹم فزکس کا پورا معمہ صرف ایک تجربے اور اس سے متعلق تفصیلات کے ذریعے سمجھنا ممکن ہے، یعنی جتنا کوانٹم فزکس جیسی شے کو سمجھنا ممکن ہوسکتا ہے۔ اس تجربے کا نام “ڈبل سپلٹ ایکسپیریمنٹ” ہے۔ فزکس کی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے والے سبھی لوگ اس تجربے کی مجموعی ساخت سے کسی حد تک آشنا ہیں۔ اس بظاہر سادہ تجربے میں دو جَھریوں والی ایک رکاوٹ میں سے روشنی کے ذرات کو گذرنے دیا جاتا ہے اور پیچھے لگی سکرین سے جب یہ ذرات ٹکراتے ہیں تو اس عمل کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ عام منطق یا غیر کوانٹم دنیا کے اصول کے مطابق روشنی کا کوئی ایک ذرہ دو میں سے ایک جَھری کے راستے گذر کر پیچھے لگی سکرین سے ٹکراسکتا ہے۔
مشاہدہ کے ایک کوانٹم درجے کی توجیہہ میں تاہم یہ غیر منطقی تفصیل بیان ہوئی کہ کئی ذرات فرداً فرداً بیک وقت؟ دونوں جھریوں میں سے گذر کر سکرین سے ٹکرائے ہیں۔ اب اس عجیب مشاہدے کے پیچھے روشنی کے ذرہ یا لہر ہونے سے متعلق فقہائے سائینس کا اختلاف کارفرما تھا یا کوانٹم دنیا کے غیر منطقی اصولوں کی کارگزاری تھی، یہ طے کرنا مشکل ہے۔ ہم غیر سائینسی لوگ تاہم ایک سادہ اور محفوظ نتیجہ یہ اخذ کرسکتے ہیں کہ کوانٹم کی غیر یقینی دنیا میں عموماً سائینس کے طے شدہ بنیادی اصول بے معنی ہوجاتے ہیں۔

کوانٹم کے جدید مذبذب نظریات جدید دنیا کے سیاسی اور سماجی دائروں میں بھی رویّوں کی شکل میں در آئے ہیں۔
مصنف کا دعوی ہے کہ مجموعی طور پر ہمارا آج کاجدید ذہن ارادتاً ایک معلق، غیر یقینی یا کوانٹمی صورتحال میں لٹکے رہنے کو مزاج کے طور پر اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ جدید ذہن اس مزاج کو ایک کمالِ خیر یا انتہائے حسن بھی گردانتا ہے۔ اس لٹکن مزاج کو رواداری کے انتہائی مظہر کے طور پر پیش کرنے کا رواج عام دیکھنے میں آتا ہے۔ جبکہ اسکے مقابلے میں حتمی اور واضح رویوں یا دوٹوک موقف کو شدت پسندی اور عدم برداشت کے مساوی قرار دیا جاتا ہے۔ مذبذب رہنے کو ذہنی ترقی اور بالغ نظری کی معراج اور مذبذب کردینے کو ایک عظیم کار خیر سمجھا جاتا ہے۔ ڈر یہ ہے کہ مصنف سمیت اکثر لوگ اس تحریک تذبذب کے متاثرین میں شامل ہیں۔

اس ماحول میں اب “نظریہ پاکستان” کے مستقبل کے حوالے سے بات کرنا جسکا ماضی اور حال دونوں ہی اہل تذبذب کے بالغ اعتراضات کا مشق ستم ہیں، ذرا اونچی اڑان ہے۔ تاہم ایسا کر کے دیکھ لینا چاہئے۔

