عورت کی پہچان —– رومانہ ملک   

0

’’جس نے اللہ کی حدود کو تجاوز کیا اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔‘‘ (سورۃالطلا ق آ یت ۔ ۶۱)

عورت پاکیزگی، حیا، معصومیت، عزت، محبت، قربانی اورمعافی کانام ہے یہ وہ ہستی ہے جس سے دنیامیں آنے کے بعد ہر شخص محبت کرنا اپنے لیے اولین فریضہ سمجھتا ہے اب چاہے یہ ہستی ماں کے روپ میں ہے تو اس پر اپنی جان قربان کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ اگر بہن کے روپ میں ہے تو اس کے خلوص پر زمانے بھر سے ٹکر لینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اگر بیٹی کے روپ میں ہے تو اس پر دنیا بھر کی خوشیا ں نثار کر نے کے لیے تیار رہتاہے۔ اوراسی طرح عورت بیوی ہے تو اس کی برداشت، صبر و تحمل اور وفاداری پر اس سے محبت کرنے پر مجبور ہو جاتاہے۔

عورت اگر سوچے کہ اْسے یہ عزت و احترام اور پیار و محبت اسے کیوں ملی اور کیسے اور کس وجہ سے ملی؟

اور کیازمانہ جاہلیت میں بھی عورت کے پاس یہ عزت و محبت تھی؟ عورت آج جس مقام پر ہے کیا عورت پچھلے زمانے میں بھی اس مقام پر تھی کیا عورت دور جاہلیت کے زمانے میں بھی ایسی تھی جیسی آج کے دور میں ہے؟ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کیا عورت اسوقت بھی بااختیار تھی کہ وہ جو چاہے کر سکتی تھی؟ کیا اسوقت کی عورت میں عقل و فہم کی کمی تھی اور آج کی عورت میں یہ سب کچھ ہے آج کے دور کی عورت اگر یہ بات ذہن میں پختہ کر لے کہ عورت آج کیوں زندہ ہے اگر یہ حقیقت جان لے تو دنیا کی 80% مسلمان خواتین پر سکون زندگی گزاریں۔

اگر آج عورت کا وجود ہے تو صرف حضرت محمد ﷺ خاتم المرسلین کی وجہ سے ہے۔ ایک وہ وقت تھا جب عورت کو زندہ دگور کر دیا جاتا ماں کو جوتے برابر سمجھا جاتا تھا اور منڈیو ں میں بھیڑ بکریو ں کے بھائو بیچا جاتا تھا۔ بہن بیٹی کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ بیوی کی کوئی حیثیت ہی نہ تھی شوہر کے مرنے کے ساتھ اس کو بھی جلادیا جاتا تھا۔ اسلام سے پہلے دو بھائیو ں کی ایک بیوی ہوا کرتی تھی۔ جائیداد میں عورت کا نام ہی نہ تھا۔ جبکہ حضرت محمد ﷺ نے عورت کو عزت دی اور یہ عملاکر کے دکھایاانہوؐں نے بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے والی رسم کوختم کیااور بیٹیوں کو اللہ کی رحمت کہا آپؐ نے سب کے سامنے بیٹیوں کے سر پر دست شفقت رکھتے ان کے لاڈ اٹھاتے۔ اسی طرح ازواج و مطہرات کے ساتھ حسن و سلوک کے ساتھ پیش آتے اور ماں کا مقام سب سے بلند رکھاآپ ﷺ نے لوگوں کو بتایا کہ قرآن میں اللہ نے ماں کو کتنا اعلیٰ مقام دیا ہے۔ ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔ یہ ماں وہ ہے جسے زمانہ جاہلیت میں مٹی کی گرد سمجھاجاتا تھا اور بہن کو معاشرے میں اتنی عزت دی آپ ﷺنے فرمایا ایک بہن باپ یا بھائی کے گھر آئے تو اسے کبھی خالی ہاتھ نہ بھیجو اس کی آہ سے ڈرواس کی آنکھ میں آنسو نہ لائو۔ آپ ﷺنے عور ت کے ہر رشتے میں احترام کا حکم دیاہے۔ آپ ﷺ نے عورت کو عزت کہا، جبکہ انجیل میں عورت کو برائی کہا گیا ہے لیکن آج عورت نے اپنی زندگی کو عزت سے جینے کی بجائے برائی کو چنا ہے۔ ہم اپنے آپ کو تعلیم یافتہ خواتین کہتے ہیںآج کی خاتو ن اپنے آپ کو زندگی کے ہر پہلو میں مکمل سمجھتی ہے۔ حالانکہ حقیقت میں وہ اس کے برعکس ہے۔ اسلام میں عورت کوپردے کا کہا گیا ہے۔ اور قران پاک میں اللہ نے فرمایا ہے:

