گدھا منڈی — توفیق الحکیم کے عربی ڈرامے سے ماخوذ — اردو روپ: آصف فرّخی

0

کردار :دو بے روزگار آدمی کسان، کسان کی بیوی

پہلا منظر

گدھا منڈی کے آس پاس دور ہی سے گدھوں کے رینکنے کی آوازیں آرہی ہیں۔ منڈی کے باہر دو آدمی بیٹھے ہوئے ہیں جن کے پھٹے پرانے کپڑے اور میلی کچیلی صورتوں سے ظاہر ہورہا ہے کہ وہ نکمّے اور آوارہ ہیں۔

 

Nwf.com: حمار الحكيم: توفيق الحكيم: كتبپہلا بے روزگار (اپنے ساتھی سے): کیا تم بتا سکتے ہو کہ ہم میں اور گدھوں میں کیا فرق ہے؟

دوسرا بے روزگار: یہ فرق تم اپنے کانوں سے سُن سکتے ہو۔

پہلا: تمہارا مطلب ہے ڈھینچوں ڈھینچوں؟

دوسرا: بالکل وہی، ڈھینچوں ڈھینچوں۔

پہلا: یہ ڈھینچوں ڈھینچوں گدھوں کی بات چیت بھی تو ہوسکتی ہے۔

دوسرا: تو پھر یہی بات ہوگی۔

پہلا: یعنی کہ گدھے آپس میں بات چیت کررہے ہیں۔

دوسرا: شاید وہ چیخ چلّا رہے ہیں۔

پہلا: میں اندازہ لگاتا ہوں کہ وہ کہہ کیا رہے ہوں گے۔

دوسرا: یہ معلوم کرنے کے لیے تو تم کو گدھا بننا پڑے گا۔

پہلا: آپس میں کتنے زور زور سے باتیں کررہے ہیں۔

دوسرا: ظاہر ہے، آخر ان کو ایک دوسرے کی بات بھی تو سننا ہے۔

پہلا: میں سمجھتا تھا کہ گدھے ایک دوسرے سے کانا پھوسی کرتے ہیں۔

دوسرا: کیوں؟ ان کو کانا پھوسی کی بھلا کیا ضرورت ہے؟

پہلا: ہماری طرح۔

دوسرا: فکر مت کرو… گدھے ہماری طرح نہیں ہیں۔

پہلا: تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو، گدھے بڑے مہذّب جانور ہیں۔

دوسرا: تم کیا کہہ رہے ہو؟ گدھے اور مہذّب؟

پہلا: تم نے کبھی جنگلی گدھے دیکھے ہیں؟ جنگلی گھوڑے بھی ہوتے ہیں اور جنگلی بھینسے بھی، جنگلی کبوتر بھی اور جنگلی بلّے بھی، لیکن جب سے گدھے ہمارے درمیان گھومتے آئے ہیں، وہ بڑے امن چین سے کام کرتے رہیں ہیں اور آزادی سے باتیں کرتے رہے ہیں۔

دوسرا: آزادی سے؟

پہلا: میرا مطلب ہے زور سے۔

دوسرا: زور سے بولنے کی بھی خوب رہی۔ یہ تو بتائو کہ ہم کو تمیز قاعدے سے رہنے کی اجازت کیوں نہیں ہے، تم کو اور مجھ کو؟

پہلا: اس لیے کہ تم بھی قلاش ہو اور میں بھی۔

دوسرا: اور ہم قلاش کس لیے ہیں؟

پہلا: اس لیے کہ کسی کو بھی ہماری ذرّہ برابر پروا نہیں۔ اگر ہمارے لیے بھی کوئی منڈی ہوتی، جس طرح ان گدھوں کے لیے ہے، تو ہمیں بھی کوئی خرید لیتا۔

حمار الحكيم by Tawfiq Al-Hakimدوسرا: لیکن کوئی ہمیں خرید کیوں نہیں لیتا؟

پہلا: اس لیے کہ ہم دیسی مال ہیں۔

دوسرا: تو اس میں کیا برائی ہے؟

پہلا: دام صرف باہر کے مال کے ملتے ہیں۔

دوسرا: تو کیوں نہ ہم جاکر اپنے اشتہار دیں؟

پہلا: کس طرح؟

دوسرا: اپنی آواز کے ذریعے۔

پہلا: ہماری آواز تو نکلے گی ہی نہیں۔

دوسرا: تو پھر یہ کیسے ہوتا ہے کہ گدھے کی آواز زور سے نکلتی ہے؟

پہلا: اس لیے کہ میں نے تمہیں ابھی بتایا، وہ مہذّب جانور ہیں۔

دوسرا: اب تم نے میری دلچسپی کو بیدار کردیاہے۔ کاش میں گدھا ہوتا، اس طرح کا جیسے وہ سامنے آرہا ہے! ادھر دیکھو… وہ گدھا جسے ایک آدمی کھینچے لیے چلا آرہا ہے۔ وہ اسے منڈی سے خرید کر لایا ہے۔ پتہ نہیں کیا دام ادا کیے ہوں گے اس گدھے کے؟ دیکھو دیکھو، خوشی سے پھولا نہیں سما رہا اور کتنے فخر کے ساتھ اسے لیے جارہا ہے۔

پہلا: مجھے ایک ترکیب سوجھی ہے۔

دوسرا: کیا؟

پہلا: کیا تم گدھا بننا چاہتے ہو؟

دوسرا: میں؟ وہ کیسے؟

پہلا: تو پھر سوال مت پوچھو۔ تم بننا چاہتے ہو کہ نہیں؟

دوسرا: بننا تو چاہتا ہوں، مگر کیسے؟

پہلا: میں تم کو بتاتا ہوں۔ تم اس گدھے کو دیکھ رہے ہو جو ہماری جانب آرہا ہے اور جسے وہ آدمی کھینچ کر لارہا ہے جس نے اسے منڈی سے خریدا ہے، میں اس آدمی کے پاس جائوں گا اور اس کو باتوں میں لگا کر اس کا دھیان بٹا دوں گا۔ اس دوران تم اس گدھے کی گردن میں پڑی ہوئی رسی اس طرح کھول لینا کہ اس کے مالک کو کانوں کان خبر نہ ہو اور رسّی اپنے گلے میں ڈال لینا۔

دوسرا: بس اتنا ہی؟ تو پھر اس کے بعد؟

پہلا: تو پھر وہ تمہیں لے جائے گا اور میں اس کے گدھے کو۔

دوسرا: مگر وہ مجھے لے کر جائے گا کہاں؟

پہلا: میں کیا جانوں، ارے گدھے، وہ تو تجھے جیتے جی جنت۔میں لے جائے گا۔

دوسرا: تم سچ کہہ رہے ہو؟

پہلا: تم بھی تو یہی چاہتے ہو؟

دوسرا: میں اپنی گردن میں رسی باندھ لوں اور وہ مجھے کھینچتا ہوا لے جائے؟

پہلا: تو اس میں حرج کیا ہے؟ اس طرح تمہیں ایک ایسا آدمی مل جائے گا جو اس بات کا ذمّہ لے لے گا کہ تم کو کھانے کے لیے ایک نوالہ مل جائے۔