“نظریہ پاکستان” کی تعریف متعین کرنے اور اس نظریے کے دنیائے اسلام پر خصوصاً اور تمام عالم پر عموماً مرتب ہونے والے اثرات کے حوالے سے کچھ بھی لکھنے کیلئے امکانات کا دائرہ مثبت اور وسیع رکھنے کا ارادہ ہے۔ منفی اور تنگ دائرہ کسی دانشور کیلئے چھوڑ دیتے ہیں۔ ارادہ یہ بھی ہے کہ توجہ اِس نظریے کی عملی صورتوں پر مرکوز رکھی جائے گی۔ بجائے اِسکے کہ نظری یا لفظی موشگافیوں میں توانائی صرف کریں، ملک کے “بااثر حلقہ امر” میں یہ نظریہ جس انداز میں رو بہ عمل ہے اس پر غور کیا جائے گا اور اس فعال حالت میں یہ نظریہ مستقبل میں کیا نتائج پیدا کریگا، اس حوالے سے کچھ اندازے لگانے کی کوشش کی جائے گی۔
یہ بات تو تقریباً طے ہے کہ ایک مسلمان کے پاس دینی شناخت کو سب سے اوپر اور برتر رکھنے کے سوا عملاً اور کوئی راستہ نہیں بچتا۔ علو اور برتری جس دین کا غالب مزاج ہے اسکو اپنے ماننے والوں کی طرف سے اپنے حق میں دوسرے درجے کی اہمیت کسی طور بھی قبول نہیں ہے۔ چنانچہ دینی شناخت کو شناخت کے دیگر سبھی حوالوں مثلاً قومیت، زبان اور نسل وغیرہ سے زیادہ اہمیت دینا گویا ایک لازمی دینی تقاضا اور ایک جبر ہے۔ “جبر” کے لفظ سے قدرتی طور پر یہ تاثر ملتا ہے کہ دینی شناخت کو برتر تسلیم نہ کرنے کی خواھش جیسے ہر مسلمان کے اندر پائی جاتی ہوگی۔ ایسا نہیں ہے۔ اکثریت اپنے دینی شناخت کو برترین رکھنے پر بہت مطمئن اور راضی رہتی ہے۔ واصف علی واصف کا قول ہے کہ “خوشقسمت وہی ہوتا ہے جو اپنی قسمت پر خوش ہوتا ہے”۔
یہ خوش قسمت اکثریت مصنف کا موضوع نہیں ہے۔
‘نظریہ پاکستان کیا ہے؟ ہم سے تو اب تک اسکی ایک تعریف بھی متعین نہیں ہوسکی۔ نظریہ پاکستان کی کیا کوئی دستاویز بھی ہے۔؟ یا یہ محض کسی شاعر کا خواب ہے۔ نہیں، یہ تو انگریز کی سازش تھی۔ نظریہ پاکستان دفن ہوچکا ہے۔’
نظریہ پاکستان کے حوالے سے اس قبیل کے اعتراضات اور شبہات کا اظہار کرنے والے اکثر عبقری مصنف کی نظر میں اُس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنے دینی شناخت کے حوالے سے غیر مطمئن رہتا ہے۔ یہ گروہ اکثر نادانستہ، شاذ و نادر دانستہ دین کو اسکے درست مقامِ شناخت اور اصل مزاج برتری سے ہٹا کر دوسرے اور تیسرے درجے پر لا رکھنا چاہتا ہے اور اس نازیبا کارروائی کیلئے اپنی طرف سے منطقی جواز بھی فراہم کرتا رہتا ہے۔
مصنف کا موضوع یہی بدقسمت اقلیت ہے۔
اس اقلّیتی گروہ کیلئے لفظ بدقسمت اسلئے ناگوار نہیں ہونا چاہئے کہ اکثر قسمت کے ہی منکر ہوتے ہیں۔ جو انکاری نہیں، ان سے معذرت کی جاسکتی ہے۔ حرف تسلی کے طور پر یہ عرض کردینا ممکن ہے مفید ہو، کہ مصنف بھی اِسی بدقسمت گروہ کے آس پاس ہی کہیں سکونت پذیر ہے۔ سوچ بچار البتہ جسقدر بن پڑے جاری رکھے ہوئے ہے۔