’’اور اے نبی مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچاکر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریںاور اپنا بنائوسنگار نہ دکھائیںبجز اس کے جو خود ظاہر ہو جائے اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنی وںکے آنچل ڈالے رہیں وہ اپنا بنائو سنگار نہ ظاہر کریںمگر ان لوگوں کے سامنے شوہر، باپ، شوہروں کے باپ اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے، اپنے میل جول کی عورتیں اپنے لونڈی غلام اور وہ زیر دست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں او روہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں وہ اپنے پاوں زمیں پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہو اس کا لوگوں کو علم ہو جائے اے مومنوں تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو توقع ہے کہ فلاح پائو گئے۔ (سورۃ نو ر آیت : ۱۳)

جب کہ مسلمان عورت نے اپنے آپ کو پردے سے بیگانہ کیا ہوا ہے اگر آج وہ سر کو ڈھانپ لے گی تو وہ جاہل لگے گی اور یہ مسلمان خواتین میں سے 75%خواتین کی سوچ ہے ان کا ڈوپٹہ سر کی بجائے گلے میں ہوتا ہے یا بیشتر خواتین اس کا بھی تکلف نہیں کرتی اور لباس میں ہم نے غیر ممالک کی غیر مسلم خواتین کو بھی مات دے دی ہے۔

ہمارا حلیہ اس لیے ایسا ہوتا ہے کہ دوسروں کو پتا چلے کہ ہم کتنے امیر ہیں اور کتنے تعلیم یافتہ اور آزاد خیال ہیں۔ اور اگر ہم امیر نہ بھی ہوں تو دوسروں کو ایسا لگے کہ ہم کتنے جدت پسند ہیں۔ اسے لباس پہننے کا شعور ہے۔ اور آج کے دور کی لڑکی یہ کر کے اپنے آپ پر فخر کرتی ہے چاہے وہ اس سے گناہو ں کے گرداب میں آجائے۔ عورت یہ بھول جاتی ہے کہ جب وہ اس طرح کا لباس پہن کر گھر سے باہر قدم نکالتی ہے تو اس سے اس کی عزت نہیں بڑھے گی بلکہ وہ برائی کو دعوت دیتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو غیر محفوظ کرلیتی ہے اور بعد میں کہتی ہے اس شخص نے میرے ساتھ بدتمیزی کی ہے، آج عورت محفوظ نہیں ہے تو اس وقت وہ بھول جاتی ہے کہ اسے دعوت نظارہ کس نے پیش کیا ہے اسی طرح چاہے وہ تعلیمی مدارس ہوں دفاتر یا بازار ہر جگہ یہی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔

تعلیمی درس گاہ ایسی جگہ ہے جہاں ہر کسی کو یکسا ں تعلیم دی جاتی ہے یہاں امیری غریبی کا فرق نہیں ہوتا۔ لیکن اب اس کو بھی تفریحی مقام بنا لیا گیا ہے۔ ایک باپ اپنی بچی کوتعلیم کے لیے باہر بھیجتا ہے لیکن لڑکی اس بات کو نہیں دیکھتی کی وہ کس مقصدکے لیے گھر سے باہر نکلتی ہے باہر تعلیم کے بہانے غیر مردوں کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ اس وقت اس کو اپنے ماںباپ کی عزت کی فکر نہیں ہوتی بہت زیادہ لوگوں کی سوچ ہوتی ہے کہ مرد عورت کی عزت نہیں کرتے جہاں لڑکی دیکھی وہاں پھسل گئے کہا جاتا ہے مردوں کی فطرت گندی ہے۔ اس کی آنکھوں میں حرص و ہوس ہے یہ سچ ہے کہ کچھ مرد ایسے ہوتے ہیں لیکن آپ نے یہ بھی پڑھا اور سنا ہو گا کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی ہم خود کو بے قصور سمجھتی ہیں جبکیہ حقیقت میں یہ ہماری اپنی کوتاہیوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جب آپ تعلیم کے بہانے لڑکوں سے باتیں کریں گی فون کا غلط استعمال کریں گی تو اس وقت آپ کی کسی دوسرے شخص کے سامنے کیا عزت رہے گی۔ تعلیم انسان کو شعور دیتی ہے نہ کہ بے حیائی اور بے شرمی کا درس اور متوسط طبقے کے والدین کی اپنی بچیوں کے بارے میں یہ سوچ ہے کہ ہماری بچیاں آج کے دور کے مطابق چل سکیں یعنی ان میں اتنا شعور ہوناچاہیے کہ وہ لوگوں کا سامنا کر سکیں وہ اس لیے ان کو اعلی سے اعلی تعلیم دلواتے ہیں تاکہ ہماری بیٹیاں زمانے کے سرد و گرم سے محفوظ رہ سکیں۔ اس لیے انھیں دنیا کی ہر آسائش مہیا کرتے ہیں لیکن وہ ان آسائشات کا غلط استعمال کرتی ہیںچاہے وہ موبائل ہو کمپیوٹر، انٹرنیٹ یا پھر ٹی وی ان اشیاء کا غلط استعمال کرتے ہو ئے وہ یہ بھول جاتی ہیں کہ وہ خود تو رسوائی کے گڑھے میں گر رہی ہیں لیکن ساتھ اپنے والدین کو بھی رسوائی سے دوچار کر تی ہیں۔ اور ان کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچاتی ہیں۔ ایک مسلمان عورت کا حسن اس کے پردے میں ہے لیکن ہم نے اپنا حسن غیر مغربی لباس میں تلاش کیا ہوا ہے عورت چاہے امیر ہو یا غریب اس کی پہچان لباس ہے۔ایک ہائی سوسائٹی کی عورت کی پہچان ضروری نہیں کہ پینٹ شرٹ سے ہی ہو ا س کی پہچان ایک ڈھیلے ڈھالے لباس میں بھی ہو جائے گی۔ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں کئی مقامات پر عورت کو پردے کا حکم دیا ہے، جبکہ آپ ﷺ نے بھی عورت کو بے پردگی پر اللہ کے سخت عذاب سے ڈرایا ہے۔

ہم مسلما ن ہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺکو مانتے ہیں تو پھر ان کے احکامات پر عمل پیراکیوں نہیں ہوتے ہم روزہ رکھتے ہیںقرآن پڑھتے ہیںنماز پڑھتے ہیں تو پھر پردہ کیوں نہیں کرتے کیا کسی جگہ پر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ جب جدید دور آئے تو پردہ نہ کرنا غیر مردوں سے کھلے عام ملنا اور سر عام بازاروں میں کھلے بالوں اور بغیر چادر کے گھومنا ہر طرف بے شرمی کا پرچار کرنا کوئی تم سے بازپرس نہیں کرے گا میں تمیں کھلی چھوٹ دیتا ہوں؟ ہم مسلمان ہو کر مغربی روایا ت کو اپناتے ہیں جبکہ ہمارے پاس قرآن پاک موجو د ہے ہمیں اللہ نے پروقار لباس پہننے کاحکم دیا ہے اور ہمارے پاس ازواج و مطہرات کی مثالیں ہیں جن کو مدنظررکھنا چاہیے جبکہ ہم اس کے برعکس مغربی لباس کو اولیت دیتے ہیں کیا ہمیں یہ زیب دیتا ہے کہ ہم ایسا لباس پہنیں جس کی ہمارے دین میں ممانعت ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ :’’جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں درد ناک سزا کے مستحق ہیں اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ (سورۃ نور آیت : ۱۹)