دوسرا: جسے تم کہہ رہے ہو وہ نوالہ تو نہیں ہوگا… چارہ ہو تو ہو۔

پہلا: ایک ہی بات ہے… کھانے کے لیے کچھ مل جائے۔

دوسرا: تم ٹھیک کہہ رہے ہو، اس سے تو حالات بدلیں گے کہ ہر وقت بھوکے رہیں اور سر پر چھت بھی نہ ہو۔ لیکن میں اس آدمی کے سر چپکوں گا کیسے؟

پہلا: اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ تم کتنے عقل مند ہو۔

دوسرا: کوشش کر کے دیکھ لیتے ہیں۔

پہلا: اپنے آپ کو چھپالو… یہ آدمی ہم دونوں کو ساتھ نہ دیکھ پائے۔

 

دونوں آدمی ادھر اُدھر ہوجاتے ہیں اور اسٹیج خالی ہوجاتا ہے۔ ایک آدمی—جو حلیے سے کسان معلوم ہوتا ہے نمودار ہوتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں رسی ہے جس سے گدھا بندھا ہوا ہے اور وہ گدھے کو کھینچ رہا ہے۔ پہلا بے روزگار اس کے سامنے آتا ہے۔

 

پہلا: تم پر سلامتی ہو، اے شخص!

کسان: اور تم پر بھی سلامتی۔

پہلا: خدایا، اس کا مطلب ہوا اے شخص کہ تم مجھ کو پہچانتے نہیں ہو۔

کسان: تم… مگر بھلا کون ہو تم؟

پہلا: کون ہوں میں؟ ہم نے ساتھ بیٹھ کر کھانا نہیں کھایا تھا؟

کسان: میں پہچان نہیں سکا۔ تمہارا مطلب ہے کہ کبھی تم نے میرے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا تھا؟

پہلا: تمہارا مطلب ہے کہ تم سب کچھ اتنی جلدی بھول گئے؟ نیکی کے کام کو حرام زادوں کے سوا اور کون اتنی جلدی بھول سکتا ہے؟

کسان: کیا تم مجھے حرام زادہ کہہ رہے ہو؟

پہلا: تمہارے بارے میں ایسی بات کہنے والے کو خدا موت کے گھاٹ اتار دے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ جو شخص بھی اپنے دوستوں کو بھُلا دے… مگر خدا کا شکر ہے کہ تم بہت عمدہ اور شریف آدمی ہو، بس تمہارے ذہن سے اُتر گیا کہ میری شکل صورت کیسی ہے۔ بات یہ ہے کہ ہم رات کے وقت ملے تھے، رات کے کھانے کے وقت اور پھر ہوا یہ ہے کہ اس رات چاند نہیں نکلا تھا۔

کسان: چاند؟ کب؟ کہاں؟

پہلا: میں تمہیں یاد دلاتا ہوں۔ اس وقت تک صبر کرلو جتنی دیر میں یہ گرہ کھل جائے۔

 

وہ چوری چوری اپنے ساتھی کی طرف دیکھتا ہے جو دبے پائوں ادھر آگیا ہے اور گدھے کی گردن میں بندھی ہوئی رسّی کی گرہ کھولنے میں جُٹ گیا ہے۔

 

کسان: کیا کھل جائے؟

پہلا: میری تو چمڑے کی زبان ہے۔ اس پر سے بات پھسل جاتی ہے۔ تم نے تو مجھے شرمندہ کردیا۔ میں بھول ہی گیا میں کیا کہہ رہا تھا۔ ذرا میری مدد کرو۔ (اپنے ساتھی کی طرف چپکے سے نظر دوڑاتا ہے اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اس سے کہتا ہے جلدی کرو۔) اس گرہ کو کھولنے میں میری مدد کرو تمہارا حسان ہوگا۔

کسان: میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ تم کہہ کیا رہے ہو۔

پہلا: تم جلدی سمجھ جائو گے… ایک دفعہ گرہ کھل جائے، جو اب بس کھلنے والی ہوگی… اتنی دیر سے اس پر لگا ہوا ہے… کچھ زیادہ ہی دیر سے… اے شخص، جلدی سے کھول لے۔

کسان: مگر مجھے کھولنا کیا ہے؟

پہلا: (یہ اندازہ لگا کر کہ اس کے ساتھی نے گرہ کھولنے کے بعد رسّی اپنے گلے میں ڈال لی ہے اور گدھے کو کُھلا چھوڑ دیا ہے) اے لو، کُھل ہی گئی۔ بس اللہ ہی ہے جو سب چیزیں کھولتا ہے اور مسئلے سلجھاتا ہے۔ ہر چیز اپنے مناسب وقت سے کھلتی ہے اور پھر اپنے حساب سے سُلجھتی ہے۔ ہر چیز کے لیے وقت چاہیے، اور دیکھیے کہ آپ مجھے پہچان نہیں رہے ہیں تو اس کے لیے بھی میں آپ کو وقت دے رہا ہوں کہ سکون اطمینان سے، ٹھنڈے دماغ سے سوچیے۔ اللہ نے چاہا تو ہم پھر ملیں گے اور آپ مجھے پہچان جائیں گے، پھر خوب گرم جوشی سے میرا استقبال کریں گے۔ آپ پر سلامتی ہو۔

 

وہ کسان کو حیران پریشان چھوڑ دیتا ہے۔ گدھے کے پاس جاتا ہے، اسے سنبھالتا ہے اور اس طرح کے کسی کی نظر نہ پڑے، وہاں سے سرک جاتا ہے۔

 

کسان (اپنے آپ سے): میں کہاں ملا تھا اس سے؟ کہاںکھایا تھا کھانا ہم نے؟ چاند بھی نہیں نکلا تھا؟ کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ… آج کل ذہن بھی تھوڑا بہت بھٹکنے لگا ہے۔

 

وہ گدھے کی رسّی کھینچتا ہے، تاکہ اسے لے کر آگے بڑھے اور اسے نہیں معلوم کہ دوسرے بے روزگار آدمی نے گدھے کی جگہ لے لی ہے۔

 

کسان (پکارتا ہے): چلو، گدھے۔

 

دوسرا بے روزگار گدھے کے ڈھینچوں، ڈھینچوں کی نقل اتارتا ہے۔

 

کسان (چاروں طرف دیکھتا ہے اور چونک پڑتا ہے): ارے، یہ کیا؟ تم کون ہو؟

دوسرا: میں گدھا ہوں۔

کسان: گدھا؟

دوسرا: ہاں، وہی گدھا جو آپ نے ابھی منڈی سے خریدا تھا۔

کسان: یہ نہیں ہوسکتا!