توجہ سے پڑھنے والا قاری اب تک دیکھ چکا ہے کہ گذشتہ سطور میں دینی شناخت اور نظریہ پاکستان کو آپس میں گڈ مڈ کردیا گیا ہے۔ اُس اقلّیتی گروہ سے متعلق کہ جو نظریہ پاکستان کی اہمیت اور وجود پر سوالات اٹھاتا اور شبہات رکھتا ہے، آخر یہ بدگمانی کیوں رکھی جارہی ہے کہ وہ دین اسلام کو ایک برتر شناخت کے طور پر تسلیم نہیں کرنا چاہتا یا اِس طرح کی دینی شناخت سے بدکتا ہے؟ دین اسلام اور نظریہ پاکستان کیا لازم و ملزوم ہیں؟ کیا یہ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں، مترادفات ہیں؟ اور کیا ایسا ممکن ہے کہ ایک آدمی نظریہ پاکستان کا حامل اور حامی تو ہو مگر دینی شناخت کو اولین اہمیت نہ دیتا ہو؟ اسی طرح ایک آدمی ایسا بھی تو ہو سکتا ہے جو دین اسلام کو شناخت کے حوالے سے اہم ترین باور کرتا ہو لیکن نظریہ پاکستان کو تسلیم نہ کرتا ہو؟ یہ آخری صورتحال تو سامنے موجود بھی ہے، مثلاً شام یا عراق میں بسنے والے اثنا عشری مسلمان آدمی کو نظریہ پاکستان سے کیا مطلب ہوسکتا ہوگا۔ تاہم اِس وقت دینی شناخت اور نظریہ پاکستان کے حوالے سے جو افراد مصنف کا موضوع ہیں، انکا تعلق ایک خاص جغرافیہ سے ہے۔ یعنی مملکت پاکستان کی حدود میں رہنے والے افراد۔ آگے چل کر یہ دکھانے کی نیت بھی ہے کہ اس دائرے کی وسعت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
یہاں پہنچ کر نظریہ پاکستان کی تعریف کئے بغیر جان چھوٹتی نظر نہیں آتی۔ چارو ناچار یہ چبھتا ہوا براہ راست سوال پوچھنا ہی پڑے گا کہ آخر یہ نظریہ کیا ہے۔ لوگوں کے طعنوں کے جواب میں ہی سہی، آخر اسکی کوئی تعریف تو ہونی چاہئے۔ عام طریقہ کار یہ ہے کہ اس موقع پر تاریخ آزادیِ ھند یا تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں کی تقاریر سے اقتباسات نقل کرکے اسلام اور نظریہ پاکستان کے آپسی گہرے تعلق کو قائم اور واضح کیا جاتا ہے۔ اس پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ بہت منطقی اور قدرتی طریقہ کار ہے۔ تاہم اس حوالے سے لمبی تفصیلات میں جانے کی بجائے ایک عملی خلاصہ کے طور پر صرف اسقدر عرض کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے، کہ ایسے لوگ جو طبع سلیم اور ذہن مستقیم رکھتے ہیں، تحریک پاکستان سے کچھ آشنائی پیدا کرلینے کے بعد اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں ویسے ھی کوئی تامل یا تردد محسوس نہیں کرتے کہ نظریہ پاکستان کو اسلام سے الگ کرنا ممکن نہیں ہے۔
پاکستان اپنے مطلب “لا الہ الا اللہ” کے بغیر بے معنی ہے۔ رہی بات دوسرے گروہ کی، تو کج فہمی اور معوج الذہنی کے آگے دلیل رکھنا ایک قوی الجثہ جانور کے آگے بین بجانے کی طرح ہے۔ اب تک یہی ہوتا رہا ہے، مصنف ھذا کا ایسا کوئی ارادہ فی الحال نہیں ہے۔
ہاں جمہوریت کو بڑی نیکی گرداننے والوں کی خدمت میں ایک بڑی نشانی کے طور پر “لا الہ الااللہ” کو پاکستان کا مطلب قرار دینے والا نعرہ اضافی طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ تحریک پاکستان کے دوران عوام نے اپنے لئے نعرے کے طور پر اسی تعلق کے اظہار کو چنا اور قبول کیا تھا۔