یہ اسلامی احکامات وہ ہیں جو اللہ خود قرآن پاک میں فرما رہا ہے، تو ہم انھیں کیسے پس پردہ ڈال سکتے ہیں، اسلام ہمیں آزادی دیتا ہے لیکن ایسی آزادی نہیں جس سے ہم بے حیائی کی طر ف پیش رفت کریں ہم چاہے جتنے بھی جدید دور میں چلے جائیں ہمارے لیے اللہ کے احکامات وہ ہی ہیں ہم چاہے لباس میں جتنے بھی جدت پذیر ہو جائیں قرآن و حدیث میں عورت کے لیے وہ ہی احکامات ہیں۔ ’’پردہ‘‘۔ کیونکہ عورت کی پہچان پردہ ہے چاہے وہ جس طبقے سے بھی تعلق رکھتی ہو لیکن اس کا لباس یکساں ہے۔

ہم مانتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں بہت سی برائیاں ہیں۔ لیکن یہ سب برائیاں ہماری اپنی پیدا کردہ ہیں اگر ان پر غور کریں تو ان میںسے ایک برائی’’بے حیائی ‘‘ ہے اس برائی میں مرد و زن یکساں شامل ہیں ہم پورے معاشرے کو نہیں تبدیل کر سکتے لیکن ایک عورت ہونے کے ناطے یاد دہانی کروا سکتی ہو ںکہ اگر صنف و نازک اپنے آپ کو اس بے حیائی کی دلدل سے نکلناچاہے تو نکال سکتی ہے۔ اور اپنے آنے والی کئی نسلوں کو بھی اس برائی سے بچاسکتی ہے کیونکہ وہ خاندان کو جنم دیتی ہے اور خاندان سے معاشرہ بنتا ہے۔

اور ایک مسلمان عورت کو تو کبھی زیب نہیں دیتا کہ وہ بے حیا ہو کیونکہ مسلمان عورت کی میراث ــ’’حیا‘‘ ہے۔ اب تو ہم کسی کو کہہ بھی نہیں سکتے کہ اپنے آپ کو چادر میں ڈھانپ لو، یہ صحیح ہے کہ ہم بہت گہنگار ہیں ایک پردہ ہی ہمیں نہیں بچا سکتا لیکن کسی سے کہنا اپنے لیے یہ سننے کے مترادف ہے کہــ’’ کتنی دقیانوس ہے اسے کوئی احساس کمتری ہے یا پھر اپنے آپ کو بہت بڑی پرہیز گار سمجھتی ہے ہمیں پتا ہے کہ یہ کیسی ہے۔‘‘

لیکن کہنے والے یہ بھو ل جاتے ہیں کہ وہ بہت بری سہی لیکن اس کا حساب اللہ نے کرنا ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ برا انسان اگر کو ئی اچھی بات بتائے تو اسے ضرور سنو اور اگر وہ اللہ کے احکامات میں سے ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس پر عمل کرے کیونکہ اللہ کے احکامات پر عمل کر نا ہم سب پر لازم و ملزوم ہے۔اور اس میں کوئی ردوبدل نہیں اور قرآن پاک میں بار بار کہا گیا ہے اگر اپنے آپ کو دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی سے بچانا چاہتی ہیں تو پردہ کریں۔

کیونکہ عورت سمندر میں چھپے سیپ میں موتی کی مانندہے اور اگر عورت اس معاشرے میں عزت و احترام چاہتی ہے تو اپنے ماضی کو مت بھولے (یعنی عورت کو یہ مقام کس نے اور کیسے دلوایا ہے)کیونکہ ماضی یاد رکھنے سے انسان کوتاہیوں سے گریز کرتا ہے۔

’’ہم نے صاف صاف ہدایت دینے والی آیات تمھارئے پاس بھیچ دی ہیں اور ان قوموں کی عبرت ناک مثالیں ہم تمہارے سامنے پیش کر چکے ہیں جو تم سے پہلے ہو گزری ہیں اور وہ نصیحتیں ہم نے کر دی ہیں جو ڈرنے والوں کے لیے ہو تی ہیں۔‘‘ (سورۃ النور آیت : ۳۴)

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20