شادی والا فراک – محمد اویس حیدر کا افسانہ

0

دیکھیں نا پاپا، تیار ہونے میں ماما کتنا وقت لگاتی ہیں۔ کب سے مجھے اور بھائی کو تیار کر کے بٹھایا ہوا ہے اور خود تیار ہی نہیں ہو پا رہیں۔ ننھی کنول نے موبائل میں مگن اپنے ابو سے امی کی تیاری کا گلہ کرتے ہوئے کہا۔

حمید جو موبائل فون کے استعمال میں یوں مگن تھا گویا اس کے لیے اردگرد کی دنیا اپنا وجود کھو چکی ہو۔ ننھی کنول کی آواز نے اسے واپس حقیقی دنیا میں کھینچ لیا اور اس نے سکرین پر جمی نظروں کو اٹھا کر پہلے دائیں بائیں دیکھا، پھر جب اس عالم میں آمد کے بعد حواس کچھ بحال ہوئے تو آئینے کے سامنے تیار ہوتی اریبہ سے مخاطب ہوا۔ ارے اتنا وقت کیوں لگا رہی ہو دیکھو اب تو کنول بھی تنگ آ گئی ہے تمہاری تیاری کو دیکھ دیکھ کر۔

بس ابھی دس منٹ نہیں گزرے ہوں گے مجھے یہاں کھڑے ہوئے اور سب تنگ بھی آ گئے۔ اریبہ چلائی۔ آپ کو موبائل دیکھنے سے فرصت ملے تو اردگرد بھی کچھ دکھے گا نا! پہلے چھوٹے دانیال کو پانی گرم کر کے نہلایا ہے کہ کہیں ٹھنڈ نہ لگ جائے پھر نئے کپڑے پہنا کر فیڈر دے کر بیڈ پر سلا دیا تا کہ شور نہ کرے۔ پھر دوبارہ پانی گرم کر کے کنول کو بھی احتیاطاََ گرم پانی سے ہی نہلا کر تیار کیا۔ رات سے یہ نیلا فراک لٹکا رکھا تھا استری کر کے کنول کے لیے، مگر نہیں، اب جب پہننے کی باری آئی تو اچھا ہی نہیں لگ رہا اس میڈم کو تو، اسی ضد میں اڑی رہی کہ نہیں دوسرا پہننا ہے وہ سرخ رنگ کا جو اٹیچی میں بند پڑا تھا۔ آخر اس کی ضد کے آگے تھک ہار کے وہی فراک نکالا اور استری کر کے پہنایا جو وہ مانگ رہی تھی۔ پھر تیار ہونے کی دیر تھی کہ ساتھ ہی اسے بھوک ستانے لگی۔ حالانکہ میں نے کہا بھی کہ ہم نے کچھ دیر میں ہی شادی کے لیے نکل جانا ہے تھوڑی بھوک برداشت کر لو پھر وہں جا کر کھا لینا۔ اگر گھر سے ہی کھا کر جاو گی تو پھر وہاں کیسے بھوک لگے گی ؟ مگر نہیں۔ کنول نے تو جو منہ سے نکال دیا اسے اسی وقت پورا کرنا بےحد ضروری ہے، ورنہ تو طوفان آ جائے گا۔ بس اسی طوفان کا رستہ روکنے کے لیے چولہا جلا کر اسے تازی روٹی پکا کر دی۔ سالن فریج میں پڑا تھا ٹھنڈا برف بنا ہوا، اسے نکالا اور توے پر ڈال کر گرم کیا اور پھر جب ان کے آگے رکھا تو گنتی کے چار نوالے کھا کر چھوڑ دیا، ایک روٹی بھی پوری نہ کھا سکی، اگر اتنی سی بھوک تھی بھلا تو کچھ دیر رک ہی جاتی۔ اور اب جب سب کے کام مکمل کر کے خود تیار ہونے کھڑی ہوئی ہی ہوں تو ساتھ ہی بےچین ہو گئے سب جیسے صبح سے میری ہی تیاری دیکھ رہے ہوں اور گھر کے کام سارے تو بھوت آ کر نمٹا رہے ہیں۔