دوسرا: آپ اتنے حیران کیوں ہیں؟ ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ نے مجھے منڈی سے خریدا نہیں تھا؟

کسان: ہاں، مگر…

دوسرا: مگر کیا؟

کسان: اللہ کے نام سے جو نہایت رحم والا ہے!

دوسرا: ڈریے مت، میں آپ ہی کا گدھا ہوں۔

کسان: کیسے؟… تم تو انسان ہو۔

دوسرا: یہ آپ کی قسمت ہے جو یاوری کررہی ہے۔

کسان: کیا تم واقعی انسان ہو یا تم…

دوسرا: ہاں، انسان ہوں، جن بھوت نہیں۔ گھبرائیے مت، پوری بات ابھی آپ کی سمجھ میں آجائے گی۔ ذرا تسلّی رکھیے۔

کسان: میں… میں تسلّی سے ہوں۔

دوسرا: تو پھر سنیے، حضور والا… سیدھی بات تو یہ ہے کہ میرا باپ… حضور آپ کی طرح نیک، شریف آدمی تھا… مگر تھا بہت اڑیل اور ضد پر آگیا کہ میری شادی ایسی لڑکی سے کردے گا جس کو میں نے دیکھا نہیں تھا اور نہ جس نے مجھے دیکھا تھا۔ میں نے انکار کردیا مگر وہ اصرار کہے گیا۔ میں نے تجویز پیش کی کہ ہم اس کے بارے میں بات چیت کرلیں اور کسی نتیجے تک پہنچ جائیں، اور یہ کہ سارا معاملہ آزادی کے جذبے کے ساتھ طے کرلیں۔ وہ بگڑ گیا اور کہنے لگا، ’’میرا لڑکا اور الٹا مجھی سے بحث کرے، یہ نہیں ہوسکتا۔‘‘ میں نے اس سے کہا ’’تم جو کہہ رہے ہو، میں اسے ماننے سے انکار کرتا ہوں۔ ‘‘ اس نے مجھ سے کہا ’’تم بالکل گدھے ہو۔‘‘ میں نے اس سے کہا ’’میں گدھا نہیں ہوں۔‘‘ اس نے کہا ’’میں کہہ رہا ہوں کہ تم گدھے ہو اور تم کو گدھا بننا ہی پڑے گا۔‘‘ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ اس وقت آسمان کے دروازے کھلے ہوئے تھے اور یہ دعا قبول ہوگئی اور میں سچ مچ کا گدھا بن گیا۔ میرا باپ مر گیا اور میں پھر مویشیوں کے باڑے میں پایا گیا، اس لیے کہ میں ان کے مال مویشی کا حصّہ بن چکا تھا۔ لوگوں نے مجھے منڈی میں بیچ دیا، وہاں پہنچ گئے آپ اور آپ جناب نے مجھے خرید لیا۔

کسان: حیرت ہے! تو پھر تم وہی گدھے ہو جسے میں نے خریدا تھا؟

دوسرا: عین مین وہی گدھا۔

کسان: تو پھر یہ کیسے ہوگیا کہ تم واپس انسان کے روپ میں آگئے؟

دوسرا: میں نے کہا ناں، یہ آپ کی تقدیر کی خوبی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ دُنیا کے نیک لوگوں میں ہیں اور خداوندِ قدوس نے، کہ جلال اور برکت والا ہے اس کا نام، آپ کو یہ سعادت بخشی۔

کسان: واقعی! مگر اب کیا کیا جائے؟

دوسرا: کیوں، کیا ہوا؟

کسان: ہوا یہ کہ تم… کہ میں… میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ اب کروں تو کیا۔ مطلب یہ ہے کہ میرے پیسے بھی گئے اور گدھا بھی۔ میں تو برباد ہوگیا۔

دوسرا: آپ کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔

کسان: وہ کیسے؟

دوسرا: آپ نے گدھا خریدا تھا ناں؟ یہ رہا آپ کا گدھا۔

کسان: کہاں ہے میرا گدھا؟

دوسرا: میں کہیں نہیں گیا؟

کسان: تم؟

دوسرا: ہاں، میں۔

کسان: تم مجھے یہ بتانا چاہ رہے ہو کہ تم…

دوسرا: آپ کی ملکیت، جناب۔ آپ نے اپنے پیسے خرچ کر کے مجھے خریدا ہے، یہ سمجھ کر کہ میں گدھا ہوں۔ سودا تو پورا ہوگیا تھا۔ فرض کیجیے کہ اس کے بعد میں کچھ اور بن جاتا ہوں تو اس میں آپ کا کیا قصور ہے؟ آپ نے تو سودا کیا ہے اور یہی اصل بات ہے۔

کسان: ہاں میں نے خریدا ہے۔

دوسرا: یہی بات ہے… اطمینان سے ہوجائیے۔

کسان: تم یہ کہہ رہے ہو کہ اب تم میری ملکیت ہو؟

دوسرا: قانون کے مطابق میں آپ کی ملکیت ہوں۔ حق بہ حق دار رسید… اور آپ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

کسان: معاملہ صاف ہے۔ ٹھیک ہے، چلو چلیں۔

دوسرا: آپ کی خدمت میں حاضر۔

کسان: یہاں مڑو، اے… بھئی میں تمہیں کیا کہہ کے پکاروں؟

دوسرا: جس نام سے چاہیں پکار لیں۔ مثال کے طور پر ، یہی… صبا رفتار۔ کیسا لگا آپ کو یہ نام؟ صبا رفتار… آئو صبا رفتار… جائو صبا رفتار!

کسان: صبا رفتار؟

دوسرا: بالکل مناسب ہے!