جمہوریت پسند ذہنوں کیلئے عوامی نعروں کی جو اہمیت ہوتی ہے، اس زاویے سے بھی بات کو سمجھنا چاہیں تو زیادہ مشکل نہیں ہے۔ تحریک پاکستان کا مقبول عوامی نعرہ کیا رہا، یہ تو سبھی پر واضح ہے۔
نظریہ پاکستان اور دینی شناخت کے اس دوہرے مسئلے کو ایک اور رخ سے واضح کرنے اور اس نظریے کی تعریف پر پہنچنے کیلئے یہ آخری سوال پوچھ کر بھی دیکھنا چاہئے کہ عام مسلمان اور پاکستانی مسلمان میں کیا کوئی فرق ہوتا ہے۔ اسی طرز پر عراقی مسلمان اور سعودی مسلمان میں۔ یا پھر قریب ہی سے پاکستانی مسلمان اور ہندوستانی مسلمان میں۔

غور اس پر کرنا چاہئے کہ عراق، سعودی عرب، ہندوستان اور ترکی یا دیگر ممالک جن میں مسلمان بستے ہیں، ان میں اور پاکستان میں سوائے اسکے کہ یہ الگ الگ قومی سیاسی اکائیاں ہیں، کوئی اور فرق بھی ہے؟ کیا پاکستان بھی ان ممالک کی طرح ایک ملک ہی ہے؟ یا پاکستان کو دیگر مسلم ممالک پر نظریاتی حوالے سےکوئی امتیاز بھی حاصل ہے؟
مصنف کی نظر میں جواب دونوں سوالوں کا یہی دیا جائے گا کہ دیگر مسلمانوں اور پاکستانی مسلمان میں نظریہ پاکستان کا فرق ہے۔ اسی طرح پاکستان کو دیگر ممالک پر جو امتیاز حاصل ہے وہ نظریہ پاکستان کا امتیاز ہے۔
اس بات کا البتہ خیال رہے کہ یہ امتیاز فخر جتانے کیلئے نہیں بلکہ پہچان کیلئے ہے۔ یہاں “امتیاز” سے مراد تمیز ہے۔ فخر نہیں بلکہ فرق، پہچان۔
گذشتہ سطور کے پس منظر میں اب نظریہ پاکستان کی مجوزہ تعریف یہ ہے۔

“نظریہ پاکستان دراصل جدید دنیائے اسلام کا سیاسی نظریہ ہے”۔

مسلم ہندوستان میں دین کو شناخت کے برترین مقام پر رکھنے والے لوگوں کے درمیان زندگی کا نظام چلانے کیلئے جو نظریہ ایک طویل تاریخی سفر کے بعد وضع ہوا، وہ نظریہ پاکستان تھا۔ نظریہ پاکستان مملکت پاکستان سے قدیم بھی ہے اور بڑا بھی۔ یہ نظریہ مملکت پاکستان کی جغرافیائی حدود میں مرکوز تو ہے مگر محدود ہرگز نہیں۔ چنانچہ مملکت پاکستان کو نظریہ پاکستان کا ایک بڑا مظہر تو کہا جا سکتا ہے لیکن منزل نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
تاریخی حوالے سے دیکھیں تو خلافت عثمانیہ کی قبا چاک ہوجانے کے بعد اسلامی سیاست کا وہ روشن سلسلہ جو خلافت کی صورت میں ظاہر ہوتا رہا تھا، ختم ہوگیا۔ دین کے اس عظیم الشان سیاسی مظہر کے خاتمے کو روکنے کیلئے متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں نے اگرچہ خاصا زور لگایا مگر اس ٹوٹ پھوٹ کو روک نہ سکے۔ اس سانحے کے بعد کچھ رونا پیٹنا بھی ہوا۔ لیکن مڑ کر دیکھیں تو سمجھ میں آتا ہے کہ جب دین کا ایک قدیم سیاسی مظہر خاتمے کی جانب بڑھ رہا تھا تو ایک دوسرا جدید سیاسی مظہر تحریک کی صورت اختیار کررہا تھا۔ ایک سورج اُدھر ڈوب رہا تھا تو اِدھر طلوع ہورہا تھا۔ اِس جدید سیاسی تحریک کے مختلف ارتقائی ادوار کے دوران عوام کے مجموعی مزاج، واقعات کی ترتیب اور نتائج کو دیکھیں تو واضح ہوتا ہے کہ ایک جدید اسلامی سیاسی نظام کی بنیاد رکھی جارہی تھی۔ مملکت پاکستان اسی اسلامی سیاسی تحریک کے ایک نتیجے کے طور پر وجود میں آئی۔