اریبہ نے بغیر رُکے سب کچھ تقریباََ چیختے ہوئے بول دیا جسے سننے کے بعد حمید نے فوراََ دوبارہ اپنے موبائل میں پناہ لی اور سوشل ایشوز کی پوسٹس پر کھل کر اپنا اظہار خیال کومنٹس کی صورت بیان کرنے لگا اور لوگوں کو بتانے لگا کہ شادی پر ہم کھانا کھانے نہیں بلکہ دوسرے کی خوشی میں شریک ہونے جاتے ہیں۔ جس پر اسے کئی لائکس بھی ملے۔

دراصل اس فنکشن پر جانے کی تیاری کا آغاز تو تبھی سے ہو گیا تھا جب قریب ایک ماہ قبل اریبہ کو اپنی کزن کی شادی کا دعوت نامہ موصول ہوا۔ شادی کارڈ دینے اریبہ کی خالہ اور خالو خود آئے تھے۔ اریبہ نے انہیں کہا بھی کہ اب تو موبائل اور انٹرنیٹ کا زمانہ ہے، آپ نے خوامخواہ اتنی زحمت کی بھلا کارڈ واٹس ایپ کر کے صرف ایک کال کر دیتے ہم نے تو شادی پر آ ہی جانا تھا۔ لیکن خالو کہنے لگے کہ نہیں بھئی ہم تو اب بھی پرانی سوچ کے ہی قائل ہیں کہ رشتوں کی چاشنی تو بالمشافہہ ملاقات میں ہے۔ اگر بغور دیکھا جائے تو آج کل کے ان موبائلوں اور انٹرنیٹ پر تصویروں کے تبادلے نے انسانوں میں فاصلے پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔

ارے وہ کیسے انکل ؟ بلکہ اس نے تو سب کچھ آسان کر دیا ہے۔ آج اسی کی بدولت ہر انسان سے ہمارا رابطہ صرف فنگر ٹپس پر ہے خواہ وہ کوسوں دور ہی کیوں نہ بیٹھا ہو۔ اریبہ نے خالو کی بات پر حیرانی سے جواب دیا۔

ہاں بیٹی ٹھیک کہا تم نے، رابطے تو صرف فنگر ٹپس پر ہی رہ گئے ہیں۔ خالو مسکراتے ہوئے بولے۔ دراصل یہی بات تو میں کہہ رہا ہوں کہ پہلے رابطہ نہیں تعلق ہوا کرتا تھا۔ جو دل میں یاد کی صورت قائم رہتا تھا۔ مگر ان ڈیوائیسز نے تعلق کو صرف رابطے میں بدل دیا ہے۔ پہلے کوئی بندہ کسی کی طرف جاتا تھا تو ہم اسے کہتے فلاں کو ہمارا بھی سلام کہہ دینا اور خیریت پوچھنا، ایک لطف ہوتا تھا اس بات کے کہنے میں بھی۔ مگر اب اگر ایسا کہیں تو دوسرا کہتا ہے لو بھلا ۔۔۔۔۔ موبائل پر کال کر کے خود ہی کہہ لیں۔ بیٹی اصل بات یہ ہے کہ ہر وقت رابطے میں رہنے کے اس احساس نے ہمیں یقین دلا دیا ہے کہ کوئی شخص بھی ہم سے دور نہیں اور اسی لیے ہم بالوجود ایک دوسرے سے پرے ہو چکے ہیں، تبھی آج رشتوں میں رابطے آسان مگر افسوس کہ تعلقات مفقود ہو گئے ہیں۔

اریبہ کی سمجھ میں اپنے ادھیڑ عمر خالو کی عجیب و غریب باتیں نہیں آئی تھیں، بلکہ وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ شادی کا ایک پیغام ہی تو تھا بھلا فون پر دے دیتے تو کم از کم مہمان نوازی کا ہمارا اتنا خرچہ تو بچ جاتا۔ اب پہلے کپڑوں کی شاپنگ تو کرنی ہی پڑے گی پھر شادی پر جا کے سلامی کا لفافہ الگ دینا پڑے گا۔ خالہ خالو کے جانے کے بعد تبھی سے اس نے شادی پر پہننے کے لیے اپنے کپڑوں کے ڈیزائینز کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا تھا۔ آئندہ دنوں میں اس نے اپنی کئی دوسری کزنز کو بھی باری باری فون کیا اور انہیں ٹٹولا کہ شادی پر وہ کس کس رنگ اور ڈیزائن کے کپڑے پہن کر آنے والی ہیں تاکہ کہیں آپس میں ان کے کپڑے میچ نہ ہو جائیں۔

چونکہ شادیوں کا موسم تھا لہذا مارکیٹس میں دکانداروں نے بھی دام خوب بڑھا رکھے تھے۔ ہر دکاندار دعویدار تھا کہ اس جیسا سوٹ کسی اور کے پاس آپ کو نہیں ملے گا جبکہ مختلف خواتین کو ایک جیسے سوٹ بیچنے کے لیے ہر ایک دکاندار کے پاس کافی اسٹاک موجود تھا۔ خریداروں کے لیے دکانوں میں رکھے سٹیچوز کے مختلف لباس دیکھ کر یہی لگتا تھا کہ ڈیزائنر نے انہیں خوب سوچ سمجھ کر سلائی کیا ہے کہ پہننے کے بعد بدن کے تمام خدوخال ضرور نمایاں نظر آئیں۔ ایک ایک دوکاندار کے ساتھ خاصی تکرار کے بعد اریبہ نے اپنے لیے بارات اور ولیمہ کے الگ الگ جوڑے خریدے، پھر ان کے ساتھ ہم آہنگ مصنوعی زیورات اور جوتوں کے جوڑے لینے کے بعد اسی طرح بچوں کے بھی کپڑے خریدے۔ ننھے دانیال کو گود میں اٹھائے حمید کے لیے شاپنگ کا یہ پورا وقت انتہائی تھکا دینے والا اور جیب پر خاصا وزنی تھا۔ مگر اس وزنی وقت میں حمید کے لیے فرحت کا سبب نازک اجسام پر دھرے وہ خوبرو چہرے تھے جو تروتازگی کا ایک جھونکا بن کر آس پاس سے گزرتے دکھائی دیتے اور انھی خوشنما جھونکوں کے چہروں پہ پھسلتی نگاہوں کی ملائمت کے احساس میں چلتے ہوئے جیب پر بوجھ بنی شادی کی خریداری بھی بالآخر مکمل ہو ہی گئی۔ جسمانی خدوخال کو نمایاں کرتے لباس میں ملبوس چلتے پھرتے چہروں کو دیکھنے کی بھی ایک عجیب کسک ہوتی ہے۔ نظروں کی حیا اور جسموں کی پردگی دونوں ”پرانی باتیں“ سمجھی جانیں لگی ہیں سمجھ نہیں آتا کہ ایڈوانس دور کی اس آزادانہ سوچ کو معاشرے کی ارتقا سمجھیں یا زوال۔ پھر گھر پہنچ کر اریبہ نے حمید سے کہا کہ وہ بھی اب اپنے لیے جلد ہی کچھ شاپنگ ضرور کر لیں اس طرح شادی پر دلھا دلھن کے ساتھ اترنے والی تصویروں میں دونوں ہی اچھے نظر آئیں گے۔

ننھا دانیال دودھ سے بھرا فیڈر پی کر پلنگ پر گہری نیند سو رہا تھا اور قریب ہی بیٹھا حمید اپنے موبائل میں مگن تھا۔ ننھی کنول کمرے میں اٹھکیلیاں کرتی اکیلے کھیل رہی تھی۔ پھر جب یوں کھیلتے تھک جاتی تو زمین پر رکھی اپنی ایک بڑی گڑیا کی دوسری ساتھی بن کر اس کے ساتھ باتیں کرنے لگتی۔ کبھی اپنے چھوٹے چھوٹے برتنوں میں اس کے سامنے خیالی کھانا رکھ کر انہیں کھلاتی تو کبھی اس کے بال سنوارنے لگتی۔ شاید ننھی گڑیوں سے کھیلنے کا یہی شوق کبھی انہیں لاشعوری طور پر ماں بننے کا ہنر بھی سکھا دیتا ہے۔

اریبہ نے دوپہر سے ہی بالوں میں رولر لگا رکھے تھے اور اب آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اس نے پہلے چہرے پر بلیچ کریم لگائی اور اس کے سوکھنے تک تھوڑی محنت کے ساتھ اپنے بالوں پر لگے رولرز کھول لیے۔ پھر کچھ دیر بعد بلیچ لگے چہرے کو بھی دھو لیا اور اس پر بیس لگانی شروع کی۔ میک اپ کا سارا سامان اریبہ نے گھر ہی میں خرید رکھا تھا جنہیں بیوٹی پارلر پر کام کرنے والی ایک سہیلی اور انٹرنیٹ پر موجود ویڈیوز کی مدد سے اس نے لگانا بھی خوب سیکھ لیا تھا۔ اس طرح وہ خود کو خود ہی تیار کر کے پارلر میں ہونے والے خرچے کو بچا لیتی تھی۔ چہرے پر بیس لگانے کے بعد اس نے بلش آن سے کافی محنت کے ساتھ اپنے نقوش کو ابھارا، پھر چہرے کے خدوخال کو پرکشش بنانے کے بعد آنکھوں کو سنوارا اور آخر میں ان میں لینز فٹ کیے اور پلٹ کر حمید کو دیکھا اور پوچھا
میں کیسی لگ رہی ہوں ؟
حمید نے نظر اٹھا کر اریبہ کو دیکھا اور کہا ” بہت پیاری “
آئینے کے سامنے گھنٹوں پہلے شروع ہوئی اریبہ کی پوری تیاری کو حمید کے ان دو الفاظ نے اب مکمل کر دیا تھا۔ اگرچہ اسے اپنا آپ آئینے میں بھی دکھائی دے رہا تھا مگر ایک بیوی کی خوبصورتی کو جب تک شوہر کی تعریفی تصدیق نہ ملے تو وہ ادھوری ہی رہتی ہے۔ حمید کو اپنی بیوی سے پیار تھا اس لیے وہ اریبہ کو جب بھی دیکھتا، نظر بھر کر دیکھتا اور حمید کا یوں نظر بھر کے دیکھنا اریبہ کے وجود کو زندگی کی روشنی سے بھر دیتا اور وہ مکمل ہو جاتی۔ ایک مکمل عورت ہی گھر کو مکمل رکھ سکتی ہے۔
ننھی کنول نے اپنی گڑیا اٹھائی اور حمید کے پاس آ کر کہنے لگی
پاپا اس کو بھی لے چلیں ساتھ ؟ یہ بھی شادی دیکھ کر خوش ہو جائے گی۔
ارے پاگل یہ تو گڑیا ہے اسے بھلا کیا پتہ شادی کا فنکشن کیا ہوتا ہے۔ حمید نے ہنستے ہوئے کنول سے کہا
نہیں پاپا یہ میری فرینڈ ہے، میں نے اسے بتایا ہے کہ ہم شادی پر جا رہے ہیں تو اس نے کہا کہ میں نے بھی ساتھ چلوں گی، ہم کب سے تو آپس میں باتیں کر رہے ہیں۔ کنول نے معصومیت سے جواب دیا
حمید کو کنول کی بات سن کر خیال گزرا کہ واقعی وہ کب سے بیٹھا موبائل کے ذریعے دور بیٹھے لوگوں کی پوسٹس کو پڑھنے اور ان پر کومنٹس کرنے میں مگن ہے جبکہ قریب بیٹھی اپنی بیٹی کے ساتھ اس نے ایک بھی بات نہیں کی۔
شخص کوئی بھی ہو اور رشتہ کیسا بھی ہو۔ صرف ایک بات نہ کرنے کا عمل بھی دو لوگوں میں ایک نامحسوس خلا پیدا کر دیتا ہے پھر اگر اس خلا کو ختم کرنے کی کوئی سعی نہ کی جائے تو اسے پُر کرنے ہر دو کے درمیان تیسرے وجود کا آنا تو پھر لازم ہے خواہ وہ بےجان پتلا ہی ہو۔

حمید نے ننھی کنول کو دونوں ہاتھوں سے تھام کر اپنی گود میں بٹھایا اور پیار سے اس کی گال کو چوما اور اسے گدگداتے ہوئے کہنے لگا ” پاپا تو بس اپنی گڑیا کو ہی لے کر جائیں گے اپنے ساتھ، کیونکہ یہ تو پاپا کے ساتھ باتیں کرتی ہے اور وہ گڑیا تو بس یونھی پڑے رہنے کے سوا کچھ بھی نہیں کرتی، اس لیے اسے یہیں پر پڑا رہنے دیتے ہیں ٹھیک ہے نا؟ کنول پاپا کی آغوش میں بیٹھی ان کے ہاتھوں کی گدگدی سے کھلکھلا کر ہنس رہی تھی ۔ اسے اب اپنی گڑیا سے بڑا دوست مل گیا تھا اس لیے اس نے فوراََ ہاں کہہ کر گڑیا کو یہیں چھوڑ دیا۔

اس پوری تیاری کے بعد اب ایک مسئلہ سب کا موٹرسائیکل پر سوار ہونا تھا۔ حمید نے خود بیٹھ کر پہلے موٹرسائیکل سٹارٹ کی، پھر اریبہ نے گود میں اٹھائے ننھے دانیال کو حمید کے حوالے کیا اور خود پیچھے بیٹھی اور بیٹھ کر دانیال کو حمید سے واپس اپنی گود میں پکڑ لیا۔ پھر قریب کھڑی کنول کو حمید نے اٹھا کر اپنے آگے ٹینکی پر بٹھایا اور مڑ کر اریبہ سے پوچھا کہ وہ دانیال کو پکڑ کر پیچھے ٹھیک طرح بیٹھ گئی ہے ؟ اور اریبہ کے ہاں کہنے پر حمید نے موٹرسائیکل آگے بڑھا دی۔

رات کے آٹھ بج رہے تھے اور سڑکوں پر بھی کافی رش تھا۔ یوں لگتا تھا کہ ہر شخص نے کہیں نہ کہیں بہت جلدی پہنچنا ہے۔ یہ جلدی شائد اس لیے تھی کہ کوئی بھی وقت کے ساتھ نہیں چلتا۔ وقت پہلے نکل جاتا ہے اور پھر انسان اس کے پیچھے ہانپتا ہوا تیز تیز بھاگتا ہے تاکہ وقت پر پہنچ سکے یا کم از کم زیادہ دیر سے نہ پہنچے۔ وقت اور انسان کی اس دوڑ کا میدان سڑکیں بن جاتی ہیں جہاں جلدی جلدی پہنچنے کی غرض سے لوگ اکثر ٹریفک پھنسا کر پھر گھنٹوں تک رکے رہتے ہیں۔

اسی طرح پھنسی ٹریفک سے نکل کر حمید نے شادی پر جلد پہنچنے کے لیے اپنی موٹرسائیکل کی رفتار بڑھائی اور پھر وہ ایک بڑی روڈ پر آن پہنچا جہاں وہ اپنے الٹے ہاتھ کی طرف تیزی کے ساتھ موٹرسائیکل چلاتا ایک سیدھ میں رواں تھا۔ ایک سیاہ رنگ کی گاڑی جو کافی پیچھے سے مختلف گاڑیوں کو بائی پاس کرتے ہوئے تیزی کے ساتھ آگے بڑھتی آ رہی تھی۔ جب وہ حمید کی موٹرسائیکل کے قریب پہنچی تو اس نے اپنی رفتار ان کے برابر کر دی۔ گاڑی کو ایک نوجوان چلا رہا تھا اور ساتھ دو نوجوان مزید بیٹھے تھے۔ گاڑی میں لگی ایل سی ڈی پر ویڈیو کے ساتھ مدھم آواز میں گانے چل رہے تھے جبکہ انکا اپنا قہقہوں کا شور اس آواز سے زیادہ تھا۔ گاڑی کو چلانے والا نوجوان موٹرسائیکل پر شادی کے لیے تیار ہو کر بیٹھی اریبہ کے چہرے کو دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن موٹرسائیکل گاڑی کے بائیں جانب تھی اس لیے صرف پشت دکھائی دے رہی تھی۔ انہوں نے پہلے اپنی گاڑی کو حمید کی موٹرسائیکل کے عین پیچھے کیا پھر بائیں جانب سے موٹرسائیکل کو کراس کرنے کی کوشش کی تاکہ اس پر سج دھج کر بیٹھی لڑکی کا چہرہ پوری طرح نظر آ جائے۔ اپنی اسی کسک کو مٹانے کی کوشش میں جب انکی گاڑی موٹرسائیکل کو انتہائی قریب سے کراس کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی تو اس کا سائیڈ مِرر حمید کی موٹرسائیکل سے ٹکرایا جس کے نتیجے میں وہ یک دم اپنی گرفت مضبوط نہ رکھ سکا اور موٹرسائیکل اچانک توازن برقرار نہ رکھ سکی اور دھڑام سے سڑک پر گر گئی۔

سیاہ رنگ کی گاڑی تیزی کے ساتھ آگے نکل گئی تھی جبکہ حمید، اریبہ اور دونوں بچے سڑک پر گرے پڑے تھے۔ حمید نے بمشکل خود کو موٹرسائیکل کے نیچے سے نکالا اور اریبہ کے ہاتھ سے چھوٹ کر گرے ننھے دانیال کو سڑک پر سے اٹھا کر فٹ پاتھ پر لٹایا پھر اسے روتا چھوڑ کر پلٹ کے دیکھا تو کچھ اور لوگ بھی رک کر اردگرد اکٹھے ہو گئے تھے۔ اریبہ کے گھٹنے پر بھی شدید چوٹ آئی تھی جس کے باعث وہ اٹھ نہیں پا رہی تھی اور چہرے پر بھی واضح موٹی موٹی خراشیں دکھائی دے رہیں تھیں جبکہ ننھی کنول کے ماتھے پر سے خون کی سرخ سرخ بوندیں بہنے لگی تھیں۔ پاس اکٹھے ہو چکے ہجوم میں سے کسی نے موٹے موٹے آنسووں کے ساتھ روتی کنول کو گود میں اٹھا کر فٹ پاتھ تک لاتے ہوئے پوچھا۔ بیٹا آپ ٹھیک تو ہو نا ؟ کیسے گرے آپ لوگ ؟
وہ گندے انکل ۔۔۔۔۔ ہمیں ٹکر مار کے پھینک گئے ہیں۔ روتی کنول نے آدمی سے کہا۔ بیٹا پیٹ میں جب حرام کے انگارے بھرے ہوں تو انسان یونہی دوسروں کی زندگیوں میں بھی آگ لگا دیتا ہے۔ آدمی غصے میں زیرلب بڑبرایا۔ پھر کنول اس آدمی کی گود سے اتری اور اپنے باپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے جھنجھوڑتے ہوئے بولی
دیکھیں نا پاپا میرا شادی والا فراک بھی سارا پھٹ گیا ۔۔۔۔۔ اب ہم شادی پہ بھلا کیسے جائیں گے ؟ ننھی کنول فراک کو دیکھتے ہوئے باپ کے سامنے بلک بلک کے رونے لگی تھی جبکہ حمید پھٹی پھٹی آنکھوں سے کبھی ننھی کنول اور کبھی اریبہ کو لوگوں کے درمیان سڑک پر سے لنگڑاتے ہوئے اٹھتا دیکھ رہا تھا۔

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20