کسان: اس نام پر خدا کی برکت ہو۔ چلیے پھر… صبا رفتار صاحب! ذرا ٹھہرو، میرے خیال میں تمہاری گردن کے گرد یہ رسّی ڈالنے کی بات ضروری تو نہیں۔

دوسرا: جیسے آپ بہتر سمجھیں۔

کسان: رسّی کے بغیر کام چل جائے گا… آخر تم جائو گے کہاں؟ ذرا ٹھہرو تمہاری گردن سے کھول دوں۔

دوسرا: (خود اپنے ہاتھوں سے رسّی کھول لیتا ہے) مجھے اجازت دیں… مجھے اجازت دیں… آپ مہربانی کریں۔

کسان: ہاں ٹھیک ہے۔ چلو، گھر چلیں جناب… صبا رفتار۔

دوسرا منظر

کسان کے گھر کے اندرونی حصّے میں اس کی بیوی گھر کے مختلف کام دھندوں میں مصروف ہے۔ وہ دروازے پر دستک سنتی ہے۔

 

بیوی: کون ہے؟

کسان: (باہر سے) میں ہوں، عورت۔ دروازہ کھولو۔

بیوی: (دروازہ کھولتی ہے اور اس کا شوہر اندر داخل ہوتا ہے) اتنی دیر تک منڈی میں ہی تھے؟

کسان: ابھی تو واپس آیا ہوں۔

بیوی: گدھا خرید لیا تم نے؟

کسان: میں نے خریدا…

بیوی: اسے باڑے میں بند کردیا؟

کسان: تم کس باڑے کی بات کررہی ہو، عورت؟آپ اندر چلے آئیے، صبا رفتار صاحب۔

بیوی: اپنے ساتھ مہمان بھی لے آئے؟

کسان: یہ مہمان نہیں ہیں۔ تم ان کو کہہ سکتی ہو کہ… تمہیں بعد میں بتائوں گا۔

بیوی: اندر تشریف لائیے۔

کسان: اب تم رخصت ہوجائو اور میرے لیے چائے بنا کر لائو۔

بیوی چلی جاتی ہے۔ صبا رفتار: (چاروں طرف دیکھتے ہوئے) ایسا لگتا ہے کہ میں…

کسان: اور میں اپنی بیوی کو کیا بتائوں؟

صبا رفتار: اسے سچ سچ بتا دو۔

کسان: سچ؟

صبا رفتار: بالکل… نہ ایک لفظ کم نہ ایک لفظ زیادہ۔ صاف صاف بات کرلینے سے بہتر کچھ نہیں۔

کسان: اگر یہ بات ہے تم سوئو گے کہاں؟

صبا رفتار: باڑے میں۔

کسان: تمہارا کیا مطلب ہے باڑے میں؟ تمہارے خیال میں یہ ٹھیک ہوگا؟

صبار رفتار: میری جگہ وہیں ہے۔ میری خاطر چیزوں کی ترتیب نہ بدلو۔ بس اتنی سی بات ہے کہ اگر تمہارے پاس گدّا اور تکیہ ہے تو وہاں رکھ دو۔

کسان: ٹھیک ہے، مگر کھانے کا کیا ہوگا؟ یہ تو ٹھیک نہیں ہوگا کہ تم گھاس، پتیاں اور پھلیاں کھاتے رہو۔

صبا رفتار: میں پھلیاں کھالوں گا… سیم کی پھلیاں ہوں تو ٹھیک ہے۔

کسان: ان پر ذرا سا گھی ڈال کے؟

صبا رفتار: اور نمک مرچ کے ساتھ۔

کسان: تو کیا تم ساری عمر پھلیاں کھاتے رہو گے؟

صبا رفتار: یہ بھی اللہ کی نعمت ہے!

کسان: جیسی تمہاری مرضی۔ گدھے تو ایک ہی غذا کھاتے ہیں۔ انہیں ناشتے، دوپہر کے کھانے اور رات کے کھانے کا فرق نہیں معلوم۔ بھوسا، چارہ، گھاس اور پھلیاں اور بس۔

صبا رفتار: مجھے معلوم ہے۔

کسان: اچھا، تو تمہارے سونے اور کھانے کا مسئلہ ہم نے حل کرلیا۔ اب مجھے یہ بتائو کہ تم کام کیا کرو گے؟

صبا رفتار: وہی سارا کام جو گدھے کرتے ہیں—سوائے سواری کے کام آنے کے۔

کسان: سواری؟

صبا رفتار: آپ مجھ پر سواری نہیں کرسکتے ورنہ آپ گرجائیں گے۔

کسان: اور سامان لادنا؟ مثال کے طور پر میں ارادہ کررہا تھا کہ شلجم اور لہسن پیاز گدھے پر لاد کر لے جائوں گا اور سبزی منڈی پہنچا دوں گا۔

صبا رفتار: یہ کام میں کروں گا۔

کسان: تم یہ سبزیاں اپنے کندھوں پر لاد کر لے جائو گے؟

صبا رفتار: یہ میرا کام ہے، میں سنبھال لوں گا۔ میں چاہے گدھا ہوں لیکن میرے پاس دماغ بھی ہے۔

کسان: دماغ؟ میں یہ دماغ والی بات تو بھول ہی گیا تھا۔

صبارفتار: فکر مت کیجیے، میرا یہ دماغ آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہے۔ آپ مجھ پر بھروسا کرسکتے ہیں۔ بس مجھے یہ اعتبار اور حق دیجیے کہ آپ سے آزادی کے ساتھ بات کرسکوں۔

کسان: مطلب یہ کہ تم تاجر کے پاس سامان خود سے پہنچا سکتے ہو؟

صبا رفتار: اور آپ کے لیے بہترین قیمت بھی حاصل کرلوں۔

کسان: دیکھے لیتے ہیں۔

بیوی: (باہر سے) چائے!

صبا رفتار: معاف کیجیے گا۔

کسان: تم کہاں جارہے ہو؟

صبا رفتار: جس باڑے میں مجھے سونا ہے، اس کا معائنہ کرنے جارہا ہوں۔

کسان: یہاں سے باہر نکلو گے تو سیدھے ہاتھ پر ملے گا۔

 

صبا رفتارباہر چلا جاتا ہے۔ بیوی چائے کا پیالہ لیے ہوئے داخل ہوتی ہے۔

 

بیوی: (شوہر کو چائے دیتے ہوئے) تمہارا مہمان باہر چلا گیا؟

کسان: وہ مہمان نہیں ہے، عورت۔ وہ تو…

بیوی: کیا؟

کسان: وہ تو… وہ تو…

بیوی: وہ تو کیا؟

کسان: وہ تو… وہ تو…

بیوی: وہ کون ہے؟

کسان: تم مانو گی نہیں۔

بیوی: ماننے کی بات ہوگی تو کیوں نہیں مانوں گی، اور نہیں تو کیا۔

کسان: وہی جو اب میں تمہیں بتانے والا ہوں۔

بیوی: اچھا تو پھر بتائو۔

کسان: وہ… وہ گدھا ہے جو میںنے خریدا ہے۔

بیوی: گدھا؟

کسان: ہاں، آج میں گدھا منڈی نہیں گیا تھا، گدھا خریدنے کے لیے؟ وہی وہ گدھا ہے جو میں نے بازار میں خریدا ہے۔

بیوی: وہ گدھا… اے شخص، کیا تو مجھے الّو بنا رہا ہے؟

کسان: میں نے کہا تھا ناں کہ تم مانو گی نہیں۔

بیوی: لیکن کیا مانوں؟… یہ کہ منڈی میں انسانی گدھے مل رہے ہیں؟

کسان: جس وقت میں نے خریدا تو وہ انسان نہیں تھا… وہ گدھا تھا، باقی سارے گدھوں کی طرح… اور وہ ڈھینچوں ڈھینچوں کررہا تھا۔

بیوی وہ ڈھینچوں ڈھینچوں بھی کرتا ہے؟

کسان: ہاں، خدا کی قسم، میں قرآن کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ڈھینچوں ڈھینچوں کررہا تھا۔

بیوی: اور پھر؟

کسان: اور پھر گھر آتے آتے… میں رسی پکڑے اسے لے کر آرہا تھا… پلٹ کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ انسان میں بدل چکا ہے۔

بیوی: خدا ہم پر رحم کرے…بھوت پریت، عفریت ہے!

کسان: اے عورت، وہ عفریت نہیں ہے…اس کی کایا بدل گئی۔ اصل میں وہ انسان تھا، آدمی کا بچہ، ہماری طرح کے نیک شریف لوگوں کی اولاد۔ پھر اس کی کایا بدل گئی اور اسے بازار میں بیچ دیا گیا۔ میں نے اسے خرید لیا اور خداوندِ قدوس نے سب تعریفیں جس کے لیے ہیں، مجھے یہ سعادت بخشتی اور وہ خدا نے اسے واپس انسان بنا دیا۔

بیوی: تیری مہربانیاں، اے خداوندِ قدوس!

کسان: بہرحال، تو پھر یہ ہوا۔

بیوی: لیکن پھر بھی…

کسان: کیا؟ تم کہنا کیا چاہتی ہو؟

بیوی : کچھ نہیں

کسان: نہیں، کچھ ہے جو تم کہنا چاہتی ہو۔

بیوی میں کہنا چاہتی ہوں… میرا مطلب یہ ہے… یہ ہے کہ ہم اب اس کا کیا کریں گے، اس لیے کہ وہ تو… وہ تو… انسان ہے!

کسان:اس کا کیا کریں گے؟ وہی کریں گے جو کسی اور گدھے کے ساتھ کیا جاتا ہے… اور پھر اس گدھے کے ساتھ ساتھ اس کا دماغ بھی کام کرتا ہے۔

بیوی: میرا خیال ہے کہ ہم اس کی سواری تو نہیں کرسکیں گے؟

کسان: سواری کے سوال کو تھوڑی دیر کے لیے بھول جائیں۔

بیوی: اور ہم اس سے بات چیت بھی کریں گے جس طرح دوسرے انسانوں سے بات کرتے ہیں؟

کسان: ہاں اس سے بات کرو اور اسے اس کے نام سے پکارو۔

بیوی: اس کا نام بھی ہے؟

کسان: ظاہر ہے، تم کیا سمجھتی ہو؟ اس کا نام ہے صبا رفتار۔ ہم اس کو پکاریں گے اور اس سے کہیں گے، یہاں آئو صبا رفتار! وہاں جائو، صبا رفتار!

بیوی: اور وہ سوئے گا کہاں؟

کسان: باڑے میں۔ گدھے کے لیے وہاں ایک گدّا رکھ دینا۔

بیوی: اور وہ کھائے گا کیا؟

کسان: پھلیاں… لیکن گھی، مصالحے کے ساتھ۔

بیوی: گھی کے ساتھ؟

کسان: اور مصالحے۔

بیوی: وہ چائے پیتا ہے؟

کسان: اب اس کو یہ عادت مت ڈال دینا۔

بیوی: واہ کیا عمدہ بات ہے… ہمارے پاس انسانی گدھا ہے!

کسان: ہوشیار رہنا، اے عورت، ایسی باتیں پڑوسیوں کے سامنے منھ سے بھی نہ نکالنا، ورنہ وہ سمجھیں گے ہم بالکل ہی کھسک گئے ہیں۔

بیوی: تو ان سے میں کیا کہوں؟

کسان: ان سے کہہ دو… مثلاً یہی کہ ہمارا دور دراز کا رشتہ دار ہے، کنبہ برادری والا ہے جو ہمارا ہاتھ بٹانے کو تھوڑے دنوں کے لیے آیا ہے اس لیے کہ رمضان سر پر آگئے ہیں۔

 

دروازے پر دستک

 

بیوی: کون ہے؟

صبا رفتار: (باہر سے) میں ہوں… صبا رفتار۔

بیوی: (شوہر سے) وہی ہے!

کسان: اس کے لیے دروازہ کھول دو۔

بیوی: (دروازہ کھولتی ہے) اندر آجائو… اور دہلیز پر پیر رگڑ کر صاف کرلو۔

صبا رفتار: (اندر آتے ہوئے) میں نے اپنے لیے باڑے کے ایک کونے میں جگہ صاف کرلی ہے اور نیا بھوسا بچھا دیا ہے۔

کسان: دیکھا تم نے، اے خاتونِ خانہ، یہ صفائی بھی کرلیتا ہے اور اپنا بستر خود تیار کرتا ہے… اس کا ایک اور فائدہ۔

بیوی: ہاں، اس بات کی بھی عادت ڈال لے۔

صبا رفتار: میں آیا ہوں ایک اہم بات کے لیے۔

کسان: کس بارے میں؟

صبا رفتار: سبزی کے آڑھتی کے بارے میں۔

کسان: سبزی کا آڑھتی؟ کیا ہوا اسے؟

صبا رفتار: اس کا بھیجا ہوا آدمی آیا تھا… مجھے دروازے پر مل گیا اور کہنے لگا کہ آڑھتی کو جلدی ہے کہ سبزیاں مل جائیں۔ میں نے اس سے بات چھیڑی تو پتہ چلا کہ تھوڑے دنوں میں رمضان آجائیں گے تو شلجم اور لہسن پیاز کی قیمت بڑھ جائے گی۔ میں نے اس سے کہہ دیا کہ آپ ابھی معاملے پر غور کررہے ہیں اور یہ کہ ایک گاہک اور بھی ہے جس نے زیادہ دام لگائے ہیں۔ وہ آدمی تو جیسے کانپ اٹھا اور کہنے لگا کہ اس نے جو قیمت پہلے لگائی تھی، اس کو بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

کسان: اس نے یہ کہا تھا؟

صبا رفتار: (پیسے نکالتے ہوئے) میں نے اس سے زیادہ دام وصول کرلیے۔ یہ لیجیے۔

کسان: خدا تم کو اس کا نیک اجر دے!

صبا رفتار: لیکن مجھے آپ سے ایک درخواست کرنا ہے۔

کسان: وہ کیا؟

صبا رفتار: آپ مجھے اس بات کی اجازت دیں کہ اس سے پہلے کہ آپ کوئی فیصلہ کرلیں، میں بھی آپ سے اس معاملے پر کُھل کر اور آزادی کے ساتھ بات چیت کرلوں۔

کسان: ہاں میں سُن رہا ہوں۔

صبارفتار: کیا آپ کا ارادہ تھا کہ پوری فصل اس آڑھتی کے حوالے کردیں؟

کسان: ہاں، پوری فصل۔

صبارفتار: کیوں؟

کسان: اس لیے کہ ہمیں رقم چاہیے۔

صبارفتار: اس وقت اس کی کیا اشد ضرورت ہے؟

کسان: ہاں ہے۔ رمضان کے آتے آتے ہمیں رقم کی سخت ضرورت ہے۔ کیا تم بھول گئے کہ ہمیں خشک میوے، پھل اور پھلوں کا رس درکار ہے۔

صبارفتار: میرے دماغ میں ایک ترکیب آئی ہے۔

کسان: ذرا ہم بھی تو سُنیں۔

صبارفتار: فصل کا ایک حصّہ ہم علیحدہ کرلیں اور اسے اگلی فصل کی بوائی کے بیجوں کے لیے رکھ لیں، بجائے اس کے کہ بوائی کے موسم میں مہنگے داموں بیج خریدیں۔

بیوی: اگلی فصل کی تیاری خدا کروا دے گا… ہمیں تو آج کی فکر ہے۔

صبارفتار: جیسے تمہاری مرضی۔ بہرحال میں نے آپ کو اپنی رائے دے دی ہے… میں تو ڈرتا ہوں کہ نئی بوائی کا وقت دیکھتے ہی دیکھتے آجائے گا اور آپ لوگوں کے پاس بیج کے پیسے نہیں ہوں گے تو پھر آپ کو سود کے ساتھ قرض لینا پڑے گا یا شاید آپ مجبور ہوجائیں کہ مجھے ہی بیچنا پڑے۔

کسان: یہ سارے معاملے خدا پر چھوڑ دو۔

بیوی: یہ اتنی باتیں بھلا کس لیے کررہا ہے؟

کسان: (صبارفتار سے) تمہیں کچھ اور کہنا ہے؟

صبارفتار: جی ہاں، مجھے ڈر لگ رہا ہے…

کسان: تمہیں کس بات کا ڈر ہے؟ مجھے بتادو، پھر جو ہورہا ہے، ہونے دو!

صبارفتار: ہاں میرے دماغ میں جو آیا ہے وہ کہہ دوں تاکہ میرے ضمیر پر بوجھ نہ رہے۔ میں ابھی آپ کے کھیت کے پاس سے گزر رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ شلجم اور لہسن پیاز کے نیچے تقریباً دس بالشت زمین بے کار پڑی ہے، اس لیے کہ پانی اس تک نہیں پہنچ رہا ہے۔

کسان: تو ہم اس کا کیا کرسکتے ہیں؟

صبارفتار: اس کو بس معمولی سی ضرورت ہے۔

کسان: ہم نے یہ بھی سوچ کر دیکھ لیا۔

صبارفتار: تو پھر آپ رُک کیوں گئے؟

کسان: رقم… پیسے کہاں ہیں؟

صبارفتار: (بیوی کی کلائیوں کی طرف دیکھتے ہوئے) خاتون کی بس ایک آدھ چوڑی۔

بیوی: (چیختے ہوئے) غارت ہوجائے!

صبارفتار: دس بالشت زمین میں فصل اُگا کر آپ پہلی ہی باری میں چوڑی کے پیسے واپس حاصل کرلیں گے۔

کسان: تم ایسا سمجھتے ہو؟

بیوی: (سینہ پیٹتے ہوئے) بربادی ہے! اے میاں، تم کیا ارادہ باندھ رہے ہو کہ اس جانور کی بات مان لو؟ کیا تم واقعی میری چوڑیاں بیچنے کا ارادہ کررہے ہو؟

کسان: ہم نے ابھی کچھ بیچا ہے نہ خریدا ہے… ہم صرف اس معاملے پر بات کررہے ہیں۔

بیوی: معاملے کی بات اپنے گدھے سے کررہے ہو، دُنبے کہیں کے!

کسان: کیا برائی ہے اس میں؟ میں سُن تو لوں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے… تم بھی سُن لو۔

بیوی: میں سنوں؟ یہ باتیں سنوں؟ یہ بکواس سُنوں جس سے سر میں درد ہوجائے؟ یہ تو جس وقت سے آیا ہے سر کا درد بنا ہوا ہے۔

کسان: اسے بھی اپنی رائے دینے کا حق ہے۔

بیوی: اپنی رائے؟ اس کی رائے بھلا کیا ہوگی؟ اس جانور کی رائے بھی ہے؟ کیا ہم باڑے میں بندھنے والے گدھے کی رائے کے پابند ہوں گے؟

کسان: وہ عام گدھا نہیں ہے۔

بیوی: تو کیا ہوا! میں قسم کھاتی ہوں اس رب جلیل کی جس نے تمہیں پیدا کیا اور عقل و ہوش سے نوازا کہ اگر تمہارا یہ گدھا یہاں سے رخصت نہیں ہوگیا اور میری چوڑیوں کو ہتھیانے سے باز نہیں آیا تو میں ایک لمحے اس چھت کے نیچے نہیں ٹھہروں گی!

کسان: ذرا عقل کے ناخن لو، خاطر جمع رکھو۔ ہم نے کون سا منظور کرلیا ہے کہ اس کی ہر رائے مانیں گے؟

بیوی: بس اسی بات کی کسر رہ گئی تھی کہ تم اس کی ہر رائے ماننے لگو۔ ساری عمر تم ہی اس گھر کے مالک اور مختار رہے ہو، اس گھر میں تمہاری مرضی چلتی رہی ہے۔ تم نے اب کے یہ نیا گُل کھلایا ہے کہ منڈی گئے اور وہاں سے اپنے پیارے جناب صبارفتار صاحب کو لے کر آگئے جن کی ہر رائے پر کان دھرنے لگے۔

کسان: اس کی رائے نے ہمیں آڑھتی سے زیادہ رقم وصول کرنے میں مدد دی ہے۔

بیوی: زیادہ رقم! وہ تمہیں اس رقم سے فائدہ ہر گز اٹھانے نہیں دے گا۔ وہ اس رقم کو اپنے بائولے پن میں ضائع کروا دے گا۔ اوپر سے رمضان کے سارے خرچے سر پر کھڑے ہیں… اور یہ مت بھولو کہ رمضان کے فوراً بعد میٹھی عید ہے جس کے لیے شیرینی تیار کرنا ہوگی۔

کسان: اور میٹھی عید کی شیرینی کے بعد بڑی عید کی تیاری کرنا ہوگی، اس کے لیے دُنبہ پالنا ہوگا۔

بیوی: جب تمہیں یہ سب معلوم ہے تو پھر اس کی بکواس کیوں سُن رہے ہو؟

کسان: سننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

بیوی: کس نے کہہ دیا؟ کانوں میں ہر وقت کی یہ بُھن بُھن جادو ٹونے سے کم نہیں ہے۔

کسان: تو تمہارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے کہہ دیں کہ وہ اپنا مُنھ بند رکھے؟

بیوی: ایسا ویسا بند… تالے چابی سے بند… اور اس پر پٹّی باندھ لے! وہ گدھا ہے اور اسے گدھا ہی رہنا چاہیے۔ تم اس گھر کے مالک ہو اور مالک ہی رہو۔ اب تمہاری اتنی عمر ہوگئی، گھوڑے کی کاٹھی کا پُھندنا تو نہیں ہو۔ کچھ تو اپنی عمر اور مرتبے کا خیال کرو، اے آدمی… تمہارے تو بال بھی سفید ہونے کو آئے!

کسان: تو میں کاٹھی کا پُھندنا ہوں؟

بیوی: تم ایسے ہوتے جارہے ہو، میں قسم کھا کر کہتی ہوں۔ تمہارا یہ پیارا دوست صبارفتار یہاں کا مالک اور مختار بنا جارہا ہے۔

کسان: مالک اور مختار کس طرح؟ باگ ڈور ابھی میرے ہاتھ میں ہے۔

صبارفتار: (اپنے آپ سے) باگ ڈور؟

بیوی: اچھا تو پھر تمہیں انتظار کس بات کا ہے؟ کیوں نہ ابھی سے اس کی ناک میں نکیل ڈال دو۔

کسان: اس بات سے کیا فرق پڑے گا کہ ہم اس کو بڑبڑانے دیں جس طرح اس کا دل چاہے؟

صبارفتار: بڑبڑانے دیں؟

بیوی: مجھے اس کے بڑبڑانے اور بلبلانے سے ڈر لگتا ہے۔

کسان: تم کس بات سے اتنا ڈر رہی ہو؟

بیوی: یہی کہ وہ تمہیں الّو بنائے گا اور تم اس کی بات مان لو گے۔

کسان: بات مان لوں گا؟ کیوں مانوں؟ میں کوئی گدھا ہوں؟

بیوی: گدھا تمہارے سامنے ہے اور اس کو جو کہنا تھا، کہہ دیا۔

کسان: کہنا ایک بات ہے اور کام کرنا دوسری بات۔

بیوی: تم کس کام کی بات کررہے ہو؟ تم نے تو رسّی ڈھیلی چھوڑ دی۔

کسان: تو تم کیا چاہتی ہو میں اس کی گردن میں پھندا ڈال دوں؟

بیوی: ہر گدھے کی گردن میں پھندا ہوتا ہے۔

کسان: مگر یہ انسان ہے!

بیوی: اصل میں تو گدھا تھا۔ جب تم نے گدھا منڈی سے خریدا اور اس کے بدلے تگڑی رقم دی تب یہ گدھا تھا اور اس کی جگہ جانوروں کے باڑے میں ہے۔ اسے اس گھر میں داخل نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہمارے معاملات میں دخل دینا چاہیے۔ اور ایسا ہی ہوگا۔ اگر تمہیں ٹھیک نہیں لگتا تو میں جاکر پڑوسیوں کو بُلا لاتی ہوں کہ گواہ رہیں۔ میں ان سے جاکر کہوں گی، ’’میری مدد کو آئو، اے لوگو… میرا شوہر پاگل ہوگیا ہے اور منڈی سے گدھا خرید کر لایا ہے جسے اس نے انسان سمجھ لیا ہے اور ہر بات میں جس کی رائے سُن رہا ہے۔‘‘

کسان: پاگل نہ بن، اے عورت!

بیوی: قسم ہے رسولِ خدا کی، میں ایسا ہی کروں گی!

کسان: اچھا، اچھا، بس کر… بہت ہوگئی!

بیوی: تمہارا کیا مطلب ہے بہت ہوگئی؟ ذرا مجھ کو بتائو!

کسان: ہمیں پہلے کی طرح رہنا چاہیے اور ذرا تسلّی رکھنا چاہیے۔ اے جی صبارفتار صاحب، ذرا سُنیے تو!

صبارفتار: جی حضور!

کسان: دیکھو بھئی، یہ معاملہ کہ میں تمہاری رائے سُنوں اور تم میری رائے سنو، یہ چلنے والا نہیں۔ یہاں میری ہی چلتی ہے اور تمہارا کام بس میرا حکم بجا لانا ہے… سمجھے؟ جائو، باڑے میں جائو اور میں اتنی دیر میں تمہارے کام کا بندوبست کرتا ہوں۔

صبارفتار: بہت بہتر، مگر مجھے ایک بات کہنے کی اجازت دیں… بس ایک آخری بار؟

بیوی: ذرا ہمّت تو دیکھو! تم نے کہہ دیا کہ بولو مت، منھ بند رکھو۔ تم بڑے گستاخ ہو!

صبارفتار: اچھا تو پھر یہی سہی… میں نے مُنھ بند کرلیا ہے۔ آپ کی اجازت سے میں جارہا ہوں۔

 

باہر چلا جاتا ہے۔

 

تیسرا منظر

کسان کے گھر کے باہر صبارفتار اچانک اپنے ساتھی، پہلے بے روزگار آدمی کو واپس آتے ہوئے اور اصلی گدھے کو رسّی سے گھسیٹتے ہوئے دیکھتا ہے۔ دونوں دوست گلے ملتے ہیں۔

 

صبارفتار: (اپنے دوست سے) بتائو… کیا حال چال رہا تمہارا؟

پہلا: اور تم؟ تم کیسے رہے؟

صبارفتار: میں ابھی بتاتا ہوں۔ مگر تمہیں یہ کیسے پتہ چلا کہ میں یہاں ہوں؟

پہلا: میں تمہارے پیچھے پیچھے چلتا چلا آیا۔ بتائو تو سہی… ہمارے دوست، اصلی گدھے کے مالک کا کیا بنا؟

صبارفتار: تمہاری اس سے تو جان چھوٹ گئی۔ بے وقوف آدمی ہے جسے یہ نہیں پتہ کہ اس کا نفع کس بات میں ہے مگر تم گدھا لے کر یہاں کیوں آگئے؟

پہلا: ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ حالات سُدھر گئے ہیں۔ خداوندِ کریم نے سب سُلجھا دیا۔

صبارفتار: وہ کیسے؟

پہلا: ہمیں کام مل گیا ہے۔

صبارفتار: تمہیں کام مل گیا ہے۔

پہلا: میرے اور تمہارے لیے کام۔

صبارفتار: کہاں، جلدی سے بتائو!

پہلا: جب تم کو چھوڑ کر میں آگے چلا، گدھے کو ساتھ لیے، تو مجھے ایک بڑا سا کھیت نظر آیا جہاں لوگ فصل بونے کی تیاری کررہے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا، ’’آپ کے پاس کوئی کام ہے؟‘‘ ’’بہت‘‘ انہوں نے کہا… ’’تمہارے جیسے دس آدمیوں کے لیے کام ہے۔‘‘ میں نے کہا ’’میرے ساتھ کوئی اور بھی ہے۔‘‘ ’’بہت اچھا‘‘ انہوں نے مجھ سے کہا، ’’جائو اور فوراً لے آئو اور کام شروع کردو۔‘‘ اس لیے میں فوراً تمہیں بلانے چلا آیا۔

صبارفتار: بہت عمدہ! دیکھو، ہم کام کے لیے مرے جارہے تھے، یاد آیا؟ لوگ ہماری طرف دیکھتے تھے اور کہتے تھے، ’’چلو دفع ہوجائو یہاں سے، آوارہ بدمعاش!… ہمارے پاس تم جیسوں کے لیے کوئی کام نہیں ہے۔‘‘

پہلا: ایسا لگتا ہے کہ گدھے کو اپنے ساتھ رکھنے سے میری نیک نامی میں اضافہ ہوگیا۔

صبارفتار: تم سچ کہتے ہو۔ لوگ ہمیشہ کہتے رہتے ہیں ناں کہ فلاں آدمی گدھے کی طرح کام کرتا ہے۔ گدھے کا مطلب کام ہے، بالکل اسی طرح جیسے گھوڑے سے مراد شان شوکت لی جاتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں ناں کہ گھوڑے کی سواری سے عزت اور نام نشان حاصل ہوتا ہے، کتّے محافظ ہوتے ہیں اور بلّیاں چور۔

پہلا: ہاں، خدا کی قسم، یہ بالکل سچ ہے۔ انہوں نے مجھے گدھے کے ساتھ دیکھا تو آپس میں کہنے لگے، ’’یہ گھٹیا، نکمّا آوارہ نہیں ہوسکتا… یہ تو کام کا عادی ہوگا۔‘‘ اس لیے انہوں نے مجھے منھ دیکھے پر طے کرلیا اور تمہیں دیکھے بنا… صرف میری سفارش پر۔

صبارفتار: تمہاری سفارش یا گدھے کی سفارش؟

پہلا: گدھے کی سفارش۔ اسی کی بدولت مجھے بھی کام ملا ہے اور تم کو بھی۔ اس لیے کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ اس گدھے کو اس کے مالک کو واپس دے دیا جائے۔

صبارفتار: یہی بہتر ہوگا۔

پہلا: ہم اس سے کہیں گے کیا؟

صبارفتار: ہم اسے کہیں گے گدھا واپس لے لو۔

پہلا: اور تم… تم نے ظاہر نہیں کیا تھا جیسے تم اس کے گدھے ہو اور گردن میں رسّی ڈال لی تھی؟

صبارفتار: وہ اصلی گدھے کو ترجیح دے گا۔

پہلا: سنو، بجائے اس کے کہ ہم گدھا اس کے حوالے کریں اور بے کار کے بحث مباحثے میں پڑ جائیں، پھر وہ ہم سے پوچھتا رہے کہ گدھا کہاں تھا اور ہم کہاں تھے، ہم گدھا اس کے گھر کے سامنے باندھے دیتے ہیں اور خود، چُپ چاپ کھسک جاتے ہیں۔ کیا خیال ہے؟

صارفتار: بہترین خیال ہے… چلو چلیں۔

 

وہ گدھے کو دروازے سے باندھ دیتے ہیں، پھر دروازے پر دستک دیتے ہیں اور منظر سے غائب ہوجاتے ہیں۔ دروازہ کھلتا ہے اور کسان نمودار ہوتا ہے۔

 

کسان: (گدھے کو دیکھ لیتا ہے، حیران ہوتا ہے اور خوشی سے چیخ اٹھتا ہے) ادھر آ، عورت!

بیوی: (دروازے پر آتی ہے) کیا ہے؟

کسان: دیکھو تو سہی!

بیوی: کیا ہے؟

کسان: اس کی کایا پھر بدل گئی ہے… صبارفتار پھر سے گدھا بن گیا ہے، جیسے منڈی میں تھا۔ وہ اسی طرح کا ہوگیا ہے جیسے میں نے خریدا تھا۔

بیوی: خدایا تیرا شُکر! اے خدا تو کتنا مہربان ہے!

کسان: ہا ں مگر…

بیوی: مگر کیا؟ تم اور کیا کہنا چاہتے ہو؟

کسان: مگر اس کی وجہ ہم ہیں۔

بیوی: لیکن کیوں؟ ہم نے اس کے ساتھ کیا کیا ہے؟

کسان: ہم نے اس کے ساتھ وہی کیا ہے جو اس کے باپ نے کیا… ہم نے اسے خاموش کرا دیا ہے اور اسے گدھے میں بدل دیا ہے۔

بیوی: وہ گدھا ہے، اس میں کیا خرابی ہے؟ اب ہم اس کی سواری کرسکتے ہیں۔

کسان: تم ٹھیک کہتی ہو۔ جب وہ دماغ والا انسان تھا تو سواری کے لیے بے کار تھا۔

بیوی: اور ہمیں اس کے دماغ کی کیا ضرورت تھی؟ ہمیں تو سواری کے لیے جانور چاہیے، جو ہمارا بوجھ برداشت کرے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاسکے۔ خدا کا شکر ادا کرو میاں کہ تمہارا اتنا مفید گدھا واپس کردیا۔

کسان: (نرمی سے گدھے کا سر سہلاتا ہے) ہماری طرف سے دل میلا نہ کرنا، صبارفتار! قسمت کی بات ہے۔ بُرا مت ماننا۔ ہمارے لیے تو تم اب تک اسی طرح ہو جیسے پہلے تھے… صبارفتار صاحب۔

بیوی: ابھی تک لگے ہوئے ہو؟ اس گدھے کے کانوں میں میٹھی میٹھی باتیں پھونکے جارہے ہو؟ دھیان رکھنا…وہ پھر سے بولنے لگے گا!

کسان خاموشی کے ساتھ گدھے کو باڑے کی طرف لے جاتا ہے جب کہ بیوی خوشی کے مارے چیخیں مارنے لگتی ہے۔

پردہ

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20