لہذا نظریہ پاکستان کے بارے میں شکوک و شبہات رکھنے والوں کو دین کی بنیاد پر شناخت کے مسئلے کو درست طور سے سمجھنا اور جلد کسی نتیجے پر پہنچنا چاہئے۔ انکا اصل مسئلہ شناخت ہے۔ تعبیر کے مسائل سلجھائے جاسکتے ہیں اگر شناخت کی برتری پر اتفاق ہوجائے۔
اگر ایسے لوگ اس بات کا فیصلہ کرلیں کہ شناخت کے حوالے کے طور پر انہوں نے دین کے ساتھ نسبت کو سب سے برتر اور اہم ترین صورت کے طور پر اپنی زندگی پر لاگو رکھنا ہے، تو اسی دینی شناخت سے جڑے ہوئے جدید سیاسی نظریے کو سمجھنے اور قبول کرنے میں امید ہے انکو کوئی دشواری پیش نہیں آئیگی۔ نظریہ پاکستان دین اسلام کا سیاسی نظریہ ہے۔ اسکو محض نیشنلزم کے دیگر نظریات کے برابر رکھنا اور سمجھنا یا تو بڑی ناسمجھی ہے یا پھر تعصب۔ پاکستان صرف ایک ملک نہیں ہے۔ یہ دین اسلام کی سیاسی شناخت کا ایک مظہر ہے۔ تاریخ کے ایک اہم ترین موڑ پر اسلام کے جدید سیاسی نظام کو اس مملکت کے ذریعے نافذالعمل ہونا طے پایا تھا۔ ہم اور آپ اس مملکت کے مسلم شہری ہونے کے ناطے دینی شناخت کیساتھ ساتھ اس کے سیاسی نظریے کے بھی حاملین میں شامل ہیں۔
تاہم حاملینِ نظریہ پاکستان کے پاس یہ دعوی کرنے کا کیا جواز ہے کہ انکا نظریہ پوری جدید دنیائے اسلام کیلئے قابل عمل اور لائق تقلید ہے؟ یہ سوال بہت اہم ہے۔ اس پر کسی وقت تفصیل سے غور کرینگے، سردست طوالت کے ڈر سے یہ اشارہ کردیتے ہیں کہ سربراہی کے قابل ہونے کا فیصلہ اور لیاقت دعوی کرنے سے نہیں بلکہ عمل سے پیدا ہوتا ہے۔
عالم اسلام کے اندر اس وقت صرف پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، دین اسلام کے نام پر بننے والا واحد نظریاتی ملک بھی یہی ہے اور معاشی عروج و استحکام بھی اب اسکے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔
ایسے میں باوجود کمزوریوں اور کوتاہیوں کے یہ کہنا بجا معلوم ہوتا ہے کہ عملی طور پر آج اور آئیندہ کیلئے “نظریہ پاکستان ہی جدید دنیائے اسلام کا سیاسی نظریہ ہے

About Author

خالد ولی اللہ بلغاری. بلغار، گلگت بلتستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ پیشہ ورانہ میدان طب ہے. فلسفہ کے علاوہ شعر و ادب اور موسیقی سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں.۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. سرایک ہندو جو پاکستان میں رہتا ہے وہ کس لئےاپنی شناخت لا الہ سے منسلک کرے؟ اگر وہ نہیں کرتا تو آپ کے بیانئے کے تحت وہ پاکستان کی اساس کو چیلنج کر رہا ہے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: